Select your Top Menu from wp menus

آخر ساری سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے وقت ہی مسلمان کیوں یاد آتے ہیں ؟

آخر ساری سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے وقت ہی مسلمان کیوں یاد آتے ہیں ؟
انعام الحق پرسونوی

دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان جہاں کا آئین ہر مزہب کے ماننے والے کو کھل کر جینے کی آزادی دیتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر ہر مزہب کے ماننے اور ہر زبان کے بولنے والے لوگ آپسی بھائی چارے کے ساتھ اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ۔آج کل ایسے ہی خوبصورت اور عظیم ملک ہندوستان میں ECI نے لوک سبھا انتخابات کا اعلان کیا ہے جس کو پر سکون انجام تک پہنچانے کے لیےECI نے سات نشست میں الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔جس کی وجہ سے ہندوستان کے تمام چھوٹی۔بڑی،قومی اور علاقائی سیاسی جماعتیں جنتا کے دربار کے چکر لگانا شروع کر چکی ہے ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کی نظر ملک کی اقلیت اور دوسری سب سے بڑی اکثریت مسلمانوں پر ٹکی ہوئی ہے کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں ہندوستان کا مسلمان کس سیاسی جماعت کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے دوران ہی مسلمان کیوں یاد آتا ہے؟ کیا اس ملک کا مسلمان صرف اپنا قیمتی ووٹ دیکر سرکار بنانے کی مشین رہ گیا ہے؟ کیا مسلمانوں کے سماجی ، معاشی مسائل کا کوئ حل نہیں؟ کیا مسلمانوں کی تعلیم ، بیروزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کی قوت آپ سیاستدانوں میں نہیں ؟کیا ہندوستان کے تمام سیاستدان نے اپنے سیاسی مفادات کے خاطر مسلمانوں کے ترقیاتی کاموں سے منھ موڑ لیا ہے؟
اگر ایسی ہی بات ہے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو ملک کے نام نہاد علماء کرام کے سیاسی فرمان کو ٹھکرا کر ہوش کے ناخن لینا چاہیے لہٰذہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں سے ادبًا گزارش ہے کہ نام نہاد سیکولر جماعت کے دھوکہ میں نہ آئیں ، بلکہ اپنی حصہ داری کے لیئے اپنی مضبوط دعویداری پیش کریں۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share