اے صاحب ایمان ! تیری سادگی پہ رونا آیا !!!

0 112

 

احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین بصیرت آن لائن

” دودھ کا جلا چھانچ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے
” سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے ”

یہ وہ محاورے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے اپنی زندگی کے تلخ تجربات کی بنیاد پر کہے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بن کر زندگی میں قدم قدم پہ ہماری رہنمائ کرتے ہیں اگر ان کے پس منظر پہ غور و فکر کیا جائے تو بیشک ہم اس سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں
کیونکہ ہمارے بزرگوں نے اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کئے تھے بلکہ زندگی کے نشیب و فراز سے جوج کر آزمائشوں کی بھٹی میں تپ کر اپنے تجربات کا بیش قیمتی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لئے محاوروں کی شکل میں قید کیا ہے لیکن افسوس ہم نے اُن کی باتوں کو دقیانوسی سمجھ کر ہنسی مذاق میں اڑادیا یا نظر انداز کرتے رہے ………

خیر ابھی ہم اپنے مضمون کی جانب بڑھتے ہیں, مضمون کے آغاز میں ہم نے جن محاوروں کا استعمال کیا ہے دراصل ہم مسلمانوں کا حال بالکل اسی طرح ہے, خاص کر 6 سالوں سے سنگھی سرکار کی نفرت و تعصب بھری زہریلی ہواؤں نے ہمارے وجود کو اس قدر جھلسایا ہے کہ ابھی سرد ہوا کے جھونکوں سے بھی جلن کا احساس ہوتا ہے,
ایسے میں ہم اپنی طرف سے جتنی بھی احتیاط برتیں کم ہیں , باوجود ہم مسلمان جانے انجانے نادانی میں کچھ ایسی حماقت کر بیٹھتے ہیں جس کا خامیازہ بھارت کے تمام مسلمانوں کو چکانا پڑرہا ہے, جیسے مرکز نظام الدین کے چند ذمہ داروں کی جانب سے جو غیر جانبدارانہ فیصلا لیا گیا بھلے وہ مجبوری کے تحت ہی کیوں نہ ہو , تھا تو بیحد خطرناک اور ناسمجھی بھرا ……
ایسے وقت جب ساری دنیا میں کورونا نامی قاتلانہ وبا سے آہا کار مچا ہے انسانی جانیں پانی کے بلبلوں کے مانند دم توڑ رہی ہیں ,جس سے بچاؤ کے ہر نسخے ہر پینترے بیکار جارہے ہیں اور تھک ہار کر دنیا بھر کے بڑے سے بڑے سوپر پاور کہلانے والے ممالک نے کرفیو, لاک ڈاؤن جیسے سخت احکامات جاری کردئے ہیں اور بھارت میں بھی 21 دن کے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا جس کی تائید میں اسکولس,یونیورسٹیس, مدارس, دفاتر, کمپنیاں , ٹرانسپورٹیشن حتی کے تمام وسائل سب کچھ بند کئے گئے ہیں یہاں تک کہ مندر, مساجد, گرودوارہ و دیگر عبادت گاہوں پہ بھی سوشیل ڈسٹینس کے مدنظر بھیڑ اکٹھا نہ ہوپائے اس کے لئے پابندی عائد کی گئی ہے, کئی عبادت گاہوں پہ تو تالا تک لگا دیا گیا ہے, ایسے میں سالانہ جلسہ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا وہ بھی ایسے نازک حالات میں