طنزومزاح کے اسرار

0 28

 

اسرار صاحب انتہائی سادہ اور بے تکلف انسان تھے-بٹلہ ہائوس،ذاکر نگر میں چلتے پھرتے اکثرملاقات ہوتی تو تھیلے سے شعر کی پرچی نکالتے اور کہتے یہ تازہ ہے-آپ نے نھیں سناہوگا-پھر ہاتھ میں دیتے ہوئے کہتے،سنبھال کر رکھیے گا،کسی کو دیناہوتو فوٹو کاپی کراکر دیجیے،بہت کم چھپایاہے-صحت ٹھیک تھی تو چارسال پہلے تک تشریف لاتے اور کہتے یہ دو لائن ٹائپ کردیجیے-
واقعی طنزومزاح پر ان کا بڑا کام ہے-شاعراعظم،طنزپارے،
پوسٹ پارٹم سے ان کے حس مزاح کا پتہ چلتاہے-
دلی درشن،چمچے کی دعاء،غزل پیمائی عمدہ نظمیں ہیں-ایک بار انھوں نے فروغ اردو کونسل کو اردو کینسل اور اردو بھٙون کو اردوبھُون لکھاتھا-اردو سے ایسی محبت کہ جھاں کہیں پروگرام ہو،حاضررہتے-جامعہ ملیہ کے شعبہ اردو کے پروگراموں میں اکثر تشریف لے آتے-ان کے انتقال کی افواہ اڑاکر دہلی گورنمنٹ سے پینشن بند کروادی گئی-انھوں نے خود چکر لگایا کہ میں زندہ ہوں لیکن امانت اللہ خان اور دیگر لوگوں کی بے حسی سے پینشن بحال نھیں ہوسکی-پوری زندگی کس مپرسی میں گزاری-پٹنہ میں رشتے داروں نے بے اعتنائی برتی-اور آخری سانس تک اردو کا اتنا بڑا خادم یوں انتہائی مفلسی یہاں تک کہ فاقہ کشی کے ساتھ سچ میں دنیامیں نہیں رہا-یہ پوری اردودنیا کے لیے باعث شرم اور کلنک ہے-وہ بھی دہلی میں-جن اردو اداروں سے دوتین لاکھ تنخواہ پانے والے مستفید ہوتے رہتے ہیں-ان کے رہتے ہوئے عظیم خادم اردو کی فاقہ کشی اور بے بس موت بدنماداغ ہے-

محمدشارب ضیاء رحمانی

Leave A Reply

Your email address will not be published.