Select your Top Menu from wp menus

کیا مودی کی ’ناممکن شکست‘ اب ’ممکن ‘ہے؟

کیا مودی کی ’ناممکن شکست‘ اب ’ممکن ‘ہے؟

باخبر کے قلم سے
رشید انصاری
لمبے چوڑے دعوے کرنے میں بے پناہ مہارت رکھنے والے وزیراعظم نریندر مودی کے چھوٹے موٹے ’’کارناموں‘‘ کی یہ کہہ کر زبردست تشہیر کی جارہی ہے کہ جو پہلے ناممکن تھا اس کو وزیر اعظم مودی نے اب ممکن بنادیا ہے۔ ایسے دعوے کیا واقعی صحیح ہیں ؟ اس کا جواب حتمی طور پر یہی ہے کہ ایسے دعووں میں صداقت بہت کم ہے۔ یوں بھی وزیر اعظم مودی جن کاموں کواپنا کارنامہ کہتے ہیں جیسے کہ اس میں سے ایک ہرگھر میں بیت الخلاء بنانا ہے لیکن بیشتر بیت الخلاء ایسے بھی ہیں جو پانی سے محروم ہیں یا 18 ہزار گاؤں میں بجلی پہنچانے کی حقیقت کچھ ایسی ہے کہ اگر سینکڑوں دیہاتوں میں بجلی کے کھمبے لگ گئے تو ان میں تار نہیں ہے اور اگر تار ہے تو اس میں بجلی کا کرنٹ نہیں۔ اسی طرح اور بھی وزیر اعظم مودی کے بیشتر دعوے حقیقت سے دور ہیں یا ذرا سی بات کا بتنگڑ بنادیا جاتا ہے۔ باوجود اس کے وزیر اعظم مودی اور ان کا مدد گار عملہ یہ جانتا ہے کہ جو دعوے کئے جارہے ہیں اس پر عوام کو بالکل یقین نہیں ہے اور اس سے ووٹ ملنا مشکل ہے کیونکہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی وزیر اعظم کے انتظامیہ کی نااہلی اور عدم کارکردگی کی وجہ سے عوام کو پہنچے نقصانات کو عوام بھلانہیں سکتے۔ اس لئے مودی نے پہلے رام مندر کا مسئلہ چھیڑا لیکن یہ بھی زیادہ کارکرد نہیں رہا۔ مذہب اور ذات کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرکے ووٹ لینا بھی اب آسان نہیں رہا ہے کیونکہ عوام ان باتوں سے پہنچنے والے نقصانات سے واقف ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف تقریباً ہر ریاست میں حزب مخالف کا بڑھتا ہوا زور اور چند ریاستوں میں مخالف بھاجپا ووٹ روکنے کے لئے مہاگٹھ بندھن اور گٹھ بندھن بنانے کے منصوبوں سے بھی وزیراعظم مودی اور بھاجپا بلکہ پورا سنگھ پریوار مایوسی کا شکارہے ۔
سنگھ پریوار ہار ماننے والا نہیں ہے۔ اس لئے پاکستان سے تنازعات اور خراب تعلقات کے مسائل چھیڑنے کا فیصلہ کرکے بھاجپا نے اپنے تابیدار ٹی وی چینلز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی مدد سے ہندوستان۔پاکستان کے خراب تعلقات اور تنازعات کے مسائل کا پروپیگنڈہ زور و شور سے شروع کردیا۔ اب یہ مودی کی قسمت تھی یا کوئی ڈرامہ کے پلوامہ کا حادثہ پیش آیا جس میں 40 سے زیادہ ہندوستانی جوانوں کی ہلاکت نے مودی کو ایک بڑا مسئلہ دے دیا اور میڈیا کو خاص طور پر چند مشہور ٹی وی چینلز کوپاکستان پر بھرپور حملہ نہ صحیح اس کے خلاف کوئی بڑی سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا مطالبہ کرنے کے لئے ایک جواز ہاتھ آگیا ۔ ٹی وی چینلز نے سارے ملک میں ایک جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش کی اور مودی حکومت نے پلوامہ کا بدلہ لینے کے لئے پاکستان کے اندر بالاکوٹ نامی مقام پر زبردست فضائی حملہ کردیا اور سرجیکل اسٹرائیک نمبر ایک کے وقت پاکستان کو زبردست نقصان پہنچانے کا جو دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسی طرح بالاکوٹ پر کئے گئے حملہ کو اور بھی خوف ناک بنادیا گیا۔ ٹی وی چینلز نے بالاکوٹ میں مبینہ دہشت گردوں کے کیمپس کی مکمل تباہی اور مرنے والوں کی تعداد 300کی لگ بھگ بتانی شروع کردی۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ نے تو اعلان کردیا کہ ہم نے چالیس سپاہیوں کی موت کا بدلہ 400 پاکستانی دہشت گردوں کو ہلاک کرکے لیا ہے۔ علاوہ ازیں بھاجپا کے دیگر وزراء اور قائدین نے بھی اپنے طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے مختلف اعداد و شمار پیش کرنے شروع کردئے لیکن مرنے والوں کے اعداد و شمار فوج یا وزارتِ دفاع یا وزیر اعظم مودی کی طرف سے نہیں پیش کئے گئے اور پہلی سرجیکل اسٹرائیک کے بعد اس کی کامیابی کے بارے میں جس طرح شکوک پیدا ہوئے تھے اور حزب مخالف نے حکومت سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی طرح بالاکوٹ پر حملہ کے بارے میں بھی حزب مخالف نے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار شروع کردیا اور ثبوت کا مطالبہ بھی ہونے لگا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے بیرونی ملکوں کے رپورٹروں اور خبر رساں (نیوزایجنسیاں)نے اپنی مختلف رپورٹس میں ہندوستان کی جانب سے کئے گئے دعوں کی تصدیق نہیں کی اور بالاکوٹ پر کئے گئے حملہ کی زبردست کامیابی کے بارے میں حکومت کے دعوے شکوک و شبہات کی زد میں آگئے اور پلوامہ کا بدلہ لینے کے لئے مودی کے جوابی اقدام کی عوام میں و اہمیت و وقت نہیں رہی جو ہونی چاہئے تھے اور اس کے بدلہ میں عوام سے بھاری تعداد میں ووٹ لینے کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا اور جن عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ملک کو جنگ کے دہانے تک پہنچانے والا منصوبہ عوام میں مقبول تو ہوا لوگ عارضی طور پر صحیح اپنے مسائل بھول کر پلوامہ اور بالاکوٹ کی طرف متوجہ ہوگئے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کے عوام بالاکوٹ کی وجہ سے مودی کو دوبارہ مسنداقتدار پر پہنچادیں گے بڑی حدتک غلط نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں بالاکوٹ پر حملہ کی زبردست کامیابیوں کے دعوے بھی مشکوک ہوگئے ہیں نیز ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں نہ صرف تضاد بلکہ عدم تصدیق کی وجہ سے بھی بالاکوٹ کا حملہ مودی کے خوابوں کو شائد ہی پورا کرسکے۔
یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے عوام اپنی فوج کے کارناموں (اور وہ بھی دشمن نمبر ایک ملک پاکستان کے خلاف )کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلاء ہیں۔ اس کی نہ صرف خود حکومت ذمہ دار ہے اور بڑی وجہ یہ ہے مودی حکومت پر عوام کا اعتماد بہت ہی کم ہے نیز ماضی میں مختلف قسم کے مبالغہ آمیز دعوؤں کے پورا نہ ہونا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں مبینہ دہشت گردوں کا بڑی حدتک خاتمہ اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے بارے میں بھی مودی حکومت کے دعوے صداقت سے بعید ہیں اس لئے بھی حکومت کے کسی بھی قسم کے دعووں’’خواہ وہ فوجی کارناموں کے بارے میں ہوں یا معاشی کامیابیوں اور نام نہاد ’’وکاس‘‘ (ترقی) کے بارے میں ہو ں‘‘ ان سب پر عوام بہت کم یقین کرتے ہیں۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جس حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے اور جو کچھ بھی حکومت نے کیا اس پر عوام اعتماد نہ کریں توکیا کریں۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں، سرجیکل اسٹرائیک نمبر ایک اور بالاکوٹ پر زبردست حملے، کامیابیوں اور ہلاکتوں کے دعوے ہوں ان سب پر جب ملک کے عوام صد فیصد یقین نہ کرتے ہوں اور حکومت پر سے عوام کا اعتماد ہی اُٹھ گیا ہو تو بھلا ایسی حکومت کیسے برسراقتدار آسکتی ہے؟ اس طرح چند ماہ پہلے تک2019 کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی شکست کو ’’ناممکن ‘‘سمجھنے والے مودی کی شکست ’’اب ممکن‘‘ نظر آتی ہے۔ یوں بھی انتخابی سیاست میں ناممکن کا ممکن بن جانا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share