Select your Top Menu from wp menus

آج کی میڈیا۔۔۔۔۔

آج کی میڈیا۔۔۔۔۔
ریاض الدین شفیق
ہندوستانی آئین میں میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا گیا ہے۔اسی بنا پر ہندوستانی عوام چاہے وہ جس طبقے کا بھی ہومیڈیا کے تعلق سے مثبت اور سیکولرنظریہ رکھتے تھے ہر کوئ اس کی قدر کرنے کے ساتھ اس کے نشرکردہ باتوں کو من و  عن تسلیم کرنے کو ترجیح دیتا تھا ۔تاکہ وہ بھی جمہوریت کے حدود میں رہ کر اس ملک کو مزید ترقی کی طرف گامزن کرنے میں تعاون کرسکیں
لیکن آج کی میڈیا جمہوریت کے نام پر جس منافقانہ رویہ کا اظہار کر رہی ہےوہ قابل افسوس ہے,تعصب ونفرت کی فضا قائم کرنا اس کا شیوہ بن چکا ہے،قومی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کرنےاور  رسائی مستحکم کرنے کے چکر میں اپنے فرض منصبی تک کو فراموش کربیٹھے ہیں اسی وجہ سے دانشوران قوم و ملت کا اعتماد اس سے پوری طرح اٹھ گیا ہے وہ نیوز چینل سے دکھائی گئی ہر خبروں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اورخود کو میڈیا سے دور رکھنے کی وہ ہر ممکن کوشش بھی کرہے ہیں ۔چونکہ ان دنوں چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنا اور کسی اتفاقی واقعہ پر مرچ مسالہ لگاکر سماج و معاشرہ میں فرقہ وارانہ ماحول قائم کرنا، دوہرے پن کی پالیسی اپنانا،سچ اور چھوٹ کی تمیز کئے بغیر خبروں کو نشر کرنا،آپسی تنازعات کو کسی جماعت سے جوڑ دینا میڈیا کا آئے دن کا معمول بن چکا ہے،حتی کہ الیکشن کے زمانہ میں کسی مخصوص پارٹی کیلئے راہیں ہموار کرکے اسے منزل مقصود تک پنہچانا اس کانصب العین بن چکا ہے۔اور بہت حد تک میڈیا کی جادو  سماج و معاشرہ میں سر چڑھ کر بول رہی ہےجس کی وجہ سے شب و روز کہیں نہ کہیں افراتفری جیسا ماحول بننے کی خبریں سننے کو ملتی رہی ہےشاید یہی وجہ ہے کہ آپ سماج کے کسی ایسے شخص سے بات کریں جو میڈیا سے برابر جڑا ہوا ہے صرف چند منٹ کی گفتگو میں آپ بھانپ لیں گے کہ اس پر میڈیا کا کتنا منفی اثر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ باتوں ہی باتوں میں اسے یہ کہیں کہ ایسے تخریبی افکار سماج کیلئے مضر ہوسکتا ہے تو مخاطب بغیر کسی ترددکہے گا کہ فلاں میڈیا نے اسے نشر کیا ہےجبکہ وہ جمہوریت کا ایک جز ہے۔ تو بھلا عوام پر اس کا اثر کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔
اگر آج بھی میڈیا کی غلط رہنمائی سے نہ روکا گیا ملکی وغیر ملکی سطح پر اس تعلق سے بیداری نہیں آئی تو بھر بہت جلد یہ بےلگام میڈیا سماج کے ہر فرد کیلئے ناسور بن جائے گی اخوت و بھائی چارگی کا جنازہ اٹھ جائے گا،گنگا جمنی تہذیب معدوم ہوجائے گی محبت و الفت دم توڑ دے گی،اور درندگی کا غلبہ ہوجائے گاپھر انسان ہر لمحہ، ہر پل خوف و ہراس کے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے گا۔۔۔۔۔اللہ ہمیں ایسے عناصر سے دور رہنے کی توفیق دے۔۔۔۔آمین
پتہ : – جامعہ امام ابن تیمیہ، چندنبارہ، مشرقی چمہارن ( بہار)
موبائل : 9162090838