Select your Top Menu from wp menus

اپنی منافرتی سوچ سے بھارت کو اقتصادی طور تباہ کرنے والے سنگھئوں کو کیا معاف کیا جائیگا؟

اپنی منافرتی سوچ سے بھارت کو اقتصادی طور تباہ کرنے والے سنگھئوں کو کیا معاف کیا جائیگا؟
 نقاش نائطی
 نائب ایڈیٹر اسٹار نیوز ٹوڈے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے


رام راجیہ جیسی مثالی منو وادی برہمنواد حکومت  کے برینڈ ایمبیسیڈر 56″ سینے والے مہان مودی جی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں آر ایس ایس بی جے پی کے منو وادی ایجنڈے پر، مکمل عمل پیرا رہتے، دیش کے اصل نواسی دلت پچھڑی ذات آدیواسی اور مسلمانوں کو گو رکھشہ موب لنچنگ و دیگر منافرتی ایجنڈوں میں الجھائے رکھنے میں کامیاب رہتے ہوئے، 50 سالہ سنہرے کانگریس دور اقتدار میں بڑی محنت سے قائم کئے حکومتی صنعتی، تجارتی ادارے، ہندستان کے سب سے بڑے مواصلاتی ادارے بی ایس این ایل، بھارت بیوی الکٹرکل کمپنی، بھارت ھیوی انڈسٹریل کمپنی ، بھارت ھیوی ٹینک،  فائٹر جیٹ و میزائل ساز  صنعتی کمپنیوں کے رہتے،جس میں  کروڑوں  ہندستانی برسرروزگار رہتے اپنے اور آل کی بہتر پرورش میں منہمک ہیں۔مہان مودی جی نے ہر سال دو کروڑ دیش کے یواؤں کو روزگار دینے کے سہانے خواب سجائے،دہلی کا اقتدار سنبھالا تھا ۔ان پانچ سالوں میں دس کروڑ یواؤں کو نوکریاں دینا تو دور کی بات، ای ایم آئی کی طرف سے جاری  اعداد وشمار مطابق 2018 میں بند کے مختلف سیکٹر میں برسرروزگار رہے ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔   اربوں کھربوں کے بڑے بین الملکی ٹھیکے حکومتی کمپنیوں کو دلواکر دیش کے یواؤں کو روزگار دلوانے کے بجائے، دیش کا پی ایم ان برہمن پونجی پتی کمپنیوں کا برانڈ ایمبیسیڈر بن، بیرون ملکی بڑے صنعتی ٹھیکے انہیں دلواتے ہوئے، ایک طرف بھارت کی بڑی  صنعتی کمپنیوں کا دیوالیہ نکالتے ہوئے ان کمپنیوں میں برسرروزگار   کروڑوں دیش واسیوں کو بے روزگار بنارہے ہیں تو دوسری طرف اپنے آپ کو دیش کا چوکیدار کہتے ہوئے دیش کی دولت کو اپنے پونجی پتی برہمن دوستوں پر لٹاتے ہوئے،دیش کی اردھ ویستھا کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔
بقول انکے،خود مودی جی کے کہے مطابق وہ تو فقیر آدمی ہیں اپنا جھولا لیکر کہیں بھی نکل جائیں گے لیکن ان کے نازی ہٹلر طرز ڈکٹریٹرانہ فیصلوں سے تباہ ہوتے چمنستان ہندستان کی اقتصادیات  کا کیا ہوگا اس دیش کے لاکھوں کروڑوں ارباب حل و عقل و دانش  یا کہ تعلیم یافتہ طبقہ نے سوچا بھی ہے؟ مودی جی اپنی ذاتی زندگی میں تو اپنی اردھانجلی ایشودھا بھین کو  زندگی بھر تڑپنےسسکنے بے یار ومددگار،بھگوان بھروسے چھوڑ چلتا بننے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اور ان کی بقیہ زندگی ان کے پونجی پتی برہمن آقاؤں کی چوکھٹ پر، ان کے پھینکے ٹکڑوں ہر عیش کرتے زندگی بیت جائیگی لیکن  ان کے ان ناعاقبت اندیشانہ آمرانہ فیصلوں سے برباد ہوتی دیش کی اردھ ویستھا کو دوبارہ سنبھالنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے  “جب دیش کا پڑھا لکھا سمجھ دار طبقہ دیش کو چلانے میں اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑ لیتا ہے تو بھگوان ایشور اللہ ایسے پڑھے لکھے لوگوں پر بھی ان پڑھ جاہل گنوار ناعاقبت ان دیش ظالم   حکمراں کو ان پر سوار کر ،ان کے ہاتھوں برباد ہوتے معاشرے کی گتی انہیں دیکھنے مجبور کردیتا ہے”
