Select your Top Menu from wp menus

نسلِ نو کے تباہی کی جانب تیزی سے بڑھتے قدم ہمارے لئے لمحہء فکر 

نسلِ نو کے تباہی کی جانب تیزی سے بڑھتے قدم ہمارے لئے لمحہء فکر 

ازنو کِ قلم مفتی محمد صادق مظاہری

چیئر مین( برائٹ ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی، سہارنپور، یوپی )
بلاشبہ جوانی خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک بے مثال نعمت ہے جس کا احساس انسان کو اس وقت ہوتا ہے جبکہ جسمِ انسانی کا یہ عظیم جوہر رخصت ہو جاتا ہے وہ اعضاء جو جوانی میں آدمی کے بھر پور قوت و صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں بڑھاپے میں ضعف و کمزوری کے سبب بے جان و بے کیف معلوم ہوتے ہیں، اسی لئے اس کے عقل دماغ و ہ استعدادیں کھو بیٹھتے ہیں جس سے انسان ترقی کی دہلیز پر قدم رنجاں ہوتا ہے قوتِ رفتار و گفتار اتنی دھیمی و سست پڑ جاتی ہے جس سے کسی بھی شخص کے لئے منزلِ مقصود تک پہنچنا دشوار و مشکل سا معلوم ہوتا ہے وہ چاہتا بہت کچھ ہے لیکن کر نہیں پاتا تجربات کی روشنی میں سوچتا اونچی اشیاء ہے لیکن کامیاب نہیں ہو پاتا اس لئے کہ دورِ شباب ہی وہ بے نظیر سرمایہ ہے جو انسان کو اونچائیوں تک پہنچانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے کیونکہ جوانمرد جب بولتا ہے اس کی قوتِ گفتاری و طلاقتِ لسانی کو لوگ تسلیم کرتے ہیں اس کے قدم جب کسی منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں تو منزلِ مقصود کی راہیں سمٹتی ہوئی چلی جاتی ہیں اس کا دماغ جب غورو فکر کرتا ہے تو ماحول کی روانی و مزاج کو دیکھکر اس کا حل پیش کرتا ہے اس کا دل اتنا مضبوط و آہن ہوتا ہے کہ وہ اپنے احساسات و جذبات سے مردہ قلوب کو زندہ کر دیتا ہے غرضیکہ جوانمرد ہی عالم انسانی میں انقلاب برپا کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس ہر وہ شئی موجود ہوتی ہے جس سے فسادو بگاڑ کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور یہ تاریخ کی دھارا کو اس طرح موڑ سکتا ہے کہ کوئی بھی اسکی رومیں آکر نہیں بہ سکتا بلکہ اس سے افادہ واستفادہ کر سکتا ہے اقبال سہیل نے اسیکی ترجمانی کی ہے ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے انکواپنی منزل آسمانوں میں
لیکن افسوس کہ آج کا جوان جس راہ کا راہی بنا ہوا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے وہ اپنی بد مست جوانی میں اتنا مگن ہے کہ تکبر و ہٹ دھرمی نے اس کے قلب و جگر کو بے حس بنا دیا ہے اخلاقِ رذیلہ کی نحوست نے اسکے چہرے کی معصومیت کو چھین لیا ہے عیش پرستی و عیاشی کی آگ نے اسکے دل کو مردہ کر دیا ہے، انٹر نیٹ کے مس یوز نے اسکی ذہنیت و سوچ کو ایسا گندہ و پلید کر دیا ہے جو ایک بھلے انسان سے تصور نہیں کیا جا سکتا ہے بے فائدہ ولا یعنی کاموں کی مشغولیت نے اسکو نکما و کاہل بنا دیا ہے بے ہودہ و غلط سوسائٹی کا یہ اثر ہے کہ ہزار ہا ہزار جوان شراب و اسمیک جیسے مہلک نشے کے عادی بن گئے ہیں جس سے گھریلو زندگی تہ و بالا ہوکر رہ گی ہے لڑکے و لڑکیوں کی نظریں اس قدر خراب ہو چلی ہیں کہ نکاح جیسے پاکیزہ حسین و جمیل چیز کا تصور