Select your Top Menu from wp menus

خانقاہ صوفیہ اسلام پور کا سالانہ عرس مبارک اختتام پذیر شیخ المشائخ حضرت سید شاہ محمد ایوب ابدالیؒ کی کلیات نیرؔ کا رسم اجرا

خانقاہ صوفیہ اسلام پور کا سالانہ عرس مبارک اختتام پذیر شیخ المشائخ حضرت سید شاہ محمد ایوب ابدالیؒ کی کلیات نیرؔ کا رسم اجرا
خانقاہ صوفیہ اسلام پور(نالندہ) میں شیخ المشائخ پیر طریقت مرشد ملت رہبر شریعت حضرت سید شاہ محمد ایوب ابدالی قدس سرہٗ کا سالانہ عرس بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اس موقع پر ہندوستان کے مختلف صوبوں سے ہزاروں کی تعداد میں مریدین ومتوسلین نے شرکت کی۔ اس عرس کا آغازجلسہ سیرت النبی سے ۲؍ رجب المرجب مطابق۹؍ مارچ بعد نماز عشا خانقاہ صوفیہ ’’مدرسہ نیر العلوم‘‘ کے مہتمم مولاناوحافظ محمد اسما عیل کی تلاوت کلام اللہ سے ہوئی۔ اسکے بعد مدرسہ کے طلباء نے حضرت سید شاہ محمد ایوب ابدالی ؒ کی شان میں منقبت پڑھی۔
جلسہ کی صدارت سیدشاہ سیف الدین ابدالی رازی مدظلہٗ العالی نے کی جس میں ہندوستان کے مشہور ومعرو ف علمائے دین اور شعرائے کرام نے بھی شرکت کی۔
جلسہ کے خطابت کا آغاز خطیب ملت حضرت مفتی مولانا فضیل یاسینی (جبل پور) اور فخر اہل سنت مولانا سلطان رضا( ممبئی) سے ہوا جنہوں نے اپنے بیان سے تمام سامعین کو مستفیض کیا۔
شعراء کرام میں وارثؔ اسلام پوری، میکشؔ رانچوی، رہبرؔ گیاوی، عیاضؔ مانپوری اور خوشترؔ گیاوی وغیرہ نے اپنے دلکش آواز واندازمیں نعتیہ کلام سے سامعین کومسرور کیا۔
اس دوران حضرت سید شاہ محمد ایوب ابدالی قدس سرہٗ کے شعری مجموعہ ’’کلیات نیرؔ ‘‘ کااجرا خانقاہ صوفیہ کے صاحب سجادہ نشیں حضرت جناب سید شاہ شہاب الدین ابدالی فردوسی مدظلہٗ العالی کے دست مبارک سے ہوئی۔
۳؍رجب المرجب مطابق۱۰؍ مارچ کوقبل نماز فجر آستانہ پر صندل پوشی کی رسم ادا کی گئی اوربعد نماز فجر خانقاہ کی مسجد میں قرآن خوانی کا آغاز ہوا اور ۱۰؍ بجے دن میں قل و دعا ہوئی۔
حسب روایت چادرپوشی کی شرعات بعد نماز عصرخانقاہ میں مختصرمحفل سماع سے ہوئی اور اس کے بعد کاروانِ چادر آستانۂ پاک کے لیے روانہ ہوئی۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔چادر پوشی کے بعد سید شاہ سیف الدین ابدالی رازی مدظلہٗ العالی نے خصوصی دعا کی جس میں انہوں نے تمام انسانوں کو اللہ ، اللہ کے رسول اور اولیائے کرام کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلنے کے لیے خداوند تعالیٰ سے عاجزانہ دعاکی ۔
بعد نماز مغرب جلسہ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد ہوا جس میں علمائے کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اولیائے کرام کے طریقۂ کار کو بیان کیا ۔الصلوٰۃُ والسلام کے بعد لنگر خانی کی شروعات ہوئی جس میں مقامی و بیرونی لوگوں کے علاوہ کثیر تعداد میں غریبوں کے درمیان لنگر تقسیم کیے گیے۔
بعد نماز عشاء مجلس سماع شروع ہوئی جس میں قوالوں نے حمد و نعت کے بعد رات ۱؍ بجے تک فارسی اور اردو میں عارفانہ کلام پڑھے۔ جس کے اثر سے تمام لوگوں پر وجد و گریہ کا اثرطاری ہوگیا۔
۴؍ رجب المرجب مطابق ۱۱؍ مارچ کو ۱۰؍ بجے دن سے قبل نماز ظہر تک مجلس سماع اور بعد نماز مغرب آستانہ مبارک پر نعت خوانی کے بعد سہ روزہ عرس خیر وخوبی کیساتھ اختتام پذیر ہوا۔
اسی دوران صبح ورات کے وقت سہ منی کے فاتحہ کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ خانقاہ رشیدیہ جونپور (یوپی) کی طرف سے چادرپوشی اور قل کا اہتمام ہوا اور کئی دیگر مقامی وبیرونی حلقوں کی طرف سے الگ الگ پروگرام کا سلسلہ عرس کے اختتام تک جاری رہا۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share