Select your Top Menu from wp menus

شیوہر لوک سبھا حلقہ:ایک سرسری جائزہ 

شیوہر لوک سبھا حلقہ:ایک سرسری جائزہ 
محفوظ مناظر
شیوھر لوک سبھا ریاست بہار کا وہ منفرد حلقہ ہے۔جس کے اندر اس ضلع کا صرف ایک اسمبلی حلقہ آتا ہے۔2008  کے حلقہ بندی میں  شیوہر لوک سبھا  تین ضلعوں کے چھ اسمبلی حلقوں کو یکجا کر کے بنایا گیا۔جس میں مشرقی چمپارن سے مدھوبن ،چریا،ڈھاکہ ،سیتامڑھی سے ریگا ،بیلسنڈ اور شیوھر ضلع کا شیوھر اسمبلی حلقہ شامل کیا گیا۔ فی الحال مدھوبن سے رانا رندھیر سنگھ(بی جے پی) ،چریا سے لال بابو گپتا(بی جے پی)  ، ڈھاکہ سے فیصل رحمان(راجد)  ،ریگا سے ٹنا سنگھ (کانگریس)،بیلسنڈ سے سنیتا سنگھ چوہان(جے ڈی یو)اور شیوہر سے شرف الدین (جے ڈی یو) رکن اسمبلی ہیں۔
آزاد ہندوستان میں آزادی کے پانچ سال بعد پہلی دفعہ 1952 میں لوک سبھا کا انتخاب ہوا۔اس وقت لوک سبھا کی 489 سیٹیں تھیں۔جس میں  کانگریس364 سیٹیں جیت کر اقتدار میں آئی۔جواہر لعل نہرو ھندوستان کے پہلے وزیر اعظم بنائے گئے۔اس وقت اب کا  شیوہر پارلیمانی حلقہ مظفرپور اتر پچھم لوک سبھا  کے زمرے میں آتا تھا۔اس حلقہ سے پہلی دفعہ کانگریس کے ٹھاکر یوگل کشور سنگھ ( معروف مجاھد آزادی)ممبر پارلیمینٹ منتخب ہوئے۔انکی پیدائش 1908 کو  سیتامڑھی میں اور وفات 1980 کو پٹنہ میں ہوئی۔ ان کی بیوی کا نام رام دلاری سنہا ہے۔ان کے لڑکے مدھوریندر کمار سنگھ ہیں۔انہی کے ہاتھوں 1981 میں ٹھاکر یوگل کیشور سنگھ کالج(سیتامڑھی) کی تاسیس عمل میں آئی۔
جبکہ بعض لوگوں کا دعوی ہیکہ وہ اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی چناو نہیں جیتے۔ان لوگوں کے مطابق اس حلقہ سے چندیشور نارائن پرساد سنہا پہلے ایم پی بنے۔وہ 18 اپریل 1901 ء کو بہار کے پارس گڈھ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اعلی تعلیم کلکتہ یونیورسیٹی سے حاصل کی۔1927ء میں انہیں بہار قانون ساز کونسل کا ممبر بنایا گیا۔1945ء میں پٹنہ یونیورسیٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے۔آزادی کے بعد پنڈت نہرو نے انہیں نیپال میں بھارت کا سفیر بننے کی دعوت دیا۔انہوں نے اسے قبول کر لیا۔1953ء میں وہ پنجاب کے گورنر بنے۔1958ء میں انہیں جاپان میں ہندوستانی سفیر بنایا گیا۔1977ء میں وہ پدم بھوشن سے نوازے گئے۔28 فروری 1980ء کو وہ اتر پردیش کے گورنر بنائے گئے۔مگر ان لوگوں کی باتیں بھی بلا دلیل ہیں۔کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ چندیشور نارائن سنگھ کبھی اس حلقہ سے انتخاب جیتے ہوں۔یہ الگ بات ہیکہ چندیشور نارائن کانگریس کے سینئر لیڈر اور قد آور نیتا تھے۔
1957 کے عام انتخاب کی مناسبت سے  پپری لوک سبھا حلقہ  کی تشکیل عمل میں آئی ۔  شیوھر اسی حلقہ کے ساتھ منسلک رہا ۔کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے نارائن سنگھ اس حلقہ کے پہلے ممبر پارلیمینٹ منتخب ہوئے۔انکی پیدائش مظفرپور ضلع میں 21 نومبر 1924 کو اور وفات 1991 کو پٹنہ میں ہوئی۔
