Select your Top Menu from wp menus

مرزا غالب سب پر غالب

مرزا غالب سب پر غالب

ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

مرزا غالب اردو کے ایک شاہکار شاعر مانے جاتے ہیں ان کا شمار اردو ادب کے ایسے بڑے شعراء میں ہوتا ہے جن کی شہرت و عظمت رہتی دنیا تک آفاق کی بلندیوں پر رہے گا ان کی اس شہرت کا راز صرف ان کا حسن و بیان ہی نہیں ہے بلکہ وہ زندگی میں پیش ہونے والے انسانی حقائق اور اس کی نفسیات کو بھی بہت گہرائی سے سمجھتے ہیں اور پھر اسے اپنے حسن اور بیان کے ذریعہ لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں غالب نہ کہ اردو بلکہ فارسی کے بھی شاعر تھے اور ان کو اپنی فارسی وانی پر بڑا ہی ناز تھا مرزا غالب ایک زبردست فلسفی اور اعلی پایہ درجے کے فنکار بھی تھے ان کے یہاں خیالات میں تازگی اور شگفتگی اور مضمون کا تنوع پایا جاتا ہے اور انہوں نے اپنی اسی فکر کے بدولت نرم و نازک جذبات میں ڈوب کر انسان کے غموں کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا انہوں نے زمانے کے مختلف نشیب و فراز دیکھے اور اپنی زندگی کے انہیں تجربات کو اپنے اشعار کا جامہ پہنا کر زمانے کے سامنے رکھا…….
مرزا اسد اللہ خاں غالب 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں مرزا عبد اللہ بیگ کے یہاں پیدا ہوئے 1802 میں مرزا غالب کے والد عبد اللہ بیگ خاں راج گڑھ کی جنگ میں گولی لگنے سے اللہ کو پیارے ہوگیے اور 13 سال کی عمر میں ہی نواب بخش خاں معروف کی گیارہ سالہ صاحبزادی امراؤ بیگم سے مرزا غالب کی شادی ہوگئ… 1813 مزا غالب دہلی منتقل ہوگیے اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں ہی گزرا جہاں انہوں نے اجڑتی ہوئی دلی کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دوسری طرف اپنے کلکتہ کے سفر نے انہیں سائنس کے کرشموں اور نئی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع دیا اور نئے نئے راستوں پر گامزن ہوگئے.. مرزا غالب کے کلام میں جو فکرو فلسفہ، انسانی دوستی، اخوت و محبت کے تجربات پائے جاتے ہیں وہ ان کے کچھ اشعار میں اس طرح دیکھے جا سکتے ہیں

قطرہ میں دجلہ دیکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا
*نہ ہوا*

*ہستی کہ مت فریب میں آجا یو اسد*
*عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے*

*سبزہ گل کہاں سے آئے ہیں*
*ابر کیا چیز یے ہوا کیا ہے*

*جب کہ تجھ بن نہیں کوئی* *موجود*
*پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے*

غالب نے ہمیشہ ایک الگ پہ راہ اختیار کی وہ چاہے ادب ہو یا کہ زندگی…. تو اس طرح وہ اپنی شاعری میں بھی وہ منفرد ہی رہے اور اسی منفرد انداز کی شاعری کرکے اپنی ایک الگ پہچان بنائ.. غالب نے فارسی اور دونوں میں طبع آزمائی کی اور دیگر اصناف سخن میں بھی کہیں پیچھے نظر نہیں آئے وہ چاہے قصیدہ ہو، مثنوی، نعت، تاریخ، خطوط، غزل وغیرہ…… سب میں ہی ان کا جلوہ دیکھنے کو ملتا ہے اردو شاعری ہو یا کہ اردو نثر غالب کا مقام دونوں ہی جگہ بہت بلند رہا ابتدا میں غالب کا پورا رجحان فارسی کی طرف ہی رہا اور انہیں اپنے فارسی شاعری پر بڑا ناز بھی تھا جیسے کہ اس شعر میں کہہ رہے ہیں

