Select your Top Menu from wp menus

خوش حال خاں خٹک صاحبِ سیف و قلم

خوش حال خاں خٹک صاحبِ سیف و قلم

فرید سعیدی، بھوپال

خٹک تیس لاکھ افراد کی جمعیت کا ایک پشتون قبیلہ ہے ۔ جنکی زبان ہلکی قندھاری پشتو ہے ۔ خٹک کے افراد دریائے ہند کے مغربی کنارے پر شمال کی جانب’ لنگ خوار ‘’ قتلانگ ‘ ’ ساول ڈھیر ‘ ’ شیر گڈ ہ ‘ اور ’ملا کنڈ ‘میں موضع نوشیرہ ، موضع کھوٹ ، موضع میاں والی موضع اٹوک اور موضع کرک (پاکستان ) میں آباد ہیں ۔ دُراند کی جانب افغانستان میں قندھار ، غزنی ، لوگا اور کھوٹ میں بھی ان کی قلیل آبادی پائی جاتی ہے ۔
قدیم تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ افغانستان کے غزنی ، غور اور توگر سے خٹک نے ہجرت کی اور موجودہ پاکستان کے خطہ وزیر ستان میں شاوال میں آباد ہوگئے ۔
سمت شمال کے موضع بّنومیں بھی آباد ہوئے جہاں پشتون قبائل مونگل اور ہونائی ، قبیلے پہلے سے ہی آباد تھے ۔ خٹک قبیلے کی ایک شاخ ’ شیتاک ‘ جو پہلے شاوال میں آباد تھی وہ بھی ۴۱ویں صدی میں ہجرت کر کے ’بّنو ‘آگئے ۔ شیتاک نے پہلے مغلوں کو پسپا کیا پھر ہونائی کو شکست دی اور’ بّنو ‘پر اپنا تسلط قائم کرنا شروع کر دیا ۔ شمال میں جنوب کی جانب پیش قدمی کر کے کھوٹ کے جنوبی حصہ تک پہنچ گئے اور ’ بنگش ‘ ’ بہادر خیل ‘ اور ’ ٹیری ‘ میں آباد ہوگئے ۔ وہاں انہوںنے ’ بنگش ‘ کے ساتھ مل کر دیگر قبیلوں کو شکست دی اور کھوٹ کے شمالی حصہ میں ’ گنبد ‘ ’ پٹیالہ اور ’ زرہ تیپاس پر بھی قبضہ کر لیا ۔ انہوں نے’ کرک ‘او ر’ نوشیرہ‘ میں بھی بسیرا کیا ۔تقریباََ سو سال قبل خٹک ’ آکوڑ ا کھٹک ‘ سے ہجرت کرکے نہ صرف موجودہ خیبر پختون خواں ، کے ’ من شیرہ شہر ‘ میں آگئے بلکہ اسکے دیہاتوں مثلاََ ’ لاہی ڈھیری ‘ ’ جہاگیر ‘ اور ’ بسار کوٹ ‘ میں بھی سکونت اختیار کرلی اور کچھ ’ ابیٹ آباد ‘ چلے گئے ۔
گوکہ اِ سوقت جدید دور کی صحبت میں اس قبیلے میں کافی تبدیلی واقع ہوئی ہے مگر اسکے جد ِ امجد کی خصوصیات کی مہک ابھی بھی اس میں موجود ہے ۔اس قبیلے کے افراد جسیم اور بہادر ہوتے ہیں ۔ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے یہ سخت گیر اسلامی ذہن کے ہوتے ہیں ۔ ان میں قوم پرستی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اور سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے ۔ اسی قبیلے میں خوشخال خان خٹک (1613-1690) میں پیدا ہوئے ۔
