Select your Top Menu from wp menus

دلت۔مسلم اتحاد:چندتاریخی حقائق،چند سوالات

دلت۔مسلم اتحاد:چندتاریخی حقائق،چند سوالات
تحریر:پروفیسر محمدسجاد(شعبۂ تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)
ترجمہ:نایاب حسن قاسمی
کتنے ایسے ہندو دلت یا اوبی سی ہیں،جو حقیقی معنوں میںیوپی اور بہار یا کسی دوسری ریاست میں لوک سبھا الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم کے سلسلے میں اپنے جیسے مسلمانوں کی نہایت ناقص نمایندگی پر فکر مندہیں؟مایاوتی کا رویہ تو ایسا لگتاہے کہ بی جے پی سے زیادہ کانگریس سے کے تئیں سخت ہے،دوسری طرف ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے پوتے راج رتن نے ایک اپیل جاری کرکے مسلمانوں سے الیکشن میں حمایت کی اپیل کی ہے اور انھیں یاد دلایاہے کہ امبیڈکر بنگالی مسلمانوں کے سپورٹ سے ہی پارلیمنٹ پہنچے تھے؛اس لیے ایک بارپھر مسلمان دستورِہند کے تحفظ میں اپنا رول اداکریں؛کیوں کہ اگر موجودہ حکمراں پارٹی دوبارہ برسرِ اقتدار آتی ہے،تو عین ممکن ہے کہ وہ دستورِ ہند کو بدل دے۔پرکاش امبیڈکر اور اویسی کے مابین اکتوبر2018ء میں قائم ہونے والے سیاسی اتحادنے بھی مسلم اجلاف و ارذال برادریوں کی ناقص سیاسی نمایندگی پر کوئی توجہ نہیں دی۔پسماندہ محاذ نے بھی امبیڈکر کی حمایت کی اپیل کی ہے،مگر اس سے چند سوالات پیدا ہوتے ہیں ،جن کی تہوں میں جاکر ان کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔
کیامظلوم و پسماندہ مسلم طبقات کے سب سے قدآورلیڈرعبدالقیوم انصاری(1905-1974)نے دبی کچلی مسلم برادریو ں کے مسائل پر کبھی نہرویا رام منوہر لوہیاسے بات چیت کی تھی؟مجھے مسٹر انصاری کے ذریعے کیے گئے مومن کانفرنس کے چھ نکاتی مطالبے کی یاد دلائی گئی ہے،جسے انھوں نے بالتفصیل جواہر لعل نہرو کوایک خط کی شکل میں بھی لکھا تھا۔وہ چھ نکات حسبِ ذیل تھے:
1۔مرکزی(وفاقی)حکومت کا کم ازکم ایک وزیر مومن برادری سے لیاجائے ۔
2۔مرکزی(وفاقی)وصوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں میں سے پچاس فیصد سیٹیں مسلمانوں کے لیے مختص کی جائیں اور ان میں سے کچھ سیٹیں مومن برادری کے لیے ریزروکی جائیں۔
3۔مقامی سطح کی خود مختار انتظامیہ اور سول باڈیزمیں مومن برادری کو اس کی آبادی کے حساب سے نشستیں دی جائیں۔
4۔سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں مومن برادری کو آبادی کے اعتبار سے ملازمتیں دی جائیں۔
5۔مومن برادری کے بچوں اور بچیوں کی عام و تکنیکی تعلیم کے لیے سرکاری امداد فراہم کی جائے۔
6۔مومن برادری کے ذریعے چلنے والی کپڑابننے کی صنعت کو ریاست کی طرف سے تحفظ وتعاون فراہم کیاجائے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان چھ نکات میں صرف مومن (انصاری)برادری کی بات کی گئی ہے،دوسری برادریوں کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے،حالاں کہ مجموعی طورپر ایسی تمام برادریوں کو’’پسماندہ برادری‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔نیز انھوں نے اس سلسلے میں امبیڈکر یا لوہیاسے نہ توکوئی بات کی اورناہی کسی قسم کی کوئی مراسلت کی ۔