اس پانچ سالہ آر ایس ایس بی جے پی مودی کال میں، 2014 سے پہلے تیز رفتاری سے اقتصادی ترقی کرتی چمنستان ہندستان کی رفتار کے باعث، عالم کی سربراہی میں نمایاں مقام پانے والے ہندستان کو مودی جی کے نازی ہٹلر نما  آمرانہ فیصلوں نے، کئی دہوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔چاہے وہ 8ستمبر 2016 کا نوٹ بندی کا فیصلہ ہو،یا 32% تک کے جی ایس ٹی لاگو کرنے کا فیصلہ ہو، پانچ سالہ اقتدار بعد 2019 انتخاب سے عین قبل، اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پلوامہ ملٹری کانوائے حملہ میں  شہید 48 ویر فوجیوں کے مرتیو شریر پر اپنی سیاست کی دوکان چمکانےکا معاملہ ہو یا ہم ہندواسیوں کی توجہہ داخلی امور سے ہٹاکر دشمن ملک کے خلاف انکے پیچھے صف بستہ کھڑے کروانے کے لئے بالا کوٹ حملہ کا ناٹک کر، اپنی ویرتا دکھلاتے ہوئے، ووٹ بٹورنے کا معاملہ ہو، یا اپنی ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں سے دو ایٹومک پڑوسی دیشوں کے درمیان جنگ کروانے کا معاملہ ہو، بقول شاعر رزمی کے
یہ جبر بھی دیکھا ہے عہد کے سلطانوں کا
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے
اس اعتبار سے 56″ سینے والے مودی جی کی صلاحیتوں کو ماننا پڑتا ہے کہ اپوزیشن لیڈران بحیثیت پی ایم اس کی کارکردگی پر اس سے پوچھے گئے ہر سوال پر اس کی مجرمانہ خاموشی کے باعث، دیش واسی اسے بہرہ کہیں یا اجڈ گنوار، وہ اپنے منافرت پھیلاتے ایجنڈے پر  اور دیش واسیوں کو  وقفہ وقفہ سے ہمہ وقت ایک نئے موضوع پر الجھائے مشغول رکھے،   کسی کی بھی پرواہ کئے بنا مستقل مزاجی کے ساتھ 2019 ایک مرتبہ پھر، دہلی کا قلعہ فتح کرنے کی سمت گامزن ہے اپنے مقصد کے حصول کے لئے اسے، اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ دیش کی عدالت عالیہ کا وقار داؤ پر لگے یا دیش کی سب سے بڑی انٹیلیجنس ایجنسی، سی بی آئی کا وقار ہی مجروح ہویا دیش کی اقتصادیات کو سنبھالنے والے دیش کے مرکزی ریزرو بنک ہی پر آنچ نہ آئے یا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابی عمل کا انتظام و اہتمام کرنے والے  الیکشن کمیشن ہی پر دیش کی جنتا انگلی اٹھانے لگے،یا بعد آزادی ھند،اپنی تمام خامیوں کے باوجود اب تک دیش واسیوں میں گورتا وعزت قائم رکھنے والی افواج بند پر لوگ انگلی اٹھانے پرمجبور ہی کیوں نہ ہوجائیں، 56″سینے والے مہان مودی جی، ان تمام افکار سے پرے،  ہزاروں سالہ گنگا جمنی تہذیب سیکیولر اثاث کو درکنار کر، آرایس ایس کے ایجنڈے،ہندوراشٹر کے نرمان کی طرف بڑی ہی تندہی سے گامزن لگتے ہیں
