Select your Top Menu from wp menus

طاقتور حضرات سپریم کورٹ نہیں چلا سکتے: جسٹس مشرا

طاقتور حضرات سپریم کورٹ نہیں چلا سکتے: جسٹس مشرا
نئی دہلی25اپریل: سپریم کورٹ نے آج واضح کیا ہے کہ وہ وکیل کے اس دعوے کی تہہ تک جائیں گے کہ چیف جسٹس رنجن کوگوئی کے خلاف ایک بڑی سازش کی کوشش کی گئی ہے۔ جسٹس ارون مشرا، جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس دیپک گپتا کی تین رکنی بنچ نے کہا کہ اگر دعوے کے مطابق فکسر عدالت کے ساتھ ہیرا بھیری کرتے ہیں تو وہ نہ تو اس ادارے سے اور نہ ہی ہم سے بچیں گے۔ جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ پیسے والے اور طاقتور حضرات سپریم کورٹ نہیں چلا نہیں سکتے ہیں۔ گزشتہ روز عدالت نے سی بی آئی، آئی بی اور دہلی پولیس کے کمشنر کو طلب کیا تھا اور کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سابق جونیئر اسسٹنٹ نے سپریم کورٹ کے 22 ججوں کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اکتوبر 2018 میں ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔ الزام عائد کرنے والی یہ خاتون عدالت میں جونیئر کورٹ اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے ذریعے ان کے ساتھ کیے گئے غیرمناسب اور قابل اعتراض سلوک کی مخالفت کرنے کے بعد سے ہی انھیں، ان کے شوہر اور فیملی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس کے بعد وکیل اتسو بینس نے دعویٰ کیا تھا کہ چیف جسٹس کو بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس کا ان کے پاس ثبوت ہے۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف بیان دینے پر انھیں ڈیڑھ کروڑ روپے کا آفر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز وکیل اتسو بینس سے کہا تھا کہ وہ جمعرات کے روز ساڑھے 10 بجے تک دوبارہ حلف نامہ داخل کریں۔