Select your Top Menu from wp menus

یہ ذہنیت کچھ بیمار سی لگتی ہے

یہ ذہنیت کچھ بیمار سی لگتی ہے
فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
2019 کے پارلیمانی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، تمام پارٹیاں الیکشن میں اپنے اپنے طریقوں سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے زور آزمائی کر رہی ہیں۔ مختلف اتحادوں کی جانب سے امیدواروں کی لسٹ بھی جاری کردی گئی ہے۔ فاشسٹ حامی اتحاد کے لسٹ کو چھوڑ کر اگر دیگر پارر پارٹیوں کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو یہ بات صاف طور پر نظر آتی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو پوری طرح نظر انداز کیا ہے۔
گزشتہ پارلیمانی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح اکثریت ملی تھی۔ اس کے بعد اس پارٹی نے کھل کر اپنے فسطائی منشور پر عمل کیا تھا۔ اس وجہ سے ملک کے سیکولر اور انصاف پسند لوگوں کے ذہنوں میں ایک بے چینی سی تھی کہ کسی نہ کسی طرح آئندہ انتخاب میں اس پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکا جائے۔ دیگر پارٹیوں نے اسی بنیاد پر مختلف علاقوں میں اتحاد کا قیام کیا۔ مگر ان اتحادوں میں بڑی ہی چالاکی کے ساتھ مسلم قیادت کو غائب کر دیا گیا۔
اب جوں جوں انتخابات کے وقت قریب آتے جا رہے ہیں ماضی کی طرح اس بار بھی اس بات کی تشہیر زور و شور سے کی جا رہی ہے کہ سیکولر طبقہ کے حامی لوگ ان امیدواروں کو ووٹ کریں جو نام نہاد سیکولر اتحادوں کے ٹکٹ سے کھڑے ہوئے ہیں، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو فاشسٹ امیدوار کامیاب ہو جائے گا اور سیکولریزم کو بہت بڑا دھچکا لگے گا۔

گزشتہ چند انتخابات سے اس بیمار ذہنیت نے ہمارے ملک میں زور پکڑ لیا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ سیکولرزم اور فاشسٹ کا حوالہ دے کر ایک ایسے امیدوار کو جتانے کی کوشش کی جاتی ہے جو بالکل نااہل ہوتا ہے۔ لوگ اس کمتر کو اپنا ووٹ صرف یہ کہہ کر دیتے ہیں کہ بد تر کے مقابلے میں یہ اچھا ہے، اپنے آپ کو بچائے رکھنے کے لیے اس کو ووٹ کرنا ناگزیر ہے۔ اس طرح ہر بار ہم اپنا ووٹ کسی نااہل شخص کو دے کر برباد کرتے ہیں ، اپنے اوپر ایک مجرم اور بےایمان شخص کو مسلط کر لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی ایماندار شخص کو صرف یہ کہہ کر ووٹ نہیں دیا جاتا ہے کہ اگر اسے ووٹ کریں گے تو سیکولرزم مخالف طاقتیں جیت جائیں گی اور ہمارا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں ہم نے اسی طرز فکر کو اپناتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی فاشسٹ طاقت بڑی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آ گئی تھی۔ اس بار بھی ہم اسی لائن پر جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح ہم کب تک قابل، اہل اور ایماندار لوگوں کو یہ کہہ کر کنارہ کرتے رہیں گے کہ آپ اس بار ووٹ نہ مانگیں! اس بار تو ہمیں فلاں فلاں طاقتوں کو روکنا ہے لہذا ایک بار اور کسی نا اہل کو جتانا ناگزیر ہے۔

کسی بھی طاقت کو روکنے کے لیے کسی نااہل کو جتانے کا سلسلہ غیر واقعی اور غیر منطقی ہے۔ یہ طرز فکر معاشرہ کے لیے طویل میعادی بنیادوں پر انتہائی نقصان دہ ہے۔ مستقبل میں کسی پیش آمدہ مصیبت کے ڈر سے قابل اور ایماندار لوگوں کی ہمت شکنی کرنا، انہیں کنارہ کرنا کسی بھی طور پر مستقبل کے لیے سودمند نہیں ہے۔ حق رائے دہی کا استعمال صرف اور صرف قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ممکن ہے وقتی طور پر اس کے نتیجے میں کسی غلط شخص کو فائدہ پہنچ جائے، مگر یہ طویل معیادی بنیادوں پر مفید اور سودمند ہے۔ جب ہم کسی نادیدہ خوف کے سائے میں اچھے لوگوں کی ہمت شکنی کریں گے اور خراب لوگوں کو اپنے اوپر مسلط کریں گے تو پھر طویل میعادی بنیادوں پر ہمیں صرف اور صرف برے دن ہی دیکھنے کو ملیں گے۔

  • 6
    Shares
  • 6
    Shares