Select your Top Menu from wp menus

بیدر میں ’’ایک ادبی شام، قیصر رحمن مرحوم کے نام‘‘ پروگرام کا انعقاد  قیصر رحمن اپنی ذات میں ایک ادارہ ‘ایک تحریک‘ اور دور اور تاریخ تھے‘قلم کی عصمت انھیں بے حد عزیز تھی اسے انھوں نے تادمِ حیات داغدار نہ ہونے دیا۔محمدامین نواز

بیدر میں ’’ایک ادبی شام، قیصر رحمن مرحوم کے نام‘‘ پروگرام کا انعقاد  قیصر رحمن اپنی ذات میں ایک ادارہ ‘ایک تحریک‘ اور دور اور تاریخ تھے‘قلم کی عصمت انھیں بے حد عزیز تھی اسے انھوں نے تادمِ حیات داغدار نہ ہونے دیا۔محمدامین نواز

بیدر۔16؍مارچ ۔(محمدامین نواز)۔
کل شب جناب قیصررحمن مرحوم کے فرزندان کی رہائش گاہ موقوعہ افضل پورہ ، بیرون شاہ گنج بیدر پر منعقدہ بعنوان ’’ایک ادبی شام، قیصر رحمن مرحوم کے نام‘‘ جناب محمد امین نواز صحافی بیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرزمینِ بیدرممتاز و معزز شخصیات کے کارناموں کیلئے اپنے دامن میں ایک وسیع تاریخ رکھتی ہے۔جن میں ایک نام جناب قیصر رحمن کا بھی ہے ۔ جناب قیصر رحمن اپنی ذات میں ایک ادارہ ‘ایک تحریک‘ اور دور اور تاریخ تھے۔ ایک ایسی تحریک جو خود زندہ رہتی ہے اور دوسروں کو بھی زندہ رکھتی ہے‘ انھوں نے اپنی بلند پایہ ہمت سے اپنی منفرد پہچان بنا کر اپنی قابلیت اور بحیثیت صحافی عوام و خواص کے دل میں ایسا نقشہ بنایا کہ شاید ہی ایسا کوئی شخص کبھی اس عروج کو پہنچ سکا ۔ان کے ذہن میں دور اندیشی ‘معاملہ فہمی اور عمل و استقلال کا وہی وقار تھا جو ایک بے باک صحافی کیلئے ہونا چاہئے۔صحافتی قدروں کی پامالی ان کے نزدیک ناقابلِ معافی گناہ تھا۔ اس لئے انھوں نے اپنی نگارشات کو شائستگی اور استدلالی توازن کا حامل رکھاجس کی حلیفوں نے بھی داددی اور حریفوں نے بھی۔ قلم کی عصمت انھیں بے حد عزیز تھی اسے انھوں نے تادمِ حیات داغدار نہ ہونے دیا جناب قیصر رحمن نے اُردو صحافت کو طاقت بخشی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اُردو روز نامہ گاوان سے قبل آل انڈیا ریڈیو کو ٹیلی کو خبریں بھیجا کرتے تھے ۔یہ سلسلہ کچھ دن تک رہا ‘اس کے بعد انھو ں نے جناب محسن کمال کی ادارت میں اُردو روزنامہ گاوان میں صحافتی خدمات انجام دیں ۔محترم قیصر رحمن کی بیباک و غیر جانبدرانہ تحریر نے اُردو صحافت کو وہ طاقت بخشی تھی کہ ان کی خبروں سے ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداران بھی ان کی قلم کی سچائی اورحق پرستی سے خائف رہتے تھے۔بیدر کی صحافت میں یہ ایک تاریخ ہے کہ قیصر رحمن نے 24گھنٹے سماجی و صحافتی خدمات میں مشغول رہتے اور خصوصی طورپر مظلوم و پسماندہ عوام کی وہ صحافت کے ذریعہ بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ ہی نہیں بلکہ عوامی منتخب نمائندوں کی بھی جانب خصوصی توجہ مبذول کراتے تھے۔اس موقع پر بزرگ شاعر جناب سید جمیل احمد ہاشمی نے نے اپنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی مدد کیلئیرات بے رات گرم لحاف سے باہر نکل آنے والے شاعرکو قیصر رحمن کہیں گے۔ لیکن اب یہ نام اور ایسی شخصیت ہمارے درمیان نہیں رہی۔ ان کااصلی نام عبدالرحمن تھا۔ میں اور وہ ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے ۔ عمر کے آخری دنوں تک انھوں نے دوستی نبھائی ۔ اور جب کبھی مجھے ضرورت پڑتی تو میں یہ کہتاکہ میں قیصر رحمن کے پاس نہیں اپنے دوست عبدالرحمن کے پاس آرہاہوں۔ ایک اور بزرگ شاعر جناب محمدامیرالدین امیر نے اپنے مضمون ’’قیصر رحمن مرحوم، چند آہیں اور چندباتیں‘‘میں بتایاکہ قیصر رحمن مرحوم کی خدمات کادائرہ کافی وسیع ہے۔ وہ بیک وقت سماجی خدمتگار، سیاست دان ، صحافی اور شاعر تھے۔ لیکن ہم یہاں ان کی ادبی خدمات کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔ محمدیوسف رحیم بیدر ی نے بتایاکہ قیصرر حمن کی ادبی و سماجی خدمات پرخدمات کے گوشوں پر روشنی ڈالنے کی سعی کی ۔ اسی طرح محترمہ ریحانہ بیگم نے اپنے مضمون میں قیصر رحمن کی ادبی زندگی پر روشنی ڈالی، بیدر اتسو کے ہونے والے مشاعروں میں قیصر رحمن کے کردار کاذکر کیا۔ تقریب کی صدارت مرحوم کے قریبی دوست جناب سید منیراحمد نے کی اور اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ ’’قیصر رحمن ایک ہمہ پہلو شخصیت کانام ہے۔ ان کی شخصیت ایسی نہیں ہے کہ دوچارجملوں میں ان کی خوبیاں پیش کی جاسکیں۔ اس کے لئے بہت کچھ ضبطِ تحریر میں لانے کی ضرورت ہے۔ مجھ میں زبانی کچھ کہنے کی صلاحیت مفقود ہے ۔ اگرپہلے ہی سے مطلع کیاجاتاتو میں ایک مضمون تحریر کرکے لے آتا۔ بہرحال قیصرر حمن کی ہمہ جہت زندگی پر روشنی ڈالنے کے اس سلسلہ کوجاری رہنا چاہیے۔ اس نثری نشست کے مہمانان خصوصی میں ریحانہ بیگم اور باسط خان صوفی شامل رہے۔ بعدازاں محفل مشاعرہ منعقد ہواجس کی صدارت جناب محمدفیروزخان رکن ضلع پنچایت کمٹھانہ نے کی۔ حامد سلیم حامدؔ ، عظیم بادشاہ (بھالکی)،محمد امیرالدین امیرؔ ، سید لطیف خلش ، سید جمیل احمد ہاشمی ، میرؔ بیدری اورباسط خان صوفیؔ نے قیصر رحمن مرحوم کی خدمات کو تازہ ترین منظوم خراج پیش کرتے ہوئے بے حد دادوصول کی۔ نصیرالدین نور، منورعلی شاہد، اور ریحانہ بیگم ریحانہ نے علیحدہ سے کلام پیش کیا۔اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں فیروزخان نے کہاکہ میرے بھی دل میں تھاکہ قیصر رحمن کی یاد میں شام منائی جائے ۔ اسی طرح میرے رہبر عبدالجبار ایڈوکیٹ ، جناب محمدنصیرالدین ، عزیزقریشی ، خورشید علی صناع، احمد علی پاشاہ وغیرہ کی یاد میں بھی شام منانے کامیراعزم ہے۔ عموماً لوگ خوشیوں میں حصہ داری کیلئے آتے ہیں لیکن مذکورہ لوگ وہ تھے جو لوگوں کے غم بانٹاکرتے تھے۔ آج میں آپ تمام کا شکرگذار ہوں کہ آپ بغیرکسی لوث کے یہاں چلے آئے۔اور جن شعراء نے اپنے کلام کے ذریعہ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیاہے وہ دل سے نکلی ہوئی آوازیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اچھی نیت سے رکھی گئی اس نشست کو قبول کرے۔اور قیصررحمن کی مغفرت فرمائے ، انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔ اس تقریب میں نوجوانوں کی کثیرتعداد دیکھی گئی جبکہ مرحوم کے دوستوں میں سید منیراحمد، جناب نثاراحمد مؤظف ، اوردیگر شریک رہے۔تقریب کاآغاز حیدرعلی شاکر کی تلاوت کلام پاک سے کیاگیا۔ نظامت کے فرائض محمدیوسف رحیم بیدری نے بحسن وخوبی انجام دئے۔جبکہ اس شام کے اہتمام سے قبل مہمانوں اور شعراء کو پرتکلف عشائیہ دیاگیا۔ جناب اختررحمن کے اظہار تشکر پر مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔*** 

  • 1
    Share
  • 1
    Share