Select your Top Menu from wp menus

اسلامی مسلمان اور جمہوری مسلمان کا فرق

اسلامی مسلمان اور جمہوری مسلمان کا فرق
شہاب مرزا
(اورنگ آباد )
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
مولانا ابوالکلام آزاد کو امام الہند َہونے کا شرف حاصل ہے ہم میں سے کسی نے آج تک اس بات پر غور نہیں کیا کہ صاحب نگارش آزاد مولانا ابوالکلام آزاد کو امام الہند کیوں کہا جاتا ہے؟کیونکہ سلطنت اسلامیہ کے خاتمے کے بعد بھی امامت اور جمیعت کے تصور سے اسلام کو دور کیا گیا اور ملت اسلامیہ کو بے امام وہ بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہماری امامت جمیعت سے پرے ہو کر مسجد کی چہار دیواری میں قید ہو کر رہ گئی اور امامت و جمعیت ہماری آنکھوں اور شعور سے تحلیل ہو کر رہ گئی جسکی وجہہ سے علامہ اقبال کو کہنا پڑا
تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر
امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے سلطنت اسلامیہ کے خاتمے کے بعد اس ملک کو آزادی بخشنے کی تحریک چلائی اور تحریک خلافت کا عَلم ہاتھ میں تھام لیا لیکن ترکی کے خاتمے کے سبب انہیں لا محلا جمہوری نظام کا جھنڈا ہاتھ میں تھامنا پڑاجمہوری نظام اور اسلام کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا کہ خداوند بر تر مجھے معاف فرما میں ملت اسلامیہ کے کشت و خون کے دریا برداشت نہ کرسکا اور میرے قدموں میں لرزہ تاری ہوا اس لئے میں اس جمہوری نظام میں مسلمانوں کے لئے اپنے ایمان و اسلام کے تحفظ کی غرض سے ایک ایسا لائحہ عمل پیش کر رہا ہوں جس میں مسلمانوں کی حیثیت مسلمان باقی رہے اور اسی دوران میں وہ اپنی امامت و جمعیت قائم کرے اور اپنے سیاہ و سفید کے مالک دستور ہند کے دائرے میں خود بنے اور جو نہی جمیعت اس قدر طاقت حاصل کر لے کہ اسلامی نظام حیات قائم کرنے کے روشن امکانات نظر آئے تو وہ خروج کر لے
اسلامی نظام حیات کے قیام تک اس ملک کا مسلمان اسلامی مسلمان نہیں ہو گا بلکہ جمہوری مسلمان رہے گا حتیٰ کہ خروج کے بعد بھی ہو اسلامی مسلمان ہوگا یہ فرق ہے اسلام مسلمان اور جمہوری مسلمان کے درمیان!
لہذا ابوالکلام آزاد کے کاروان زندگی کو جمہوری علماء و مسلمانوں نے یہیں پر روک کر رکھ دیا اور امامت اور جمعیت کو مسجد کی چہاردیواری میں قید کر دیا آج سیاسی پردے مجاز میں اسلام کی تصویر اس طرح پیش کی جاتی ھیکہپارلیمنٹ میں مسلم پرسنل لا اور بابری مسجد کے تحفظ کے نام پر بہت کم ہی سہی آواز ضرور اٹھتی ہےتو دوسری جانب آواز اٹھانے والے جمہوری اصولوں کے تحت اسلامی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر قائدین کے مجسموں پر خراج تحسین کے غرض سے پھولوں کا ہار بھی چڑھا تے ہے ٹکٹ کے حصول کی غرض سے نوٹ بھی گنتے ہے جمہوری نظام میں جاری کرپشن اور رشوت خوری سے پرہیز بھی نہیں ہوتا ہے جمہوری سیاست کی تمام غلامانہ خرابیوں ان میں نظر آتی ہےان سیاسی قائدین میں سیاسی مفاد اس قدر غالب آگیا ہیکہ مذہبی حقوق و تحفظ کے نام پر پورے ملک کو یرغمال بنایا جاتا ہے اور اقتدار کے ایسے مزے لوٹے جا تے ہے کہ فرقہ پرست پارٹیوں کے لیڈر بھی شرمسار ہو جائےلہذا اب سمجھ میں آئی وجہ کے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے کاروان زندگی کو یہیں پر کیوں روک دیا گیا اور ان کا تذکرہ بحیثیت امام الہند کیوں نہیں کیا جاتاکیونکہ یہ سازشیں اس بات کی ہیکہ جمہوری مسلمان اور اسلامی مسلمانوں کے درمیان ایک خط کھینچا گیا
 صراط مستقیم کا خط ہٹا کر تاکہ اس ملک کے مسلمانوں کو اسلامی مسلمان بننے ہی نہ دیا جائے اور امامت کو مسجد کی چہار دیواری سے باہر نہ آنے دیا جائے اور اپنی سیاسی تسکین حاصل کر لی جائے…
Attachments area
  • 1
    Share
  • 1
    Share