Select your Top Menu from wp menus

خون ناحق رائیگا نہیں جائے گا

خون ناحق رائیگا نہیں جائے گا

ترتیب۔ریاض فردوسی۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران سفید فام انہتا پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 49 ہو گئی ہے جبکہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں شہدا کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حملہ آور سے متعلق اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آسڑیلوی شہری ہے جس کی شناخت برینٹن ٹیرینٹ سے نام سے ہوئی ہے۔ حملہ آورفوجی وردی میں ملبوس تھا۔ جس کی عمر 30 سے 40 سال ہے جبکہ ایک عورت سمیت اس کے4 ساتھی شہر کے دوسرے علاقوں سے گرفتار ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اسلام مخالف مواد کے87 صفحات پوسٹ کیے جن میں لوگوں کو مسلمانوں پر حملوں کے لیے اُکسایا گیا تھا۔ کارروائی سے قبل حملہ آور نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنا منشور بھی شئیر کیا ہے۔جس میں اس حملے کے پس پردہ عزائم اور اپنے مقاصد سے متعلق آگاہ کیا۔ حملہ آور نے ٹویٹر پر جاری اپنے عزائم میں بتایا کہ یہ حملہ ان لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے کیا گیا ہے جو ہمارے ملک میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب تک سفید فام افراد زندہ ہیں یہ لوگ کبھی بھی ہمارے ممالک اور ہماری سرزمین پر قابض نہیں ہو سکتے۔ حملہ آور کا کہنا تھا کہ ہماری سرزمین پر آکر بسنے والے ان لوگوں کی وجہ سے کئی یورپی شہریوں کی جانیں گئیں۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے یہ کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی اُن یورپی شہریوں کی غلامی کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی جن کی زمینیں مسلمانوں نے چھین لیں۔ یہ کارروائی یورپی ممالک میں کی جانے والی ہزاروں دہشت گردی کی کارروائیوں میں یورپی شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی ہے۔ یہ کارروائی ایبا آکر لینڈ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی۔ حملہ آور نے مزید لکھا کہ اس کارروائی کا مقصد یورپ کی سرزمین میں گھُسنے والوں کو ختم کرنے اور یورپی ممالک میں امیگریشن کی شرح کم کرنے کے لیے کی گئی۔ حملہ آور نے کہاکہ پہلے وہ کسی اور مسجد کو ٹارگٹ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ،لیکن پھر اُس نے النور مسجد کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا، کیونکہ یہاں ایسے لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی، جنہیں وہ مارنا چاہتا تھا۔ حملہ آور کے مطابق وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کافی متاثر تھا۔ اُس نے کہا کہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پُر جوش حامی اور سیاسی طور پر سرگرم خاتون کینڈس اونس سے بھی کافی متاثر ہے۔ ٹویٹر پر جاری پیغام میں حملہ آور نے بتایا کہ میری عمر 28 سال ہے اور میں آسٹریلیا میں پیدا ہوا۔ میرا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے۔ میں ایک عام خاندان کا ایک عام سفید فام شخص ہوں جس نے اپنے لوگوں کے محفوظ مستقبل کے لیے یہ قدم اُٹھایا۔واضح رہے کہ حملہ آور نے مسجد میں موجود نہتے نمازیوں پر اپنی مشین گن سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ حملہ آور کی مشین گن پر ماضی میں مسلمانوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے نام بھی تحریر تھے جو غالباً اُس نے خود تحریر کیے تھے۔
(نیوزی لینڈ(قدرت روزنامہ کے خبر سے نقل)
سی بی ایس نیوز ایک عینی شاہد کی زبانی سے وہاں ہونے والے واقعے کی کہانی سامنے لے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عینی شاہد لین پنیہا نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’اس نے سیاہ لباس میں ملبوس ایک شخص کو اس نے مسجد النور میں داخل ہوتے دیکھا اور پھر درجنوں گولیوں کی آواز سنائی دی، جس کے بعد خوف کے مارے لوگ مسجد سے باہر بھاگتے دکھائی دیئے‘۔ پنیہا مسجد کے قریب ہی رہائش پذیر ہے اور اس نے بتایاکہ ’فائرنگ کے بعد مسلح شخص وہاں سے بھاگا اور بظاہرسیمی آٹومیٹک ہتھیار دکھنے والا اسلحہ پھینکا اور فرار ہوگیا۔ پنیہا نے بتایا کہ وہ مسجد میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے گیا، ہرجگہ پر شہید لوگوں کو دیکھا، تین جسد خاکی ہال میں پڑے تھے، مسجد کے مرکزی دروازے اور اندر بھی موجود تھے، یہ منظرناقابل یقین تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے مزید بتایا کہ میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کیسے کوئی شخص لوگوں کیساتھ ایسا کرسکتا ہے، یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے، وہاں سے نکلنے میں پانچ لوگوں کی مدد کی جن میں سے ایک معمولی زخمی تھا۔ پنیہا نے بتایا کہ ’میں اس مسجد کے قریب ہی پانچ سالوں سے رہائش پذیر ہوں، یہ لوگ شاندار ہیں، وہ انتہائی دوستانہ ماحول میں رہتے ہیں، پھر یہ سب کچھ میرے لیے ناقابل فہم ہے‘۔ اس نے بتایا کہ ’’حملہ آور سفید فام تھا جس نے ہیلمٹ پر کچھ ڈیوائس نما چیز لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ ایک فوجی سے ملتی جلتی مشابہت میں تھا‘۔(کرائسٹ چرچ (ویب ڈیسک..محمد شعیب کے قلم سے)
مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو 5 اپریل تک ریمانڈ پر دے دیا گیا ہے۔.دائیں بازو کا سفید فام نسل پرست 28 سالہ برینٹن ٹیرینٹ آسٹریلوی شہری ہے، ملزم کو آج ہتھکڑی لگا کر کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اب کیا اس سے اس کے مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا؟ کیا ہر عیسائی مذہب کا ماننے والا دہشت گرد ہے؟ کیا دہشت گردي سے مذہب کا بھی تعلق ہے؟ اب یہ سارے سوالات کہا ہیں؟کیا عیسائی مذہب دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہے؟کیا ہر عیسائی انسانیت کا قتل عام کرنے کے لئے ہی پیدا ہوا ہے؟کیا مسلمانوں کی عبادت میں قتل کرنا جائز ہے؟
اللہ نہ کرے کوئی جاھل مسلمان ایسی حرکت کرتا تو پورا مذہب ہی بدنامی کے گہرے سمندر میں شامل کر لیا جاتا، لیکن افسوس کے یہ مسلمان نہیں ہے، کوئی عیسائی ہے جو جنونی ہے۔غم زدہ ہے۔انتقام کی آگ اس کے سینے میں موجود ہے اس لئے ا س بیچارے سے یہ غلطی ہو گئی۔۔ واہ رے انصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہشت گردی کی اس مسموم فضا میں صرف یہی نہیں بلکہ ظلم وجبر کے ایسے ایسے روح فرسا مناظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ سینے میں پتھرجیسے دل رکھنے والوں کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ سینوں میں ہمدردی اورانسانیت کی محبت اوراس کے نام پر دھڑکنے والا دل رکھنے والے انسانوں کی سسکیاں احساس کے کانوں سے سنی جاسکتی ہیں۔دہشت گردی کے بنا پر ہوئے واقعات میں جہاں انسانی جسم،خاک و خون میں تڑپتی ہوئی لاشیں، کشت وخون، ظلم وبربریت اور تباہی و بربادی کے عریاں رقص میں ہلاکت و بربادی کے خوف ناک مناظررونما ہوتے ہیں۔وہیں بے گناہ انسانوں کی قربان ہوتی جائدادیں، اموال اور مکانوں کی بربادی کاتصور دل کو دہلا دیتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کی وہ بھیانک تصویر بھی ابھرآتی ہے، جو مسلم وغیرمسلم ملکوں سے بہت سے مسلمانوں، خصوصاً تعلیم یافتہ اور دین دار نوجوانوں کو گرفتار کرکے، اُنہیں جیل خانوں میں ڈال کر ان کے ساتھ جسمانی، جنسی، ذہنی اور فکری طور پر ایسی مجرمانہ حرکتیں کی گئیں، اذیت رسانی اور توہین و تذلیل کے ایسے ایسے طریقے وضع کیے گئے جس نے سارے انسانی ضمیر کو ہلاکر رکھ دیا۔لیکن اگر یہ ظلم غیروں پر ہوتا تب نا، اس کے شکار تو ہم مسلمان ہی ہیں، سب سے تعجب خیز بات کہ ہم ہی قاتل ہیں؟ ہم ہے مقتول، ہم ہے ظالم ہیں؟ ہم ہے مظلوم،
ہمارے ملک پر جبرا مغضوب قوم قابض ہو گئی اور اگر ہم سدائے شکوہ بلند کریں تو ہم ہی ظالم،ہم ہی دہشت گرد، واہ رے انسانیت کے علمبردار۔۔۔۔
عرصے دراز سے امت مسلمہ مغربی استعمار کاشکار ہے، مگر دور حاضر میں مغربی شیطانی طاقتیں اپنے تمام تر وسائل اور حربوں کو اسلام کے خلاف کھلی و سرد جنگ پر لگادینے کیلئے آمادہ اور برسرپیکار نظر آتا ہے۔ جس کا عینی مشاہدہ ہمیں مختلف فتنوں کی شکل میں نظر آتا ہے، اور اگر اس موج طوفانی کے رخ کو تبدیل کرنے اور سفینہ ء اسلام کو بھنور سے نکالنے کے لیے کوئی ناخدا پیدا ہوتا ہے، وہ ظلم وستم کے ان پہاڑوں سے ٹکرلینے کی کوششیں کرتا ہے ،تو اسے موج شیطانی کے تھپیڑوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔شر انگیز سازشی لہروں کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔سب سے آخر میں اسے بحرظلمات کی ان کشتیوں کے حوالے کردیا جاتاہے جہاں سے انسان سوائے موت کے اور کسی طرح نجات نہیں پاسکتا۔

  • 7
    Shares
  • 7
    Shares