ارطغرل غازی اور یوپی کا الیکشن

0
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔99864327327
میں ٹی وی سیریلس بہت کم دیکھتا ہوں،مگر پچھلے دنوں لوگوں میں ترکی سریل ارطغرل غازی کاچرچہ سنا توکچھ ایپیسود میں نے بھی دیکھ لئے،سارے کا سارے سیریل ہمت،شجاعت،حکمت اورتوکل اللہ پر مبنی کہانی پر مشتمل ہے،کیوں نہ ہو یہ سیریل اُس شخص کی تاریخ پر مشتمل ہے جس نے براعظم ایشاء اور آفریقہ کی سرحدوں تک 700 سالوں تک حکومت کرنے والے شخص کی ہو۔اطغرل غازی سیریل سے اگر کچھ پیغام ملتاہے تو وہ اپنے بازوں پر اعتمام اور خدا پر اُمید کے سہارے جینے کا پیغام ہے۔اس وقت اترپردیش سمیت ملک کے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات شروع ہوچکے ہیں۔ان انتخابات کو لیکر ہر سوں چرچہ چل رہاہے،کوئی اپنے ہی شہرمیں بیٹھ کر کسی مخصوص پارٹی کی تشہیر کررہاہے تو کوئی علماء کے ذریعے یہ کہلوارہاہے کہ مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہوجائےا ور وہ ایک پارٹی کاانتخاب کرتے ہوئے ایک پارٹی کو ہی ووٹ دیں،اسدالدین اویسی کے تعلق سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ اُنہیں مسلمانوں کا قائد بننے نہ دیاجائے بلکہ مسلمانوں کو یادو،برہمنوں،گوڈا، لنگایت ،دلت،چودھری،ٹھاکر بنیئے اور مراٹھا لوگوں کی چاپلوسی کرتے ہوئے اُن کے تلوے چاٹتے رہنے کیلئے چھوڑدیاجائے۔جتنی ذاتوں کا ہم نے ذکرکیاہے اُن تمام کا مقصدیہی ہے کہ مسلمان ووٹر تو بنیں مگر لیڈر نہ بنیں۔اب بات کرتے ہیں اطغرل غازی اور یوپی الیکشن کی۔اس وقت اترپردیش میں پیس پارٹی،ویلفیر پارٹی،ایس ڈی پی آئی،مسلم لیگ جیسی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کی تشکیل کردہ سیاسی پارٹیاں ہونے کے باوجود اُتنا ہنگامہ نہیں مچا رہی ہیں ،جتناکہ اسدالدین اویسی کی ایم آئی ایم مچارہی ہے۔جسے بھی لو وہ مجلس سے خوفزدہ ہے اور مجلس اتحاد المسلمین کو طاقتورسیاسی جماعت ماننے کیلئے مجبور ہوچکاہے،کیونکہ پچھلے دنوں اترپردیش میں اکھلیش یادو اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اپوزیشن لیڈر کاکردار اداکرے میں ناکام ہوئے تھے او ران کے ابّا ملائم سنگھ یادو وزیر اعظم نریندرمودی کو آشرواد دے رہے تھے کہ آگے بھی وہی وزیراعظم بنیں،اُس وقت اسدالدین اویسی ہی واحد شخص تھے جو مسلمانوں کی قیادت میں آواز اٹھا رہے تھے اور وہی پچھلے کئی سالوں سے مودی حکومت کی مخالفت کررہے تھے۔لیکن آج جب بات قیادت کوچننے کی آئی ہے تو خود مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ کہیں ووٹوں کا بٹوارا نہ ہوجائے،کہیں ووٹ پھوٹ نہ دیں،کہیں ووٹوں کی کم و پیشی کی وجہ سے پھر سے فرقہ پرست حکومت پر قابض نہ ہوجائے۔یقیناً فرقہ پرستوں کواقتدارپر بیٹھنے کا موقع ہی دینا نہیں چاہیے،بلکہ اُن کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کی ضرورت ہے،لیکن کیا اکھلیش یادو،نتیش کمار،رام ولاس پاسوان،دیوے گوڈا،مایاوتی،راہل گاندھی واقعی میں سیکولر ہیں،جن پر مسلمان اعتبارکررہے ہیں۔دراصل یہ تمام لوگ سیاسی طورپر سیکولرہیں،ورنہ سرمیں کمیونل اور پیانٹ میں خاکی چڈی ہی ہے۔سیکولرزم کی اصل بنیاد تو آئین میں ہے اور اصلی سیکولر تو مسلمان ہیں جو گوشت بھی کھاتے ہیں،سبزی بھی کھاتے ہیں،مسلمانوں کو سیکولرزم کاحوالہ دیکر اپنی سیاسی روٹیاں سینکھنے کی کوشش کررہے اکھلیش جیسے لوگ مظفر نگر میں محلہ وار سطح پر حملے تو کرواسکتے ہیں ،لیکن دس اعظم خان،دس اویسی جیسے قائدین کو پیدا نہیں کرسکتے۔اگر مسلمانوں کو واقعی میں اپنی سلطنتیں ارطغرل کی طرح قائم کرنی ہیں اور سلطنتِ عثمانیہ جیسی سلطنتوں کو بحال کرناہےتو اُس کیلئے اپنے قائدین پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے قائدین کو رہنماء ماننے کی ضرورت ہے،اپنوں سے منافقت کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے،منافقانہ رویش کو ختم کرنے کی ضرورت ہے،چند سکوں،چند پیسوں کی خاطر چاپلوسی کرتے ہوئے زندگی گذارانا مومن اور مسلمان کی نشانی نہیں بلکہ منافق کی نشانی ہے،جسے اللہ پر توکل ہو وہ اپنوں پراعتبار کرتاہے اور جسے غیروں پر اعتبارہے،اُسے اللہ پر توکل نہیں۔جب مسلمان یہ طئے کرلیں کہ توکل اللہ ہی مسلمانوں کی بنیادہے تو اُس کے سامنے اکھلیش یوگی کچھ نہیں۔ضروری ہے کہ آج مسلمان اپنی قیادت کو مضبوط کریں،مسلمانوں کیلئے یوگی مودی تو کچھ بھی نہیں،اہلِ اسلام نے313 رہ کر کفارکو سبق سکھایاتھا،عمل پیہم رہنے کی وجہ سے مدینہ منورہ سے لشکر نکل کر مکہ فتح کرلیاتھا۔یہاں یوپی فتح کرنےکیلئے ضروری نہیں کہ سارے ایک جگہ اکٹھا ہوجائیں بلکہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی قیادت کو مضبوط کرنے کا موقع ملے وہاں پر تیاری کرلیں اور اسدالدین اویسی جیسے رہنمائوں کےتئیں بدگمانی پھیلانےکے بجائے اُن کے تئیں اچھی فکر لوگوں میں لائیں،کیونکہ اچھی فکر سے ہی حوصلے اور فیصلے مثبت ہوتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.