Select your Top Menu from wp menus

عنوان:  پاکستان میں قادیانیوں کی سازشیں ابتک جاری ۔۔۔!!

عنوان:  پاکستان میں قادیانیوں کی سازشیں ابتک جاری ۔۔۔!!
کالم نگار: جاوید صدیقی
بیدار ہونے تک
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان اسلام دشمن کافر جماعت قادیانی رہے ہیں برصغیر پاک و ہند میں انگریز راج کے زمانے میں  انگریزوں کے ایجنٹ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹے نبی کا دعویٰ کرکے کافروں، مشرکوں، بت پرستوں، لا دینوں اور اپنے آقا یہودیوں کو خوش کرنے کیلئے اپنی ناپاک تنظیم، کمیونٹی بنائی اور اس کے ذریعے اسلام کے خلاف زہر اگلا، سادہ لوح لوگوں کے ایمان کو خراب کرنے خاص کر غریبوں کو دولت کی لالچ اور دنیاوی عیش و عشرت کا عکس دکھا کر گمراہ کرتے رہے ہیں، ان کا طریقہ واردات اس حد تک ہوتا ہے کہ یہ اپنی لڑکیوں کو پیش کرکے عیاشی اور برائی میں مبتلا کرکے کم عمر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہیں،قادیانی اسلام مخالف کاروائیوں میں مصروف رہیںہیں،پلید، فاسق، فاجر، لعنتی، بدبخت، جہنمی جھوٹے نبی کا دعویٰ کرنے والامرزا غلام احمد قادیانی سےنبی آخر زمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عاشقان رسول نے مناظرے کیئے اور اس شیطان ملعون چیلے کو ہمیشہ بے بس اورلاجواب کیا، مرزا غلام احمد قادیانی ملعون سے مناظرہ کرنے والوں میں غلامان رسول ﷺکی ان عظیم ہستیوں میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ، اعلیٰحضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ قابل ذکر ہیں، قادیانیوں نےتحریک پاکستان میںہندوؤں اور انگریزوں کیساتھ مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں نے بہت نقصان پہنچایا تھااور پاکستان بننے کے بعد بھی اپنی غلیظ اور غباثت سے باز نہیں آئےمعزز قارئین!!ذوالفقار علی بھٹو نے جب قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے والے مسودے پر دستخط کیئے تو اُس وقت چیف آف نیول اسٹاف حسن حفیظ احمد قادیانی تھا،آرمی کا ڈپٹی چیف عبدالعلی قادیانی تھا اور فضائیہ کا سربراہ ظفر چوہدری بھی قادیانی تھا، ظفر چوہدری نے ہی اپنےہم زلف میجر جنرل نذیر کے ساتھ مل کر بھٹو کے قتل کی سازش بھی کی تھی، ظفر چوہدری کی دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ اس نے ربوہ میں مرزا ناصر قادیانی کے جلسے پر فضائیہ کے جہاز بھیج کر گل پاشی کی سلامی دی تھی، اسی ظفر چوہدری نے کئی مسلمان افسران کا کورٹ مارشل کیا اور میرٹ سے ہٹ کر قادیانیوں کی بھرتیاں کی تھیں، یاد رہے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والا مسعود محمود بھی قادیانی تھا،احمد رضا قصوری پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کی قراراد پر دستخط کرتےہیں مسعود محمود قادیانی تھا جو قصوری صاحب پر حملہ کرواتاہے، حملے میں قصوری صاحب کے والد شہیدہوجاتے ہیں اور پھر یہی قادیانی مسعود محمود وعدہ معاف گواہ بن کر کہتا ہے کہ مجھے تو قتل کا حکم بھٹو نے دیا تھا یوں ایک تیر سے دو شکار کھیلے جاتے ہیںیہ سب اتفاق نہیں ہوسکتا، طاقتور قادیانیوں میں گھرے ذوالفقار علی بھٹو کو اندازہ تھا کہ وہ کیا کرچکے ہیں،کرنل رفیع جو جیل میں بھٹو کی نگرانی میں مامور تھے وہ لکھتے ہیں کہ پھانسی سے
۲
