Select your Top Menu from wp menus

میر تقی میر اور ان کی شاعری 

میر تقی میر اور ان کی شاعری 

………………………………
اردو زبان و ادب کی دنیا میں میر تقی میر ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے ان کی استادی کا اعتراف غالب ,ناسخ اور ذوق جیسے قادر الکلام شعراء نے کیا ہے اس سے میر کی شاعرانہ حیثیت اور ان کی ادبی اولیت مسلم ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے اردو غزل کو نیا رنگ و آہنگ اور منفرد لب و لہجہ عطا کیا یہی وجہ ہے کہ شعرائے متاخرین نے انہیں خدائے سخن کے لقب سے ملقب کیا اور مرزا غالب جیسی غزل کی دنیا کا جادوگر یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ”
ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

حالات زندگی!
میر تقی میر کی پیدائش 1773ء میں آگرہ میں ہوئی تھی ان کے والد کا نام محمد علی تھا اور اپنے زہد و تقوی کی بنا پر علی متقی سے مشہور تھا میر نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے دوست سید امان اللہ سے حاصل کی ان کے انتقال کے بعد خود ان کے والد نے ان کی تعلیم و تربیت کی جب میر گیارہ برس کے قریب پہنچے تو ان کے والد بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے یہاں سے میر کی دنیا اندھیری
ہوگئی اور ان کی حیات میں حزن و ملال اور درد و الم کے طویل باب کی شروعات ہوئی ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے باپ کے کل ترکہ پر قبضہ کرلیا گیارہ برس کی عمر جو کھیلنے,کودنے ,گھومنے ,ہنسنے اور اسکول و مدرسہ جانے کی عمر ہوتی ہے اس وقت میر غم کا پہاڑ اٹھائے پھرتا رہا بے آسرا،بے سہارا اور تحفظ سے محروم تلاش معاش کے لئے آگرہ سے نکلا اور تن تنہا قافلوں کے ساتھ سفر کرتا ،صعوبتیں جھیلتا ,بد وضع سراؤں میں قیام کرتا اور بچتا بچاتا 1734ء میں دلی پہنچا اس وقت دلی کی تخت پر محد شاہ بیٹھا تھا ہر طرف عیش و عشرت اور شباب و کباب کی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں حسینوں اور جمالں کی کثرت تھی ,دلی کے لال قلعہ میں تاج پوشی اور گردن تراشی کے تماشے نے سلطنت مغلیہ کا حال بہت پتلا کر رکھا تھا گویا بادشاہ دلی کی حیثیت شاہ شطرنج سے زیادہ نہ تھی .دلی کی رنگینیوں اور تخت و تاراج کو دیکھ کر میر دنگ رہ گیا اجنبی شہر ,اجنبی لوگ,بےیار و مددگار داغ یتیمی سے رنجور ,عدم تحفظ اور بے سروسامانی کے احساسات سے تھکا ہارا میر محمد شاہی عھد کی دلی میں تلاش معاش کے لئے گھومتا پھرا لیککن جلد ہی ایک نواب کے پاس ملازم ہوگئے نواب صاحب نادر شاہی حملہ 1739ء میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے لیکن گزر اوقت کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو دوبارہ دھلی روانہ ہوئے اور اپنے سوتیلے بھائی کے خالو سراج الدین آرزو کے یہاں ٹہرے سوتیلے بھائی کے اکسانے پر خان آرزو بھی درپے آزار ہوگئے ان پے در پے صدمات کی وجہ سے انہیں جنوں کی کیفیت پیدا ہوگئی .
میر کا زمانہ بڑا پر آشوب زمانہ تھا ہر چہار جانب محتاجی و تنگدستی اور درد و الم کو سہنے کے بعد تھک ہار کر میر گوشئہ عافیت کی خاطر لکھنؤ روانہ ہوگئے وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا اور میر راحت و آرام کی سانس لینے لگے لیکن کچھ اسباب و عوامل کی بنیاد پر ناراض ہوکر دربار کو خیر آباد کہہ دیئے آخری تین سالوں میں جوان بیٹی اور شریک حیات کے انتقال نے صدمات میں اور اضافہ کردیا آخر اقلیم سخن کا یہ حرماں نصیب شہنشاہ 87سال کی عمر پاکر 1810ء میں اپنے آبائی وطن سے دور لکھنؤ کے آغوش میں ہمیشہ کے لئے سوگیا (تاریخ ادب اردو صفحہ 125)
میر کی حیات مبارکہ کے متعلق جانکاری کا سب سے اہم ذریعہ ان کی سوانح عمری “ذکر میر “ہے یہ ان کی بچپن سے لکھنؤ میں قیام کے آغاز کی مدت پر محیط ہے میر نے اپنی زندگی کے کچھ سال دلی میں گزارے اس زمانے میں وہ جس محلہ میں رہتے تھے اسے “کوچہ چلم”کہا جاتا تھا  مولانا محمد حسین آزاد اپنی مشہور زمانہ کتاب “آب حیات”صفحہ 289 پر رقمطراز ہے کہ میر تقی میر جب دلی سے لکھنؤ روانہ ہورہے تھے اس وقت معاشی تنگ دستی اور غربت کا یہ عالم تھا کہ ان کے پاس گاڑی کا کرایہ بھی نہ تھا مجبورا ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا لکھنؤ پہنچے تو انہیں جانکاری ملی کہ یہاں آج ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہونے والا ہے میر نے اسی وقت غزل لکھی اور مشاعرہ میں جاکر شریک ہوگئے ان کی وضع قدیمانہ تھی جب وہ مجلس میں داخل ہوئے تو پورا مجمع ان کی ہیئت کو دیکھ کر کھلکھلا ہنسنے لگا مہر صاحب بیچارے غریب الوطن ,زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف کبارے میں جاکر بیٹھ گئے شمع جب ان کے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر پڑی کچھ لوگوں کے قلوب و اذہان میں یہ سوال پیدا ہورہے تھے کہ موصوف کا وطن کہاں ہے ؟میر صاحب نے برجستہ یہ قطعہ کہہ کر غزل طرحی میں شامل کیا,
کیا بود باس پوچھو ہو پورب کےساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کر ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