عبدالقیوم انصاری بہار سے کانگریس کے پارلیمانی امیدوار رہے اور انھوں نے اقلیتوں اور قبائلیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق تشکیل کردہ کمیٹی کے ایڈوائزرکے طورپر بھی کام کیاتھا۔(Ali Ashraf, The Muslim Elite, 1982)مجھے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ مسٹر انصاری پارلیمنٹ میں رہے یانہیں،بہر حال میں یہ جاننے کے لیے بے تاب ہوں کہ کیاانھوں نے واقعی کبھی پسماندہ مسلمانوں کو ایس ٹی کٹیگری میں شامل کروانے کی کوشش کی؟پسماندہ مومنٹ والے تو اس سلسلے میں مولانا ابوالکلام آزاد پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر خاموش رہے۔
یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ جب1950میں صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے بدھسٹ مذہب کی پسماندہ برادریوں کو ایس ٹی کٹیگری میں شامل کیاگیا،توکیا عبدالقیوم انصاری نے واقعتاً ارذال مسلم برادریوں کے لیے آواز بلند کی تھی؟انصاری حکومت ہند کے ذریعے تشکیل کردہ Backward Class Commission (1953-55)کے بھی ممبر رہے۔اس پس منظر میں امبیڈکر کی دوکتابوں کا جائزہ لینا مفید ہوگا،ان میں سے ایک Annihilation of Castesہے،جو1936میں شائع ہوئی تھی اور دوسری کتابPakistan or Partition of India ہے،اس کی اشاعت 1945 میں عمل میں آئی تھی۔
مؤخرالذکرکتاب کی دسویں فصل کا عنوان’’سماجی جمود‘‘ ہے،اس میں ہندواور مسلمان دونوں معاشروں میں پائے جانے والے غیر سماجی رسوم و روایات کا ذکرکیاگیا ہے۔بچپن کی شادی،عورتوں کے قانونی حقوق وغیرہ کے تعلق سے مسلمانوں کی مذہبی کتابوں کے بیانات سے قطع نظر وہ لکھتے ہیں کہ’’مسلمان عورت پوری دنیامیں سے سب سے زیادہ لاچار اوربے بس ہے‘‘۔(ص:26)
اس کے بعد وہ ہندستانی مسلمانوں میں پائے جانے والے برادری واد کے نظام کاجائزہ لیتے ہیں۔1901کی مردم شماری کے حوالے سے وہ مسلمانوں میں مجموعی طورپر پائی جانے والی تین قسم کی برادریوں کی نشان دہی کرتے ہیں:اشراف،اجلاف اور ارذال۔(دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے صفحہ نمبر219پرکاشت کارشیخ برادری کو بھی اجلاف میں شمار کیاہے)البتہ انھوں نے اپنی کتاب میں کئی پسماندہ(ارذال)مسلم برادریوں مثلاً:بھانڈ،ہلکھور،ہجڑا،کسبی،لال بیگی،موگتا،مہتر وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں کیاہے۔میری محدود معلومات کے مطابق امبیڈکر نے ان برادریوں کو ایس ٹی کٹیگری میں شامل کیے جانے پر کبھی کوئی بات نہیں کی۔اس کے بعد وہ تمام مسلمانوں کوایک برادری کے طورپر ٹریٹ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