خوشخال خاں خٹک جون۳۱۶۱ءمیں اکوڑہ میں پیدا ہوئے ۔ اُنکے والد شہباز خان خٹک قبیلے کے سردار اور حکومت ِ انگلشیہ کے منصب دار تھے اور اسی وجہ سے دربار مغلیہ سے وابستہ تھے ۔ والد کی وفات کے بعد خوشحال خاں دربار ِ مغیلہ سے وابستہ ہوگئے ۔ انکی زندگی کا یہ دور یوسف زئیو ں سے قبیلا ئی لڑائیاں لڑنے ، شکار کھیلنے اور اشعار کہنے میں گذ رگیا اور شہنشاہ شاہجہاں کی وفات کے بعد ختم ہوگیا ۔
اسکے بعد اورنگ زیب عالمگیری ؒکے سررآرائے سلطنت کا دور آیا ۔ جسکے ساتھ خوشحال خان کی زندگی کے دوسرے دور کا آغاز ہو ا ۔ دراصل یہی انکی شاعری کی معراج کا حقیقی دور ہے ۔ چناچہ وہ خود لکھتے ہیں
جوانی میں خوشحال سویا ہوا تھا
مگر اُسکو پیری میں ہوش آگیا (ترجمہ )
انہوں نے پشتو ادب کے سرما یہ میں نادر المثال اضافہ کیا ۔ اُنکی تحریر معیاری و بیباک ہے ۔ خوشحال کی شاعری انصاف ، دلیری ، قوم پرستی اور عزت ِ نفس کے گرد گھومتی ہے ۔ اشعارمیں الہامی کیفیت کا بھر پور عکس موجود ہے ۔ آورد کی افراط ہے اور زبان کی رنگینی الفاظ کی شیرینی ، نشست و برخواست و بندش اپنی مثال آپ ہے ۔ خوشحال کی پشتو اور فارسی میں تقریباََ تین سوساٹھ انتہائی معیاری تحریریں اُنہیں دنیا کے عظیم قلمکاروں کی صف میں کھڑا کرتی ہیں ۔
خوشخال پشتو ں کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ۔ اس لئے بھی کہ جہاں اُنکاقلم جادو جگاتا تھا وہیں سیاسی بصیرت اور دانشوری کی سحرا انگیزی بھی اُنکے یہاں کثرت سے موجود ہے ۔ خدمت ِ خلق کا جذبہ تو انہیں ورثہ میں ملا تھا ۔
خوشحال خان کو اورنگ زیب عالمگیر ؒ کے دور میں نامعلوم الزام کی بنا پر گرفتار کرکے ہندوستان کے ’ باجولان ‘ بھیج دیا گیا ۔ جہاں تھمبور کے قلعہ میں ڈھائی سال تک قید رکھا گیا ۔ اس قید نے خوشحال کی زندگی کو یکسر بدل دیا ۔ قید سے جو خوشحال باہر آیا وہ آتش بغاوت کا شعلہ بناہوا تھا ۔ اس لئے اُنہوں نے اپنی باقی زندگی اپنی قوم کی آزادی کے لئے وقف کردی ۔ بحیثیت جرنیل و صاحب سیف اُنکی صلاحیت کا اندازہ اِ س حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی چھوٹی سی جمعیت ، جو شہنشاہ ِ عالم گیر ؒ کی بے پناہ قوت اور مغل فوجوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں تھی ، کے ذریعہ شاہی فوجوں کوبار بار شکست دی ۔لیکن قوم کے انتشار ، خود غرضی اور بیٹوں کی غداری نے اِس شیر پشتون کی کمر توڑ دی ۔ اُنہوں نے لکھا
میں نے تلوار کو لہرایا جو مغلوں کے خلاف
ساری دنیا پے ہویدا ہوئی افغان کی شان
میں نے تلوار سے دلوائی حکومت اُنکو
یہ مٹا رہے میرے تیغوں کے نشاں (ترجمہ )
آخر یہ حریت پرست اور غیرت و حمیت کا پیکر اپنی قوم اور اولاد سے بدل ہوکر فروری ۹۸۶۱ئمیں ان کا الفاظ کے ساتھ اِس جہاں فانی سے جُدا ہو گیا ۔
مجھے دفن جب میرے ہمدم کریں
