Select your Top Menu from wp menus

علاقائی زبانوں کے حقوق اور ہندی ۔انگریزی کا جبر:راستہ کس طرف ہے؟

علاقائی زبانوں کے حقوق اور ہندی ۔انگریزی کا جبر:راستہ کس طرف ہے؟

عرض داشت
تمل ناڈوسے لے کر آسام تک علاقائی زبانوں کے حقوق کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے ۔ہر جگہ ہندی ،انگریزی یا طاقت ور زبانوں پر الزامات عاید ہو رہے ہیں۔لسانی تکثیریت اور وحدت میں مقابلہ شروع ہو گیا ہے۔


صفدرامام قادری
صدر شعبہ اردو ،کالج آف کامرس ،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

ہندستان کی تاریخی حیثیت اس کی کثیر لسانی ،تہذیبی اور ثقافتی جڑوں میں پوشیدہ ہے جس کے سبب وحدت میں کثرت کا اصول ہزاروں برس سے یہاں نافذ رہا ہے۔یہاں مسلمان تاجر یا حملہ آور آئے ہوں یا یورپ کی مختلف اقوام؛ سب نے اس ملک کے اسی انداز کو پسند کیا اور انھوں نے کوشش کی کہ اپنی تہذیب کو ہندستانی تہذیب کا حصّہ بنا لیں۔انجذاب اور اتحاد ،یگانگت اور ہم آہنگی ایسے اسالیب تیار ہو ئے جن کے قدموں میں مذاہب اور اقوام نے سجدے کیے اور جس سے ہندستان جنت نشان بن سکا۔معروف افسانہ نگارطارق چھتاری نے اپنے مشہور افسانے ’باغ کا دروازہ ‘ میں چند صفحوں میں اس ملک کی تعمیر و تشکیل کی دل پذیر کہانی پیش کر دی ہے۔مگر اس کہانی میں بھی باغ کے مختلف النوع پھولوں کی جگہ ایک انداز کے پھولوں کی شمولیت سے جس خطرے کوپیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ صرف کہانی کا حصّہ نہیں ہے بلکہ ہم آج اپنی ننگی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ سکتے ہیں۔
نریندر مودی کی دوبارہ حلف برداری کے اگلے دن ہی اخباروں میں یہ خبر پھیلائی گئی کہ مرکزی حکومت ایک سہ لسانی فارمولہ جاری کرنے والی ہے جس سے تمام صوبوں میں تعلیم اور سرکاری کام کاج میں ہندی زبان کے نفاذ کی راہیں عام ہو سکیں گی۔ اس صلاح میں یہ بات شامل ہے کہ وہاں کی علاقائی زبان او رایک بین الاقوامی زبان کو اس مرحلے میں ملحوظِ نظر رکھا جائے گا۔ایسی تجویزتیس چالیس برس پہلے بھی سامنے آئی تھی مگر ہمیں اس کا حشر معلوم ہے۔ ہر طرف کانگریس کی حکومت تھی لیکن اس کا نفاذ نہ ہو سکا ۔اس بار بھی جیسے ہی مرکزی حکومت کا یہ ا علان آیا ،اختلافات کی آندھیاں شروع ہو گئیں اوردفاع میں مرکزی حکومت کو یہ کہنا پڑا کہ یہ محض تجویز ہے او ر ملک گیر بحث و مباحثے کے بغیر اس کا نفاذنہیں ہو گا ۔
آر ایس ایس پہلے سے ہی ایک ملک ،ایک قوم ،ایک زبان کی بات کرتی رہی ہے۔دنیا میں آمرانہ ذہن کے ادارے اس انداز کی ایکتا اور اتحاد کو خاص اہمیت دےتے ہیں۔ہٹلر کے نسلی تفاخر میں بھی اسی انداز کی بدا ندیشیا ں موجود تھیں۔ہندستا ن میں زبان کی سطح پر جب جب ایسی یکجائی کی بحث سامنے آتی ہے ، وہاں چپکے سے مذہبی منافرت اور لسانی عصبیت کے اموراپنے آپ داخل ہو جاتے ہیں۔ پھر اناڑی سیاست دا نوں کے ہاتھ میں یہ چیز کھلونابن جاتی ہے۔ذرا توجہ دیں تو یہ جاننا مشکل نہیں کہ ہندستان میں زبانوں کے تعلق سے حکومتوں نے اتنے کھلواڑ کیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے قوانین میں کتنے داخلی تضادات تھے ۔ ان کے بارے میں کوئی سنجیدہ غور و فکر نہیں دکھائی دیتی مگر رہ رہ کو یہ ارادہ سامنے آتا ہے کہ جنوبی ہندستان میں ہندی زبان کی آئینی موجودگی بہت ضروری ہے۔
