Select your Top Menu from wp menus

مذہبی یکجہتی،دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی طاقت

مذہبی یکجہتی،دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی طاقت
مکرمی!مذہبی یکجہتی کی تہذیب یا جسے ہم گنگا-جمنی تہذیب کےنام سے جانتے ہیں۔وطن عزیز میں رہنے والے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کےجب درمیان اچھے رشتے ہی ملک کی بنیادی طاقت ہیں۔اسی طاقت نےشیطانی طاقتوں کے خلاف ایک ڈھال کا کام کیا ہے۔رواداری اور آپسی بھائ چارہ ان دونوں خوبیوں نے ہندوستانیوں کو ملک کو تقسیم کرنے والی باہری اور اندرونی طاقتوں سے لڑنے کی طاقت دی۔ملک میں رہنے والے صوفیوں،فقیروں اور سنتوں نے ہندوستانیوں کو خدا کی ایکتا اور انسانیت ہی سب سے اچھا مذہب ہے جیسے پیغام دئے۔یہاں کے حکمرانوں نے سبھی کو برابری کا درجہ دیا اور یہاں کے لوگ بھی انسانی رشتوں سے جڑے ہو ئے تھے۔ان سبھی باتوں کی وجہ سے ہی ہندوستانی مسلمانوں نے داعش اورالقاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں( جو پڑوسی ملک سے چلائ جا رہی ہیں) کی طرف رخ نہیں کیا۔یہاں یہ دیکھنا لازمی ہوگا کہ جہاں یورپ،مڈل ایسٹ اور افریقی ملکوں سے داعش میں ہزاروں لڑاکے گئے،وہیں ہندوستان سے صرف 169 لڑاکے ہی گئے،جن کو دہشتگرد بہکانے میں کامیاب رہے۔ کشمیر میں بھی مذہب کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی مذموم کوشش کی گئ۔یہاں پر یہ بھی کہنا مناسب ہوگا کہ تقریباً دس ہزار علماء نے پلوامہ حملے کے بعد دہشت گردی کی مذمت کی۔اس لئے انیکتا میں ایکتا کے  ماننے والےاور ہندوستانی جمہوریت میں یقین رکھنے والے لوگ ملک کو پہلے ترجیح دیں گے اور داعش اس طرح کی ساری تنظیموں کی شیطانی سازشوں کا پردہ فاش کرکے انہیں نیست نابود کریں گے۔
محمد یونس
نئ دہلی