وصیت اُ ن کو میری ملحوظ ہو
بنائیں لحد میری ایسی جگہ
مغل شہسواروں سے محفوظ ہو(ترجمہ)
خوشحال نہ صرف پشتو زبان کے عظیم شاعر اور ادیب کی حیثیت سے بلکہ ایک بہادر ،اولولعزم جرنیل کے طور پر بھی پشتوں قوم میں ایک مسلمہ شخصیت کے مالک تھے ۔ ان کے حالات اور کارنامے انگریزی حکومت کی مصلحت سازیوں کیوجہ سے آج تک پردہ اخفا میں رہے ۔ عرصہ دراز تک بیرونی دنیا کی خوشحال خان کے بارے میں جو معلومات تھی وہ میجر راور ٹی کے چند ترجموں تک محدود تھی ۔ سب سے پہلے علامہ اقبال مرحوم نے ” با ل ِ جبرئیل “ میں ’خوشحال خان کے افکار ‘ کے نام سے دو نظمیں اردو میں منتقل کرکے اس عظیم شاعر کا تعارف غیر پختون دنیا سے کرایا ۔ ان نظموں کو پڑھ کر علمی حلقوں کی تشنگی بجھنے کے بجائے اور بڑھی اورخوش حال خاں خٹک کے متعلق معلومات حاصل کرنے اور ان کا کلام سننے کے لئے لوگ بیقرار ہو اُٹھے ۔
’مجلّہ سنگ میل ‘اور ’ اٹک کے اُس پار ‘ نے بھی اپنی بساط بھر شائقین کی پیاس بجھائی اور اس صاحب سیف و قلم کو دنیا سے روشناس کرایا مگر دوست محمد خان کامل نے اپنی ضخیم تصنیف ’ خوشحال خاں خٹک ‘ لکھ کر دنیا ئے اردو کے پرستاروں کی تشنگی بہت حد تک بجھا دی ۔
اے بے بصرہ نگاہ اُٹھا کر نظارہ کر
اس میں عجب ادا سے مجھے دیکھکر کہا
تو جانتا نہیں ہے میں وہ مہ جبیں ہوں
پیدا جواب جس کا زمانہ نہ کر سکا
طالب ہیں میرے بوسئہ رخسار کے بہت
تو کتنا خوش نصیب ہے میں نے تجھے چنا
وعدے وفا کے کرتی رہی رکھ کے لب پہ لب
ناز دادا سے جام مئے ارغواں دیا
راز ونیاز ہوتے رہے اس سے رات بھر
شوق وصال ابھی میرا پورا ہوا نہ تھا
اک سمت سے صدائے اذاں آئی ناگہاں
مفتے ہی مجھکو چھوڑ کے چلدی وہ دلربا
اے کاش ایسی شاب کی نہ ہوتی کبھی سحر
کیا جانے حشر کیا ہو دل بیقرار کا
بستر سے شعلے اُ ٹھتے ہیں پھٹتا ہے سب بدن
جب سے ہو ا ہوں اس سے میں خوشحال خان جدا
سب سے پہلے علامہ اقبال نے ’بالِ جبرئیل میں خوشحال خاں کے افکار نام سے دو نظمیں اُردو میں منتقل کر کے اس عظیم شاعر کا تعارف غیر پختون دُنیا سے کرایا۔
خوشحال خاں کی وصیت
قبائل ہوں ملت کی وحدت مےں گم
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
مغل سے کسی طرح کمتر نہےں
کہوں تجھ سے اے ہم نشےں دل کی بات
اڑا کر نہ لائے جہاں بادِ کوہ
کہ ہو نام افغانےوں کا بلند
ستاروں پہ جو ڈالتے ہےں کمند
قہستاں کا ےہ بچہ¿ ارجمند
وہ مدفن ہے خوشحال خاں کو پسند
مغل شہسواروں کی گردِ سمند!

فرید سعیدی
68ٹول والی مسجد روڈ موتیا پارک بھوپال (ایم پی)۔
FAREED SAEEDI
68 TOL WALI MASJID ROAD MOTIA PARK BHOPAL (M.P) 01
9907771816-9302371816