’’ ہندستانی مسلم طبقے(طبقات نہیں)کی سماجی ہی نہیں،سیاسی زندگی میں بھی ایک قسم کا جمود پایاجاتا ہے،انھیں عموماً سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،ان پر مذہبیت چھائی ہوئی ہے۔اس کااندازہ ان شرطوں اور ضابطوں کو دیکھ کر آسانی سے ہوجاتا ہے،جنھیں ایک امیدوارکو مسلم حلقے سے پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لیے پورا کرنا ہوتا ہے،مسلم حلقوں میں امیدوار کے ترقیاتی منصوبوں کو نہیں جانچا جاتا،مسلمان صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا وہ امیدوار جیتنے کے بعد مسجد کی پرانی لائٹوں کو ہٹاکر اپنے خرچے سے نئی لائٹس لگوادے،نئی جانماز مہیاکروادے،بعض مسلم حلقے تو اسی پر خوش ہوجاتے ہیں کہ ان کا امیدوار ایک زبردست پارٹی کردے ،جہاں کھانے پینے کا بہترین انتظام ہو۔عموماً مسلمانوں کے لیے الیکشن محض پیسوں اور معمولی مفادات کا معاملہ ہے،اسے عوامی ترقی کے سماجی منصوبے کے طورپر شاذہی دیکھا جاتا ہے۔مسلم سیاسست میں انسانی زندگی کی سیکولر کٹیگریز پر بالکل بھی توجہ نہیں دی جاتی ،مثلاً ان کے یہاں مالداروغریب،سرمایہ دار و مزدور،مالک و کرایہ دار،مذہبی سربراہ اور عام انسان اور عقل و خرافات کے مابین پائے جانے والے اختلافات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی‘‘۔(ص:222-223)
اس کتاب میں امبیڈکر کے مشاہدات و تجزیات کی روشنی میں مسلمانوں کی بے محل وغیر مناسب سیاسی ترجیحات سے متعلق بعض بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں۔
اب آئیے ان کی دوسری کتابAnnihilation of Casteکا مطالعہ کرتے ہیں۔اس کتاب کی گیارہویں فصل میں وہ دوبارہ تمام مسلمانوں کو ایکبرادری کے طورپر دیکھتے ہیں ،ان کے متن سے ایسا لگتاہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سکھوں اور مسلمانوں میں برادریاں نہیں ہیں،پھر وہ ایک سوال کرتے ہیں:
’’ہندوآخر بزدل کیوں ہیں اور مسلمانوں اور سکھوں کو آخر کہاں سے طاقت ملتی ہے کہ وہ بہادراور بے باک ہوتے ہیں؟‘‘۔
پھر وہ خود ہی جواب دیتے ہیں:
’’مجھے یقین ہے کہ یہ اس قوت کی وجہ سے ہے، جو اس احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ اگر کسی سکھ پر کوئی خطرہ آئے گا ،تو سارے سکھ اسے بچانے کے لیے نکل پڑیں گے یا اگر کسی مسلمان پر کوئی حملہ ہو،تو اس کے سارے ہم مذہب اس کی حفاظت کے لیے نکل پڑیں گے۔ہندووں میں ایسی طاقت نہیں ہے۔اسے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اس کے مذہب والے ایسی سچویشن میں اسے بچانے کے لیے نکلیں گے۔اکیلا اور نہتا ہونے کی وجہ سے وہ کمزور رہے گا،نادم و شرمندہ رہے گا اور ایسے موقعے پر ہتھیار ڈال دے گااور جان بچاکر بھاگنے کی کوشش کرے گا۔اس کے بالمقابل ایک سکھ یا ایک مسلمان بے خوف ہوکر کھڑا رہے گا اور مد مقابل سے تنہاہی لڑپڑے گا؛کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے،جبکہ ایک ہندوبزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نارواتوہین بھی برداشت کرلے گا‘‘۔
اس قسم کے دقیانوسی خیالات بہت سے ہندوتواکا پروپیگنڈہ کرنے والوں میں بھی عام طورپر پائے جاتے ہیں۔
ایسے ہی دقیانوسی خیالات ہمیں امبیڈکر کی کتابPakistan or Partition of Indiaکی گیارہویں فصل’’فرقہ وارانہ جارحیت‘‘میں پڑھنے کو ملتے ہیں،وہ لکھتے ہیں:
’’ہندووں میں پائی جانے والی فرقہ وارانہ جارحیت ابھی نئی پیدا ہوئی ہے،جبکہ مسلمانوں میں یہ وصف ان کے آباواجداد سے ملااورہندووں کے مقابلے میں بہت پرانا ہے‘‘۔
