علامہ اسرار جامعی کا پنرجنم

0 37

سہیل انجم
(یہ مضمون اس وقت لکھا گیا تھا جب 2014 میں جناب اسرار جامعی نے اپنے اخبار ”پوسٹ مارٹم“ کا دوبارہ اجرا کیا تھا۔ مضمون بغیر تبصرہ پیش خدمت ہے)۔
علامہ اسرار جامعی کا پنرجنم ہو گیا۔ قارئین چونکیں نہیں، بات سچ ہے۔ لیکن یہ جنم ”پوسٹ مارٹم“ کی شکل میں ہوا ہے۔ یعنی انھوں نے اپنے اخبار پوسٹ مارٹم کو دوبارہ شروع کیا ہے۔ جب کسی کی ولادت ہوتی ہے تو ا س کا جثہ بہت مختصر ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ قد کاٹھی میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اسی طرح پوسٹ مارٹم بھی مختصر جثے کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ اس کی قد کاٹھی میں بڑھوتری ہوگی یا نہیں یا یہ پستہ قد ہی رہے گا اس کا اندازہ کچھ مہینوں (شماروں) کے بعد ہوگا۔ A-4 سائز کی چار شیٹس کو موڑ کر ڈبل کر دیں تو جو صورت بنے گی وہی پوسٹ مارٹم کی صورت ہے۔ اسرار جامعی نے خود اس کو ”مُنِّی اخبار“ لکھا ہے۔ یعنی 23/36 سائز میں سولہ صفحات۔ مگر اخبار میں صفحہ نمبر نہیں دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے ”چیپ ایڈیٹر“ نے یہ بتایا کہ چونکہ کسی بھی مضمون کا کوئی بقیہ نہیں اٹھایا جائے گا اس لیے صفحہ نمبر دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
یوں تو یہ بہت مُنّا سا اخبار ہے لیکن اس کا مزاج اس تیکھی مرچ جیسا ہے جس کو کھاتے ہی آدمی اچھل پڑے۔ یہ اخبار بھی اپنے آپ میں وہی اثرات رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نام کی مناسبت بھی اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کے بیشتر مضامین اور خبروں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ پہلے صفحہ کے پہلے مضمون سے لے کر آخری صفحہ کے آخری مضمون تک اسرار جامعی اپنی پوری تب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ مثال کے طور پر پہلی خبر دیکھیے جس کا عنوان ہے ”بھارتیہ جھگڑا پارٹی (بی جے پی) اب بھارت میں جھگڑا فساد نہیں ہونے دے گی۔ اب ہر ایک جھگڑالو کو چن چن کر سزا دی جائے گی“۔ یہ خبر یوں شروع ہوتی ہے: ”ہزاروں سال پرانی نئی دلی: ہمارے چغل خور خصوصی جناب گڑبڑ شیطانی نے اطلاع دی ہے کہ بھارتیہ جھگڑا پارٹی کی ایک خصوصی میٹنگ دلی کے ہائڈنگ پارک میں منعقد ہوئی۔ جس میں بھارتیہ جھگڑا پارٹی کے ورشٹ نیتاو¿ں نے بھاگ لیا۔ رام مندر کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ شری گرم جوشی نے کہا کہ رام کے نام سے جو فائدہ اٹھانا تھا اٹھا لیا اب اس کا اتنا منتھن نہ کیا جائے کہ لوگ رام رام چھی چھی کہنے لگیں۔ ہم لوگوں نے بڑی جوکھم سے یہ گدی حاصل کی ہے۔ اسے بچائے رکھنا ہم لوگوں کا کام ہے۔ مہاراجہ اشوک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انھوں نے اپنے ننانوے بھائیوں کو قتل کر کے پٹنہ کے اگم کنواں میں ڈال دیا۔ اس کے بعد بودھ دھرم کا پرچارک بن کر ساری دنیا میں بودھ دھرم کا پرچار کیا۔ آج ان کا نام او ران کا کام ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اسی طرح ہم لوگوں کو بھارت میں رام راجیہ کی استھاپنا کرنا چاہیے تاکہ ہمارا راج اور بھارت کی لاج دنیا میں قائم رہے“۔
اسی طرح ایک اور خبر ہے کہ ملت غیر متحدہ کو نیست و نابود کر دیں گے۔ غیر مسلم اقوام متحدہ کی تازہ قرارداد۔ اس خبر میں اگر مزاح ہے تو زبردست طنز بھی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مسلمانو ںنے ماضی میں بڑے بڑے سائنس داں اور مفکرین پیدا کیے ہیں۔ مگر اب آپس میں لڑنا جھگڑنا ان کا شیوہ ہو گیا ہے جس سے ساری دنیا تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ دنیا کو بچانے کے لیے متحد ہو کر اس قوم کو نیست و نابود کرنا ہے تاکہ دنیا میں امن و امان قائم ہو سکے۔ ملاحظہ فرمائیں کہ اسرار جامعی نے مذاق مذاق میں کتنی گہری بات کہہ دی ہے۔ ایک خبر ہے جامعہ نگر میں ڈاک خانہ، تھانہ۔ ڈاک خانہ کو کراس کر کے کاٹ دیا گیا ہے۔ یعنی اب جامعہ نگر کی شناخت اس کے تھانے سے ہوتی ہے۔ ایک کالم ہے ”خبروں کی خبریں“۔ اس میں بڑی دلچسپ خبریں ہیں۔ جیسے: گودھرا کا واقعہ رد عمل تھا (نریندر مودی)۔ ا س کے نیچے لکھا ہے کہ رد عمل نہیں ردی عمل تھا (جتیندر مودی)۔ ایک خبر ہے :مودی کا پتلہ جلایا گیا (جدید خبر)۔ اس کے جواب میں لکھا ہے کہ ابھی جلاو¿ یا کبھی جلاو¿ جلنا ان کا مقدر ہے (بے خبر)۔ دریا میں کشتی ڈوب گئی (سہارا)۔ اس کے جواب میں ہے کہ کشتی دریا میں نہیں ڈوبے گی تو کیا دریا گنج کی سڑک پر ڈوبے گی (بے سہارا)۔
