Select your Top Menu from wp menus

مسٹر پرائم منسٹر ! آپ نیوزی لینڈ سے ہارگئے۔۔

مسٹر پرائم منسٹر ! آپ نیوزی لینڈ سے ہارگئے۔۔

ایم ودود ساجد
Sunday special-3

ہر موقع پر لکھنے والے ہاتھ جب کسی موقع پر لکھتے ہوئے لرزنے لگیں تو سمجھ لیجئے کہ یہ موقع کتنا بھیانک ہے۔۔۔ فرمانِ خداوندی اور ارشاداتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قیامت کا جو تصور کیا جاسکتا ہے اُس کی ایک ہلکی سی جھلک دو دن پہلے 15 مارچ 2019 کو عین نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں رونما ہوئی۔۔۔

دربارِ خداوندی میں سجدہ ریز توحید کے پروانوں پر بظاہر یہ قیامتِ صغریٰ ایک سفید فام شیطان نے برپا کی۔۔ لیکن دراصل اِس شیطان کی تخلیق امریکہ’اسرائیل’ بوسنیا اور یوگو سلاویہ کے اسلام دشمنوں اور آسٹریلیا’ بلغاریہ اور ہندوستان کے مسلم دشمنوں کے نظریاتی نطفہ سے ہوئی ہوگی۔۔۔

مجھے اِس قوی اندیشہ کی دلیل پیش کرنے کے لئے کسی ریاضت کی ضرورت نہیں ۔۔۔ 28 سالہ دہشت گرد برینٹون ہیریسن ٹیرنٹ نے خود اپنے 74 صفحاتی ‘منشور’ میں اس کی وضاحت کردی ہے۔۔۔ وہ ٹرمپ’ نتن یاہو’ اسحاق بنجامن اور رادوان کرادزچ جیسے بد دماغ’ اسلام دشمن اور مسلمانوں کے قاتلوں کا پیروکار ہے۔۔۔ اسے مسلمانوں اور تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد پر غصہ ہے۔۔۔

بکھری ہوئی کڑیاں ملاکر دیکھئے تو اِس شیطان کے نظریاتی آقاؤں کی فہرست میں ایک نام اور جڑجاتا ہے۔۔۔ وہی جو 2002 میں دوہزار بے گناہوں کا قاتل ہے۔۔۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستان کے اُن شرپسندوں نے سوشل میڈیا پر شہید ہونے والوں کو ‘مرگئے سور’ تک لکھاجو مسلمانوں کی آبادی پر پیٹ میں درد لئے پھرتے ہیں۔۔ یہ وہ ہیں جو ہمارے وزیراعظم کو follow کرتے ہیں۔۔ لیکن ان شرمناک تبصروں کے بعد بھی نہ ہمارے وزیراعظم کے لبوں کو جنبش ہوئی اور نہ ان شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔۔۔

پوری دنیائے انسانیت مغموم تھی۔۔۔ مہر بلب تھی۔۔۔ لیکن جاں بلب نمازیوں کی وزیرِ اعظم جےسنڈا آرڈرن نے یہ کہنے میں کوئی تاخیر نہیں کی کہ “یہ دہشت گردانہ حملہ تھا۔۔۔ حملہ آور دہشت گرد تھا۔۔۔ حملہ کا شکار نمازی ہمارے اپنے ہیں’ ہم میں سے ہیں ۔۔۔ اور اُن کے قاتل دہشت گردوں کے لئے نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں” ۔۔۔

دو دنوں میں اس دلکش وزیر اعظم نے تین مرتبہ پریس بریفنگ کی ہے۔۔۔ انہی دو دنوں کے اندر وہ سیاہ لباس اور دوپٹہ میں ملبوس ہوکر شہیدوں کے ورثاء اور متاثرین سے بھی مل چکی ہیں ۔۔۔ متاثرہ خواتین سے گلے ملنے کے مناظر دیکھئے تو لگتا ہی نہیں کہ اتنے ترقی یافتہ ملک کی عیسائی وزیراعظم پریشان حال مسلم عورتوں سے گلے مل رہی ہیں ۔۔۔ لگتا ہے جیسے ایک متاثرہ خاتون سے اس کے خاندان کی کوئی دوسری متاثرہ خاتون گلے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رونے کو تیار ہے۔۔۔ لیکن آنسؤوں پر صرف اس لئے ضبط کا بند باندھ لیا ہے کہ غم میں شدت نہ پیدا ہوجائے ۔۔۔ یہاں ہندوستان میں حال یہ ہے کہ ہمارے وزیر مسلمانوں کے قاتلوں سے گلے ملتے ہیں اور خود ہمارے قاتلوں تک کو وزیر بنادیا جاتا ہے۔۔۔

