Select your Top Menu from wp menus

23مئی کے بعد کیا ہوگا؟

23مئی کے بعد کیا ہوگا؟
اشرف استھانوی
لوک سبھاانتخاب آخری پڑاؤ پر پہنچ گیا ہے۔ اب صرف 59 سیٹیوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ لیکن گراؤنڈ رپورٹ سے جو اشارے مل رہے ہیں اس سے حکمراں اتحاد کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ اتحاد کے بڑے رہنما خاص طور پر وہ رہنما جو پارٹی سے بھی بڑے ہوگئے ہیں وہ بہت زیادہ ہی پریشان ہیں۔ پریشانی میں وہ اول جلول بیان دے رہے ہیں۔ اور اپنے حشر سے بے خبر ہوکر اپوزیشن کے رہنماؤں کو ان کا حشر بتانے میں مصروف ہیں۔ گراؤنڈ رپورٹ یہ کہتی ہے کہ نئی لوک سبھا معلق ہوگی اور اس میں تین بڑے گروپ نظر آسکتے ہیں۔ پہلا گروپ این ڈی اے کا ہوگا۔ دوسرا کانگریس کی قیادت والے یو پی اے کا ہوگااور تیسرا وہ گروپ ہوگا جو کانگریس اور بی جے پی دونوں سے دوری بناکر چل رہا ہے اسی امکان کے پیش نظر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اور ٹی آر ایس لیڈر کے. چندر شیکھر راؤ نے غیر بی جے پی اور غیر کانگریس فیڈرل فرنٹ بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ لیکن ان کی اس کوشش کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔
کے چندر شیکھر راؤ نے پیر کے روز ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن سے ملاقات کی، لیکن نتیجہ امید کے مطابق نہیں رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹالن نے کے سی آر سے صاف طور پر کہہ دیا کہ وہ بھی کانگریس کو حمایت دیں اور کانگریس کی قیادت میں حکومت بنانے میں مدد کریں۔ ڈی ایم کے کا کانگریس کے ساتھ انتخاب سے قبل اتحاد بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مواقع پر اسٹالن وزیر اعظم عہدہ کے لیے راہل گاندھی کے نام کی پیروی کر چکے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ڈی ایم کے لیڈر سرونن انّادورائی نےبتایا کہ ’’ہمارے لیڈر ایم کے اسٹالن نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے سی آر سے کہا ہے کہ وہ کانگریس اتحاد کو حمایت دیں۔‘‘ کیونکہ 2019 کے انتخاب میں ریاستوں کے لیڈر ہی 23 مئی کے بعد اصل ہیرو ہوں گے۔
 گذشتہ ہفتہ راؤ نے اپنی کوششوں کے تحت کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پی وجین سے ملاقات کی تھی، اور ایم کے اسٹالن سے ملنے کا وقت مانگا تھا، لیکن اس وقت ڈی ایم کے سربراہ انتخابی تشہیر میں مصروف تھے۔ اس وقت ڈی ایم کے لیڈروں نے کہا تھا کہ یہ اسٹالن کا اشارہ ہے کہ وہ میٹنگ نہیں کرنا چاہتے۔ پیر کے روز دونوں لیڈروں کے درمیان میٹنگ ایک گھنٹے تک چلی۔ میٹنگ کے بعد چندر شیکھر راؤ میڈیا سے بغیر بات چیت کیے ہی چلے گئے۔ڈی ایم کے پارٹی کے حوالے سے ذرائع نے کہا کہ اسٹالن نے فیڈرل فرنٹ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ کے سی آر کانگریس کی قیادت والے یو پی اے کو حمایت دیں۔ اسٹالن سے ملاقات کے بعد ابھی کے سی آر یا ان کی پارٹی ٹی آر ایس کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔  اس سے قبل کانگریس کی قیادت میں حکومت سازی کے امکانات تلاش کرنے کی غرض سے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ اور ٹی ڈی پی کے سربراہ چندر بابو نائیڈو نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات کی تھی اور انتخابی تاریخ سے پہلے 21 مئی کو اتحاد کی میٹنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی مگر ممتا نے اس پروگرام کو نتائج آنے تک ٹال دیا۔ اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ اور بیجو جنتادل کے سربراہ نوین پٹنائک بھی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور انہوں نے بھی ابھی تک اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد ہی حالات کے مطابق لوگ فیصلہ کریں گے۔ اس وقت جس پارٹی کا مینجمنٹ مضبوط ہوگا وہی اقتدار پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگی۔