بیرونی ممالک کے مسلمانوں کو بھی شرکت کا موقعہ دینا یقین جانیں یہ ایک جاہلانہ فیصلے کے سوا کچھ نہیں . تبلیغی ذمہ داران کو چاہئیے تھا کہ وقت کی نزاکت اور ملک میں مسلمانوں کے خلاف رچی جارہی سازشوں و ہر دل میں پنپ رہی نفرت کو دیکھتے سمجھتے اس جلسہ کو کچھ وقت کے لئے ملتوی کردیتے, یا اگر مہمان قبل از وقت پہنچ چکے تھے تو جیسے ہی 22 تاریخ کے کرفیو کا اعلان کیا گیا اُس کے دوسرے دن فورا تمام مہمانوں کو اپنی اپنی منزل تک پہنچا دیتے, اگر اُس وقت بھی یہ حالات کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں لگاسکے تو کم از کم 21 دنوں کے اعلان کے فورا بعد ہوش کے ناخن استعمال کرتے ………
مانا پولس و انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹیشن سہولیات مہیا نہیں کروائی گئی جس کی وجہ سے مرکز کے ذمہ داروں کی جانب سے پولس و انتظامیہ کو بار بار درخواست بھیجی گئی, بار بار خلطوط لکھ کر حالات سے آگاہ کیا گیا, مدد کی گہار لگائی گئی, ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پولس و انتظامیہ نے جان بوجھ کر سازش کے تحت انہیں نظرانداز کیا ہوگا , ان کی کوئی مدد نہیں کی ہوگی , جس کی وجہ سے انہیں مجبورا وہاں پہ رُکنے کا فیصلہ لینا پڑا لیکن یہ فیصلہ کسی صورتحال صحیح نہیں تھا کیونکہ لاک ڈاؤن 2 ,4 دنوں کا تو تھا نہیں کہ دیکھتے دیکھتے گذر جائے گا اور حالات بہتر ہوجائیں گے بلکہ خوفناک خبریں لگاتار گردش کررہی تھیں ساتھ ہی لاک ڈاؤن کو مزید 3 ماہ کے لئے آگے بڑھانے کا اندیشہ بھی جتایا جارہا تھا. ایسے میں اتنے دنوں تک ایک جگہ رکے رہنا مانو کورونا نامی جان لیوا زہریلے سانپوں کے بیچ انسانوں کے رہنے کے برابر ہے ……
ہمیں اس معملے پہ سرکار کیا کہہ رہی ہے, گودی میڈیا کیا بھونک رہی ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ یہ دلال میڈیا کچھ دن بھونکیں گے پھر نیا ٹاپک ملے گا تو اُس کے پیچھے دوڑیےگی, لیکن پریشانی تو وہاں پہ شریک بھائیوں کی ہے اللہ نہ کریں کچھ سنجیدہ مسئلہ درپیش آجاتا تو اتنی جانوں کی ذمہ داری کون لیتے ؟؟؟ آج بیرونی ممالک سے آئے سینکڑوں بھائیوں کو جس طرح سے دربدر کیا گیا ہے, میڈیا کی جانب سے جو گھٹیا الزامات لگائے جارہے ہیں آخر اس کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟
بیشک اللہ بہت بڑے ہیں زندگی اور موت, حیات رب کائنات کے ہاتھ میں ہے لیکن احتیاط تو ہم پہ لازم ہے …… اللہ کے بھروسے آنکھوں دیکھا زہر تو ہم نہیں پی سکتے, جلتی ہوئی آگ میں تو نہیں کود سکتے نہ ہی خونخوار بھوکے شیر کے آگے کھڑے ہوسکتے ہیں, کیونکہ ہم انبیا یا اولیاء نہیں ہیں محض عام انسان ہیں ………
ایسے میں تبلغی ذمہ داروں سے اس قدر لاپرواہی کہ ہزاروں جانوں کو خطرے میں ڈال دینا معذرت کے ساتھ ہرگز صحیح نہیں تھا …………