*فارسی دیکھو جو چاہو نقش ہائے رنگ رنگ*
*چھوڑو اردو کو کہ یہ ہے بے رنگ میرا کلام*

لیکن انہیں جو عالمی شہرت ملی وہ اپنی اردو شاعری کی بدولت ہی حاصل ہوئی غالب اپنے فارسی کلام سے اس قدر شغف رکھتے تھے اور ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ ان کو ان کے فارسی کلام کی بدولت ہی جانا جائے اور اسی سے ان کو شہرت ملے اور ان کی قابلیت کا اندازہ ان کے فارسی کلام سے کیا جائے… لیکن ایسا نہیں ہے تو ان کو اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ لوگ فارسی کلام سے اس قدر بیگانہ ہیں کہ ان کے کلام کی قدر کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے لیکن جس اردو زبان کو وی اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ اس میں اعلی شاعری تخلیق ہوسکے اسی اردو زبان نے ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا.. غالب اپنی اردو شاعری صرف اپنے احباب کی فرمائش پر ہی کہہ دیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے ابتدائی کلام پر فارسی کا غلبہ ہے…..مرزا غالب نے بیدل کی روش کو اختیار کیا یعنی جو طرز فارسی شاعری میں بیدل نے ایجاد کی اس کو اردو شاعری میں غالب نے اپنایا وہ خود ہی اپنے اس شعر میں اس بات کو اعتراف بھی کررہے ہیں….

*طرزِ بیدل میں ریختہ لکھنا*
*اسد اللہ خاں قیامت ہے*

غالب کا ابتدائی کلام پیچیدہ ہونے کی یہی وجہ رہی کہ مشکل پسندی ان کی فطرت میں شامل تھی اسی لیے ان کا ابتدائی کلام اتنی شہرت نہیں حاصل کرسکا اور اپنی اس مشکل پسندی کا ان کو خود احساس بھی تھا تب ہی تو اپنے اس شعر میں اپنی اس بات کو کچھ اس طرح کہہ رہے ہیں…

*گر خامشی ہے فائدہ اخفائی حال ہے*
*خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے*

غالب کے ارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں……..
*غالب زبان اور لہجے کے چابک دستِ فنکار ہیں اردو روز مرّہ اور محاورے کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ ان کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے*

عبد الرحمن بجنوری لکھتے ہیں….

*ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں وید مقدس اور دیوان غالب*

آل احمد سرور کہتے ہیں……

*غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی*

“شعر فہمی اور کتاب فہمی میں ایک متثنی آدمی تھے کیسا ہی مشکل مضمون ہو وہ ایک سرسری نظر میں اس کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے”.. (یادگار غالب از حالی)

“لٹریری قابلیت کے لحاظ سے مرزا جیسا جامع حیثیت آدمی خسرو اور فیض کے بعد آج تک ہندوستان کی خاک سے نہیں اٹھا.. ( یادگار غالب از حالی)

عبد الرحمن بجنوری ایک جگہ اور لکھتے ہیں……
*دونوں (غالب اور گوئٹے)اقلیم سخن کے شہنشاہ ہیں تہذیب و تمدن، تعلیم و تربیت، فطرت گوئ کوئی زندگی کا ایسا پہلو نہیں جس پر دونوں کا اثر کا اثر نہ پڑا ہو*……… *شاعری کا دونوں پر خاتمہ ہوگیا*

اور اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غالب کی حیثیت اردو شاعری میں ایک درخشاں ستارے کی سی ہے انہوں نے اردو شاعری میں اپنے ہنر کے بدولت ایک نئی ہی روح پھونک دی اور نئے نئے موضوعات بخشے کہ اردو شاعری ایک انقلاب برپا کردیا…. غالب انسانی زندگی میں پیش آنے والے مسائل اور معاملات کا گہرا شعور رکھتے تھے اور زندگی کے اہم پہلوؤں پر غور و فکر کرتے ہیں اور انسان کو اس کی عظمت کا بھرپور احساس دلاتے ہیں اور ان کو اپنے پیروں پر کھڑا رہنے کا درس دیتے ہیں کائنات کی صداقتیں جو ان کی اپنی ذات میں منکشف ہوئیں انہیں وہ بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ شعری لباس پہناتے چلے گیے غالب اپنے فکری سفر میں وحدت الوجود کے نظریہ کے قائل ہوجاتے ہیں اور بے اختیار ازلی و ابدی وجودیت کی گواہی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اس شعر میں اس کی مثال بہت اچھے سے دیکھی جاسکتی ہے….