ہندستان میں ہندی زبان کی مرکزی او رصوبائی حکومتوں کے تعاون سے ترقی آزاد ہندستا ن میں لسانی جبر کی ایک متوازی داستا ن بھی ہے۔مردم شماری میں مادری زبان کے خانے میں شمالی ہندستان کی تمام علاقائی زبانوں کو ہڑپ لینے کی ایک کوشش ہمیشہ سر اٹھاتی رہی ہے۔بھوج پوری ، میتھیلی ،اودھی، نیپالی اور اس طرح کی تمام بولیوں کو خاموشی سے ہندی کے خانے میں ڈالنے کی مہم چھیڑی گئی ۔ ہر مردم شماری میں ان موضوعات پر سرکاری کارندوں سے بحث و مباحثہ اور چپقلش کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔آزادی کے بعد سے ہی ماہرینِ لسانیات کی ایک مضبوط ٹیم ہندی میں اپنی کتابیں لکھ لکھ کر یہ سمجھانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ یہ علاقائی زبانیں حقیقت میں ہندی کی ذیلی بولیاں ہیں۔اس معصومانہ علمی مشقت کا ایک اورعملی پہلو یہ سامنے آیا کہ تمام چھوٹی چھوٹی بولیاں اور زبانیں دیوناگر ی رسمِ خط کو اپنا لیں۔ اس مہم کاپچھلاسرا فور ٹ ولیم کا لج سے ہوتے ہوئے بھارتندو ہرش چنداور ناگری پرچارنی سبھا سے ملتا ہے۔پنجاب میں یہ بحث ایک دور میں عام ہوئی کہ پنجابی کا رسمِ خط گرومکھی کی جگہ پر دیوناگری کر دیا جائے ۔ سندھی کے تعلق سے بھی ایسی تحریکیں چلائی گئیں۔میتھیلی کی تاریخ پر ہندی زبان کے ماہرین نے بڑے شاطرانہ انداز میں نگاہ ڈالی اور ایک مصنوعی زبان اوہٹ پیدا کی گئی تاکہ میتھیلی کی قدامت کا سکہ قائم نہ رہے اور قدیم ہندی کی تاریخ پر اس کے اثرات نہ بتائے جائیں۔دیوناگری رسمِ خط کے بہانے ہندی کے حلقہ¿ اثر کو بڑھانے کی بڑی چالاک کوششیں ہوئی تھیں۔میتھیلی والوں نے آزادی کے بعد سے ہی ہندی کے دانش وروں کی سیاست پرسنجیدہ غور وفکر کرنا شروع کر دیا تھاجس کی وجہ سے اپنی زبان کے حقوق اوراس کے رسم خط کی حفاظت میں وہ کچھ حد تک کامیاب ہوئے۔ آٹھویں شڈیول میں ایک علاقائی زبان کے طور پر انھوں نے اپنا درجہ حاصل کیا مگرمیتھیلی سے بڑے علاقے میں بولی جانے والی زبان بھوج پوری کو وہ حقوق حاصل نہ وہ سکے اوراس کا قدیم رسم ِ خط کیتھی بھی تاریخ کے ا س دفینے میں گم ہو گیا۔
آسام اور نارتھ ایسٹ میں بنگلہ زبان کے جبر کی بات بھی زیادہ پرانی نہیں اور مشرقی پاکستان پر پاکستان کی قومی زبان کا جبر آخر کا ر بنگلہ دیش بنا گیا۔برطانیہ اور آیرلینڈسے لے کر چےکوسلواکیہ اورسابق سویت یونین کی متعدد ریاستوںمیں کہیں نہ کہیں لسانی نا معقولیت کی کہانیاںدیکھنے کو ملتی ہےں۔ان مثالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زبان کا کام جبر سے نہیں چلایا جا سکتا۔بار بارحکومتوں کے فیصلوں کے خلاف عوام نے اتناسخت رویہ اپنایا جس سے قومی انقلاب تک کی صورت پیدا ہوئی اور ملک کے ٹکڑے ہوگئے۔