رہی بات پولس , انتظامیہ یا سرکار کی تو آج کی تاریخ میں ان سنگھیوں سے کسی بھی قسم کی بھلائی, اچھائی و مدد کی امید کرنا ہی ہماری سب سے بڑی بیوقوفی ہے , ایسے میں مرکز کے ذمہ داروں کو چاہئیے تھا وہ میڈیا کی مدد لیتے, یقینا الیکٹرانک میڈیا بھی سنگھی رنگ میں ڈھل کر بکاؤ گودی میڈیا بن چکا ہے باوجود آج بھی کئی ایماندار و ذمہ دار صحافی موجود ہیں, سوشیل میڈیا , یوٹیوب چینلس, اردو و دیگر زبانوں کے اخبارات, پورٹلس و کئی تنظیمیں موجود ہیں جن کی مدد سے سرکار و انتظامیہ پہ دباؤ ڈالا جاسکتا تھا تاکہ وہ مدد کرنے پہ مجبور ہوجاتے یا پریس کانفرنس کرکے عوام کو حالات کی حقیقت سے آگاہ کیا جاسکتا تھا تاکہ آج گودی میڈیا اس معملے پہ مرچ مصالحہ لگاکر دنیا بھر میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے میں کامیاب نہ ہوپاتی نہ ہی مرکز کی شکل میں نکمی سرکار کو اپنی ناکامیوں کو دبانے چھپانے کا ایک اور سنہری موقعہ ملتا اور نہ ہی کورونا کو مسلمانوں سے جوڑ کر سارا الزام مسلمانوں کے سر مڑھا جاتا ……..
یہ بیحد دکھ و افسوس کی بات ہے 21 ویں صدی میں رہ کر بھی ہم میں شعور نہیں آیا نہ ہی حالات سے نپٹنے, بچاؤ کے راستے اختیار کرتے ہوئے موجودہ جدید اسباب وسائل کا صحیح طور پہ استعمال کرنے کا ہنر, طریقہ آیا ہے, بلکہ آج بھی ہم پچھڑے ہیں, حالات حاضرہ سے غافل ہیں یا سب سے بڑھ کر اپنے اسلامی بھائیوں کو لے کر ہماری تنگ نظری ہے, اپنے آگے انہیں کچھ نہ سمجھنے کی بھول,اپنوں سے مدد مانگنا یعنی اپنی ناک کو چھوٹی محسوس کرنے والی سوچ ہے جو ہمیں پریشانیوں میں مبتلا کررہی ہے ………
ورنہ ملک بھر میں اردو اخبارات, پورٹلس, یوٹیوب چینلس کی کمی نہیں ہے جس کی مدد سے وقت رہتے اس پریشانی سے باآسانی نپٹا جاسکتا تھا, لیکن افسوس آج ایک بار پھر سے کسی کی خوش فہمی, حماقت و انا نے مسلمانوں کو غیر مسلمانوں کے آگے ولن, اینٹی نیشنل بناکر پیش کردیا ہے, ایک بار پھر سے فرقہ پرست طاقتوں کو القاعدہ و طالبانی جنوں کو بوتل سے نکال کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقعہ مل گیا ہے …….

جبکہ کچھ دن پہلے تک ساری دنیا اس حقیقت کو مان چکی تھی کہ بھارت میں کورونا کو لانے کے پیچھے سنگھی بھاجپائیوں کا اہم کردار رہا ہے, انہیں کی عیاشیوں,پارٹیوں لاپرواہیوں کی وجہ سے کورونا نے بھارت میں اپنے پیر پھیلائے , ایک سنگھی گلوکارہ نے کئی بھاجپائی نیتاؤں کو کورونا انفیکٹ کیا جس میں ممبر آف پارلیمنٹ دُشئینتھ سنگھ بھی موجود تھے جس کے ذریعہ یہ مہلک بیماری دیگر کئی بھاجپائی لیڈران تک ہوتے ہوئے پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون تک پہنچی باوجود 23 تاریخ تک سنسد بغیر روک ٹوک بغیر احتیاط چلتی رہی اور 23 تاریخ کو مدھیہ پردیش میں 300 لوگوں کے درمیان شپتھ گرہن جلسہ بھی کیا گیا جس میں کئی سنگھی کووڈ ,کورونا انفیکٹید تھے , کچھ اسی طرح لاک ڈاؤن کے دوران آنند وہار میں 40 سے 50 ہزار کی بھیڑ جمع ہوگئی ……
اس کے علاوہ 16 مارچ تک مہاسدھی ونایک مندر بند نہیں کروایا گیا, اُجئین کا مہا کلیشور, 17 مارچ شرڈی کا سائی بابا مندر ,
17 مارچ شنی شنگلاپور مندر, 18 تک ویشنو دیوی, 20 تک کاشی وشوناتھ مندر بند نہیں کروائے گئے بلکہ لگاتار بھکتوں کی بھیڑ جمع ہوتی رہی …….. دوسری جانب عام عوام کی روزمرہ کی زندگی تتر بتر کرکے رکھ دی گئی, نہ ہاسپٹسلس میں میڈیکل سہولیات مہیا کروائے گئے, نہ ہی ڈاکٹرس و نرسس کو ضروری ایکویپمنٹس پہنچائے گئے, بلکہ پوری طرح سے سرکار ناکام رہی ہے …….