*نہ تھا کچھ تو خدا تھا نہ ہوتا تو خدا ہوتا*
*ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا*

ایک جگہ اس تصور کی شکل اس طرح بیان کرتے نظر آتے ہیں…

*اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہیں*
*حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب کا*

مرزا غالب نے اپنی زندگی فلسفیانہ موشگافیوں میں ہی صرف کردی ایک طرف غالب کو امام و جنوں بھی کہا جاسکتا ہے تو دوسری طرف ان کی دھڑکنوں میں زلف و رخسار کی چاہتیں بھی نظر آتی ہیں وہ محبتوں کے جذبات میں سرشار رہے یہ شعر اس کی اچھی تصویر کشی کررہا ہے کہ……

*مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس*
*زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے*

اور اسی طرح اس شعر میں مرزا غالب کسی پری زاد کی یادوں میں کھوتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں اور دل میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ…

*جی ڈھونڈتا یے پھر وہی فرصت کے رات دن*
*بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے*

اور غالب کے یہ چند اشعار ان کی محبت اور چھبن ایک بالکل نئے ہی انداز میں پیش کرتے نظر آرہے ہیں،،،،،،

**پھر جگر کھودنے لگا ناخن*
*آمد فصل لالہ زاری ہے*

*ہورہا ہے جہان میں اندھیر*
*زلف کی پھر سرشتہ داری ہے*

*دل ہوائے خرام ناز سے پھر*
*محشرستان بے قراری ہے*

*پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں*
*پھر وہی زندگی ہماری ہے*

پر عمومی طور مرزا غالب کی شاعری ایک مشکل پسندی اور فکری شاعری ہی سمجھی جاتی ہے ان اشعار میں دیکھ لیججے…

*آگئی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے*
*مدعا عنقا یے اپنی عالمِ تقریر کا*

*ہوگر مئ نشاط تصور سے نغمہ سنج*
*میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں*

گلشن ناآفریدہ ،دام شنیدن، گرمئ نشاط تصور جیسے تراکیب کی بابت غالب کی شاعری کو مشکل سمجھا گیا لیکن غالب کی شاعری میں خیالات اور جذبات کے ساتھ فکر بھی رواں دواں نظر آتی ہے جیسا کی ان اشعار دے اندازہ لگایا جاسکتا ہے..

*سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں*
*خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں*

غالب کہتے ہیں کہ کیسی کیسی حسین و جمیل صورتیں بھی پابند خاک ہوگئیں ہیں جو اپنے وقت میں بے نظیر ہوا کرتی تھیں…. اسی طرح کچھ ایسے اشعار پیش خدمت ہیں جس میں فکری حقیقت نگاری ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے….

*دل میں شوق وصل دیار یار تک باقی نہیں*
*آگ ایسی اس گھر میں لگی کہ جو تھا جل گیا*

*غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج*
*شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک*

اور ایک جگہ اپنے محبوب کے ہونٹوں کی تصویر کشی کچھ اس طرح کرتے دیکھے جاسکتے ہیں..

*کتنے شیریں ہیں تیرے لب کے رقیب*
*گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہ ہوا*

غالب اپنے اس شعر میں محبوب کی گالیوں تک کو میٹھی بولیوں سے تشبیہ دے رہے ہیں اوت اب محبوب کی بے وفائی کو کیسے اس شعر میں بیان کررہے ہیں..

*یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں*
*غمزہ و عشوہ ادا کیا ہے*

مرزا غالب پر شہر آشوب زمانہ کی تلخیاں کو بہت قریب سے دیکھا جاسکتا ہے جس نے ان کی زندگی پر بہت اثرات معین کیے جو ان کی شاعری میں چیختی زندگی کی تصاویر دیکھاتی ہیں…

*نقش فریادی ہے کس شوخیء تحریر کا*
*کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا*

انسان کی نفسیات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ انسان جن حالات کا شکار ہو اس کے اثرات اس کی شخصیت میں بھی نظر آنے لگتے ہیں غالب کے ان اشعار سے کچھ ایسا ہی جھلک رہا ہے…

*کیا وہ نمرود کی خدائی تھی*
*بندگی سے میرا بھلا نہ ہوا*

*زندگی اپنی جب اس دور سے گزری غالب*
*ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے*

