Select your Top Menu from wp menus

انصاف کا قتل کہو یا جمہوریت کا

انصاف کا قتل کہو یا جمہوریت کا

ذوالقرنین احمد

ملک عزیز میں موجودہ حکومت کی اقتدار میں آنے کے بعد سے فرقہ پرست عناصر کے حوصلے کافی بلند ہوتے دیکھائیں دینے لگے ہے بی جے پی حکومت اسی کے زور پر اقتدار میں آئیں پچھلے انتخابات میں انتخابی منشورات میں جھو ٹے وعدوں کے تحت اور ای وی ایم کے سہارے مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کرکے کسی طرح اقتدار میں آگئی اور اقتدار میں آنے کے بعد آج کی تاریخ میں اپنے کیے گئے وعدوں میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی  جس میں ہندؤں کو متحد کرنے کیلئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جسے حکومت کسی حال میں پورا نہیں کر سکی کیونکہ انھیں اپنی کرسی پیاری ہے اور یہ معاملہ حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے لیکن فرقہ پرست عناصر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اپنے وعدے کو جلد سے جلد پورا کریں چاہے آرڈیننس لاکر ہی کیوں نہ ہو، جبکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر یا جنم بھومی کی کوئی حقیقت نہیں ہے نا ہی اس کے پختہ شواہد موجود ہیں۔ اس کی تاریخی حقیقت کچھ یوں ہے کہ بابری مسجد سولہویں صدی میں شہنشاہ بابر کے عہد میں سن ۱۵۸۲ میں تعمیر کی گئی۔ اور رام کا جنم ہندوؤں کی تاریخ کہ مطابق ہزاروں سال قبل ہوا ہے اگر اس میں سچائی ہوتی تو ۱۶ویں صدی میں پیدائش کا دن پیدائش کی جگہ وغیرہ سب بحفاظت محفوظ ہوتا جس طرح بابری مسجد کی تاریخ موجود ہیں ۔لیکن ہندوستان کی آزادی کے بعد انگریزوں نے پھوٹ ڈالوں اور حکومت کرو کی پالیسی کو چھوڑ کر گئے اور ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جس میں مسلمانوں کی جان و مال جائیداد کو نقصان پہنچایا گیا اور ہندوستان میں مسلمان سیاسی و اقتصادی طور پر کمزور ہوتے چلے گئے۔ ۱۹۴۹ میں راتوں رات مسجد کے اندرونی حصے میں مورتیاں رکھ دی گئی اور مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا گیا مسجد کو مقفل کردیا گیا۔ اور فرقہ پرست ذہنیت کے حامل رہنماؤں نے منظم سازش کے تحت بابری مسجد کے جگہ رام جنم استھان ہونے دعویٰ کیا ۱۹۸۶ میں ڈسٹرکٹ جج نے حکم دیا کہ بابری مسجد کا تالا کھول دیا جائے اور ہندوں کو پوجا کی اجازت دی جائے۔ اور اسطرح سنگھی کارسیوکوں نے رام مندر کی تحریک کو تیز کردیا منظم طریقے سے ملک کے مختلف علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں  کارسیوک ایودھیا میں جمع ہوگئے غیر قانونی طور پر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو حکومتی اہلکاروں اور پولس کی موجودگی میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ جمہوری نظام کی پامالی کی گئی ملک کے بڑے بڑے شہروں میں مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیا لیکن حکومت کی یکطرفہ کارروائی میں مسلمانوں کو جانی مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا کئی نوجوان شہد ہوئے کئی کو جیلوں میں قید کردیا گیا، پاکدامن نفوس کی عصمتیں پامال کی گئی۔ اتنے بڑے  نقصان سے دوچار ہونے کی باوجود مسلمان ملک کے جمہوری قانون پر بھروسہ کرتے ہوئے انصاف کاانتظار کرتے آرہے ہیں اور‌ آج بھی عدلیہ کے فیصلے کو آخری فیصلہ ماننے کیلئے تیار ہے یہ انکی حکمت عملی ہے یا پھر ملک کے امن کیلئے سمجھوتہ ہے مسلمان ہر حال میں امن چاہتے ہیں، لیکن ملک کہ فرقہ پرست عناصر آج بھی بابری مسجد کہ معاملہ کو لیکر سیاست کر رہے ہیں ہندو مسلم کو لڑانا چاہتے۔ پچھلے سال وی ایچ پی کی رہنما سادھوی پراچی نے دہلی کی ایک تقریب میں کہا تھا ۶ دسمبر کو ہی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنا ہے،ایودھا کہ اندر ہندوستان کے ہندوؤں کو بلاؤ رام مندر کا اعلان کرو کسی کی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح رام جنم بھومی نیاس کے رکن ولاس ویدانتی نے کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر دسمبر میں شروع ہو جائینگی کا‌گریس نے ۷۰ سالوں سے اس وعدےکو لٹکایا ہوا ہے اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ ایودھیا میں رام کا مجسمہ نہیں لگے گا تو کہاں لگےگا۔ اسی طرح جمہوری نظام حکومت ہونے کے باوجود فرقہ پرست عناصر اتنے منہ زور ہوچکے ہیں کہ سپریم کورٹ کو توڑنے کی بات کررہے ہیں کھلے عام عالمی میڈیا پر کچھ اسطرح کے تبصرے اور دھمکیاں سپریم کورٹ کو دے رہے ہیں۔
اوقات میں رہے سپریم کوٹھا کہیں تمہیں بھی کوئی بابری ڈھانچہ نہ سمجھ لے۔
“شبھم سنگھ”
” جس طرح بابری مسجد کی گنبد گرائی تھی اسی طرح سپریم کورٹ کی گنبد گرنی چاہیے ” _ “جگدیش کمار”
” جس طرح بابری مسجد گرایا گیا تھا اسی طرح ایک دھکا سپریم کورٹ کو بھی دیا جائے۔” اجے کمار”
” ارے صاحب! ہندؤوں کے صبر کا امتحان مت لو، جب ہندؤوں کا صبر ٹوٹا تو بابری مسجد کا انہدام ہوا، اس بار صبر ٹوٹا تو سپریم کوٹھا بھی تہس نہس ہوجائے گا: _ “سنجے سنگھ”

