Select your Top Menu from wp menus

اکیسویں صدی کے اردو ادب کا غیر متوقع نام : پریم ناتھ بسمل

اکیسویں صدی کے اردو ادب کا غیر متوقع نام : پریم ناتھ بسمل

اردو غزل کا دامن اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت وسیع ہے اس کی وسعت کو جہاں ملک کے مختلف حصے کے نامور شعراءنے فراخی بخشی ہے وہی بہار بھی اس معاملہ میں بالکل پیچھے نہیں ہیں ،اردو ادب کی بات کی جائے تو پھر چاہے نثر ہو یا نظم دونوں ہی حق میں مختلف ہندو شعرا ء،افسانہ نگار اور ناول نگار نے اردو کی خدمت کی ہے اور عروج بخشا ہے ،
اردو ادب میں اگر ہندو شعرا ءاور ادباءکی بات کی جائے تو منشی پریم چندر ،کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، جگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ اور حکم چند وغیرہ کا نام سرفہرست ہے ،جنہوں نے اردو ادب کی نہ صرف خدمت کی بلکہ اپنے کارہائے نمایاں سے اردو ادب کا دامن وسیع کیا۔
دور حاضر میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو اردو کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں،اردو جو کہ خالص ہندوستانی زبان ہے ،ملک و ملت کی زبان ہے، عام خاص کی زبان ہے، بگڑتے حالات اور لوگوں کی بدلتی سوچ نے اسے محض ایک طبقہ سے منسلک کردیا ہے ، اورآج یہ عالم ہے کہ ہندوستان کی عوام الناس اس بات سے اتفاق رکھتی ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، حالانکہ کبھی بھی کوئی بھی زبان کسی ایک معاشرہ، طبقہ، قوم،ملک یا جماعت کی جاگیر نہ رہی ہے اور نہ رہے گی ۔
بہار سے تعلق رکھنے والے دور جدید کے شاعر پریم ناتھ بسمل نے ملک بھر کے ان لوگوں کے منہ پر طماچہ جڑا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ان لوگوں کی منفی سوچ کو غلط ثابت کیا ہے جو زبان کو کسی ایک طبقہ سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔
15اپریل 1985 کو مرادپور مہوا ویشالی صوبہ بہار میں پیدا ہوئے پریم ناتھ کمار فلمی نغموں کے بہت شوقین تھے، محمد رفیع ،کشور کمار، محمد عزیز اور دیگر گایکو ں کی آواز انہیں بے حد پسند آتی اور اس سے بھی زیادہ انہیں ان الفاظ کو سننے میں مزہ آتا جو اردو الفاظ ان نغموں میں اس وقت استعمال کئے گئے ہیں، بس یہیں سے پریم ناتھ کو اردو سے عشق کا خمار طاری ہوگیا ،پھر کیا تھا پریم ناتھ نے اپنے عشق میں کسی ہرگز آڑے آنے نہیں دیا، اسکول میں اپنے اردو پڑھنے والے ساتھیوں سے اردو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے مدد کی اردو سے بے پناہ محبت کی سبب جلدہی لکھنا پڑھنا اور بولنا بھی سیکھ گئے ،اب چونکہ وہ اردو پڑھ لکھ سکتے تھے ،لہٰذا اردو سے ڈگریاں حاصل کرنے کی خواہش ہوئی تو کنہولی مدرسہ کے صدر معلم جناب جمیل اختر صاحب سے جاملے ،انکی مدد سے وسطانیہ میں داخلہ لیا اور ۱۰۰۲ میں وسطانیہ ۳۰۰۲ میں فوقانیہ ، مدرسہ احمدیہ اکبر پور سے ۵۰۰۲ میں مولوی کا امتحان اول درجہ سے پاس کر لیا ، ۸۰۰۲ میں پٹنہ کالج سے اردو میں B.Aکا امتحان اول درجہ سے پاس کیا جبکہ سال ۰۱۰۲میں دربھنگہ ہاو¿س سے M.Aاردو کیا اور پٹنہ یونیورسٹی میں تیسرا مقام حاصل کیا ، پریم ناتھ نے محض ۷۱ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کردی تھی ،والد بزرگوار معلم تھے ار اپنے لاڈلے کا اردو کے تئیں رجحان دیکھ کر متحیر تھے اور اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ کیا رکھا ہے اردو میں، کیا ملے گا پڑھ کر، اس کا بھلا کوئی مستقبل ہے گاو¿ں والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ مسلمان ہوگیاشادی بھی مسلمان سے ہی کریگا اور نہ جانے کیا کیا پر پریم ناتھ پر ان سب باتوں کا بالکل اثر نہیں ہوا ، وہ سب کی سنتے رہے اور صرف اپنے من کی کرتے رہے ، کچھ عرصہ تک شفیق سلما نی صاحب سے اپنے اشعار کی اصلاح کراتے رہے،
پریم ناتھ نے سال ۱۱۰۲ میں TET پاس کیا اور ۳۱۰۲ میں اردو اساتذہ کے طور پر تقرری ہوئی آج پریم ناتھ بسمل بہار کے چند بہتر شعراءمیں سے ایک ہیں انکی پہلی غزل ۹ جنوری ۶۰۰۲ کو فاروقی تنظیم پٹنہ میں چھپی تھی جبکہ آج ملک کے تقریبا تمام اخبارات میں انکی غزلیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
آج پریم ناتھ بسمل شاعری کی دنیا میں اپنے نام کا لوہا منوا چکے ہیں ان کی شاعری کی زبان سادہ اور سلیس ہے ،شاعری میں آسان زبان استعمال کرنے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان نہایت مقبول ہیں پریم ناتھ کی شاعری موجودہ دور میں اردو ادب کو فروغ دینے میں میل کا پتھر ثابت ہورہاہے،بہار کے کئی نام ور شخصیت نے ان کی بہترین شاعری کااعتراف کیا ہے، وہ ایک بہترین اور کامیاب معلم ہی نہیں بلکہ ایک بہترین شاعر بھی ہیں ۔