صحت معاشرے کی تشکیل میں صحافت کا کردار

0

اشرف استھانوی
دنیا کا کوئی بھی نظام ہو، اس میں خرابی اور کمزوری آتی رہتی ہے۔ اس لئے ہر نظام کوبہتر، قابلِ عمل اور قابلِ رشک بنائے رکھنے کے لئے اس کی اصلاح کا نظام بھی قائم ہے۔ انسانی معاشرتی نظام جو انتہائی وسیع اور ہمہ گیر ہے اور مختلف اقسام کی خارجی اور داخلی عوامل سے اثرات قبول کرتا ہے۔ اس میں مختلف قسم کی خرابیاں اور گمراہیاں آتی رہتی ہیں۔ ان کی اصلاح مذہبی، اخلاقی اور قانونی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہ کام مذہبی اور اخلاقی اقدار کے حامل معاشرے کے منجھے اور سدھرے ہوئے افراد مثلاً علماء، سماجی مصلح اور صحافی اپنے اپنے دائرے میں اپنے اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔ اسی طرح جسمانی نظام بھی جو انتہائی پیچیدہ نظام ہے، اس میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دُور کرنے کے لئے صحت خدمات کا ایک نظام ہے جس میں ماہر طبیب، وید اور ڈاکٹر ان خرابیوں کو دُور کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح نظامِ حکومت بھی ایک بڑا اور ہمہ گیر نظام ہے۔ نظامِ حکومت میں سب سے پسندیدہ اور دنیا کے بیشتر ممالک میں قائم جمہوری نظام ہے۔ اس نظام کے چار بنیادی ستون ہیں۔ قصنفہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا۔ یعنی صحافت جمہوری نظام ان چاروں پر ٹکا ہوا ہے۔ یہ چاروں اگر اپنے اپنے دائرے میں رہ کر صحیح طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں تبھی جمہوری نظام قاعدے سے کام کرتا ہے اور جمہوریت کے فوائد سے جمہوری نظام کا حصہ بننے والے تمام افراد یکساں طور پر بہرہ ور ہوتے ہیں۔
کہنے کو تو چاروں جمہوری ادارے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بھی بے لگام، بیمار یا کمزور ہونے سے پورا جمہوری نظام بے لگام اور بیمار و کمزور ہوجاتا ہے۔ بظاہر انتظامیہ اور قانون سازیہ میں بہت بااختیار افراد آتے ہیں۔ ایک کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے تو دوسرے کے پاس اس کے نفاذ کی طاقت ہے۔ یہ دونوں اپنی حد سے تجاوزنہ کریں اس کے لئے عدلیہ ہے۔ عدلیہ ان سب کو لگام دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ لیکن اول الذکر تینوں اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے، ناہمواریوں کی نشاندہی کرنے اور اصلاح کے سلسلے میں مفید اور تعمیری مشورے دے کر پورے جمہوری نظام کو بہتر اور قابلِ رشک بنانے کی عظیم ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جمہوریت کے چوتھے ستون یعنی میڈیا کی ذمہ داری بہت اہم ہوجاتی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جس کا قد اور مرتبہ بڑا ہوتا ہے، اس کی ذمہ داریاں بھی بڑی ہوتی ہیں اور اس سے توقعات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
ع     جن کے رُتبے ہیں سوا، اُن کے سوا مشکل ہیں
ڈاکٹر یا صحت کا نظام اگر خود بیمار ہوجائے تو اس سے جسمانی اصلاح اور بہتر علاج کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح اگر عدالتی نظام کرپٹ ہوجائے یا جانبدار ہوجائے تو اس سے انصاف کی اُمید نہیں کی جاسکتی اور میڈیا اگر خود معاشرتی یا جمہوری نظام کی خرابیوں کا شکار ہوجائے اور اصلاح نظام کا اپنا منصبی فریضہ بھول کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی حکمت عملی اپنالے اور اپنے ذاتی مفادات کو جمہوریت کے استحکام پر ترجیح دینے لگے تو پھر جمہوریت کا اللہ ہی حافظ ہے۔
تمام جمہوری ادارے چونکہ انسانی معاشرے کا حصہ ہیں، اس لئے ساری معاشرتی بُرائیاں ان اداروں اور ان سے وابستہ افراد میں بھی درآئی ہیں۔ اگر ان کی تفصیل بیان کی جائے تو ہر ایک کے لئے ایک دفتر درکار ہوگا۔ لیکن اس کانہ تو ابھی موقع ہے اور نہ ہی ہمارا مقصود۔ اس وقت تو ہمیں خود کو صرف میڈیا یعنی صحافت اور اس کے کردار تک ہی محدود رکھنا ہے۔ اس لئے ہم صحافت کے دائرے سے آگے نہیں جائیں گے۔
تو جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، میڈیا یعنی صحافت کی ذمہ داری۔ کسی بھی نظام میں پائی جانے والی ناہمواریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی اصلاح کے سلسلے میں مفید اور قابلِ عمل مشورے دینا ہے۔ یہ کام ذمہ داری کا ہے۔ اس کے لئے خود میڈیا اہلکاروں کا جانکار ہونے کے علاوہ مخلص، ایماندار اور غیرجانبدار ہونا ضروری ہے۔ اگر میڈیا ایماندار اور غیرجانبدار نہیں ہوگا تو وہ اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دے پائے گا اور نتیجے کے طور پر اپنا اعتبار اور وقار دونوں کھودے گا۔ میڈیا اہلکاروں خو انتظامیہ کی طرح نہ تو ڈنڈے کے زور پر قانون کو نافذ کرنے کے لئے سڑکوں پر اُترنا ہے اور نہ ہی عدلیہ کی طرح ٹرائل کرنا اور فیصلے سنانا ہے۔ اسے صحافت کا یہ بنیادی اصول یاد رکھنا چاہئے کہ وہ کبھی بھی فریق نہیں بن سکتا، اس کا غیرجانبدار ہونا ضروری ہے۔
لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کل میڈیا عام طو رپر سب سے پہلے فریق بن جاتا ہے۔ اور جیسے یہ فریق بنتا ہے اس کی غیرجانبداری ختم ہوجاتی ہے۔ غیرجانبداری ختم ہوتے ہی اس کی معتبریت مشکوک ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا اصلی کام بھول کر میڈیا ٹرائل شروع کردیتا ہے۔ اور ایک عدالت کی طرح خود ہی چار چیز فراہم کرتا ہے۔ خود ہی گواہ بنتا ہے، خود ہی وکیل اور خود ہی منصف بن کر فیصلے بھی سنا دیتا ہے۔ یہ صورت حال جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ دہشت گردی کے معاملے میں میڈیا یہ بنیادی اصول بھی بھول جاتا ہے کہ جب تک عدالت میں الزام ثابت نہ ہوجائے، کوئی ملزم یا مجرم نہیں ہوتا ہے۔ میڈیا چونکہ عدالت کے رول میں آجاتا ہے، اس لئے وہ ملزم کو دہشت گرد بھی قرار دے دیتا ہے اور سزا بھی طے کردیتا ہے جس کا کرب ملزم اور اس کے اہلِ خاندان برسوں جھیلتے رہتے ہیں۔ اور برسوں بعد جب اصلی عدالت ملزم کوبے قصور قرار دیتی ہے تو میڈیا اپنی غلطی پر اظہارِ ندامت تک نہیں کرتا ہے۔
حال کے برسوں میں میڈیا میں ایک نیا ٹرینڈ یہ دکھائی دے رہا ہے کہ وہ حکومت کے کاموں کا تجزیہ خوبیوں اور خرابیوں کی بنیاد پر نہ کرکے اپنے ذاتی مفادات کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس لئے خوبیوں کی تعریف اور خرابیوں کی نشاندہی کے بجائے حکومت کی ایک طرفہ حمایت اور وکالت شروع کردیتا ہے اور یہ کام بھی وہ اتنے گھٹیا طریقے سے کرتا ہے کہ وہ حمایت کم اور دلالی زیادہ نظر آتی ہے۔ میڈیا یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا کام نہ حکمراں جماعت کی بے جا حمایت کرنا ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی طرح ہر کام میں کیڑے نکالنا ہے۔ ایسا کرکے وہ اپنا اعتبار اور وقار کھو رہا ہے۔ بات دہشت گردی کی ہو، نوٹ بندی کی ہو یا نیٹ بندی کی، تین طلاق کے خاتمہ کی ہو یا اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی، کسی معاملے میں وہ غیرجانبدار نظر نہیں آتا ہے۔ اور صرف اسی کو حق بتاتا ہے جس کو ایک خاص پارٹی یا حکومت وقت صحیح بتارہی ہوتی ہے۔ وہ زبان بھی حکمراں جماعت کے اعلیٰ رہنماؤں کی ہی استعمال کرتا ہے۔ کئی نجی چینلوں کے اینکرس کا مخالف نظریہ پیش کرنے والوں کے خلاف ایسا رویہ ہوتا ہے جیسے انہیں موقع ملے تو سامنے والے کا گلا ہی دبا دیں گے۔ چہرے کے تاثرات، گرجتی ہوئی آواز، آگ اُگلتی ہوئی آنکھیں اور منہ سے نکلتے ہوئے جھاگ یہ بتا دیتے ہیں کہ وہ مصلح نہیں بلکہ مفسد ہیں۔ انہوں نے اصلاحِ معاشرہ یا اصلاحِ نظام کی تمام ذمہ داری چھوڑ کر دہشت گردی کی راہ پکڑی ہے۔ وہ سامنے والے پر دہشت قائم کرکے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں یا اس سے وہ کہلوانا چاہتے ہیں جو ان کا اپنا نظریہ ہے۔ ماضی میں اس طرح کی مثال تو نہیں ملتی ہے البتہ حکومت نوازی کی مثال ضرور ملتی ہے مگر وہ بھی سرکاری میڈیا تک محدود تھی اور اس کی شکل و صورت اتنی خوفناک نہیں تھی۔ لیکن آج تو کچھ گنے چنے میڈیا ہاؤس کو چھوڑ کر سب کے سب زعفرانی رنگ میں رنگے نظر آرہے ہیں۔ سیاسی موضوعات کے علاوہ سماجی موضوعات پر بھی ان کی سونچ جانبداری کا پتہ دیتی ہے۔ سب سے بڑی خرابی موجودہ دَور میں علم کی کمی اور کسی بھی موضوع سے عدم واقفیت ہے۔ کسی بھی موضوع پر ضروری معلومات اکٹھا کرنے، معاملے کی تہہ تک جانے اور اس کے منفی و مثبت دونوں پہلوؤں کو جانے اور سمجھے بغیر کسی بھی موضوع پر برجستہ شروع ہوجانا اور ایک مخصوص نظریہ کو دوسروں پر تھوپنا میڈیا کا طریقۂ کار بن گیا ہے جس سے نہ صرف میڈیا کی معتبریت ختم ہورہی ہے بلکہ معاشرے میں اصلاح کے بجائے انتشار بلکہ فساد پیدا ہورہا ہے جس سے ایک صحت مند اور آپسی اتحاد و بھائی چارہ پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں خلل پیدا ہورہاہے۔ صحت مند معاشرے کی تشکیل کا کام صرف میڈیا ہی کرسکتا ہے مگر اس کے لئے اسے پہلے کی طرح جانکار، ذمہ دار اور غیرجانبدار بننا پڑے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.