یہ تمام دھمکی آمیز پوسٹ کو دیکھتے ہوئے بھی ان فرقہ پرستوں پر دیش دروہی ہونے کا مقدمہ درج نہیں ہوتا کسی سیکولر سیاسی جماعت کی جانب سے انکے خلاف مورچے نہیں ہوتے ناہی انکی ماب لنچنگ کی جاتی ہے نا ہی پولس ایکشن لیتی ہے۔ جبکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے جسے حال میں ثالثی پینل کے حوالے کیا گیا ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہاں کہ اس معاملے کو پر امن طریقے سے عدالت کے باہر ثالثی پینل کے زریعے باہمی اتفاق سے حل کیا جائے  اور مسلم مذہبی رہنماؤں کی طرف سے اسکا خوش آمدید کیا گیا، لیکن یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ بہت سال پہلے بھی کر سکتی تھی لیکن موجودہ حکومت کے اقتدار میں ہی ایسا حل کیوں تلاش کیا گیا، مسلمانوں نے اس معاملے میں کسی‌ مصلحت کے تحت یا غیر شعوری طور پر استقبال کیا لیکن سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ شاید اس لیے لینے پر مجبور ہونا پڑا کی کہی جمہوریت کے قدریں پامال نہ ہوجائے کئی سپریم کورٹ کے فیصلے سے سنگھی فرقہ پرست اشتعال میں آکر سپریم کورٹ کو نقصان نہ پہنچا دیں کیوں کہ شروع سے ہی بابری مسجد ملکیت کے معاملے میں تمام شواہد اور حقائق بابری مسجد کے حق میں ہے اور سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنے میں دشواری ہورہی تھی اس لیے اس طرح کا حل نکالا گیا جس‌ میں سپریم کورٹ کی بھی عزت بچ گئیں اور جمہوریت کی بھی اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ہندوستان کی جمہوری شناخت تمام دیگر ممالک میں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کیونکہ فرقہ پرست عناصر اس بات پر بضد ہے کہ فیصلہ کچھ بھی ہو رام مندر بنے گا اور اسکی مثال راجستھان میں ایک مسلمان تاجر کے قاتل شنبھو لال کے حق میں نکالی گئی ریلی میں عدالت کے اوپر سے ترنگے کو نکال کر بھگوا جھنڈا لہرایا گیا تھا۔ اب اسے انصاف کا قتل کہو یا جمہوریت کا۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share