امبیڈکر نے یہ بات1920-40کے دوران رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں کہی ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے جو تفصیلات پیش کی ہیں،ان سے پتا چلتاہے کہ ہندوطبقہ سرے سے بے یارومددگار تھا،وہ لکھتے ہیں:
’’لوگوں کا قتل عام کیاگیا،زبردستی تبدیلیِ مذہب کی گئی،مندروں کی بے حرمتی کی گئی،عورتوں پر وحشیانہ مظالم کیے گئے،مثلاً حاملہ عورتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی،مختصر یہ کہ موپلا کے ذریعے ہندووں کے خلاف ظلم و زیادتی کے تمام اسباب و ذرائع بلا حدود وقیوداس وقت تک استعمال کیے گئے،جب تک کہ فوج نے زبردست مشقتوں کوبرداشت کرکے طویل مسافتوں میں پھیلے ہوئے اس ملک میں دوبارہ نظم و نسق کو بحال نہ کرلیا،یہ ہندومسلم فسادات نہیں تھے،یہ سیدھے طورپرBartholomewتھا‘‘۔(ص:153-54)
امبیڈکر نے یہاں مسلمانوں میں مذہبی جارحیت کے حوالے سے دولفظ استعمال کیے ہیں،ایک ‘native endowment’ہے اور دوسرا’ancient’ہے،ان دونوں کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ وارانہ جارحیت ان کے آباواجداد کے زمانے سے چلی آرہی ہے اور انھوں نے گویا بہ طور وراثت یہ وصف حاصل کیا ہے۔یہاں میرا سوال یہ ہے کہ کیاامبیڈکر ہندستان کے تمام مسلمانوں کو خارجی سمجھتے تھے؟حالاں کہ دوسری جگہ وہ خود پسماندہ مسلمانوں (جن میں زراعت پیشہ شیوخ بھی شامل ہیں)کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ لوگ اصلاً ہندوتھے،جو کسی پیشہ ورگروپ سے تعلق نہیں رکھتے رکھتے تھے اور انھیں اشراف برادری میں شامل نہیں کیاگیا ،جیسے کہ پیرالی اور ٹھکرائی۔(ص:219)
ڈاکٹر امبیڈکر اس کے بعد پیش گوئی کرتے ہیں:
’’ایسا نہیں کہ اگر ہندووں کو موقع ملے،تو وہ مسلمانوں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے،مگر آج کے حالات میں جارحیت کی نمایش کے معاملے میں مسلمانوں نے ہندووں کو بہت پیچھے چھوڑ رکھاہے‘‘۔(ص:239)
ان کے دقیانوسی کا خیالات کا سلسلہ مزید جاری رہتا ہے:
’’سماجی اتحاد کے بغیر سیاسی اتحاد کا حصول مشکل ہے،اگر اس کے بغیر یہ حاصل ہوبھی گیا،تو موسمِ گرما کی کھیتی کی طرح ہمیشہ خطرات سے گھرا ہوگا،جو تیز آندھی کی زد میں رہتی ہے اور کبھی بھی تباہ و برباد ہوسکتی ہے۔محض سیاسی اتحاد کی وجہ سے ہندستان ایک سٹیٹ تو ہوسکتا ہے،مگر ایک سٹیٹ ہونے کا مطلب ایک قوم اور ایک سٹیٹ ہونا نہیں ہے اور جب ایک سٹیٹ ایک قوم میں تبدیل نہیں ہوسکتا،توتنازع للبقاکی جدوجہد میں اس کا کامیاب ہوپانا بہت مشکل ہے‘‘۔(ص:185)ان کی یہ بات خاص طورپر قوم پرستی کے حوالے سے بالکل سچی ہے،وہ مضبوط دلائل کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے ان کے مطالبۂ پاکستان کو مان لینا چاہیے،اس سلسلے میں وہ ان مسلمانوں کا بھی استثنانہیں کرتے،جنھوں نے اخیر وقت تک تقسیمِ ہند کی مخالفت کی تھی۔
مسلم لیگ کے خلاف اپریل1940میں دہلی میں منعقدہ آزاد مسلم کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس بات پر اعتماد کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ مسلمان ہندووں کے تئیں مسلم لیگ سے زیادہ نرم ثابت ہوں گے‘‘۔
