Select your Top Menu from wp menus

 فواد چوہدری بمقابلہ مفتی منیب الرحمٰن  ۔۔۔!!

 فواد چوہدری بمقابلہ مفتی منیب الرحمٰن  ۔۔۔!!
کالم نگار: جاوید صدیقی
بیدار ہونے تک
مفتی منیب الرحمٰن صاحب سے عرصہ تقریبا انیس سالوں سے نہ صرف جانتا ہوں بلکہ اس کی کئی میں بھی شریک رہااور کئی پروگرام کی ریکارڈنگ بھی کیں، سن دوہزار دو میں جب کیو ٹی وی لاؤنچ ہوا تب سے آج تک ان کی خدمات اے آر وائی کیلئے نا قابل فراموش رہی ہیں، کیو ٹی وی کا پائنیئر ہونے کے ناطے کئی علما کرام ، مفتی عظام، پیر و مشائخ سے بلمشافہ ملاقات کا شرف حاصل رہا ہے، دین محمدی کو سمجھنا اس پر عمل کرنا کوئی عالم دین سے سیکھے کیونکہ عالم دین انبیا کی میراث ہیں وہ ہمارے سر کا تاج ہیں ان پر دین کی تبلیغ اور فروغ کی ذمہ داری ہوتی ہے ، دور فتن میں آج ہمارے درمیان ایسے ایسے جید عالم دین ہیں جو فتنوں سے نہ صرف جہاد کررہے ہیں بلکہ دین اسلام کی صحیح ترجمانی کا بیڑا بھی اٹھایا ہوا ہے، یہود یوں کو یہ گورا نہیں کہ پاکستان میں علما و مشائخ کی عزت کیوں؟؟؟ پیر عظام کا مقام کیوں ؟؟؟ اسی لیئے ان کے پیٹ میں درد رہتا ہے کہ ریاست کے نظام کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں میں اپنے کارندے داخل کردیئے جائیں تاکہ وہ پاکستان کے نظام ریاست میں خلل ڈال کر خاص کر مذہبی نقطہ کو چھیڑ چھاڑ کرسکیں اس کے سبب وہ اپنے الہ کار یعنی ایجنڈوں کو بھاری مراعات سے نوازیں اور انہیںذہنی مغلوب رکھ سکیں، گزشتہ حکومت میں بھی یہودیوں اور قادیانیوں نے اپنے کارندوں کے ذریعے اوتھ میں تبدیلی کی شدید غلطی کی تھی اور اب ایک بار پھر فواد چوہدری اسی ٹریک پر چل کر یہودیوں اور قادیانیوں کو خوش کرنے کی غرض سے اسلام سے جو کھلواڑ کرنا چاہتا ہے وہ نہ صرف اس کیلئے بہت برا ثابت ہوگا بلکہ خود تھریک انصاف کی جماعت اور حکومت کیلئے نا قابل تلافی نقصان ثابت ہوسکتا ہے ، عمران خان اور اس جماعت کے مخلص لوگوں کو چاہیئے کہ فواد کو باز رکھیں کہ وہ اپنے وزارت کی ترقی اور سائنس و ترقی پر تمام تر توجہ دے اس نازل معاملات سے باز رہے، قرآن و احادیث سے ثابت ہے کہ چاند کو کلینڈر سے نہیں بلکہ اپنی آنکھوں اور شواہد سے تلاش کرو،رہی بات کلینڈر کی تو وہ تمام تر تہوار عیسائیوں، یہودیوں اور بت پرستوں غیر مسلموں میں کلینڈر پر مشتمل ہیں لیکن دنیا کا واحد مزہب اسلام ہے جو قمر کو دیکھ کر ہی اپنے مہینے تبدیل کرتا ہے وہ بھی اس کیلئے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے، آپ ﷺ کے دور سے قیامت تک یہی سلسلہ رائج رہے گا، آج فواد چوہدری اسلام کے اس طریقہ کار میں مداخلت کررہا ہے کل قرآن اور حدیث کے متعلق بھی بکواس کرسکتا ہے کہ اسے سائنسی انداز میں کچھ اس طرح کرلیں ، دین اسلام نبی آخر زمان ﷺ پر آیا ہے اور آپ ﷺ ہی اللہ کے آخری رسول اورنبی ہیں اسی لیئے قرآن بھی تا قیامت کیلئے آیا ہے، فواد چوہدری کو رویت ہلال کمیٹی پر تکلیف ہے تو سن لےاور جان لے کہ ۔۔۔۔
رویت ہلال کمیٹی ایک ذمہ دار کمیٹی ہے جسمیں تمام مسالک کے علما ساتھ ہوتے ہیں کوئی گواہی دے تو فورا قبول نہیں کی جاتی، شہادت پر شہادت کی
۲
 ضرورت ہوتی ہے،تحقیق کے دوران اکثر گواہ شک کا اظہار کر دیتے ہیں پھر گواہی مسترد کر دی جاتی ہے تمام علما ساتھ ہوتے ہیں اس دوران سپارکو کی خدمات بھی لی جاتی ہیںیہ قطعاً ایک آدمی کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ تمام مکاتب فکر علمائے کرام کا اتفاق ہوتا ہے جسکے بعد مفتی منیب الرحمان صاحب اعلان کرتے ہیںفقہی معاملات کے لئے کتب فقہ کے مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے ویسے تمام قوم کا روزہ ایک آدمی اپنے سر کیسے لے سکتا ہے بہر حال مفتی منیب الرحمان ایک ذمہ دار مفتی ہیں اور دینی معاملات میں غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھتے ہیں حرف آخر یہ کہ تنقید صرف مفتی منیب پر نہیں سب مسالک دیوبندی، شیعہ، اہلحدہث،بریلوی سب اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں، مفتی صاحب سے مسلکی اختلاف کی وجہ سے آپ اپنی آخرت برباد ہی کرینگےمفتی صاحب کون ہیں؟ انکی خدمات اور انکے بارے میں کچھ معلومات کے لئے آپ کے سامنے پچھلے سال کی ایک تحریر شیئر کررہا ہوں غور سے پڑھیئے گامفتی منیب الرحمان کی پیدائش آٹھ فروری سن انیس سو پینتالیس کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع مانسہرہ میں پیدا ہوئے، آپ نےاسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا، قانون میں گریجویشن کے علاوہ، عربی زبان میں بھی تعلیم حاصل کیا ،آپ کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ آپ نے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر درس و تدریس تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب اور دیگر اسلامی موضوعات پر تیس سے زائد سال کا تجربہ ہے، آپ کی تصانیف میں تفہیمِ المسائل، قانونِ شریعت، اصولِ فقہ اسلام اور دوسری بے شمار کتب لکھی ہیں، آپ نے مختلف عہدوں پر اپنے فرائض منصبی بڑی ایمانداری اور سچائی کیساتھ انجام دیئے ان میں چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی ، پاکستان صدر، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان صدر، دارلعلوم دارالعلوم نعیمیہ کراچی پروفیسر، جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی پروفیسر منیب الرحمن مطالعہ وفاقی حکومت اردو یونیورسٹی اور انٹرمیڈیٹ تعلیمی بورڈ کراچی کے ایک رکن بورڈ کے طور پر کام کرتے ہیں،آپ بریلوی مکتبِ فکر کے ایک ایسے نمائندہ عالمِ دین ہیں جنہیں ہر مسلک میں مثبت مقبولیت حاصل رہی ہے، آپ کی شخصیت اور گفتگو دونوں سے بردباری کا احساس ہوتا ہے، آپ نے اسلامی علوم میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری لی اور فقہ میں مہارت دارالعلوم امجدیہ سے حاصل کی، مفتی صاحب نے علمِ قانون میں بھی ڈگری لی اور اس کے ساتھ عربی زبان میں بھی مہارت حاصل کی، آپ گزشتہ تیس برس سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں، تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب جیسے کئی اسلامی علوم آپ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طالبعلموں کو سکھا رہے ہیں، آپ کئی کتب کے مصنف بھی ہیں جن میں تفہیم المسائل، قانون شریعت اور اصول فقہ اسلام قابل ذکر ہیں، یوں تو آپ بیک وقت بہت سے سرکاری اور غیرسرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں مگر آپ کی ایک نمائندہ وجہ مقبولیت آپ کا مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کا چیئرمین ہونا ہے، چاند دیکھنے کے بارے میں ہر سال جو معرکہ سرحدی علماء اور اس کمیٹی کے مابین ہوا کرتا ہے، اس سے کون نہیں واقف؟ یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحب کو بھی بہت سے لوگ ملامت کرتے نظر آتے ہیں مگر ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو اس کے پس پردہ عوامل کسی بھی شخصیت سے بالاتر محسوس ہوتے ہیں، ایسی مشکل صورتحال میں ثابت قدمی سے تفہیم کی کوشش کرنا مفتی صاحب ہی کی امن پسند شخصیت کا خاصہ ہے. بہرحال اگر کوئی اس ضمن میں مفتی صاحب کو قصوروار بھی سمجھتا ہو تب بھی اس سے آپ کے علمی قد اور دینی خدمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا،مفتی منیب الرحمٰن بجا طور پر ہمارے ملک کے ان مایہ ناز علماء میں شامل ہیں جو مذہبی منافرت کو ختم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اس کیلئے آپ تحریر، تقریر اور عمل تینوں سے اپنا مثبت کردار نبھا رہے ہیں، ماضی میں آپ بیشمار ایسے پروگرامز اور کانفرنسز میں اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں جہاں ہر مسلک کے علماء کو جوڑنے کی بات کی گئی، آپ نے کبھی اپنے شاگردوں کو تفرقہ میں نہیں ڈالا، راقم نے اس تحریر کے آغاز میں مولانا کو ان کے عقائد و تعلیمات کے سبب بریلوی مکتبِ فکر سے متعلق قرار دیا ہے مگر ساتھ یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ مفتی صاحب خود کو کبھی کسی بھی