کانگریس نے اس دفعہ 371  سیٹوں پر جیت حاصل کی۔نہرو دوبارہ اقتدار میں آئے۔
1962 کے پارلیمانی الیکشن میں اس حلقہ سے  کانگریس کے ششی رنجن پرساد ساہو کو جیت نصیب ہوئی۔انکی ولادت 3 جنوری 1919 کو مظفرپور میں ہوئی۔ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسیٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی ۔ان کے والد کا نام متوک پرساد ساہو اور ماں کا نام اومہ دیوی تھا۔
27 مئی 1964 کو نہرو کی موت ہو گئی۔انکی وفات کے بعد دو ہفتہ کیلئے گلزاری لال نندا کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔کانگریس نے لال بہادر شاستری کو  وزیر اعظم منتخب کیا۔شاستری کی وفات کے بعد نندا کو پھر سے ایک ماہ سے کم مدت کیلئے وزیر اعظم بنایا گیا۔24 جنوری1966 کو اندرا گاندھی  پہلی دفعہ وزیر اعظم بنی۔
 1967 کے عام انتخاب میں دوبارہ ششی رنجن نے اپنی جیت درج کی ۔اپنے مخالف ہری کشور سنگھ کو مات دیا۔
اس بار کانگریس نے 283 سیٹوں پر  جیت حاصل کی ۔13 اپریل کو اندرا نے وزیر اعظم کا حلف لیا۔ڈیسائی کو نائب وزیر اعظم بنایا ۔12 نومبر 1969 کو انہیں معزول کر دیا گیا۔دسمبر 1970 تک سی پی آئی کے تعاون اور حمایت سے یہ حکومت چلی۔
1971 میں ہری کشور سنگھ اس حلقے سے کانگریس کے  سانسد منتخب ہوئے۔ وہ پہلی دفعہ ایم پی بنے۔  2 جون 1934 کو شیوہر کے چمن پور گاؤں میں پیدا ہوئے۔میٹرک اور انٹر کی تعلیم نواب ہائی اسکول شیوہر اور بنارس ھندو یونیوردیٹی سے ایم اے تک کی تعلیم مکمل کی۔مزید تعلیم آسفورڈ یونیورسیٹی سے حاصل کیا۔انہوں نے دیش بدیش نامی کتاب لکھی۔28 اگست 2013 کو 79 سال کی عمر میں انتقال کر گئے  ۔
اس دفعہ کانگریس کو 352  سیٹیں ملی ۔12 جون 1975 کو عدالت عظمی احمدآباد نے انتخاب میں بددیانتی اور بے اعتدالی کی وجہ سے اس الیکشن کو غیر قانونی قرار دیا۔ایمرجنسی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو جیل میں محصور کردیا گیا۔
 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک بھارت میں ایمرجنسی کا دور چلا۔ عوامی آزادی کو ختم کر دیا گیا۔اس وجہ سے کانگریس کی حالت کمزور ہوگئی۔ جنتا پارٹی کے مرارجی ڈیسائی 298 سیٹ جیت کر  24 مارچ کو بھارت کے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم بنے۔پہلی مرتبہ کانگریس کو جن مورچہ کے اتحاد سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
1977 میں ہی شیوہر لوک سبھا حلقہ کا قیام عمل میں  آیا۔ اس حلقہ کے پہلے ایم پی بھارتیہ لوک دل کے ٹھاکر گرجہ نند سنگھ منتخب ہوئے ۔ انہوں نے کانگریس کے امیدوار ہری کشور سنگھ کو مات دیا۔