سب کو حال معلوم ہوا بہت معذرت کی عفو تقصیر چاہی ,کمال کے طالب تھے صبح ہوتے ہوتے پورے شہر میں ہنگامہ مچ گیا کہ میر صاحب تشریف لائے ہو ئے ہیں

میر کا سماج اور دلی کی بربادی !
ہر شاعر اپنے سماج اور ماحول کا پھل ہوتا ہے ان کے سامنے وقوع پزیر ہونے والے واقعات ,حادثات ,ان کی ذاتی زندگی میں رونما ہونے والے تجربات اور اس متعلق اس کے تاثرات ہی حقیقت میں ان کی ادبی ذوق و شوق کی تربیت کرنے ان کی شاعری کو جلا بخشنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں سماج اور معاشرے کی الٹ پھیر کے ساتھ ساتھ لاشعوری طور پر شاعر اپنی افکار و نظریات کو مختلف رنگ میں رنگ کر ایک خوبصورت غزل تیار کرتے ہیں اور اس طرح ان کی شاعری وقت کی رفتار کے ساتھ بدلتی رہتی ہے .میر تقی میر کا وجود اس دنیا میں ایک ایسے زمانے کے اندر ہوا جو سیاسی ,سماجی ,ملکی اور مراشی اعتبار سے سخت انتشار اور افرا تفری کا دور تھا مغل حکومت دن بدن کنزور ہو رہی تھی جو شخص بھی اپنی ذاتی قابلیت اور ریشہ دوانیوں سے یا اپنے حلیفوں کی مدد سے وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہو جاتا در اصل وہی حکمران وقت تھا ہندوستان کے ڈھیر سارے صوبے خودمختار ہو چکے تھے پورا ملک لوٹ مار کا شکار تھا میر قیام دلی کے زمانہ میں لوٹ مار اور قتل و خون کے ایسے بے شمار مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنی ذات پر سہے لٹے پٹے شہروں,کاروانوں اور انسانوں کے یہ منظر میر کی شاعری میں ایک المیہ رنگ پیدا کردیا اس رنگ کا غلبہ اتنا شدید تھا کہ بعد ازاں وہ علم سے محبت کرتا ہوا نظر آنے لگا اس کی شاعری میں ایک سوگ وار ماتمی لے مستقل طور پر سنائی دینے لگی دلی کی بربادی,عزیزوں اور خاندانوں کی تباہی, آئے دن کے انقلاب ,مرہٹوں,جاٹوں ,درانیوں کی قتل و غارت گیری میر نے اپنی آنکھوں سے دیکھے میر کی شاعری میں خون کے یہ دھبے آج تک نمایاں ہیں ”
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں اسے
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
میر زندگی کے نہایت بھرپور تجربہ کا شاعر تھا ایک ایسا شاعر کہ جس نے اپنے عھد کے کرب ناک مناظر دیکھے وہ ہمارے تہذیبی اور تاریخی حافظے کا شاہد تھا اس نے تاریخ کو نہایت تیزی سے ٹوٹتے اور بکھرتے دیکھا اس عذاب کو اس نے اپنی ہڈیوں سہا وہ تہذیبی زوال اور آشوب کا مورخ بھی تھا اور نوحہ خواں بھی ان کے اشعار پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کا ہر ایک شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے
میر کا درد و الم :
زندگی کے بارے میں میر کا نقطئہ نظریہ حزنیہ تھا حزن ایک ایسے درد و الم سے عبارت ہے جو اپنے اندر تفکر اور تخلیقی صلاحیتیں بھی رکھتا ہےمیر کا تصور زندگی مایوس کن نہیں صرف اس میں حزن و ملال کا وجود بہت زیادہ ہے مگر یہ حزن و ملال ہمیں زندگی سے نفرت و عداوت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے میر کا کمال فن یہی ہے کہ اس نے کانٹوں پر زندگی بسر کرنے کے بعد بھی زندگی کی بھرپور توانائی کا احساس دلایا ”

