Select your Top Menu from wp menus

کانگریس کا مخالف بھاجپا اتحاد کی پیٹھ میں خنجر گھونپا!

کانگریس کا مخالف بھاجپا اتحاد کی پیٹھ میں خنجر گھونپا!

باخبرکے قلم سے
رشید انصاری
انتخابات سے قبل گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ امید تھی کہ ملک کو بھاجپا کی فاشسٹ حکومت اور نریندر مودی جیسے ناکام اور عامرانہ مزاج رکھنے والے وزیر اعظم سے نجات پانے کے لئے تمام مخالف پارٹیاں ایک جٹ ہوکر ایک مضبوط اور ایسا مہاگٹھ بندھن قائم کرسکیں گی جو بھاجپا کو بری طرح شکست دے گا لیکن اب ایسے سارے خواب چکناچور ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جس کی بھاری ذمہ داری کانگریس پر اور تھوڑی سی ذمہ داری کسی حدتک مایاوتی پر ہے۔ ان دونوں کی وجہ سے سوائے بہار کے کسی بھی ریاست میں مہا گٹھ بندھن قائم نہیں ہوسکا اور جو توقع تھی 543پارلیمانی حلقوں میں بیشتر میں بھاجپا اور مہاگٹھ بندھن کا راست اور دو رخی مقابلہ ہوگا لیکن اب یہ بات صرف خواب و خیال کی حدتک رہ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پارٹی قائدین کی اپنی خودقرضی اور مفاد پرستی ہے اور ان قائدین نے کانگریس کے راہول گاندھی اور بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی سب سے آگے ہیں۔ کانگریس کی ہم نوا پارٹیوں پر مشتمل گٹھ بندھن کے علاوہ ایک دوسرا گٹھ بندھن بنگال کی ممتابنرجی، آندھراپردیش کے چندرابابو نائیڈو اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح زیادہ تر ریاستوں میں ’’ووٹ تقسیم کرنے والے اور پیسے لے کر محض ہارنے کے لئے انتخابی دنگل میں کودنے والے نام نہاد آزاد امیدواروں اور چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی بھی خاصی تعداد ہوسکتی ہے۔ اس طرح حزب مخالف کے قائدین اور جماعتوں کی اناپرستی اور مفاد پرستی کی وجہ سے مخالف بھاجپا ووٹوں کی تقسیم 2014ء کی طرح تقریباً یقینی ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مخالف بھاجپا ووٹ کی تقسیم کا فائدہ کس کو ہوگا۔ تاہم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اگر ملک بھر میں مخالف مودی لہر اسی طرح طاقتور ہو جس طرح 2014ء میں موافق مودی لہر تھی تو بے شک بی جے پی کی شکست کے امکانات روشن ہوں گے۔ لیکن اسے اگر ہم خوش فہمی نہیں کہہ سکتے تو ایسی بات حتمی طور پر غلط بھی نہیں کہی جاسکتی ۔ ویسے اس میں شک نہیں کہ جہاں مودی، مودی کا چرچہ ہے وہیں مودی کی نااہل حکومت کی ناکامیوں اور مودی کی وعدہ خلافیوں کا ذکر بھی ووٹ دینے والوں میں عام ہے۔ اسی طرح اس بات پر زور دیا جاتا تھا کہ مودی کے خلاف ایک مضبوط مہاگٹھ بندھن قائم ہوجائے تو عوام کو تقسیم کرنے اور فرقہ پرستی کا زہر پھیلاکر ملک کے ماحول کو مسموم کرکے بھی مودی کامیاب نہیں ہوسکے گے لیکن مختلف قائدین خاص طور پر راہول گاندھی اور مایاوتی کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن کا قیام نہیں ہوسکا۔
راہول گاندھی کے ذکر کے ساتھ پرینکا گاندھی کا بھی خیال آتا ہے جب انہوں نے عملاً ملک بھر کی انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھاتو توقع تھی کہ بے سمتی کی جانب رواں دواں کانگریسی قیادت نے کچھ شعور اور تدبر نظر آئے گا لیکن پرینکا گاندھی کی آمد بھی کانگریسی قیادت پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈال سکی بلکہ راہول گاندھی (جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ اب ’’پّپو‘‘نہیں رہے دوبارہ ’’پپو‘‘ نظر آنے لگے ہیں۔ پرینکا گاندھی اور صحت کی خرابی کا شکار سونیا گاندھی کے بارے میں تو کچھ کہنا ہی بے کار ہے۔ تادم تحریر راہول گاندھی نے دہلی میں مخالف بھاجپا اتحاد کے لئے کجریوال کی دعوت قبول نہیں کی ہے۔ اس طرح کانگریس نے مخالف بھاجپا مکتب فکر کو بری طرح مایوس کیا اور مخالف بھاجپا عناصر میں اتحاد پیدا نہیں ہوسکا۔