۳
 مسلکی نام سے منسلک نہیں کرتے، حد سے حد ان کی جانب سے جماعتِ اہلِ سنّتاور اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی سے وابستگی کا اظہار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی علمی تنقید بھی کسی مسلکی قید سے آزاد نظر آتی ہے، آپ عمدہ الفاظ کا چناؤ، دھیما لہجہ اور شائستہ انداز کلام رکھنے والے ایک ایسے عالِم دین ہیں جن کا وجود اس دورِ فرقہ واریت میں ایک نعمت سا محسوس ہوتا ہے، ہر وہ طالبعلم جو مسلکی تعصب کی عینک اتار کر مفتی صاحب کے علمی استدلال پر مبنی تقاریر کو سنتا ہے یا تحریروں کو پڑھتا ہے وہ آپ سے کچھ باتوں میں اختلاف تو کرسکتا ہے مگر آپ سے استفادہ کئے بناء نہیں رہ سکتا،مفتی منیب الرحمن بہت سے امور میں اختلاف ہیں اور ہیں لیکن رویت ہلال کمیٹی کےمتعلق”فساد چوہدری”کایہ بیان کہ کمیٹی کے اجلاس پہ چالیس لاکھ روپےخرچ کرناکہاں کی عقلمندی ہے اورعلماء کم ازکم یہ کام توبلامعاوضہ کیاکریں “روایتی دغابازی اوردین دشمنی کاشاہکارہے اس حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن گزشتہ سال روزنامہ”دنیا”میں چھپنے والے ایک کالم میں واضح طورپہ اظہارکرچکے ہیں کہ ارکان کمیٹی کوائیرٹکٹ اوررہائش کےعلاوہ کوئ معاوضہ نہیں دیاجاتا،موصوف لکھتےہیں:”مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین اور ارکان کو کوئی باقاعدہ یا بے قاعدہ تنخواہ / اعزازیہ ‘مالی مراعات یا کاریں وغیرہ نہیں ملتیں اس کے علاوہ بھی اس منصب کے حوالے سے کوئی منفعت نہیں ملتی، سال میں صرف چار مرکزی اجلاس ہوتے ہیں‘ ان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان ‘‘کے اراکین کو اپنے مقامِ سکونت سے اکانومی کلاس کا ائیر ٹکٹ اور ایک عام سے ہوٹل میں ایک رات کی رہائش دی جاتی ہے اور بس!لیکن ‘چونکہ اجلاس برسوں سے میٹ کمپلیکس کراچی میں ہورہے ہیں ‘ اس لیے یہاں اجلاس کے انعقاد کے لیے مطلوبہ سہولتیں دستیاب ہیں‘ لہٰذا میں بحیثیتِ چیئرمین نہ کوئی ائیر ٹکٹ لیتا ہوں اور نہ ہوٹل کی رہائش ‘ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کراچی میں میرا اپنا گھر ہے، میں بحیثیت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان یہ دینی فریضہ کسی مشاہرے ‘ اعزازیے یا مراعات کے بغیر انجام دے رہا ہوں”۔۔۔معزز قارئین!!پاکستان جب صحیح سمت کی جانب رواں دواں ہے تو یہودیوں اور قادیانیوں کو نہ گوارا نہیں ہورہا ہے ، فواد چوہدری کی اسلام دشمنی اور نفرت اس بات کی نشاہدہی کررہی ہے کہ وہ عمران خان کے وژن کو نا تلافی نقصان سے دوچار کرنے جارہا ہے بہتر اسی میں ہے کہ عمران خان فواد چوہدری کے اسلام مخالف حرکات کو سمجھتے ہوئے فی الفور اسے ہر وزارت سے بے دخل کردے کیونکہ یہ عمران خان اور تحریک انصاف کو شدید نقصان سے دوچار کرسکتا ہے، پاکستان نظریہ اسلام پر وجود میں آیا ہے اس ریاست  پاکستان میں جب کبھی بھی کسی نے نظر اسلام میں مداخلت کی تو وہ اپنے انجام کو پہنچا، پاکستانی عوام ہر مشکل، ہر تکلیف، ہر درد، ہر مصائب کو برداشت کرسکتی ہے لیکن نہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت کریگی اور نہ ہی دین میں مداخلت ،لاکھ مسلکی اختلاف رکھ لیں لیکن مجموعی اتفاق اسی میں ہے کہ کسی طور ریاست پاکستان میں دین کے بنیادی نقطہ پر کسی کو بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں ان میں پیش پیش وہ احکامات ہیں جو سب کیلئے یکساں ہیں ، اللہ پاکستان کو حاسدوں کے شر سے ہمیشہ محفوظ فرمائے آمین ثما آمین۔۔
نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز، کراچی