Select your Top Menu from wp menus

چین کے ویٹو کے ذمہ دار پنڈت جواہر لال نہرو؟

چین کے ویٹو کے ذمہ دار پنڈت جواہر لال نہرو؟

باخبر کے قلم سے
رشید انصاری
مودی حکومت کے چند اہم اور سینئر وزراء مثلاً جیٹلی اور روی شنکر پرساد وغیرہ کی یہ بات سن کر حیرت زدہ تو سبھی رہ گئے ہوں گے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین نے ویٹو کا استعمال کرکے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دئے جانے سے بچالیا۔ چین کے اس ویٹو پر چین یا پاکستان کو (جس کی دوستی میں چین نے ویٹو استعمال کیا) جو چاہے کہا جاسکتا ہے لیکن 1964ء میں وفات پانے والے پنڈت جواہر لال نہرو کو 2019 میں ہندوستان کے خلاف استعمال ہونے والے چین کے ویٹو کا ذمہ دار ٹھہرانا دانشمندی اور دانشوری کو بالائے طاق رکھ دینے کے مماثل ہے۔ اس کی تفصیلات بیان کرنے سے قبل ضروری ہے کہ اس واقعہ کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی جائے۔
14فروری کو ہندوستان فوج پر کشمیری عسکریت پسندوں یا مبینہ دہشت گردوں کے حملہ میں 40 سے زیادہ ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت بلاشبہ افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ اس کے نتیجہ میں بالاکوٹ پر ہندوستان کی زبردست بمباری (اس کے نتائج کے بارے میں ہماری اور بیرونی ملکوں کی آراء مختلف ہیں) جیسے ہی جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہندوستان نے سیاسی اور سفارتی اقدامات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی درخواست پیش کردی۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے بے تاب مغربی ممالک اور مسلمانوں سے پرخاش رکھنے والے صدر امریکہ ٹرمپ نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے لئے سلامتی کونسل میں قرار داد پیش کردی اگر چین پاکستان سے اپنے قریبی تعلقات نبھاتے ہوئے اس قرار داد کو ویٹو کردیتا تو مسعود اظہر عالمی دہشت گرد قرار دئے جاتے۔ یاد رہے کہ مولانا مسعود اظہر کو بچانے کے لئے چین نے چوتھی بار ویٹو کا استعمال کیا۔ مولانا مسعود اظہر تو بچ گئے اس کے اسباب پر غور کرنے کی جگہ بھاجپا قائدین اور ان کے غلام میڈیا نے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کرنے میں شائستگی کی تمام حدوں کو پا رکرلیا اور چین کے خلاف زبردست تبرہ بازی شروع ہوگئی۔ حالانکہ اس بات کا علم سب کو تھا کہ پاکستان سے چین کے تعلقات دیرینہ اور انتہائی قریبی رہے ہیں جبکہ چین کے ہندوستان سے تعلق تجارت کی حد تک ہی ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں قریبی اور خوشگوار تعلقات بہت کم رہے ہیں ۔اگر مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے بھی دیا جاتا تو اس سے ہمارے ملک کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ دعوت ابرہیم اور حافظ سعید کو بھی عالمی دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے لیکن اس سے ہم کو کیا فائدہ ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ مودی حکومت اور بھاجپا کی ساری تگ ودو 2019 کے انتخابات میں کامیابی کے لئے ہے۔ اس کے لئے عوامی مسائل، اپنی نااہلی اور وعدہ خلافیوں ، عوامی توجہ ہٹانے کے لئے یہ سارا بکھیڑا پھیلا جارہا ہے۔ اسی نظریہ کے پیش نظر پھلوامہ ہو یا بالاکوٹ ان سب واقعات پر شکوک و شبہات کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ بعد تو جب تھی کہ چین سے یہ تیقن لے کر کہ وہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دئے جانے میں ہندوستان کی مدد کرے گا۔ اگر سلامتی کونسل جایا جاتا تو کچھ بات بھی تھی۔
رہی یہ بات کہ چین کے اس ویٹو کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو پر ہے انتہائی احمقانہ، بے جواز اور تاریخ سے انحراف پر مبنی ہے۔ پنڈت نہرو پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی امریکی پیشکش کو ٹھکراکر چین کو مستقل رکن بنادیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا قیام اورچین کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کا واقعہ 1945 کا ہے جبکہ ہندوستان 1947 میں آزاد ہوا تھا ۔ اب یہ تو روی شنکر پرساد ہی بتاسکتے ہیں کہ برطانیہ کی نو آبادی ہندوستان کو آزادی سے دو سال قبل کس طرح سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنایاجاسکتا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ غالباً1955 میں امریکہ نے ہندوستان کو مستقل رکن بنانے کی پیشکش کی تھی اس بارے میں جیٹلی نے ایک خط بھی پیش کیا ہے لیکن خط کے بارے میں کوئی تفصیل انہوں نے نہیں بتائی۔ صرف اتنا بتایا کہ نہرو کے نام اس خط میں ہندوستان کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی پیشکش کی گئی جو نہرو نے ٹھکرادی ورنہ آج ہندوستان سلامتی کونسل کا رکن ہوتا اور چین کے ویٹو سے محفوظ رہتا۔ اس سلسلہ میں صرف اتنی بات قابل ذکر ہے کہ چین کی مستقل رکنیت 1945 میں اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہے اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں کسی تبدیلی کے لئے یہ لازم ہوتا کہ اقوام متحدہ کا منشور بنانے والی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس ہوتا (جو ناممکن تھا) لیکن اتنی اہم قانونی نکتہ کو بھول کر ممتاز قانون داں جیٹلی نے محض نہرواور ان کے خاندان کو بدنام کرنے کے لئے اور راہول گاندھی اور کانگریس کے خلاف عوامی جذبات بھڑ کاکر ان کو انتخابات میں عوامی ووٹس سے محروم کرنے کے لئے یہ احمقانہ مساعی کی گئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کامیابی کیلئے بھاجپا انتخابی اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر کس حدتک پستیوں میں گرسکتی ہے۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share