بھارتیہ لوک دل کے نیتا چودھری چرن سنگھ اور جگ جیون رام موجودہ وزیر اعظم سے خوش نہیں تھے۔سماجوادیوں اور ھندو راسٹروادیوں کی جنتا پارٹی 1979 میں منقسم ہوگئ۔بھارتیہ جن سنگھ کے نیتا اٹل بھاری واجپئ اور لال کرشن اڈوانی نے پارٹی چھوڑ دیا۔بی جے ایس نے حمایت واپس لے لیا۔ڈیسائی نے اپنا یقینی ووٹ کھودیا اور استعفی دے دیا۔چودھری چرن سنگھ نے جون 1979 کو وزیر اعظم کا حلف لیا۔وہ واحد وزیر اعظم تھے جو سنسد نہیں گئے تھے۔
1980 میں  لوک سبھاانتخاب کا اعلان ہوا۔ جنتا دل کی ناکامی نے کانگریس کو واپسی کا موقع دیا۔کانگریس نے 351 سیٹیں جیتی۔اندرا وزیر اعظم بنی۔ شیوھر حلقہ سے کانگریس کی رام دلاری سنہا نے جیت درج کی۔ انکی پیدائش  8دسمبر 1922 کو گوپال گنج اور وفات31 اگست1994کو نئی دلہی میں  ہوئی ۔1952 میں پہلی دفعہ رکن اسمبلی اور 1962 میں پہلی دفعہ ممبر پارلیمینٹ منتخب ہوئی۔23 فروری  1988 سے 12 فروری 1990 تک کیرل کی گورنر رھی۔1971سے 1977 ، 1980سے 1984 اور1984 سے 1988 تک  بھار سرکار کی منتری بھی  رہی۔
31 اکتوبر 1984 کو اندرا پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور انکی موت ہوگئی ۔اس کے بعد لوک سبھا کو رد کر دیا گیا۔راجیو گاندھی نے اگلے وزیر اعظم کے روپ میں حلف لیا ۔اور اپنی ذمہ داری سنبھالی۔
نومبر 1984 کو الیکشن کا اعلان کیا گیا۔اس مرتبہ کانگریس نے 409سیٹیں جیتی۔اس پارلیمانی حلقہ سے بھی کانگریس کی رام دلاری سنہا کی جیت ہوئی۔اپنے حریف جنتا پارٹی کے امیدوار ہری کشور سنگھ کو ناکام کرنے میں کامیاب رہی۔
 22 اور 26نومبر 1989 کو 525 سیٹوں پر دو مرحلے میں انتخاب ہوئے۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی سرکار بنی۔دیوی لال نائب وزیر اعظم بنائے گئے۔سنگھ  نے 2 دسمبر 1989 سے 10 نومبر 1990 تک کی مدت پوری کی۔سماجوادی جنتا پارٹی کے چندیشور  64 سانسدوں کے ساتھ الگ ہو گئے ۔انہیں کانگریس کا ساتھ ملا ۔اور وہ گیارہویں وزیر اعظم بنے ۔6 مارچ 1991 کو استعفی دے دیا۔شیوھر لوک سبھا حلقہ سے اس بار جنتا دل کے ہری کشور سنگھ نے کانگریس کے  مدھوریندر کمار کو تقریبا تین لاکھ ووٹوں سے ہرایا۔
 20 مئی12 /15 جون  1991 کو الیکشن ہونا طے پاتا۔ مگر 20 مئی کو راجیو گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔ جس بنیاد پر انتخاب معطل کر دیا گیا۔12/15 جون کو الیکشن ہوا۔کانگریس 232 سیٹوں پر جیتی۔21 جون کو پی وی نرسمہا راو نے وزیر اعظم کا حلف لیا۔راؤ دوسرے غیر کانگریسی وزیر اعظم بنے۔شیوھر سے جنتا دل کے ہری کشور سنگھ نے چندشیکھر کے قریبی،شیوھر ضلع کے بانی  اور سماجوادی جنتا دل کے امیدوار  رگھو ناتھ جھا کو تقریبا 1،96000 ووٹوں سے شکست دیا۔
 سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے 1996 کے انتخاب کے بعد  3 وزیر اعظم بنے۔ واجپئ نے 16 مئی کو پی ایم کا حلف لیا ۔13 دنوں کے بعد استعفی دے دیا۔ جنتا پارٹی کے دیو گوڑا کی سرکار  18 مہینے تک چلی۔اپریل 1997میں اندر کمار گجرال نے پی ایم کا عہدہ سنبھالا۔ مشکل سے یہ لوک سبھا 413 دن   تک چلی۔
