Select your Top Menu from wp menus

مدارس اسلامیہ میں چاپلوسی ایک حیرت; انگیز حقیقت

مدارس اسلامیہ میں چاپلوسی ایک حیرت; انگیز حقیقت

   مدارس کا نام  سنتےہی پوری دنیاکے لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ دین اسلام کے محفوظ قلعے ہیں اسی کی وجہ سے آج اسلام زندہ ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آج اسلام عرب کی تپتی ہوئی ریگستانوں سے نکل کر، افریقہ کے جنگلوں کو عبور کرتے ہوئے مغرب میں امریکہ کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ ساتھ مشرق میں دھلی کے لال قلعہ تک اگر اسلام باقی ہے، آذان کی آوازیں سنائی دیتی ہے، ٹوپی و کرتا داڑھی والےمرداور مھذب باپردہ خواتین دیکھائی دیتی ہیں تو اس کا سہرہ صرف اور صرف مدارس اسلامیہ کو جاتا ہے اس لئے میں سلام کرتا ہوں  ایسے لوگوں کو جو مدارس کی خاطر اپنے تن، من اور دھن کی قربانی پیش کرتے ہیں، اور میں سلام کرتا ہوں ایسے صدر و سکریٹری اور اساتذہ مدارس کو بھی جن کی نیت میں کھوٹ نہیں ہوتی بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف کتاب و سنت کی نشر و اشاعت کرنا ہوتا ہے تاکہ یہاں کے فارغ ہونے والے بچے اپنے اپنے ٹولہ اور محلہ میں جاکر لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف بلائے ان کے دلوں میں کتاب و سنت کی روح پھونک دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ” علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء الراشدین “سے وابستہ ہوسکے ۔
مدارس کے متعلق اکثر مسلمان کی سوچ کافی اچھی ہوتی ہے کہ یہاں کی چہاردیواری میں زندگی گزارنے والے اساتذہ و طلبہ نیک ہواکرتے ہیں ان کے دل بغض و حسد، چنغل خوری، عیاری، مکاری، فریبکاری، چالبازی، چاپلوسی اور چمچہ گیری سے مبرہ و منزہ ہوا کرتے ہیں ۔لیکن مدارس میں زندگی گزارے ہوئے اساتذہ و طلبہ سے حقیقت حال جاننے کی کوشش کریں تو کواکب کچھ الگ ہی نظر آتے ہیں ۔میں اس بات کا منکر نہیں کہ مدارس کے بہت سارے اساتذہ و طلبہ کافی نیک ہوا کرتے ہیں ۔پڑھنے پڑھانے کے علاوہ انہیں دوسری چیز نظر نہیں آتی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس میں کچھ ایسے شیطان بشکل انسان وہ بھی اساتذہ کی فہرست میں داخل ہو چکے ہیں جن کی زندگی کا واحد مقصد چاپلوسی اور چمچہ گیری ہے ۔عیاری مکاری ۔دھوکہ بازی، چنغل خوری اور بغض و حسد جیسے جتنے سارے بدنام الفاظ لغت میں موجود ہے اس کو ان چاپلوسوں پر چسپاں کیا جا سکتا ہے ۔۔ چاپلوسی اور چمچہ گیری جو بے غیرتی اور ذلت و رسوائی کا دوسرا نام ہے اس فن کے وہ لوگ جادوگر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی زبان بہت میٹھی ہوتی ہے جس کو مدارس طلبہ کی اصطلاح میں sweet poison (میٹی زہر)  کہتے ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ڈھیر سارے طلبہ کی زندگی اور اساتذہ کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔یہ لوگ ذمہ داران مدارس کی جوتیاں سیدھی کرکے ان کی نظر میں محبوب بن جاتے ہیں اور مفت کا مشورہ دینے لگتے ہیں کہ فلاں طالب نماز میں لیٹ سے جاتاہے، فلاں طالب کلاس میں تاخیر سے پہچتا ہے اس لئے اس کا وظیفہ یا داخلہ ختم کر دیا جائے فلاں استاذ ٹوپی نہیں پہنتے، مغرب بعد مدرسہ سے باہر نکل جاتے ہیں اس لئے اس کی تنخواہ کو روک لیا جا ئے۔