Select your Top Menu from wp menus

کانگریس کی مہربانیاں اور مسلمان

کانگریس کی مہربانیاں اور مسلمان
شہاب مرزا
جب پڑا وقت گلشن کولہو ہم نے دیا
 اب بہار آئی تو کہتے ہیں تیرا کام نہیں
کسی نے خوب کہا تھا کہ ہندوستان مُردوں کی بستی ہے عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس ملک میں مردہ پرستی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آزادی کے بعد کانگریس کی اولین حکومت کے دوران ایک پولیس ایکشن کے نام لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیالاکھوں مسلمان معصوم بچے یتیم ہوئے لاکھوں مسلمان عورتوں کی عزت کو تار تار کیا گیا کئی عورتوں کو زندہ جلایا گیا اور بچی کچی نو خیز مسلمان لڑکیوں کو گھر کی لونڈیاں بنا دیا گیا اس کے باوجود لوگوں نے کانگریس کو ہی اقتدار کا تاج پہنایا ہے کیونکہ ملک کی عوام مردہ ضمیر ہےجنہیں مسلمانوں کی عفت و عصمت کی کوئی قیمت نہیں ہے کہ کہ ہندوستان مردوں کی بستی ہے بس اسی حقیقت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس نے ایک جانب فاشسٹ قوتوں کو کھڑا کیا کہ وہ مسلمان کے خون سے ہولی کھیلتے رہے اور پھر انھیں فاشسٹ قوتوں سے ڈرا کر مسلمانوں کے ووٹوں پر اقتدار کا تاج پہنے پنڈت سندر لال کمیشن، شری کرشناکمیشن، لبراہن کمیشن تک کہ ہزاروں رپورٹس میں کانگریس کے ہاتھوں رسوا ہوتے مسلمان مظلوموں کی چیخیں گونجتی ہے  اور صاحب ضمیر افسانوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیںبابری مسجد کا تالا کھول کر اور شیلا نیاس کی بنیاد رکھ کر جس کانگریس نے فاشسٹوں کے ہاتھوں ہاشم پورہ میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیامیرٹھ اور بھاگلپور میں خون کی  دریا  بہاے اور شری کرشناکمیشن آ کے کلیدی ملزم کو اپنے دامن میں پناہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بھونکنے اور کاٹنے کے لئے اسے آزاد چھوڑ دیااسی کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں تنہا ریاست مہاراشٹر میں ساڑھے تین سو سے زائد مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کیے اور خواجہ یونس جیسے سیکڑوں نوجوان انصاف سے محروم ہو کر رہ گئے ہزاروں مسلم نوجوان آج بھی جھوٹے مقدمات میں جیل کی سلاخوں کی صحبتیں جھیل رہیے ہیںجس کا آئینہ راجندر سچر کمیشن میں دیکھایا گیا شاہ بانو معاملے میں اختیاری پرسنل  لا کی اجازت دے کر مسلمانوں کو احسان کی بھیک دینے والی کانگریس نے فاشسٹوں کے ہاتھوں  پرسنل لاء اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور اسی کے تسلسل میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو فاشسٹوں کے حوالے کرتے ہوئے زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا
حتاکہ فاشسٹوں کے حکومت کے دوران یکساں سول کوڈ کے نفاد پر لیجسلیٹو کونسل دہلی میں مسلمانوں کے مذہبی کا دم بھرنے والی کانگریس نے بڑی مکاری اور چالاکی کے ساتھ عین شکار کے وقت حاجت سے فارغ ہونے کا بہانہ بنا کر  راہ فرار اختیار کرلی
وندے ماترم کے معاملے میں تمام علماء اسلام کے متفقہ فیصلے کے باوجود اور مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کے صریح کے خلاف ہونے کے باوجود سیکولرزم کا نقاب پہن کانگرس میں مسلمانوں کی بنیاد پر ایسا کاری وار کیا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری!لیکن فاشسٹوں نے اس بانسری کو خوب بجایا اور سینہ پیٹ پیٹ کر مسلمانوں کو ملک دشمن قرار دیا گیا اس منافقانہ کھیل کو دیکھ کر کانگریس دل ہی دل میں مسکراتی رہی اور گاؤکشی کے نام پر اخلاق احمد، پہلو خان، اکبر خان، حافظ جنید، محمد خان، محمد عظیم سے لے کر معصوم بے گناہ آصفہ کی چیخوں سے ساتواں شیوستہ اس کے باوجود مسلمانوں کی غارت گیری کا آئندہ  سو سالہ پروگرام بناتے رہے جسکی وجہہ سے آج 40 ٪ مسلمان دہشت گردی کے الزامات لئے جیلوں میں بند ہیں اسکے باوجود کانگریس مسلم لیڈروں نے پوری قوم و ملت کو یرغمال بنا دیا اور مسلمانوں کے شعور پر ایسا ڈاکہ ڈالا کہ اب قوتیں فہم بھی فنا ہو کر  رہ گیی کانگریس کے سیکولر ازم نے مہاراشٹر میں دم توڑ دیا جسکی وجہہ سے 48 لوک سبھا سیٹ میں کانگریس نے ایک ہی مسلم امیدوار کو موقع دیا اپنی گردنوں کا پرکستہ خونی پنجہ اب مسلمانوں کو کانگریس کا پنجہ محسوس ہونے لگا ہے لیکن پھر بھی
 اقبال نہ امید نہیں ہے کہ کوشتہ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی