Select your Top Menu from wp menus

کو ئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

کو ئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
محمد نظام الدین ندوی
کتاب کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اس کے مطا لعہ سے ہما را یہ احساس قو ی ہو کہ ہم نے ایک اچھے دوست کی معیت میں وقت گزارا ہے ،کتاب ایک بہترین اور وفا دار ساتھی ہے ،کتاب انسان کی غم خوار ومد دگار، انسانی ضمیر کو رو شنی بخشے والا قندیل، علم و آگہی کا بہترین زینہ ،ہوش و خر د کی رہنمائی  کے در خشاں مہتاب ، تنہا ئی کی جانگسل طوالت کی بہترین رفیق ہی نہیں بلکہ زندگی کی نا ہموار راہوں میں دلنواز ہمسفر بھی ہے اور اضطراب وبے چینی کی معالج بھی ۔
جب انسان گر دش زمانہ، حادثات و سا نحات ، زندگی کے تلخ واقعات اور ذاتی مشکلات کے ہجوم میں الجھ کر مایوس لمحات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں بھٹکتے ہو ئے زندگی کی پر لطف نعمت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا تو اس وقت بلند ہمتی شجاعت و بسا لت کے نیر تا باں بن کرکتابی حروف کی سر گوشیاں سفید صفحات کے کا لے پیلے نقوش اندھیروں میں روشنی لیکر نا امیدی میں امید کی کرن سے گم کر دہ منزل کو راہیں سجھاتی ہیں اور انسان قنوت و یا س کی تا ریکیوں سے نکل کر امید ور جا کی روشنی میں آجا تا ہے ،یہ ایسی روشنی ہو تی ہے کہ انسان اس میں اپنی شخصیت کو سمجھنے لگتا ہے، اپنی اچھائی دیکھنے اور برائی سے با خبر ہو نے لگتا ہے ۔
کتا بیںاپنے پڑھنے والوں کو عزت و رفعت ، دولت و ثروت ، شہرت و ناموری اور حکومت و اقتدار بھی عطا کر تی ہیں اور قو موں کے زوال و انحطاط کے اسباب بھی بتاتی ہیں۔ انسان کو مہذب و متمدن بنا کر پوری انسانی دنیا کو تہذیب و ثقافت کے عمدہ سانچے میں ڈھالنے کے تر غیبب بھی دیتی ہیں۔ اسے جینے کا شعور او ر قرینہ عطا کر تی ہیں ۔ لوگوںکی آپسی دوستی کا نتیجہ فساد اور بگاڑ ہو ا کر تا ہے ۔ مگر کتاب کی دوستی سے روح کی تازگی اور طبیعت کوسرور حا صل ہو تا ہے ۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی ’’کتابوں کے درمیاں ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔’’مطالعہ در اصل دوسروں کے تجربات سے استفادہ کا اور تاریخ کی برگزیدہ شخصیتوں سے ملاقات اور ان کی گفتگوسننے کا نام ہے۔سوانح عمریوںسے اور خاص طور سے خود نوشت سوانح سے اور سفر ناموں سے ایک قاری بہت کار آمد معلومات حاصل کر سکتا ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسا ن کو اپنی کوتاہوں کا اور کمزوریوں کا احساس ہو تا ہے،جسے وہ دور کرنے کی کوشش کرتا ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان کے شعور میں پختگی پیدا ہوتی ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان میں اچھے اور برے کی پرکھ اور تنقید کی صلاحیت پیدا ہو تی ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان میں فنی تخلیق کی استعداد پیدا ہو سکتی ہے،کتابوں کے مطالعہ سے انسان حیات اور کائنات کے مسائل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے، کتابوں کے مطالعہ سے ا نسان آفاق و انفس کی نشانیوںکو بہتر طور پر جان سکتا ہے،اس سے وہ اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے اور علم کے اظہار کے مؤثر طریقے دریافت کرتا ہے اور حیوان ِناہق کے درجہ سے نکل کر حیوانِ ناطق کے مرتبہ تک پہنچتا ہے۔ ایک انسان جب کتاب خانہ میں داخل ہوتا ہے اور کتابوں سے بھری ہوئی الماریوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے تو در اصل وہ ایسے شہر علم میںکھڑا ہوتا ہے جہاںتاریخ کے ہر دور کے عقلاء اور علماء اور اہل علم اور اہل ادب کی روحیں موجود ہوتی ہیں،اس شہر میںاس کی ملاقات امام غزالی،امام رازی،شکسپیر،برناڈشا،افلاطون، ارسطو ، ابن رشدسے لے کر دورِجدید کے تمام اہل علم اور اہل قلم سے ہو سکتی ہے۔کتاب خانہ بیٹھ کر شاہ ولی ا للہ دہلوی کی ’ ’ حجۃاللہ البالغۃ‘‘کا مطالعہ درا صل شاہ ولی ا للہ دہلوی سے براہ راست ملاقات اور استفادہ کا بدل ہے،کتاب وہ واسطہ ہے جس کے ذریعہ انسان ’’حاضرات‘‘ کے عمل کے بغیر اسلاف کی روحوں کومل سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطالعہ کے لئے صحیح کتابوں کا انتخاب ضروری ہے،کتابیں سمندر کے مانند ہیں،ضرورت اور ذوق کے مطابق کتابوںکا انتخاب کرنا چاہئے،اس میںکسی صاحبِ علم اور صاحبِ ذوق کی رہنمائی بھی اشد ضروری ہے،دل کے بارے میںجگر مرادآبادی کا شعر ہے:
کامل  رہبر   قاتل   رہزن
دل سا دوست  نہ دل  سادشمن
جگر مراد آباد ی نے دل کے با رے میں جو بات کہی ہے وہ کتاب پر اس سے زیادہ صادق ہو تی ہے ،کتابیں انسان کو ساحل ہدایت تک پہنچاتی ہیں،کتابیں انسان کو گمراہی کےبھنورمیں ڈبوتی بھی ہیں،کتابیں انسان کو گم کردہ راہ بھی بناتی ہیں،وہ کامل رہبر بھی ہیںاور قاتل رہزن بھی ہیں۔(کتابوں کے درمیاں ۔۶؍۷)
مو جو دہ دور میں راہ علم کے مسافرین بھٹکے ہوئے راہی ہو تے جا رہے ہیں۔ اس راہ کا زاد سفر کتابیں ہیں جو چھوڑدی گئی ہیں ، مطالعہ ہے جسے ترک کر دیا گیا ہے، جس کا اثر یہ ہے کہ رسوخ فی العلم جسے کہا جائے وہ بالکل نا پید ہو تا جا رہا ہے جبکہ اس زمانہ میں کتابوں کے جواہر پارے کو چن کر مو جو دہ تقاضوں کے مطابق پیش کر نا بہت ضرور ی ہے، اس ترقی پذیر دور میں ذرہ آفتاب ہو رہا ہے ، بے ا ہمیت چیز لائق قدر ہو رہی ہے لیکن ہماری کم کو شی کی وجہ سے علم کی پختگی جسے بہت آگے ہو نا چا ہئے وہی سب سے پیچھے ہے،اس لئے آج کی نئی ایجادات کے شر عی اور عقلی احکام کا بیان کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ۔
بعض مطالعہ کے رسیا اپنی علمی پیاس انٹرنیٹ پر مو جود موادسے بجھانے کی کو شش کر تے ہیں اور کم سے کم وقت میں  اہم علمی کارنامے انجام دے رہے ہیں ، اس پر وہ قابل مبارک باد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انٹر نیٹ اور کمپیوٹر سے استفادہ کرنے والے اہل علم اپنے نادر اور انو کھے کاموں میں آج بھی مطبوعہ کتابوں کی مراجعت کو ضروری خیال کر تے ہیں کیونکہ نیٹ پر دستیاب کتابیں عام طورپر مستشرقین اور اسلام دشمن دماغ کے دست بر د سے محفوظ نہیں ہیں ، دوسرے یہ کہ علمی دنیا کے سر مایہ کا اکثر حصہ آج بھی انٹرنیٹ پر نہیں ہے ، ان حالات میں کتابوں کی اہمیت ، انکی حیثیت ، عظمت او ر افادیت مسلم ہے ، دنیا کی ایجادات، اس کے تقاضے ، کتابوں کی اہمیت و افادیت مسافران علم سے اپنے اندر چھپے خزانہ کے بارے میں پکار پکار کہ رہی ہے ۔
’’ فکر و معنی کے سمو ئے ہیں سمندر کتنے‘‘
اے کتاب ! ہم تیری عظمت کو سلام کر تے ہیں اور تیری رفاقت و دوستی اختیار کرنے کا عزم مصمم کر تے ہیں کیونکہ ۔
سرو رِ علم ہے کیفِ شراب  سے بہتر
کو ئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
     الھدی اردو لائبریری
 چک پہاڑ  سمستی پور
  • 1
    Share
  • 1
    Share