ہندستان میں اردو ایک طویل مدت سے اس لسانی منافرت میں اپنے وجود کو بچانے کی جنگ کرتی رہی ہے۔جو زبانیں پورے ملک یا ملک کے ایک بڑے حصّے میں بولی جاتی ہیں، ان کی پریشانیاں اس وقت سمجھ میں آئیں جب ہندستا ن میں لسانی سطح پر صوبوں کی تقسیم کاحتمی فیصلہ ہو ا۔اردو اور ہندی قواعد کے اعتبار سے الگ الگ زبانیں نہیں ہیں۔ اس لیے اتر پردیش ،بہار ،مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کو ہندی صوبوں کے طور مانا گیا۔ کشمیر میں کشمیری کو جگہ ملی۔ ترائی کے علاقوں میںڈوگری نے اپنی پہچان قائم کی ۔ اردو کے لیے حالت یہ ہو گئی: رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا۔وہ زبان جو ہر جگہ بولی اور سمجھی جا رہی ہے، اس کے لیے کوئی گھر مقرر نہیں ۔
ہندستان میں زبانوں کی خانہ جنگی میں شمال اور جنوب کے درمیان کافی تنازعات رہے ہیں۔ مہاتما گاندھی ان نزاکتوں کو سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کاکہنا تھا کہ شمالی ہندستان کے ہر فرد کو کم از کم ایک جنوبی ہند کی زبان ضرورسیکھنی چاہیے اور اسی طرح جنوبی ہندستان کے لوگوں کوکم ازکم شمالی ہندستان کی ایک زبان کے سیکھنے کی ضرورت ہے۔مگر آزادی کے بہتّر برسوں کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ کننڑ ،تیلگو ،ملیالم اور تمل بولنے والے تو شمالی ہندستان کی زبانوں کی طرف بڑھے مگر جنوبی ہندستان کی زبان سیکھنے کی سطح پر شمالی ہندستان میں کوئی پیش رفت نہیںہوئی۔ سرکار کی طرف سے تو ایسی کوئی کوشش ہوئی ہی نہیں۔ا س کے برعکس آئے دن مختلف مرکزی حکومتیں جنوبی ہندستان کی ریاستوں پر ہندی زبان کو جبریہ تھوپنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔کہاں عدالتوں میں ہندی کا نفاذ سرکار کر پاتی، مرکزی سیکرٹریٹ اور یونی ورسٹیوں میں ہندی کے لیے ماحول بناتی،اس کی جگہ سرکاری زبان کے طور پر جنوبی ہندستان کونشانے پر رکھنا زیادہ پسندہے ۔
سوا ل یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے ایسے فیصلوں کے خلاف جنوبی ہندستان سے جو شدید ردِ عمل ہو تا ہے، اسے نامناسب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔یہ ردِ عمل رفتہ رفتہ منافرت میں تبدیل ہو تا جائے گا۔جغرافیائی اور لسانی گروہ کے اعتبار سے یہ ریاستیں ملک کی بڑی جماعت ہیں اور ہر اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ایسے لوگوںکو کمزور یا بے زبان سمجھنا خطرناک ہو گا۔زبانوں کو مذہبی جنون کاتابعدار بنانے کی کوشش ایک غیر ضروری کا م ہے۔اردو اس منافرت کے باوجود جی رہی ہے مگر سرکا ر اس جبر میں اضافہ کرے تو تمام علاقائی زبانیں اپنے حقوق کے لیے کھڑ ی ہوجائیں گی۔ یہ سچائی بھی یاد رکھنی چاہیے کہ تمام سرکاری سہولیات کے باوجود ہندی ایسی زبان نہیں بن سکی جسے ہندستان کی تمام زبانوں کا ترجمان کہا جا سکے۔عالم کاری کے دور میں انگریزی کب ہندی کوہی نگل جائے ،یہ کہنا مشکل ہے۔ایسے میں سرکاری پشت پناہی میں ہندی زبان کو علاقائی زبانوں کو ہڑپنے کا خطرہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ملک یوں بھی مختلف تشویشات میں مبتلا ہے،مزید بانٹنے اور بکھرنے کے تماشوں سے مرکزی حکومت کو بچنا چاہیے۔فصیلِ وقت پر لکھی ہو ئی عبارت ہمیں صاف صاف نظر آنی چاہیے ورنہ اقبال پہلے ہی کہہ چکے ہیں:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو¿ گے اے ہندوستاں والو !
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
safdarimamquadri@gmail.com
(کالم نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں صدر شعبہ¿ اردو ہیں)