Select your Top Menu from wp menus

نیوزی لینڈ مسجد سانحہ کے بعد مسلمانوں کو عالمی برادری اور ہندوؤں سے تین شکایتیں ہیں

نیوزی لینڈ مسجد سانحہ کے بعد مسلمانوں کو عالمی برادری اور ہندوؤں سے تین شکایتیں ہیں

ڈاکٹر خالد مبشر

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ءاردو

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

نیوزی لینڈ مسجد سانحہ کے بعد مسلمانوں کو عالمی برادری اور ہندوؤں سے تین شکایتیں ہیں: (1) ہندو خوشی منارہے ہیں اور مقتول مسلمانوں پر لطیفے بنارہے ہیں. (2) عالمی میڈیا میں قاتل کو دہشت گرد کے بجائے گن مین کہا جارہا ہے. (3)کہیں سے کینڈل مارچ کی خبر نہیں آرہی ہے. پہلی بات تو یہ ہے کہ خوشی منانے والے ہندو نہیں بلکہ سنگھی ہیں.بہت سے ہندوؤں نے اس حادثے اور حادثے پر خوشی منانے والوں کی سخت مذمت کی ہے. دوسری بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی اصطلاح عالمی سیاسی پالیسی سازوں نے صرف اسلام اورمسلمانوں کے لیے وضع کی ہے.اگر آپ کواعتراض ہے تو آپ خود پالیسی ساز بنیے. تیسری بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ جیسے سانحے کی اصل محرک 9/11 کے بعد عالمی سطح پر اسلام بیزاری اور تنفر ہے. چوتھی بات یہ ہے کہ آپ بھیڑیوں اور درندوں سے انسانیت کی توقع ہی کیوں کرتے ہیں؟ اور یہ آپ کے اندر دنیا سے ہمدردی حاصل کرنے اور کینڈل جلواکر اپنے غم خوار بنانے کی کمزور اور منفعلانہ نفسیات کہاں سے پنپنے لگی ہے؟ مسائل کی اصل جڑ اسلاموفوبیا ہے.اس کے سدباب کی فکر کیجئے.دنیا کے سامنے اپنےکردار وعمل سے اسلام کی اصل تصویر پیش کیجئے. بھئی مسلمان کب تک سنگھیوں اور صہیونیوں کو لعن طعن کرتے رہیں گے؟ صیہونی ڈیڑھ ہزار برس سے اور سنگھی پچانوے برس سے مسلسل، مستقل صبر، نظم و ضبط، محنت و مشقت، منصوبہ بندی، حکمت و تدبراور عقل و دانش کے ساتھ کے ساتھ اپنی قوم کو مقتدر بنانے اور غلبہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں. اور آپ؟ آپ کیا کررہے ہیں؟ دشمنوں پر الزام تراشی، غیروں سے شکوہ و شکایت،گالی، شور، نعرے بازی،احتجاج، تقریر، مسلکی منافرت،جلسہ، قوالی اور مشاعرہ وغیرہ….

  • 1
    Share
  • 1
    Share