ذہن سے نکلتا چلا جا رہا ہے جس سے اولاد والدین کی نافرمان بن رہیں ہیں اور ان پر ظلم و زیادتی کا دروازہ کھل رہا ہے زیادہ تر اسٹوڈینٹ (جنکو تہذیب یافتہ زبان میں پڑھے لکھے لوگ کہا جا تا ہے )کا رویہ ٹیچرس کے ساتھ یہ ہے کہ وہ انکا نہ صرف یہ کہ کلاس کے باہر اد ب و احترام نہیں کرتے بلکہ کئی مرتبہ دورانِ کلاس بھی انکا استہزا ء و مذاق اڑا تے ہیں اور کبھی تو پاس و لحاظ کی تمام تر حدود پار کر کے نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے اسی لئے آج اچھا خاصہ طبقہ ایجوکیشن سے فارغ ہوتا ہے لیکن دردر کی ٹھوکریں کھاتا اور مارا مارا پھرتا ہے اسی پر بس نہیں بلکہ ترقی یافتہ شہروں و ملکوں کے حالات تو ان سے بھی کہیں زیادہ گئے گزرے ہیں وہاں قدم قدم پر نت نئے فتنوں کا ہجوم و برائیوں کا جمگھٹا ہے نفس کی رغبت ، الجھاؤ اور میلان کیلئے ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں ، میخانے اور شاہدانِ سیمیں بدن کے خلوت کدے ہیں قمار خانوں کی کثرت ، نغمہ و رقص کی محفلوں کی بہتات ہیں فحشکاری کے اڈے اور بد اخلاقی کے مراکزہیں جس طرف جائیے خرابیوں کے پھندے لگے ہوئے ہیں اور بدچلنی کے دام بچھے ہوئے ہیں چھوٹے بڑے مرد عورتیں اور خصوصاً جوانوں کا ایک سا ہی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے چوطرفہ تاریکی ہی تاریکی ہے یہ سراپا معصیت و گناہ کا ماحول یہ بتا تا ہے جیسے قرب قیامت ہے یہ دنیا کا اندھیرا گواہی دے رہا ہے کہ اس رنگین و زیب و زینت سے بھرپور دنیا کا عنقریب انت ہونے والا ہے لیکن درد دل جوش مارتا ہے تڑپتا ہے کہتا ہے اس نسل کا پرسانِ حال کون ہے جو اس کنارے پر کھڑی ہے جہاں سے اگر اس کا پاؤں پھسل گیا تو اسکو کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور پھر انسانیت کا صرف نام ہوگا لوگ حیوان ودرندے بنکر زندگی گزاریں گے ہر طرف ظلم ہی ظلم کا بازار گرم ہوگا عصمت و عزت کا خاتمہ ہوگا ، بہن اور بیٹیوں کو ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کیا جائیگا اور مرد اس صنف نازک کو اپنی کٹ پتلی بناکر اس سے اپنا کام نکالے گا جس سے معاشرہ تباہی کے دھانے پر پہنچ جائیگا ، جیسا کہ دنیا کے کئی خطوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ظاہر ہے اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کے نسل نو اپنی زندگی کی قدر و قیمت کو جانیں عدل و انصاف کی آواز کو بلند کریں حیا ء و پاک دامنی کو سینے سے لگائیں اور انسانیت کے ناطے ہر مرد عورت کی اور عورت مرد کی عزت کرنا سیکھیں اللہ عزو جل کے ڈر سے اپنے دلوں کو منور کریں خدا کے بندے و بندیاں بنکر زندگی کا سفر طے کریں ورنہ اس جوانی کے لمحات اگر بے مقصد و بے ہودہ کاموں میں لگائے اور ہم زبان سے کہتے رہے کہ دورِ شباب میں سب جائز ہے تو اس ذات کی قسم جسکے قبضے میں ساری کائنات ہے ہم بر باد ہو جائیں گے اور دھکتے شعلوں سے بھر پور جہنم کے ایندھن بن جائیں گے اس لئے جوانوں زندگی جینے کا صحیح طریقہ و سلیقہ سیکھو ۔
فنا فی اللہ کی تہ میں بقاء کا راز مضمر ہے
جنہیں جینا نہیں آتا انہیں مرنا نہیں آتا

  • 1
    Share
  • 1
    Share