Select your Top Menu from wp menus

پھول تمہیں بھیجا ہے خط میں۔۔۔۔۔

پھول تمہیں بھیجا ہے خط میں۔۔۔۔۔

عارف شجر

حیدرآباد، تلنگانہ
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی یہ دلی خواہش تھی کہ 2019 کے لوک سبھا کا انتخاب بی جے پی جیتے اور ہندوستان کا وزیر اعظم نریندر مودی ہی ہوں اور یہی ہوا بھی انکے خواہش کی تکمیل ہو گئی ہندوستان کے پی ایم نریندر مودی ہی بنے، ویسے کہا جا رہا ہے کہ پی ایم مو دی اور پاکستان کے پی ایم عمران خان کے بیچ دوستی کا رشتہ ہے، لیکن جہاں تک ملک کی بات آتی ہے تو دونوں ملکوں میں دوستی دور دور تک نظر نہیں آتی،لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ہندوستان کا دوبار پی یم نریندر مودی کے بن جانے سے عمران خان کے چہرے پر خوشی ضرور جھلک رہی ہے عمران خان نے پی ایم مودی کی شاندار کامیابی پر فور اً انہیںمبارکباد بھی دی اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا تھا۔ اب جبکہ نریندر مودی مسند اقتدار پر بیٹھ گئے ہیں تو پاکستانی وزیر اعظم ذرا بھی تاخیر نہ کرتے ہوئے انہوں نے پی ایم مودی کو محبت بھرا پیغام بھیجا ہے ۔ جسمیں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے نام ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں جنوبی کشمیر کے پائیدار امن و استحکام کے لئے اور ہمسائیگی میں امن و آشتی کے فروغ کے لئے مل جل کر کام کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔عمران خان چاہتے ہیں کہ سارے گلے شکوے بھول کر دونوں ملکوں کے بیچ امن کا ماحول پیدا ہو۔ ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جنوری سال 2016میں پٹھان کوٹ واقع ائیر فورس اسٹیشن پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس کے بعد سے ہی دو طرفہ مذکراتی عمل معطل ہے۔ ہندوستان نے پاکستان پر براہ راست الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے یہ حملہ کروایا ہے۔ اس کے بعد سے ہی ہندوستان نے یہ صاف کہہ دیا کہ دہشت گردی اور امن کی بات دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی اس لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے پاکستان دہشت گردوں کو اپنے یہاں پناہ دینا بند کرے اور ہندوستان میں دہشت پھیلانااور معصوموں کو دہشت گرد بنا کر ہندوستان کے خلاف کاروائی کرنے پر آمادہ کرنا بند کرے تبھی پاکستان سے دوستی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان اپنی جانب سے ہمیشہ یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ دونوں ملکوں میں امن کاراستہ ہموار ہو ہندوستان نے ہمیشہ اپنے دریا دلی کا ثبوت دیا ہے جسکا حالیہ ثبوت یہ ہے کہ پی ایم مودی نے حیدرآباد کی ایک فیملی کو عید کا تحفہ دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ پلوامہ حملے کے بعد ہندستانی فضائیہ نے پاکستان کے بالاکوٹ میں دہشت گردانہ ٹھکانوں پر ایئر اسٹرائک کرکے انہیں نیست ونابود کر دیاتھا۔ ہندستان کی اس کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی چرم پر پہنچ گئی اور جنگ جیسے حالات بن گئے۔دونوں ممالک کے درمیان اس جنگ جیسے حالات کی وجہ سے ایک خاتون کو تین ماہ پاکستان میں گزارنے پڑے۔ تقریبا تین مہینے پاکستان میں گزارنے کے بعد خاتون 30 مئی کو حیدرآباد پہنچی اور اپنے شوہر سے مل کر بیحد خوش ہوئی۔ شوہر سے ملنے کے بعد اس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور سشما سوراج کا شکریہ اداکیا۔ خاتون نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں عید اپنی فیملی کے ساتھ حیدرآباد میں مناو¿ں۔ میں بہت خوش ہوں کہ مجھے اپنے کنبے کے ساتھ عید منانے کا موقع مل گیا۔ ہندوستان اس طرح کی مثبت کام برابر کرتا رہا ہے لیکن پاکستان کی جانب سے ایسا کوئی مثبت کام نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ پاکستان بھی ہندوستان سے اچھے رشتے چاہتا ہے ، فوجی ابھینندن کا ذکر پاکستان برابر کرتا ہے لیکن یہ سب کو پتہ ہے کہ عالمی دباﺅ میں پاکستان نے ابھینندن کو مجبوراً رہا کیا تھا۔