 قبل بھٹو صاحب نے کہا کہ کرنل رفیع آج تو قادیانی بہت خوش ہوں گے ان کا دشمن مارا جارہا ہےشاید اسی لیےذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے مسودے پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا میں موت کے پروانے پر دستخط کر رہاہوںذوالفقار علی بھٹو سےہمیں لاکھ اختلاف ہوں مگر قادیانیوں کے خلاف جو کچھ ان کے دور میںہوا وہ بھی ایسے وقت میں جب قادیانی اہم ترین عہدوں پر براجمان تھے انتہائی بہادری دلیری اور بغیر کسی خوف کے دستخط کردیئے اس پر وہ سیلوٹ کے حقدارہیںختم نبوت ﷺ کے محافظ،قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینےپاکستان کو اسلامی آئین اور ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والی عظیم شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کو سلام۔ معزز قارئین!!مولانا شاہ احمد نورانی نے تیس جون سن انیس سو چوہتر میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اورسات ستمبر سن انیس سو چوہتر سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی دوسری ترمیم کے محرکین میں شامل تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرارد دیا گیا عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت مولانا شاہ احمدنورانی کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی تیس جون سن انیس سو چوہتر کو آپ بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کرنے والوں میں شامل تھے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیاتیرہ دن تک اس پر جرح ہوئی بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا مولانا نورانی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبین حضرت محمد ﷺ میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگاانشا اللہ۔ معزز قارئین!! سابقہ مسلم لیگ حکومت میں از خود جان کر بین الاقوامی ایجنڈے پر حلف نامے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی جس میں تمام ممبران اسمبلی و سینٹ قصور وار تھے کہ انھوں نے قادیانیوں کی راہ کیلئے دستخط کردیئےقادیانیوں اور احمدیوں کی آئینی حیثیت سے متعلق الیکشن ایکٹ 2017 میں چیف ایگزیکٹو آرڈر 2002 بابت انعقاد عام انتخابات کی دفعہ 7B اور 7C کو حذف کرکے اس کے ذریعے دستور پاکستان میں ارتداد قادیانیت کے آرٹیکل کو منسوخ کردیا گیاآئین میں منکرین ختم نبوت کی حیثیت مستقل طور پر متعیّن ہے اصل مسئلہ اس کے مکمل نفاذ کا ہے پارلیمنٹ کی رکنیت کے اقرار نامے میں ختم نبوت کا حلفیہ اقرار اس لیے ضروری ہے کہ کوئی قادیانی مسلمان کے بھیس میں پارلیمنٹ کا امیدوار نہ بن سکے ہر شخص کو معلوم تھا کہ عدالت عظمیٰ میں جمع کردہ بیان بھی حلفیہ ہی ہوتا ہے پس جھوٹے حلف نامے کے امکان کو یکسر ردّ نہیں کیا جاسکتا ختم نبوت کی بابت یہی اقرار نامہ پاسپورٹ قومی شناختی کارڈ مسلح افواج میں شمولیت و دیگر مواقع پر درکار ہوتا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے یہ راز فشاں ہوتے ہی ملک بھر میں طوفان کھڑا ہوگیااور مسلم لیگی حکومت نے اس فیصلے کو فوری واپس لے لیا لیکن آج تک راز فتنہ بازی کو راز میں رکھا گیا ہے اور سازشوں کو بے نقاب نہیں کیا گیا ۔۔معزز قارئین!! گزشتہ دو سال پہلے یعنی سابقہ حکومت میں عام انتخابات کے قوانین میں ترمیم کے بل میں کاغذات نامزدگی کے فارم سے حلفیہ اقرارنامہ ختم کردیا گیا تاہم اس اقدام کو آئینی و قانونی ماہرین نے آئین کے آرٹیکل 62 اورعوامی نمائندگی ایکٹ پر حملہ اور ایک فارم میں تبدیلی کر کے آرٹیکل 62، 63 سے بچنے کا راستہ قرار دیاقومی اسمبلی سے22 اگست کو پاس ہونے والے انتخابات ایکٹ2017 میں دیے گئے نئے نامزدگی فارم میں امیدوارکی جانب سے جمع کرائے جانے والے حلفیہ اقرارنامہ میں سے حلف کا لفظ حذف کیا گیا نئے بل میں امیدوارکی
۳
