Select your Top Menu from wp menus

روی روی شنکرکی ثالثی انکے ماضی کے کردار کی روشنی میں  

روی روی شنکرکی ثالثی انکے ماضی کے کردار کی روشنی میں  
محمد عظیم فیض آبادی
دارالعلوم النصرہ دیوبند
 اس میں کوئی شک نہیں کہ دلائل وبراہین اور مضبوط موقف کے ساتھ بابری مسجد کا مقدمہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت  اور ہندوستان کی تاریخ کا یہ سب سے حساس مسئلہ ہے خاص طور پر ہائی کورٹ کےماضی کے فیصلے کے بعد اس کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے
  عدالت عالیہ نے اس کی حساسیت کا خیال کرتے ہوئے ملکی امن وآمان ،سلامتی اور باہمی ورواداری کی فضاء کو خوشگوار بنانے کے لئے مصالحت کا جو فیصلہ کیاہے یہ دانشمندآنہ ضرور ہے کہ آپسی بات چیت وگفت وشنید سے اگر مسئلہ حل ہو جائے تو یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے لیکن یہ کتنا کارگر اور کتنا کامیاب ہوتاہے یہ تو وقت بتائے گا البتہ مصالحتی کمیٹی میں جو روی روی شنکر کا نام شامل ہے یہ بالکل غیر موضوع اور قابل تشکیک ہے کیونکہ کہ کسی بھی معاملے میں ثالت وہ شخص موضوع ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے جو بالکل غیر جانب دار ہو اس کے کسی بھی فعل وعمل سے کسی ایک جانب میلان معلوم نہ ہو روی روی شنکر کی ماضی کی ساری سرگرمیاں جانب دارآنہ رہی ہے ان کی میزان کا پلڑا ہمیشہ دوسری جانب جھکا رہا ان کی تمام سعی نامشکور رام مندر کی تعمیر کے لئے رہی اور ان کی تمام تگ ودو مصالحت کے لئے نہیں  بلکہ مسلمانوں کو مسجد اور اس کی اراضی سے دست بردار ہونے، رام مندر کی تعمیر میں آڑے نہ آنے کےلئے رہی وہ ہمیشہ رام مندر کی وکالت کرتے رہے اس لئے ان کا کردار اس تعلق سے منصفانہ اور غیر جانب دارآنہ ہر گز نہیں ہوسکتا
    روی روی شنکر ماضی میں دھمکی بھرے انداز میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مسلمان مسجد کی تعمیر سے دست بردار ہوجائیں ورنہ یہ ملک سیریا بن جائے گا
    غور فرمائے کہ کیا ایسا شخص انصاف کے پیمانے پر کھرا اتر سکتاہے ؟
      ہر گز نہیں بلکہ روی روی شنکر کو از خود اس معاملے سے علاحدگی اختیار کرلینی چاہئے تاکہ مصا لحت کا یہ عمل کسی طرح پرگندہ نہ ہوجائے  اور پور طور پر صاف صفّاف رہے اور آئندہ کوئی اور الجھن نہ پیداہوجائے
اور اسی کے ساتھ ساتھ مولانا سلمان ندوی صاحب کو بھی اس پورے قضیے سے الگ رکھنا چاہئے کیوں کہ روی روی شنکر کے ساتھ ماضی کی ان سعی بھی نامشکور ہی رہی مسجد کے حوالے سے ان کے خیالات بالکل جمہور سے ہٹ کر ہے روی روی شنکر کے ساتھ اسی نظریئے کی بنیاد پر بابری مسجد کے دعوے سے دستبردار ہونے کے قائل ہیں جبکہ وقف بورڈ ، مسلم پرسنل لاء ، جمیعةعلماء ہند ،بابر مسجد ایکشن کمیٹی اور دارالعلوم دیوبند اور امت مسلمہ ہند مسجد سے دستبرداری کو کبھی بھی کسی بھی حال میں نہ دستبردار ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ہونا چائے
 اس لئے مولانا سلمان ندوی کو بھی اس پورے معاملے میں کسی بھی طرھ خاطر میں نہیں لانا چاہئے
       9358163428
  • 1
    Share
  • 1
    Share