اس موقع پر یہ بھی خیال آتا ہے کہ کاش مخالف بھاجپا جماعتوں کا ہر قائد سماج وادی پارٹی کے قائد اکھلیش یادو کی طرح مدبر ہی نہیں فراخ دل اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے والا ہوتا اس میں قربانی کا جذبہ ہوتا۔ یو پی میں سماج وادی پارٹی اور ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کی دشمن بہوجن سماج پارٹی کے قائد مایاوتی سے اتحاد کچھ عرصہ قبل تک نہ ممکن نظر آتا تھاتاہم اکھلیش یادو نے اپنے تدبر سے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو متحد کردیا حالانکہ سماج وادی پارٹی یوپی میں بہوجن سماج پارٹی سے زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن اکھلیش یادو نے اس کا کوئی فائدہ اٹھانا پسند نہیں کیا بلکہ چند نشستوں کی قربانی بھی دی اور آج یوپی میں ان دونوں جماعتوں کے ساتھ آر ایل ڈی جس کے قائد اجیت سنگھ ہیں کا مضبوط اتحاد نے یو پی میں بی جے پی کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ یہاں پر کیا یہ اچھا ہوتا اگر کانگریس بھی اس اتحاد میں شامل ہوتی لیکن کانگریسی قیادت نے ایک طرف مایاوتی کو ناراض کیا تو دوسری طرف اکھلیش یادو سے بے رخی برتی۔ اسی وجہ سے کانگریس کو ان دونوں جماعتوں کے اتحاد میں شریک ہونے کی دعوت نہیں دی گئی۔ تاہم وضع داری اور فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اتحاد نے کانگریس کی ان دو نشستوں کو جہاں سے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی منتخب ہوتے ہیں ان کے لئے چھوڑ دیا تھا مگر کانگریس کوبی جے پی کو شکست دینے اور ملک کو مودی سے نجاد دلانے سے زیادہ دلچسپی یوپی میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں ہے اور اس کا یوپی میں بہت زیادہ نشستوں پر مقابلہ کرنے کا اعلان مخالف بھاجپا اتحاد کی پیٹ میں خنجر گھوپنے کے مترادف ہے۔
یوپی میں کانگریس کی خودقرضی پر لعنت ملامت ابھی کم نہیں ہوئی تھی کے راہول گاندھی نے کیرالا کی ایک نشست سے مقابلہ کرنے کا اعلان کرکے کمیونسٹ پارٹی سے پنگا لینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس طرح نہ صرف کیرالا میں بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں کمیونسٹ پارٹی اور کانگریس میں ٹھن گئی ہے۔ اگر راہول گاندھی کو دو نشستوں پر مقابلہ کا اتنا ہی شوق تھا یا وہ اس کو ضروری سمجھتے تھے تو وہ اپنے لئے کسی ایسے محفوظ حلقہ کا انتخاب کرسکتے تھے جہاں ان کا مقابلہ کسی مخالف بھاجپا جماعت سے نہ ہو لیکن راہول گاندھی (مانا جاتا ہے کہ امیٹھی میں راہول کو اپنی کامیابی شائد یقینی نظر نہیں آتی اس لئے وہ امیٹھی کو چھوڑ کر) نے دو جگہ سے مقابلہ کا فیصلہ کیا لیکن اس طرح وہ مخالف بھاجپا اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
صرف بہار ایک ایسا صوبہ ہے جہاں لالوپرساد یادو اور ان کے صاحبزادوں نے اپنی فراخدلی سے کانگریس کو اس کی حیثیت سے زیادہ نشستیں دے کر کانگریس کو خوش کیا ہے ورنہ شائد بہار میں بھی کانگریس کی وجہ سے سہ رخی مقابلے ہوتے۔ اس وقت بی جے پی کی زیادہ توجہ بنگال میں زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کی کوششوں پر مرکوز ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کمیونسٹ پارٹیاں اور کانگریس ممتابنرجی سے اتحاد کرکے یہاں بی جے پی کیلئے دو تین نشستوں پر کامیابی کو ناممکن بنادیتیں لیکن ایک طرف کمیونسٹ پارٹی ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس سے مقابلہ کررہی ہے تو دوسری طرف اب کانگریس ، ترنمول کانگریس اور کمیونسٹوں سے بیک وقت مقابلہ کا فیصلہ کرچکی ہے گوکہ امید یہی ہے کہ کمیونسٹ پارٹیاں اور کانگریس ترنمول کانگریس کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچاسکیں گیں۔ تاہم ممتابنرجی کی پارٹی کو کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ نقصان ضرورہوگا۔
اس طرح ملک بھر میں مخالف بھاجپا ووٹوں کی تقسیم کا انتظام مکمل ہے اور توقع ہے کہ اس کا فائدہ بی جے پی کو خاصی حدتک ہوگا ۔ مخالف بھاجپا ووٹوں کی تقسیم میں کانگریس اہم کردار ادا کرے گی اور کانگریسی قائدین کو شرم آنی چاہئے جنہوں نے مجلس اتحادالمسلمین پر مخالف بھاجپا ووٹوں کو تقسیم کرانے کا الزام لگایا تھا اور اسد الدین اویسی کو بدنام کیا تھا۔ یہ کالم مخالف بھاجپا گٹھ بندھن سے مسلمانوں کو دور رکھنے یا مسلمانوں کا اپنے آپ کو دور رکھنے کا فیصلہ ملک اور مسلمانوں دونوں کے لئے وقت کے تقاضوں کے مطابق ہرگز نہیں ہے۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share