Select your Top Menu from wp menus

منشیات- نوجوانوں کی گمراہی

منشیات- نوجوانوں کی گمراہی
       شیخ زنیرہ محمد مقیم
      خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت انسان کی صحت ہے ۔صحت مند انسان ہی اپنی تمام ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے سکتا ہے۔ایک صحت مند سماج خوشحال خاندان کا ضامن ہو سکتا ہے مگر دور حاضر کے نوجوان میں بڑھتے خمریات اور منشیات کے رجحان نے پوری قوم کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔جہاں اخلاقی قدریں پامال ہورہی ہیں۔ وہیں حکمراں طبقے کی خود غرضی اور مالی مفادات نے ملک کے نوجوانوں کے اخلاق و کردار کو بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران یہی ستم نہیں ہوا کی حکومت اور شراب کے تاجروں نے عوام نےعوام کے سرمایہ اور صحت سے کھیل کر خوب دولت کمائی بلکہ یہ بھی ہوا کہ اس کے ذریعے کالا دھن ملک کی اقتصادیات کے رگ و پے میں دوڑنے لگا ہے.
   منشیات سے نہ صرف انسان کے مال کو خطرہ ہے بلکہ جان کو بھی خطرہ ہے۔منشیات کا عادی نوجوان مختلف مہلک امراض سے دوچار ہو کر معاشرے اور سماج کے لئے ناسور بن جاتا ہے بلکہ ملک و قوم کے لئے بوجھ ثابت ہوتا ہے۔ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔نشہ انسان کے وجود کو برباد کر دیتا ہے۔نشہ آور شخص جانور سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور اپنے عقل و فہم سے بیگانہ ہوجاتا ہے ۔ایسی الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے جس کو ہوش و حواس میں کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ گواہ ہےکہ دنیا میں جتنے بھی سنگین جرائم رونما ہوئےوہ سب نشے کی حالت میں انجام دیئے گئے۔کسی مفکر کا قول ہےکہ اگر کسی قوم کو تباہ وبرباد کرنا ہو تو اس قوم کے نوجوانوں میں منشیات کی وبا پھیلا دو۔
  آج ہماری قوم کا نوجوان شراب ‛گٹکھا ‛تمباکو اور سگریٹ  جیسی لعنتیں بغیر کسی خوف و خطر سر عام استعمال کر رہا ہے نہ صرف نوجوان لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی اس کی عادی ہوتی جارہی ہیں۔لھذا گزشتہ دنوں اس خبر نے ملک اخبارات میں نمایاں جگہ پاکر سب کو حیران کردیا تھا کہ مدھہ پردیش کے بستر اور جھابوا جیسے پچھڑے اضلاع کی آدی واسی لڑکیوں نے شغل مئے نوشی میں بڑے بڑے شہروں کے لڑ کوں کو پیچھے  چھوڑ دیا جبکہ ممبئی کے اسکولوں تور کالجوں کے طلبہ وطالبات میں روز افزوں نشہ کی لت کو دبکھتے ہوئے ممبئی یونیورسٹی نے اس کا جائزہ لینے کے لئے ایک خصوصی شعبہ قائم کیا ہے- جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایسے نوجوان طلبہ و طالبات کی عروس البلاد میں ایک لاکھ سے کہیں زیادہ ہےاور ان میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ آخر نشہ کی لت نے کیوں ہمارے سماج میں ایک فیشن اور اس سے بڑھ کر عادت کا درجہ حاصل کر لیا ہے اس لئے اس کے حصول یا فراہمی میں بدعنوانیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں جس کا ایک ثبوت ممبئی‛بڑودا‛ بھونیشور‛ احمدآباد اور اندور کے وہ حادثات ہیں جن میں زہریلی شراب پی کر ہزاروں افراد موت کی نیند سو چکے ہیں۔
اگر ملک میں اصلاحات کو لانا ہے تو صرف اپنا ذاتی مفاد ملحوظ نہ رکھا جائے بلکہ منشیات کی بلا سے نوجوان نسل کو محفوظ رکھ کر ان کی توانائی تور قوت کو ٹھوس اور تعمیری امور پر لگانے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف سماج اور معاشرے سے منشیات کا یہ ناسور ختم ہو جائے گا بلکہ جانی ‛مالی اور سماجی اعتبار سے نوجوان محفوظ ہو جائے گا مگر افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جس شدت سے یہ برائی نوجوان نسل میں پھیل رہی ہے اس شدت سے اس کو روکنے کی نہ تو حکومت کو فکر ہے نہ ہی نوجوان نسل کے سرپرستوں کے پاس وقت ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کے چہیتے کیا گل کھلا رہے ہیں-حالانکہ اس کے لئے حکومت اور سرپرستوں کو خاص توجہ دینی ہوگی ۔ہمارے نوجوانوں میں دینی ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ہمارےمعاشرے کی اصلاح کا منظم انتظام کرنا ہوگا تب ہمارے نوجوان مہذب‛بااخلاق اور سرپا اخلاق و کردار کا عملی نمونہ پیش کر سکیں گے اور ملک وملت کے وقار کو بلند کرسکیں گے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت بدلنے کا
  • 1
    Share
  • 1
    Share