وہ یقین کے ساتھ کہتے ہیں:
’’کمزوروں کو خودمختار بنانے کے لیے ان کی مددکرنے اور حصولِ اقتدار کے عزائم رکھنے والوں کے عزائم کی تکمیل کے مابین فرق ہے،یعنی کسی کمزور کی مددکرنے اور کسی کو پورا ایک ملک حوالے کرنے میں فرق ہے‘‘۔
اس فصل کی تکمیل امبیڈکر ان الفاظ سے کرتے ہیں:
’’یہ چند اہم نکات ہیں اور اگر ہندستان کے ہندوان نکات پر غوروفکر کریں،توانھیں پتالگ جائے گاکہ ان کے لیے حقیقی خطرہ کیاہے، تقسیم کے مقابلے میں مسلم متبادل ایک خطرناک وخوفناک متبادل ہے‘‘۔(ص:195)
الغرض ڈاکٹر امبیڈکر نے ان مسلمانوں کی بھی مخالفت کی ہے،جنھوں نے مسلم لیگ کے فرقہ وارانہ بنیادپر جغرافیائی تقسیم کے نظریے کو مسترد کیاتھا،وہ تقسیمِ ہند کے لیے مسلمانوں کی مزاحمت اور آزاد مسلم کانفرنس کے منصوبے کوایک گمراہ کن پاور پلے اور Gravamin Politicsیا پاور پالیٹکس کرکے اقتدار حاصل کرنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ پسماندہ سیاست کے بیانیے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ آزاد مسلم کانفرنس میں شریک ہونے والے مسلمانوں میں عبدالقیوم انصاری اور عاصم بہاری (1890-1953)جیسے لیڈران کی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
Annihilation of Casteنامی کتاب کی چھبیسویں فصل کو مکمل کرتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر بیان کرتے ہیں:
’’میری رائے میں ہندواگر برادری واد سے نجات حاصل کریں،تبھی وہ اپنا دفاع کرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہوں گے،اس مضبوطی کے بغیر ہندووں کے لیے سوراج(آزادی)ممکن ہے کہ غلامی ہی کی طرف ایک قدم بڑھانے کے مترادف ہو،الوداع اور آپ کی کامیابی کے لیے نیک تمنائیں!‘‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برادری واد سے پاک مسلم معاشرے کے لیے ہمیں امبیڈکر کی طرف سے کسی قسم کی نیک تمنائیں نہیں ملتیں۔موجودہ پسماندہ سیاسی تحریک زیادہ تر ڈاکٹر امبیڈکر سے متاثر ہے،مگر کیاوہ بابا صاحب کی اس پوزیشن سے باخبر ہے؟
موجودہ پسماندہ تحریک کے لیے ایک اور تشویش کی بات وہ ہے،جس کی طرف لوہیانے جون1963میں گورکھپور میں اپنی ایک تقریر کے دوران اشارہ کیاتھا:
’’کچھ پسماندہ برادریاں مثلاً اہیر،جولہا اور چمار تعداد کے اعتبار سے زیادہ ہیں،جبکہ کچھ دوسری پسماندہ برادریاں مثلاً مالی،کنہار وغیرہ تعداد کے اعتبار سے کم ہیں؛لیکن اگر ان سب کو یکجاکردیاجائے ،تو ان پسماندہ برادریوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے گی۔نتیجتاً جب چھوٹی برادریاں اوپر اٹھیں گی اور طبقاتی نظام پر حملہ کیاجائے گا،تواس سے سب سے زیادہ فائدہ ان طبقات کو ہوگا،جو تعداد میں زیادہ ہوں گے۔یہ بڑی حد تک ضروری ہے؛لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اس وقت تک بیدار و ہوشیار رہے تاآں کہ پسماندہ برادریوں کی پوزیشن بہتر ہوجائے اور ان کی صفوں سے لیڈرپیدا ہوجائیں‘‘۔
اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی جانناہے کہ موجودہ دلت دانشوران و ایکٹوسٹس کیا ارذال مسلم برادریوں کو ایس ٹی کٹیگری میں شامل کرنے کروانے کی غرض سے حکومتوں پر دباؤ بنانے کے لیے سچے دل سے آمادہ ہیں؟