شیوھر سے سمتا پارٹی کے آنند موہن نے جنتا دل کے رام چندر پوربے کو  مات دے کر ممبر پارلیمینٹ بنے۔
28 جنوری 1954 کو سہرسہ ضلع میں انکی پیدائش ہوئی۔وہ پہلی مرتبہ 1990 میں سہرسہ سے جنتا دل کے  ایم ایل اے بنے۔1993 میں بی پی پی پارٹی بنائی۔1980 میں کرانتیکاری سماجوادی سینا قائم کیا۔ابھی جیل کی سلاخوں میں بند ہیں۔
4 دسمبر 1997کو وقت سے پہلے انتخاب ہوئے۔بی جے پی کے اتحادیوں کو 265 سیٹیں ملی۔19 مارچ 1998 کو واجپئ نے حلف لیا۔شیوھر حلقہ سے سمتا پارٹی کے امیدوار ہری کشور سنگھ کو آنند موہن نے دوبارہ شکست دیا۔
17 اپریل 1999 کو واجپئ نے اپنا یقینی ووٹ گنوا دیا۔
26 اپریل 1999کو لوک سبھا تحلیل کر دیا گیا۔انتخابی  تاریخ 4 مئی کو قرار پائی۔ 543  سیٹوں پر چناو لڑا گیا۔6 اکتوبر  کو راجگ کو 298سیٹیں  ملیں ۔واجپئ نے 13 اکتوبر کو وزیر اعظم کا حلف لیا۔
یہ الیکشن شیوھر کی تاریخ میں بہت اہم رہا۔ راسٹریہ جنتا دل کے انوار الحق نے آنند موہن کو شکست دیا۔اور چتور گڑھ کے قلعے کو فتح کرلیا۔لیکن وہ بہت دنوں تک راجد کے ساتھ نہیں رہ سکے۔بی جے پی کے ساتھ ہو گئے۔
وہ 7 اکتوبر 1944 کو  شیوہر کے گڑھیا گاؤں میں پیدا ہوئے۔1980 میں کانگریس کے ٹکٹ پر سونبرسہ سے ایم ایل اے چنے گئے۔1985 کے الیکشن میں کرپوری ٹھاکر کو زبردست ٹکر دیا۔مئی 2016 کو لوہیا ہسپتال میں علاج کے درمیان وفات پاگئے۔
  20 اپریل سے 10 مئی تک چار مرحلہ میں 2004 کا انتخاب ہوا۔13 مئی کو بی جے پی نے ہار قبول کیا۔یو پی اے اتحاد کو 335 سیٹیں ملی۔منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے۔
شیوہر سے بی جے پی کے  انوار الحق کو راجد کے سیتارام سنگھ نے شکست دیا۔اور پہلی دفعہ ممبر پارلیمینٹ منتخب ہوئے۔
سیتا رام سنگھ 12 نومبر 1948 کو موتیہاری کے بنجریہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔مدھوبن اسمبلی حلقہ سے 1985سے 2004 تک ایم ایل اے رہے۔2004 سے2009 تک شیوھر کے ایم پی رہے۔11 جون 2014 کو دھلی میں وفات پاگئے۔
2009 کے لوک سبھا الیکشن میں پو پی اے اتحاد کو 262 سیٹیں ملی۔ این ڈی اے اتحاد کو محض  160 پر اکتفاء کرنا پڑا۔
اس مرتبہ شیوھر حلقہ سے برج بھاری کی بیوی رامہ دیوی کو بی جے پی نے امیدوار بنایا۔وہ اپنی پارٹی کی امیدوں پر کھڑی اتری اور سیتا رام سنگھ کو ہرا دیا۔
مئی 2014 کے عام انتخابات میں این ڈی اے اتحاد
کو 337 سیٹیں ملی۔یو پی اے اتحاد محض 60 سیٹوں پر سمٹ گئی۔بی جے پی  30 سالہ ریکارڈ کو توڑ کر اکثریت میں آئی۔نریندر مودی نے 26 مئی کو وزیر اعظم کا حلف لیا۔
اس دفعہ بھی اس حلقہ سے بی جے پی کی رامہ دیوی نے راجد کے انوار الحق کو شکست دیا۔رامہ دیوی کو 372506 ،انوار الحق کو 236267،جے ڈی یو کے شاھد علی خان کو 79108اور ایس پی کے  لولی آنند کو 46008 ووٹ ملا۔