ایک کالم ”اقوال مس زریں“ ہے جس کے تحت گدگدانے والے اقوال درج ہیں۔ ایک ہندوستانی ایم پی کو جو تنخواہ اور الاونس ملتے ہیں اس کی تفصیل دی گئی ہے۔ لیکن اسے یوں پیش کیا گیا ہے کہ ایم پی صاحب کہہ رہے ہیں کہ اب میں تو اتنی تنخواہ لوں گا اور اتنے الاونس لوں گا اور یہ یہ سہولتیں لوں گا۔ اسی تسلسل میں پارلیمنٹ کی دیواروں پر کندہ اقوال زریں کے نمونے بھی دیے گئے ہیں۔
اس مُنّی اخبار میں شعری ذوق والوں کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔ ان کی مشہور نظم” دلی درشن“ تو شامل ہی ہے اس کے علاوہ ہر صفحے پر اوپر اور نیچے ایک ایک شعر دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ قطعات بھی ہیں۔ اور ان تمام اشعار اور قطعات سے اسرار جامعی کی پوری شخصیت ہلکوریں مارتی ہے۔ اس سے پہلے جب وہ پوسٹ مارٹم نکالتے تھے تو ا س شعر کی تضمین اوپر ہی درج ہوتی تھی کہ ”ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا“۔ اس اخبار میں بھی ا س کی تضمین درج ہے اور وہ ہے ”ہم جھانک بھی لیتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، وہ جھونک بھی دیتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا“۔
کچھ تحریفات ملاحظہ فرمائیں: الٹی یعنی متلی ہو گئی کچھ نہ دوا نے کام کیا، دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا۔ میر کے تینوں مذہب کو کیا پوچھتے ہو اب ان نے تو، قشقہ کھینچا گرجا، جا کر کعبہ کو پرنام کیا۔ دادا گیری حد سے گزری بندہ پرور کب تلک، ایک مسجد تو گرائی اور گروائیں گے کیا۔ عریانی مستور کا آیا ہے زمانہ، جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو۔ جناب شیخ سے وہ اس لیے آنکھیں لڑاتی ہے، نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔ سبق پڑھ تو رذالت کا خباثت کا شرارت کا، لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی سیاست کا۔ میں پی کے کیا کرتا ہوں ہر گھونٹ پہ توبہ، کرتا ہوں گنہ پھر بھی گنہگار نہیں ہوں۔ پیدا ہوئی پولیس تو ابلیس نے کہا، لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے۔
اخبار کی لوح کے اوپر درج ہے ”پسند نہ آئے تو قیمت واپس“۔ آخری صفحہ پر بھی پرمزاح تحریروں کے نمونے ہیں۔ آم کے آم گٹھلی کے دام کے زیر عنوان لکھا ہے کہ پوسٹ مارٹم کا کوئی بھی شمارہ پڑھنے یا پڑھوانے کے بعد جب چاہیں نیا شمارہ مفت لے لیں۔ اس طرح اگر اس اخبار کو ”تتیا مرچ“ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
اس اخبار کی تیاری وہ ایک عرصے سے کر رہے تھے۔ خاکسار کے پاس بھی اکثر و بیشتر آکر مشورہ کرتے۔ گزشتہ دنوں صبح ہی صبح جب وہ ہمارے غریب خانے پر اچانک پدھارے تو میں چونک گیا۔ دل میں خیال آیا ہو نہ ہو ان کا اخبار چھپ گیا ہے۔ سلام کلام کے بعد جب کہنے لگے کہ چائے پلائیے یا نہ پلائیے پانچ روپے دیجیے۔ میں نے کہا کیا آپ کا اخبار چھپ گیا۔ انھوں نے پانچ روپے کا سکہ پکڑنے کے بعد اپنے ”کر کملوں“ سے اخبار کی ایک کاپی پردان کی اور کہا کہ ”اگر پسند نہ آئے تو پیسہ واپس لے لیجیے گا یا اس کے بدلے میں دوسرا شمارہ لے لیجیے گا“۔ پسند نہ آنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ اس اخبار کی قیمت آپ دس روپے مانگتے یا پچاس روپے مانگتے تو میں وہ بھی دے دیتا۔ شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں اخبار بیچ رہا ہوں بلیک نہیں کر رہا ہوں۔ بلیک میں لینا ہو تو ہاکر کے پا س جائیے یہاں تو قیمتاً ہی ملے گا۔
اس اخبار کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے۔ اس کی کم جثامتی پر نہ جایا جائے بلکہ اسے نکالنے کے پیچھے اسرار جامعی کے جذبے کو دیکھا جائے اور اس کی انفرادیت اور ندرت کو سامنے رکھا جائے۔ کاش یہ اخبار مزید ضخامت کے ساتھ اور پابندی کے ساتھ نکلنے لگے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Leave A Reply

Your email address will not be published.