میرے خیال میں اس قسم کے سوالات اٹھانا ضروری ہے؛کیوں کہ آنندکوچکوڑی کی تحریر(The Wire, November 7, 2017)کے مطابق:
’’اجارہ داری اور برہمن ازم خود دلتوں کے اندر بھی پائی جاتی ہے،آگے کا راستہ یہ ہے کہ انھیں مشترکہ شناخت کے قبول کرنے پر آمادہ کیاجائے اور مخصوص شناخت پر مبنی سیاست کا دائرہ بعض متعین برادریوں یا طبقات میں محدود ہونے کی بجاے وسیع تر ہونا چاہیے۔مساوات اور برابری کا طویل مدتی ہدف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دلتوں اور دوسرے طبقات کے اندرون میں پائی جانے والی طبقاتیت کے خاتمے کے لیے بھی آگے بڑھا جائے‘‘۔
میں یقینی طورپر نہیں کہہ سکتا کہ امبیڈکر نے1947میں شائع شدہ اپنی کتابState and Minorities: What Are their Rights and How to Secure them in the Constitution of Free India. میں اس کی دعوت دی ہے یانہیں۔حتی کہ آنندتلتمبڑے کی کتابAmbedkar on Muslims(2003)سے بھی اس سلسلے میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملتی۔اس میں صرف یہ کہاگیا ہے کہ:
’’اسلام ایک ایسا مذہب ہے،جونسل و رنگ سے قطع نظر مختلف قسم کے لوگوں کو بھائی چارے کی لڑی میں پروتا ہے،مگر اس کے باوجود ہندستان کی سطح پر یہاں کے مسلمانوں کے درمیان سے برادری واد کے خاتمے میں اسلام کامیاب نہیں ہوسکاہے‘‘۔
حالاں کہ تلتمبڑے کامانناہے کہ برادری واد یا طبقاتیت میں جتنی شدت ہندووں کے درمیان پائی جاتی ہے،اتنی شدت مسلمانوں کے درمیان نہیں پائی جاتی،البتہ انھیں یہ جان کر تکلیف ضرور ہوئی ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب امبیڈکرنے ایک سیاسی مفاہمت کے طورپر جداگانہ انتخابات کی تائید کردی؛تاکہ سماجی نابرابری کا خاتمہ کیاجاسکے،تو انھوں نے تمام مسلمانوں کو ایک برادری یایکساں قراردینے کی بجاے اجلاف اور ارذال کے لیے اسمبلیوں میں سیٹوں کی تخصیص و تقسیم کی تائید کیوں نہیں کی؟مجھے اس کا بھی کوئی علم نہیں ہے کہ1950میں صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے ارذال مسلم برادریوں کو ایس ٹی کٹیگری میں شامل کیے جانے کی مخالفت پر لوہیا نے کوئی آواز اٹھائی تھی۔
جوگندرناتھ منڈل(1904-1968)نے آزادی سے کچھ پہلے بنگال کے پسماندہ مسلمانوں اور ہندووں کو لے کر دبے کچلے طبقات کا ایک اتحاد قائم کیاتھا۔تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو سوال کرنا چاہیے کہ یہ اتحاد صرف بنگال میں ہی کیوں قائم ہوا؟کیایہ جوگندرناتھ منڈل کی وجہ سے ہوا تھا یا بنگال کے پس منظر میں اس کی کچھ خاص وجوہ تھیں؟پھر ان سوالوں کے جواب بھی تلاش کرنا چاہیے۔پسماندہ مومنٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو مضبوط کرے،اپنا دائرہ وسیع کرے،سماجی و طبقاتی زیادتیوں کے خلاف اپنی یکجہتی کو مضبوط کرے،اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں نہایت ضروری دلت۔مسلم اتحاد کوقائم کرتے ہوئے تاریخ کے مذکورہ بالا حقائق کو بھی ذہن میں رکھے۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share