سرکار کے غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن سے پریشان دہلی میں لاکھوں کی تعداد میں مزدور ایک ساتھ سڑکوں پہ اُترگئے جن کو روکنے ,قابو پانے میں کیجریوال سرکار بھی ناکام ثابت ہوئی اس دوران اتنی بڑی بھیڑ کا ایک ساتھ سڑکوں پہ آنا نہ گودی میڈیا کو نظر آیا نہ سنگھیوں کو نہ ہی کیجریوال جیسے دوغلے انسان کو جو آج تبلیغیوں کو وجہ بتاکر آگ اگل رہا ہے جس نے ایک لمبے وقفے تک ماؤن ورتھ کیا ہوا تھا, کل تک جس کے قابو میں دہلی پولس نہیں تھی آج اچانک تبلیغیوں کے خلاف تمام اختیارات حاصل ہوچکے ہیں…..
اتنا ہی نہیں سرکار کی ناکامی, لاپرواہی اور کورونا کو لے کر ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ ان مواقعوں سے بھی لگایا جاسکتا ہے جب شروعاتی دور میں ٹرمپ کی آؤ بھگت میں لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کیا گیا تھا اُس وقت سنگھیوں کو کیوں ملک کے لئے خطرہ محسوس نہیں ہوا ……. ؟؟؟

خود وزیراعظم گجراتی دامودر نریندر مودی کی تالی و تھالی جیسی احمقانہ اپیل پہ ملک کے نامور شخصیات, اعلی عہدیداران و گنوار جاہل بھگتوں کے گروہ کے گروہ اپنے آقا کی خوشامد میں تالیوں و تھالیوں کے بیچ اس خطرناک وائرس کو پورے ملک میں پھیلانے کا کام کرتے رہے, لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جھنڈ کے جھنڈ ایک دوسرے پہ گر پڑ رہے تھے اُس وقت مودی, کیجریوال و انتظامیہ کو سوشیل ڈسٹینس کی پرواہ کیوں محسوس نہیں ہوئی, بلکہ اپنے بھکتوں کی بھکتی میں مدہوش بیچارے ڈاکٹرس کی جانیں جوکھم میں ڈالی جارہی تھیں ………

ذرا سوچیں جس ملک کا حکمران اتنا احمق ہو جو اس خطرناک بیماری سے نپٹنے کی تجاویز دینے کے بجائے اس سے جُڑی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے خاطر عوام کو تالی تھالی, شنکھ و موم بتی جلانے کا مشورہ دیتا ہے تو اُس کے ساتھی چیلے چپاٹے کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں یہ تو اپنے آقا سے 100 قدم آگے بڑھ گئے, جب غریب عوام کے لئے 21 دن لاک ڈاؤن کا فرمان جاری کر انہیں بےسہارا, بے یارومددگار اپنے گھرون میں قید کیا گیا اور مسافروں, راہ گزیروں کی شکل میں لاکھوں افراد کو تاریخ کے بدترین حالات سے جوجنے کے لئے بھوکے پیاسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا وہیں سنگھی بھاجپائیوں کی پوری ٹیم کھُلی سانڈ بن کر تانڈاؤ مچاتی رہی خود وائرس بن کر کورونا کو ایک دوسرے کے اندر منتقل کرتی رہی ………

قانون کے رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے , یوپی کا یوگی آدیتیاناتھ سینکڑوں ڈھونگیون کے ساتھ ایودھیا رام مندر پہنچ گیا , اتنا ہی نہیں آج بھی کئی جگہون پہ شردھا کے نام پہ لوگوں
کی بھیڑ اُمڑ رہی ہے, اندھ بھکتی کا راگ الاپ رہے ہیں, اڈپی میں لوگوں کو جمع کرکے بڑے پیمانے پہ دھارمک پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں, اسی طرح ملک کے کئی حصوں میں انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے …….