بہر حال !گذری بات اپنی جگہ ابھی جو پاکستان کی جانب تازہ خبر آ رہی ہے کہ پی ایم عمران خان نے پی ایم مودی کو مکتوب بھیج کر دونوں ملکوں کے درمیان امن بحال کرنے اور مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی گذراش کی گئی ہے ۔ جسے جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے سربراہ اور سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کو مذاکراتی عمل بحال کرنے کی تازہ اپیل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: ‘یہ ایک انتہائی حوصلہ بخش پیش رفت ہے، پاکستان کو اس سے قبل کبھی اس قدر آمادہ نہیں دیکھا گیا، پاکستانی وزیر اعظم کے اس دوستی کے آفر کو قبول کرنے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم نریندر مودی اور عمران خان مل جل کر جنوبی ایشیا کے خوشحال اور پ±رامن مستقبل کی تاریخ ازسر نو رقم کرسکتے ہیں’۔بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنے ہندوستانی ہم منصب ایس جے شنکر کے نام مکتوب روانہ کیا ہے جس میں مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس حقیقت سے انکا نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان بھی چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں میں امن بحالی کا راستہ صاف ہو لیکن ہندوستان کی شرط یہ بھی ہے کہ جب تک پاکستان اپنے یہاں دہشت گردں کو پناہ دینا اور ہندوستان میں دہشت گردی جیسے عمل کو روکنے کی بات نہیں کرتا ہے تب تک امن مذکرات ممکن نہیں ہے۔وہیں دوسری طرف دیکھیں تو پاکستانی پی ایم عمران خان نے فراخ دلی کے ساتھ ہندوستان سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی پہل کر دی ہے عمران خان نے پی ایم مودی کو محبت کی خوشبو سے بھرے خط لکھ کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہم امن کے پیکر ہیں ہم بھی نہیں چاہتے کہ ملک میں دہشت گردانہ حملہ ہو معصوموں اور ر فوجیوں کی جان جائے اورملک میں دہشت گردی پھلے پھولے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے لوگ امن سے زندگی گذاریں اس کے لئے دونوں ملکوں میں دوستی ایک اہم راستہ ہے جس راستے پر چل کر دونوں ملک دنیا کی نظر میں بے نظیر بن جائیںحالانکہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ ہندوستان میں کانگریس کی حکومت ہو انہیں اس بات کا علم تھا کہ اگر کانگریس کی حکومت ہوگی تو بی جے پی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں رخنہ پیدا کرے گی اب جبکہ بر سر اقتدار بی جے پی ہے تو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی بھی دشواری حائل نہیں ہوگی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ پاکستانی پی ایم نے نریندر مودی سے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر کشمیر کا مسئلہ سلجھانا چاہتے ہیں، بہر کیف عمران خان کے خط سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی ہو گی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گالیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پی ایم مودی بھی یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے ملک میں پل رہے دہشت گردوں کا پہلے صفایا کرے تبھی دونوں ملکوں میں امن کا راستہ استوار ہو تبھی پی ایم مودی بھی پاکستان کے وزیر اعظم کو اپنے خط میں یہ لکھ سکیں کہ،” پیار بھرا ہے خط میں اتنا جتنے ساگر میں موتی“
ختم شد