2014  عام انتخاب میں پول ہوئے جملہ ووٹوں کا 31% حصہ اپنی جھولی میں پڑنے اور 69% ووٹ انکے خلاف پڑنے کے باوجود اپوزیشن ووٹوں کے مختلف دھڑوں میں بٹنے کی وجہ سے، مودی جی کو دہلی کی گدی تحفتا ملی تھی۔
2014 عام انتخاب میں  کل ھند آبادی 130 کروڑ میں سے کل ووٹر 62۔61% یعنی کہ 4۔81 کروڑ  ووٹرس تھے جس میں سے 66۔38%  یعنی 54،0333،200 کروڑ ووٹ پول ہوئے تھے جسکا 31% حصہ صرف 16،7503،292کروڑ  ووٹ بی جے پی کے حصہ میں آئے تھے، جوکہ کل ووٹرس 81۔4 کروڑ کے 20۔57% ہوتے ہیں اور کل ھند کی آبادی کے 12۔88% ہوتے ہیں۔گویا 2014 میں پول ہوئے جملہ ووٹوں کے 69۔9% ووٹ بی جے پی کے خلاف تھے جوکہ جملہ ھندستانی ووٹروں کے حساب سے  79۔43 % سیکیولر ووٹوں کے بی جے پی کے خلاف جانے کے باوجود سیکیولر ووٹوں کے بکھراؤکی وجہ سے بند پر سنگھئوں کو حکمرانی کا موقع ملا تھا۔ اس اعتبار سے ھند کی کل آبادی 130 کروڑ 87۔12% عام جنتا کی سیکیولر  سوچ کے خلاف صرف بارہ فیصد ووٹوں سے سنگھئوں نے پانچ سال تک 130 کروڑ سیکیولر ہندواسیوں پر حکومت کی تھی۔
2014 جملہ آبادی کا 12۔88% ووٹ حاصل کر ھند پر حکومت کرتے سنگھئوں کے ہندو مسلم منافرتی تانڈو کرتے رام راجیہ تناظر بعد بھی 2019 عام انتخاب میں چمنستان  ہندستان کا اقتصادی دیوالیہ کرنے والے سنگھئوں سے دیش کو آمان دلانے کے لئے تمام سیکیولر پارٹیوں کا مہاگٹھ بندھن کر 2019 عام انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرنا ہوگا  اور دیش کو ان جنونی مذہبی منافرت کا بازار گرم کرتے دیش کا امن و سکون برباد کرتے دیش کی اردھ ویستھا تباہ کرنے والوں سے دیش کو بچانا ہوگا۔
ایسے میں دیش کے سب بڑے صوبے اتر پردیش جہاں سے ستر پارلیمنٹ  سیٹیں دیش کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں ممد ہوا کرتی ہیں، یوپی کی دو بڑی سیکیولر پارٹیاں سماج واد اور بہوجن سماج، تیسری بڑی مرکزی پارٹی آل انڈیا کانگریس کو درکنارکر اپنے صوبائی گھٹ بندھن سے ہوسکتا ہے یوپی صوبے کی حد تک بی جے پی کو ایک حد تک نقصان پہنچانے میں کامیاب بھی رہیں لیکن آل انڈیا سیاسی اکھاڑے میں  کانگریس کو کمزور کرتے ہوئے، بی جے پی کے لئے  اندرون خانہ مدد گار ثابت ہوا ان کا فیصلہ لگتا ہے۔ یوپی صوبہ میں بھی سماج واد اور بہوجن سماج گٹھ بندھن میں کانگریس کو ساتھ نہ لینے سے، کانگریس کا الگ سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ، گویا یوپی کی حد تک تکونی مقابلہ میں،بی جے پی  اپنے مکر و فن سے ، زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر جیتتے ہوئے دہلی کی گدی پر اپنا منافرتی قبضہ جاری و ساری رکھنے میں ممد ہوا فیصلہ لگتا ہے۔ ہمیں امید ہے آنتخاب  قریب آتے آتے پانج سالہ سنگھئوں کے منافرتی موب لنچنگ  عذاب دور اور ان کے دیش کی اقتصادیات کو برباد کرتے اپنے برہمن پونجی پتیوں کو آباد کرتے، سنگھی دور حکومت سے چمنستان ہندستان کو صحیح معنوں آزادی دلانے کی خاطر 2019 عام انتخاب یقینا سنگ میل کی حیثیت جانے جائیں گے۔ انشاءاللہ
  • 1
    Share
  • 1
    Share