Select your Top Menu from wp menus

لات کے کمالات

لات کے کمالات
طنز و مزاح
عنبر شمیم
لات مارنا ایک محاورہ ہے مگر بیشتر لوگ اسے محاورہ کم اورروایت زیادہ سمجھتے ہیں۔ محاورہ اس لیے سمجھتے ہیں کہ لغات یہی بتاتے ہیں اور روایت اس لیے کہ باپ داداؤں کے زمانے سے یہ سلسلہ خاندان در خاندان چلا آرہا ہے۔
کہتے ہیں کہ برا دن ہو تو چیونٹی بھی لات مارنے سے باز نہیں آتی۔ اب اسے قسمت کی خرابی سمجھےے یا پھر چیونٹی کی لات کاکمال۔ جس شخصیت میں لات کا تصور ہی نہ ہو اگر اس سے لات کھانے کی نوبت آجائے تو اسے قسمت کی خرابی نہیں اور کیا کہا جائے۔ چہ جائیکہ اس فعل کو اس شخصیت کا کمال بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس نے وہ کر دکھایا جو اس کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔
قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ لات مارنا جہاں محاورہ ہے وہیں لاتیں کھانا بھی محاورہ ہے۔ اس لحاظ سے اگر لات مارنا روایت ہے تو لاتیں کھانا بھی روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ بیٹوں پوتوں کا تولد ہوتا ہی اسی لیے ہے کہ وہ لاتیں کھایا کریں تاکہ ان دونوں محاوروں کا آپس میں تال میل برقرار رہ سکے۔ ایک بار ایک شخص نے اپنے بیٹے کی کسی غلطی پر جم کر پٹائی کردی۔ بیٹا جب رو پیٹ کر چپ ہوا تو اپنے والد کے پاس گیا اور نہایت معصومیت سے سوال کیا۔ ”اچھا آپ جب چھوٹے تھے تو کیا دادا جان بھی آپ کو پیٹا کرتے تھے۔“ والد نے جواب دیا ”ہاں“۔ پھر بیٹے نے پوچھا ”اور جب دادا جان غلطی کرتے تھے تو کیا ان کے والد بھی ان کو پیٹا کرتے تھے؟“ والد نے جھنجھلا کر کہا ”ہاں بابا ہاں، آخر بات کیا ہے؟“ بیٹے نے نہایت معصومیت کے ساتھ کہا۔ ”میں یہی تو جاننا چاہتا ہوں کہ آخر یہ غنڈہ گردی کب تک چلتی رہے گی؟“
یہاں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ سب بیٹے اپنے والد محترم کی اس حرکت کو غنڈہ گردی سمجھتے ہیں لیکن جہاں تک باپ داداؤں کا معاملہ ہے تو یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ وہ اس فعل کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اگر بیٹے اور پوتے بھوت ہوئے تو ان کے آباءو اجداد کیا ہوتے ہوں گے۔ ویسے یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ بھوت بھگانے کا اس سے بہتر طریقہ ہو بھی نہیں سکتا۔
بچپن میں سنا تھا کہ دادا جان کا ڈنڈا اور ماں کی گالیاں دعا کے برابر ہوتی ہیں۔ یہ بات اب سمجھ میں آئی کہ بچے اتنے نافرمان کیوں ہوتے ہیں؟ دراصل وہ نافرمانی کرتے ہی اسی لیے ہیں تاکہ اپنے باپ داداؤں کی دعائیں بٹور سکیں۔ ویسے بھی مائیں شرارت پسند واقع ہوتی ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی بچہ شرارت کرنا ترک کردے تو ماؤں کو تشویش ہونے لگتی ہے کہ کہیں وہ بیمار تو نہیں ہوگیا۔ اس لیے اگر آپ کو جنت کا ٹکٹ حاصل کرنا ہو تو آپ نافرمانی ضرور کیا کریں کہ اس کے بغیر لاتوں اور گالیوں کی شکل میں بزرگوں کی دعاؤں سے آپ محروم رہ جائیں گے۔ ویسے یہ نافرمانی گھر کے بزرگوں تک محدود رہے تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک بار ابلیس کو بھی نافرمانی کرنے کی سوجھی تھی۔ نتیجتاً آج تک راندۂ درگاہ ہے اور در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ خدا کی نافرمانی اور گھر کے بزرگوں کی نافرمانی میں فرق ہے۔ ایک نافرمانی اگر جنت کا حقدار بناتی ہے تو دوسری نافرمانی جہنم کے دروازے کھول دیتی ہے۔
ویسے جہاں تک گالیاں کھانے کا معاملہ ہے تو ماں کی گالیاں کھانے اور گھر والی کی گالیاں کھانے میں فرق بس اتنا ہے کہ ماں کی گالیاں کھانے والا مرنے کے بعد جنت کا حقدار ہوتا ہے جب کہ گھر والی کی گالیاں برداشت کر لینے سے گھر جنت بن جاتا ہے۔ اس نکتے کو غالب بہتر سمجھتے تھے تبھی انھوں نے حکمت سے کام لیتے ہوئے اتنا خوبصورت شعر کہا تھا۔
کتنے شریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
ایک کام کی بات اور عرض کردوں کہ بزرگوں کی لاتیں کھانا جہاں ثواب کا کام ہے وہیں لات مارنا بھی کبھی کبھی ثواب سے کم نہیں ہوتا۔ یہ واقعہ میرے بچپن کے زمانے کا ہے۔ میں ایک دن اپنے ایک دوست کے گھر گیا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ اس کے دادا جان اپنے پوتے کی طرف پیٹھ کیے بیٹھے تھے اور میرا دوست ان کی پیٹھ پر لاتیں برسا رہا تھا۔ میں حیران رہ گیا۔ حیران اس لیے نہیں کہ وہ ایک غلط کام کر رہا تھا مزید براں اس کے دادا جان اس کو اس حرکت کے لیے اکسا رہے تھے اور بہت بہت دعائیں بھی دیتے جارہے تھے۔ میں نے اکیلے میں اپنے دوست سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ دراصل دادا جان کی پیٹھ میں درد تھا اسی لیے انھوں نے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔ آپ یقین کیجیے مجھے اپنے دوست کی قسمت پر رشک آنے لگا کیوںکہ جس وقت وہ اپنے دادا کی پیٹھ پر لاتوں کی بارش کر رہا تھا، فرشتے اس کے کھاتے میں ثواب ڈال رہے تھے۔ 
یہ واقعہ سنانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے دادا جان صحت مند ہوں اور ان کی پیٹھ میں درد نہ ہو تو دعا کیجیے کہ ان کی پیٹھ میں درد ہوجائے کیونکہ ا س کے بغیر ثواب بٹورنے کے نادر موقع سے آپ محروم رہ جائیں گے۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com