 رامہ دیوی 5 مئی 1949 کو ویشالی ضلع کے لال گنج میں پیدا ہوئی۔انہوں نے قانون کی پڑھائی کی۔یہ برج بھاری کی بیوی ہیں۔جن کا قتل 13 جون 1998 کو آئی جی آئی ای ایم ایس کے احاطہ میں کر دیا گیا۔1999 کے عام انتخابات میں رامہ دیوی موتیہاری سے راجد کے ٹکٹ پر پہلی دفعہ الیکشن جیتی۔
2019 کا عام انتخاب سات مرحلہ میں ہوا ۔
23 مئی کو باضابطہ طور پر نتائج کا اعلان ہوا ۔جس میں این ڈی اے اتحاد نے 542سیٹوں میں سے  350 سیٹ پر تاریخی جیت درج کی۔جبکہ یو پی اے کو محض 85 سیٹوں پر سمٹنا پڑا۔
شیوہر حلقہ سے 12 مئی کو چھٹے مرحلہ میں انتخاب ہونا طے پایاتھا  ۔اس حلقہ سے تقریبا 18 امیدواروں نے اپنی اپنی قسمت آزمائی کی تھی۔
جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
پارٹی کا نام          امیدوار کا نام                             ووٹ
 بی ایس پی   ۔        مکیش کمار جھا                        7633
بی جے پی                رامہ دیوی                           380644
این ای پی                 شمیم عالم                              8193
راجد                      سید فیصل علی                     154167
جے اے پی              انیل کمار                                  1112      آر جے پی              اپیندر سہنی                          4316
بی بھی پی              جگدیس پرشاد                         2723
اے آئی ایف بی         دیویندر پرشاد                         1571
بی پی پی               نبی حسین                                1249
شیوشینا               پربھونارائن                                 1581
آر ایچ آئی               شیام کمار                                  3075
آزاد                       انیل کمار تیواری                         6373
آزاد                    ابو الکلام خان                              3660
آزاد                    کیدار ناتھ پرشاد                          11324
آزاد                  راج کمار پرشاد                                8434
آزاد                رام دیال پرشاد                                 1938
آزاد                  وجے نند پاسوان                             6985
نوٹا          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔               4348
ان تمام امیدواروں کی امیدوں پر بی جے پی  امیدوار رامہ دیوی نے پانی پھیرنے کا کام کیا۔اور اس حلقہ سے مسلسل تیسری دفعہ جیت درج کرنے میں کامیاب رہی۔  اپنے حریف عظیم اتحاد کے امیدوار اور سیاست کے نئے شہسوار سید فیصل علی کو تقریبا 265477 ووٹ سے مات دیا ۔اب دیکھنا یہ ہیکہ کیا رامہ دیوی شیوہر کے زمینی مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی کا مظاھرہ کرتی ہیں یا نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