اس کی وجہ سے ایک طرف ڈھیر سارے باغیرت اور باصلاحیت اساتذہ اس طرح کے مدارس کو چھوڑ کرکہی اور چلے جاتے ہیں یا پھرکنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں وہی دوسری طرف طلبہ کے اندر جو پڑھنے پڑھانے کا ماحول ہوتا ہے اس کی روح کو تکلیف پہنچتی ہے جس کی وجہ سے ڈھیر سارے طلبہ مدارس کو چھوڑ کر اسکول و کالج کی طرف رخ کر لیتے ہیں یا پھر پڑھائی سے ہمیشہ کے لئے ناطہ ہی توڑ لیتے ہیں اور غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں ،قارئین کے دماغ میں کچھ سوال کانٹےکی طرح چبھ رہے ہونگے کہ آخر طلبہ و اساتذہ کی زندگی سے کھلواڑ کرکے چمچوں کو کیا ملتا ہے؟ آخر یہ لوگ چمچہ گیری کیوں کرتے ہیں؟ کیا مدارس و جامعات کے ذمہ دار چاپلوسوں کے ناپاک حرکت کے مہلک اثرات کو نہیں سمجھتے؟
ذھن و دماغ پر زور ڈال کر مذکورہ بالا سوالوں کے جواب ڈھونڈے تو معلوم ہوتا ہے کہ چمچہ گیری کی دنیا میں یہ جائز ہے کہ کسی کی زندگی کو برباد کر دیا جائے تاکہ ان کی جگہ پر آسکے چنانچہ اس معمولی عہدے کو پاکر ان چمچموں کے اندر فرعون، نمرود اور قارون جیسا غرور و تکبر آجاتا ہے اور اپنی علمی گراوٹ کو چھپانے کے لئے ایک طرف باصلاحیت اساتذہ کے ناک میں دم کرنا شروع کر دیتے ہیں وہی دوسری طرف  نئے نئے رنگ برنگے اور چمکیلے قوانین لاکر مدارس کے غریب و لاچار چپراسی، باورچی اور طلبہ پر دھونس جماتے ہیں اور یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہے کہ اس جامعہ کا ایک پتہ بھی میرے حکم کے خلاف نہیں ہل سکتا ۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ چمچوں کے دو روپ ہوتے ہیں ایک ذمہ داران مدارس کے سامنے اپنے آپ کو فرشتے کی شکل و صورت میں بھینگی بلی کی طرح پیش کر دیتے ہیں اور  انکا لکھنا، پڑھنا، بولنا،اٹھنا، بیٹھنا، سونا اور ہنسنا انکے زمینی آقا کی تعریف سے شروع ہوکر وہی پر ختم ہو جاتا ہے یہ کتے کی دم کی مانند لوگ اپنی چمچہ گیری کی عادت سے اس طرح مجبور ہوتے ہیں کہ سب سے مقدس جگہ جہاں کتاب و سنت کی بات ہونی چاہئے جہاں پروحدت کے متعلق تقریر ہونی چاہئے وہاں پر بھی ان چمچوں کو شرم نہیں آتی اور ذمہ داران مدارس کی مدح سرائی میں لمبے لمبے نمک مرچ لگے ہوئے قصیدے پڑھنے لگتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے انہیں کچھ عہدے مل جاتے ہیں اور یہی سے انکا دوسرا روپ شروع ہوتا ہے اپنے آپ کو بادشاہ جامعہ تصور کرتا ہے اور جامعہ کی چہاردیواری میں زندگی گزار رہے طلبہ کو اپنی رعیت خصوصاسند والی جماعت کے طلبہ کی سند کو خراب کرنے میں انہیں بہت مزہ آتا ہے دس سال بارہ سال سے جن طلبہ کے اخلاق قابل تعریف تھے پل بھر میں نئے قوانین لاکر ان طلبہ کو بد اخلاق ثابت کردینا اس طرح کے نطفہ ناتحقیق چمچوں کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ۔ اس لئے مدارس و جامعات کے ذمہ دار کو ایسے چمچوں سے ہوشیار رہنا چاہئے تاکہ مدارس و جامعات کی روح کو تکلیف نہ ہو۔ علمی جگہ پر چمچہ گیری اپنی پکڑ مضبوط نہ کر لے کیونکہ چمچموں کا نہ ایمان ہوتا ہے نہ دین یہ اس سانپ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنے دودھ پلانے والے مالک کو بھی موقع ملنے پر ڈس لیتے ہیں ۔
تحریر۔۔ ذیشان الہی منیر تیمی
ڈھاکہ ۔مشرقی چمپارن ،بہار

  • 43
    Shares
  • 43
    Shares
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com