لیکن سرکار اور میڈیا کا تعصب بھرا دوغلہ نظریہ تو دیکھیں مرکز میں پھنسے معصوم تبلیغی مسلمانوں پہ چھپنے کا الزام لگایا جارہا ہے تو دوسری جانب مندروں و آشرموں میں موجود ہندوؤں کو شرنارتھی کہہ کر مخاطب کیا جارہا ہے …….
ادھر مرکز کے تبلیغی بھائیوں کو اُن کی منزل تک پہنچانے کے لئے وہاں کی انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی وہیں دہلی ہی میں 2 ٹوریسٹ بسیں بھر کر بنا کسی پرمیشن کے سینکڑون فارینرس بنداس گھوم رہے ہیں
ایک ہی ملک میں اس قدر تعصب ایسا دوغلہ رویہ جو یہاں کی جمہوری نظام پہ کئی سوال کھڑے کرتا ہے …….

جی ہاں آج جو میڈیا اور سنگھی سرکار مرکز نظام الدین میں موجود تبلیغیوں پہ نفرت کی آگ اگل رہی ہے ہر نیوس چینل پہ واویلا مچایا جارہا ہے, تبلیغی جماعت کو موردالزام ٹہرایا جارہا ہے انہیں خود کا ائنہ دکھاتے ہوئے سوال پوچھتے ہیں تو ان سبھی کو سانپ سونگھ جاتا تھا ………

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مرکز نظام الدین میں جو کچھ بھی ہوا ہے اُس میں سرکار, انتظامیہ و پولس کی منصوبہ بند سازش تھی لیکن اس بات سے بھی نظریں چرائی نہیں جاسکتی کہ سازش کو کامیاب بنانے میں کہیں نہ کہیں ہماری بھی نادانی ناسمجھی و حماقت ہے ………

جانکاری کے مطابق مرکز اور پولس تھانہ بالکل قریب ہے باوجود اتنے دنوں تک پولس کیوں خاموش رہی ؟ انتظامیہ نے وقت رہتے مرکز میں جمع لوگوں کو ڈسپیچ کیوں نہیں کیا ؟
بیرونی ممالک سے آنے والے عقیدت مندوں کو ٹوریسٹ ویزا آخر کیوں دیا گیا ؟ آئر رپورٹ پہنچنے پہ مسافروں کا اسکینگ کیوں نہیں کروایا گیا ؟ درخواست ,خطوط کے ذریعہ جب مدد مانگی گئی تو مدد کیوں نہیں کی گئی ؟؟؟ حالات کو اس قدر بےقابو ہونے ہی کیوں دیا گیا ؟؟؟
ائرپورٹ کے ذریعہ اتنے سارے مسافر مرکز پہنچتے رہے وہاں پہ اکٹھا ہوتے رہے اُس وقت انتظامیہ کو کیوں خیال نہیں آیا ؟؟؟ کیا وہ آنکھیں مونڈھے کمبھ کرن کی نیند سوئی ہوئی تھی جو اب اچانک جاگ اٹھی ہے …….. ؟؟؟
ہزاروں لوگوں کی موجودگی کی جانکاری ہونے کے باوجود لاک ڈاؤن کے فورا بعد مودی کے فرمان پہ پولس و انتظامیہ حرکت میں کیوں نہیں آئی ؟؟؟

بہرحال تعصبانہ سوچ کو ایک بہانہ ایک موقعہ چاہیئے تھا جس کے لئے ڈھیل دی گئی جو ہمارے بھولے, نادان, سادہ دل بھائی سمجھ نہیں پائے اور بغیر زیادہ محنت کے تھالی میں پروس کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کا سنہری موقعہ فرقہ پرستوں کو دے دیا گیا اور معصوم, بےقصور مسلمان ایک بار پھر سے سنگھی سازش کے شکار ہوگئے ………. ایسے میں ہم بس اتنا ہی کہیں گے
اے صاحب ایمان !
بیشک تیرا کوئی قصور نہ تھا
تجھے تو تیری سادگی نے لے ڈوبا …..
بہرکیف اُمید ہے آئندہ ایسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیگی ……