غالب کی اردو شاعری کا بیشتر حصہ غزلیات ہی پر مشتمل ہے یہ شاعری سرمایہ اپنی اثر پزیری، ہمہ گیری مقبولیت اور شہرت اور بلند معیار کے اعتبار سے اردو کی بڑی بڑی شعری تصانیف پر بھاری ہے….ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے غالب کی اردو شاعری کا تبصرہ ان الفاظ میں کیا ہے.. ..
،” اردو شاعری کا ایک دور وہ ہے کہ غزل کو معاملات، حسن و عشق اور مسائل و تصوف کے بیانات تک محدود سمجھا جاتا تھا….. لیکن انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں جب مرزا نوشہ اسد اللہ خاں غالب نے یہ آواز بلند کی کہ شاعری قافیہ پیمانی نہیں معنی آفرینی ہے مجذوب کی بڑ نہیں، دیدہ بینا کی کسوٹی ہے حمزہ کا قصہ نہیں قطرہ میں دجلہ کی نمائش ہے “قد گیسو کی آرائش نہیں دارورسن کی گفتگو ہے…… تو اردو شاعری عموماً اور اردو غزل خصوصاً ایک نئے جہاں معنی سے آشنا ہوئ”

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کے ابتدائی کلام پر فارسی کا ہی غلبہ تھا اسی لیے دقیق اوت مشکل ہے لیکن بعد میں انہوں نے اپنے احباب اور اہلِ قلم کے مشوروں سے اس کو آہستہ آہستہ سہل کرنے کی کوشش کی اور آسان کلام لکھنے لگے غالب کا یہی نظریہ رہا کہ وہ عام روش سے ہٹ کر اعلی تخیلات کو نظم کیا جائے غالب کی اردو شاعری میں شیرینی اور تغزل کے ساتھ ساتھ دقیق فلسفیانہ افکار کی آمیزش پائ جاتی ہے غالب کی اردو شاعری پر ڈاکٹر عبادت بریلوی ایک جگہ اس طرح تبصرہ کرتے ہیں..

*غالب بڑے ہی پہلو دار شاعر ہیں ان کی شاعری میں بڑا تنوع ہے بڑی ہی رنگارنگی ہے بڑی ہی گہرائی ہے وہ صرف جذبات ہی کو متاثر نہیں کرتے ذہن پر بھی اس کا گہرہ اثر ہوتا ہے وہ خیال انگیز اور فکر خیز بھی ہے وہ انسان زندگی اور کائنات سے تعلق رکھتی ہے……**وہ زندگی سے بیزار نہیں سے بیزار نہیں کرتی اس کو بسر کرنا سیکھاتی ہے وہ کائنات کی روگردانی کا درس نہیں دیتی کائناتی حقیقتوں کے ادراک کی طرف متوجہ کرتی ہے ماحول سے چشم پوشی اس کا مقصد نہیں وہ تو اس کے مختلف پہلوؤں کا شعور پیدا کرتی ہے اس میں بڑی زندگی ہے وہ بڑی ہی ہمہ گیر ہے اس میں بڑا ہی حسن ہے بڑی ہی دلا ویزی ہے اس لیے بڑا حسن ہے بڑی دلا ویزی یے اس لیے اس میں عظمت کا احساس ہوتا ہے اور وہاں خودغالب ک بھی عظیم بناتی ہے”

اب اس سے زیادہ حیرت کی بات کیا ہوگی ہمارے لیے کہ اردو کا سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین شاعر ہونے کے باوجود بھی اردو شاعری میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا شاعر مرزا غالب ہی ہیں جو کہ ہر طرح غالب ہی رہے اور اللہ نے انہیں اتنی عزت دی کہ وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکنوں میں بستے ہیں نہ صرف خاص بلکہ عوام میں بھی اتنے ہی مقبول ہیں…
آخر میں اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ ہم اردو والوں کو اللہ تعالٰی کا یہ بہترین تحفہ غالب کی صورت میں ملا جس کی بدولت ہی آج اردو عالمی ادب میں سینہ تانے کھڑی ہے گوئٹے، براؤننگ، شیکسپیئر وغیرہ ان سب کے مقابلے میں اسد اللہ خاں سب پر غالب ہیں……

سعدیہ سلیم شمسی آگرہ
*رسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد*

ترسیلی پتہ….. *شعبہ اردو سینٹ جانس کالج آگرہ*

  • 32
    Shares
  • 32
    Shares