جانب سے اقرار نامہ کے الفاظ ہیں جبکہ سابقہ فارم نامزدگی میں امیدوارکی جانب سے حلفیہ اقرار نامہ کے الفاظ تھےپرانے قانون میں اقرار نامے کے متن میں تین جگہ موجود حلف کا لفظ تھا جسے تینوں جگہوں سے حذف کیا گیا ہے اقرارنامہ کے آغاز میں میں(نامزد ا میدوار) حلفیہ اقرارکرتا ہوں کی جگہ میں(نامزد امیدوار) بذریعہ ہذا اقرار کرتا ہوں کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد یہ بل سینیٹ کو بھیجا گیا جہاں سے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا گیا ہےسپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اکرام چوہدری نے کہا کہ اراکین پارلیمان کے نامزدگی فارم سےحلف لفظ نکال کر آئین و قانون کی نفی کی گئی ہے کیونکہ حلفیہ اقرارنامہ کسی بھی بات کی حلف پر تصدیق کرنا ہوتا ہے اگرآج اس لفظ کو نامزدگی فارم سے نکالاگیا تو کل یہ مطالبہ کریںگے کہ ممبرقومی اسمبلی بنتے وقت جو حلف لیا جاتا ہے اس میں سے بھی ایسے الفاظ حذف کیے جائیںان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی عہدہ رکھنے والا حلف پرکوئی بات نہیں کرے گا تو اس اقرارکی کیا حیثیت ہوگی؟ انھوں نے کہاکہ اس بل کے ذریعے نہ صرف حلف کی اہمیت سے انکار کیا گیا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل62اورالیکشن قوانین پر حملہ کیا گیا ہےسینیئر وکیل شیخ احسن الدین نے کہا کہ نامزدگی فارم سے حلف کا لفظ نکالناایک فارم کی بنیاد پرآئین کے آرٹیکل62،63 کومسترد کرنے کے مترادف ہے کیونکہ حلف کا لفظ نکالنے سے یہ حلفیہ بیان کے بجائے عام اقرار نامہ تصور ہوگا قانونی طور پر ان دونوں بیانات کی الگ الگ حیثیت ہوتی ہے الیکشن کمیشن کو دیے گئے اسی بیان کی بنیاد پر تو امیدوارکی اہلیت یا نااہلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے انھوں نے کہاکہ ایک فارم میں تبدیلی کرکے آرٹیکل62،63سے بچنے کا راستہ نکالاگیا ہےحشمت حبیب ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور اس کے کوئی قانونی اثرات نہیں ہوسکتے ان کا کہنا تھاکہ دنیا کے ہر قانون کی رو سے یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک کا ہرشہری ایمانداراور سچ بولنے والا ہوتاہے تاوقت کہ وہ جھوٹا ثابت نہ ہوجائے اس لیے صرف اقرار نامہ دیا جانا سچ تصور ہوگا تاہم اگرکوئی جھوٹ ثابت ہو جائے تو عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت اقرارنامہ دینے والے شخص کیخلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔معزز قارئین ! موجودہ حکومت پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہے لیکن تعجب اور حیرت ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اب بھی سفیر قادیانیت کو فروغ دے رہے ہیں پاکستان میں موجودہ دورمیں قادیانیت بہت تیزی سے اندرون خانہ سازشوں کو تیز کررکھا ہے پاکستان کی بقا اور سلامتی اسی میں ہے کہ قادیانیت کی تمام منفی کاروئیوں پر سخت نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے پاکستان میں بسنے والے تمام مرزائیوں پر سخت نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے اور ان کی تمام تر کاروائیوں پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہےبین الاقومی مافیا قادیانیوں کے ذریعے پاکستانی معاشرے اور نظام ریاست میں اپنے ہم خیال لوگوں کو بڑے بڑے منصب پر تعینات کرنے کی تمام کر کوشش جاری ہیں کئی شکاتیں سامنے آئیں ہیں کہ سابقہ حکومتوں کی نا اہلی اور وطن فروش عناصر کی سہولت کاری کے سبب مافیا کو راہداری میسر ہورہی ہیں،اب تو دیکھا یہ گیا ہے کہ قادیانیوں کے ذیلی جماعتوں نے بھی سر اٹھا لیئے ان میں لاثانی سرکار جیسے کئی جعلی پیر و فقیر اور چہروں پر مسلماں کا عکس پچکاکر پاکستانی عوام اور دین سے دور لوگوں کو گمراہ کرنے میں مشن پر قائم ہیں ، ریاست پاکستان کی ذمہ داری نبتی ہے کہ ایسے خطرناک ملک کو نقصان پہنچانے والے عناصر اور سہولت کاروں کے سر کچل دینے چاہیں بصورت ان پر عدم توجہگی کی بنا پر نا تلافی نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ،اللہ ہم سب میں اتفاق و اتحاد ، امن سلامتی سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثما آمین
نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز، کراچی
  • 7
    Shares
  • 7
    Shares