بیشک اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ایک بڑی تعداد ہم پہ گالی گلوج لعنتیں بھیجے گی لیکن یہ بھی سچ ہے جب تک ہم دشمن کی غلطیوں کے ساتھ اپنی غلطیوں کو بھی مان کر اُن سے سیکھ حاصل نہیں کرینگے اُس وقت تک ہمارے حالات نہیں بدلینگے ویسے بھی اپنی غلطیوں سے سیکھ حاصل کرنا زندہ قوموں کی نشانی ہے اور ایک مومن کو ہمیشہ آئنہ کے مانند ہونا چاہئیے جو اپنے عکس کو خوش کرنے کے خاطر جھوٹی شکل نہیں دکھاتا بلکہ ٹوڑ دئیے جانے پر بھی سچا اور حقیقی عکس ہی دکھاتا ہے ………..
قارئین آزاد ہیں جتنی چاہیں لعنتیں, بددعائیں دے سکتے ہیں کیونکہ یہ آپ کا اختیار ہے جبکہ ہمارا یقین ہے جب تک انسان کی نیت نیک, کردار مخلصانہ ہو ان شاءاللہ کوئی بددعا کوئی لعنت عرش کو چھو بھی نہیں سکتی بلکہ پلٹ کر فضاؤں میں ذائع ہوجائے گی …….
ویسے بھی قلم کا کام سچائی حقائق بیان کرنا ہے نہ کہ کسی کو خوش کرنا ……

یہاں پہ ایک اور بات واضح کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم کسی مخصوص مسلک یا فرقہ سے تعلق نہیں رکھتے نہ ہی کسی سے کوئی بیر ہے , نہ ہی اندھا عقیدہ و آندھی تقلید کرنا ہمارا شیوہ ہے بلکہ بنا تعصب بنا تفریق سچائی کو قلم بند کرنا ہی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم صرف ایک مسلمان ہیں ……

آخر میں ایک چھوٹا سا مشورہ
ہم مسلمانوں کو پہلے سے اور زیادہ چاک و چوبند ہونا ہوگا,قوم کو بہتر بنانا ہوگا, حالات سنبھلنے تک پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہونگے اور بلاتفریق بھید بھاؤ کے ایک ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکے کھڑے ہونا ہوگا , دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا, قوم کے اپنے ہاسپٹلس, ایجوکیشن سینٹرس , میڈیا ہاؤزس بنانے ہونگے, اپنے نوجوانوں کو ہر شعبے میں حصہ داری دلانی ہوگی ….. ایک جملہ میں کہیں تو ہمارے لئے دینداری کے ساتھ دنیاداری بھی سیکھنی ضروری ہے, ورنہ ہماری نادانی, سادگی و معصومیت ہمیں یونہی لے ڈوبتی رہے گی کیونکہ انسانوں کی دنیا میں فرشتے بننے کی ہماری ضد کم عقلی ہے ………. ویسے الحمدللہ اس بار شر میں بھی خیر نظر آرہی ہے
پریشانی کے ساتھ سیکھ, مسلم اتحاد کی سوندھی سی خوشبو بکھر رہی ہے,دارالعلوم سے ندوی, ندوی سے بریلوی,سنی و فلاں فلاں سارے تبلیغ کے ساتھ کھڑے ہیں اور الحمدللہ ہمیں دوبارہ اپنی صفیں درست کرنے کا موقعہ ملا ہے بس اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بیرونی ممالک سے آئے ہمارے بھائی بےسہارا, بےیارومدگار نہ ہونے پائیں, ہمیں ہر حال میں ایک دوسرے کا مظبوط سہارا بننا ہے اور ان مشکل لمحات میں متحد ہوکر اتحاد کی طاقت دکھانی ہے …………..

Leave A Reply

Your email address will not be published.