اِس شیطان کی پیدائش نیوزی لینڈ میں نہیں آسٹریلیا میں ہوئی تھی۔۔۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلیا کے ایک سخت گیر سینیٹر نے اس شیطان کی مذمت کرنے کی بجائے اس کے شکار مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرادیا۔۔۔ اس کی ہرزہ سرائی پر ایک 17 سالہ آسٹریلیائی بچے نے غصہ میں آکر اس کے سرپر انڈا پھینک مارا۔۔۔۔ یہ بچہ حملہ کے بعد سے جاری ہونے والے اس کے ٹویٹ follow کر رہا تھا۔۔۔

نیوزی لینڈکے اس دہشت گرد نے’ معلوم ہوا ہے’ کہ حملہ سے پہلے کے دو برس میں ترکی’ بلغاریہ اور کروشیا کا دورہ کیا تھا۔۔ اب ان دوروں کی بھی تفتیش شروع ہوگئی ہے۔۔ تینوں ملکوں کے اس خطہ کو بلقان بھی کہاجاتا ہے۔۔ عہدِ خلافتِ عثمانی کی جنگ میں اس خطہ کا ایک خاص تناظر ہے۔۔۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا بھی ہے کہ یہ حملہ منظم تھا۔۔۔

نیوزی لینڈ کے عیسائی باشندوں کا ظرف بھی قابل دید ہے۔۔۔ کرائسٹ چرچ کے ایک نواحی علاقے کے ایک جوڑے نے فیس بک پر استدعا کی کہ ہمیں متاثرین اور ان کے اعزاواقارب کے لئے حلال کھانے کی ضرورت ہے۔۔۔چند گھنٹوں میں حلال کھانے کی اتنی فراوانی ہوگئی کہ اب اس جوڑے کو پھر استدعا کرنی پڑی کہ بس اب مدد کا یہ سلسلہ فوری طورپر روک دیجئے’ کھانا اضافی ہوگیا ہے۔۔۔ اس دوران متاثرین کے لئے 30 لاکھ ڈالر کی رقم بھی جمع ہوگئی ہے۔۔۔ آئیٹیا اسکوائر پر اسکارف’ دوپٹے اور شلوار قمیص میں ملبوس ہوکر عیسائی خواتین نے شہداء کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔۔۔ ملک بھر کی مساجد کو سرکاری سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہے۔۔۔ یہاں تک کہ شہریوں نے گھر سے باہر نکلتے وقت اپنے ہمسایہ مسلمانوں کے ساتھ چلنے کی پیش کش کی ہے۔۔۔ خوفزدہ مسلمانوں کا خوف دور کرنے کے لئے عیسائی شہری انہیں گھر سے باہر لے کر جارہے ہیں ۔۔۔ ایک 93 سالہ بوڑھی خاتون نے آک لینڈ کی متاثرہ مسجد کو ایک ای میل بھیج کر کہا ہے کہ میں مشکل سے اپنی ٹانگوں پر کھڑی ہوسکتی ہوں لیکن میں ہاتھ میں چھڑی لے کر ہر جمعہ کو مسجد کے باہر پہرہ دینے کے لئے تیار ہوں ۔۔۔ میں حملہ آور کو دیکھ کر شور مچاسکتی ہوں ۔۔۔ یہی تو ہوگا کہ وہ مسجد میں گھسنے سے پہلے مجھے مارنے کی کوشش کرے گا۔۔۔

مسٹر پرائم منسٹر!
ہم دکھی اور غمزدہ ہیں ۔۔۔ ہمارا دکھ اور غم وہ سفاک نہیں سمجھ سکیں گے جن کی آستینوں میں وہ خنجر چھپے ہیں جن پر ہزاروں بے گناہوں کا خون جما ہوا ہے۔۔۔ لیکن کم سے کم ہمارے زخموں پر تیزاب چھڑکنے والوں کے ہاتھ تو آپ پکڑ سکتے ہیں ۔۔ نیوزی لینڈ کی اس قابل تقلید وزیراعظم سے سبق تو لے سکتے ہیں ۔۔ نیوزی لینڈ کے اُن شہریوں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں جن کا مذہب اسلام نہیں ہے لیکن جو پریشان حال مسلمانوں کے لئے حلال کھانے کا انتظام کر رہے ہیں ۔۔ مسٹر پرائم منسٹر آپ نیوزی لینڈ سے ہارگئے ہیں ۔۔۔ اب انشاءاللہ ہندوستان کے کروڑوں انصاف پسند عوام سے بھی ہارنے کے لئے تیار رہئے ۔۔۔ کہ وقت کا پہیہ آپ کے نہیں خالقِ ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے۔۔۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share