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے درد وغم کتنے کیے جمع تو دیوان ہوا
چشم رہتی ہے اب پر آب بہت
دل کو میرے ہے اضطراب بہت
متصل روتے رہیے تو بجھے آتش دل
ایک دو اشک تو اور آگ لگا دیتے ہیں

میر کا تصور غم :
میر کا تصور غم تخلیقی اور فکری ہے یہ قنوطیت پیدا نہیں کرتا اس کے ہوتے ہوئے میر کی شاعری میں توازن اور ٹہراؤ نظر آتا ہے شکستگی کا احساس نہیں ہوتا اور ضبط ,سنجیدگی اور تحمل ملتا ہے وہ حزن و الم سے دوچار ہونے کے باوجود بھی اسے فرحت و نشاط بنادیتے ہیں میر کی شاعری کو پڑھنے کے بعد ہمارے احساسات و جذبات اور افکار و نظریات میں وہ برداشت اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے جس کو صحیح معنوں میں تحمل کہا جاتا ہے
ہر صبح غموں میں شام کی ہے میں نے
خونابہ کشی مدام کی ہے میں نے
یہ محلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے میں نے

میر کی دردمندی:
میر کی شعر و شاعری میں درد مندی حزن و الم کا دوسرا نام ہے دردمندی سے مراد زندگی کے اندر درپیش آنے والے تلخ حقیقتوں کا اعتراف و ادراک اور حتی المقدور ان تلخیوں کو دور کرنے کی سعی و کوشش کا نام ہے درد مندی ان کی حیات مبارکہ کے تضادات سے جنم لیتی ہیں درد مندی کا منبع و مصدر قلب ہے میر کہتے ہیں
آبلے کی طرح ٹھیس لگی پھوٹ ہے
دردمندی میں کٹی ساری جوانی اپنی
نہ درد مندی سے تم یہ راہ چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جائے نالہ و فریاد

درد مندی کے محرکات:
میر کا زمانہ قتل و خون ریزی کا زمانہ تھا ہر طرف فتنہ و فساد اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور اس چیز نے انسانوں کو بے حد متاثر کیا تھا میر اس تباہیبکے محض تماشائی نہ تھے بلکہ وہ خود اس تباہ کن معاشرہ کے ایک فرد تھے جو صدیوں کے لگے بندھے نظام کی تباہی سے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر کر رہ گیا تھا اور اس کو جوڑنا ہمالیہ پہاڑ کو اٹھانے کے مترادف تھا .میر اس سماج کے اثرات شدت سے محسوس کیے ہیں .ان کی غزلوں میں اس تباہی کے نقوش ملتے ہیں .لٹے ہوئے نگروں,شہروں اور اجڑی ہوئی بستیوں کے حالات ,بجھے ہوئے دلوں کی تصویریں ,زمانے کے گرد و غبار کی دھندلاہٹیں,تشبیہوں اور استعاروں کی شکل میں میر کے یہاں موجود ہیں :
روشن ہے اس طرح دل ویراں میں آگ ایک
اجڑے نگر میں جیسے جلے ہیں چراغ ایک
دل کی ویرانی کا کیا مذکور
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گہا

میرکی بلند حوصلگی:
یہ ممکن ہی نہیں کہ میر کو زندگی سے بیزار شاعر کہا جائے کیونکہ ان کا غم دیگر شعراء کے غموں سے مختلف ہے ان کا غم ایک مہذب اور درد مند آدمی کا غم ہے جو زندگی کے تضاد کو گہرے طور پر محسوس کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ درد و الم کے ساگر میں غوطہ زن ہونے کے باوجود بھی میر بے حوصلہ نہیں ہوتے وہ سپاہیانہ دم خم رکھتے ہیں ,فوجی ساز و سامان کے استعاروں میں مطلب ادا کرکے زندگی کا ایسا احساس دلاتے ہیں جس میں بزدلی بہر حال ایک عیب ہے میر کہتے ہیں :
خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا
حوصلہ شرط عشق ہے ورنہ
بات کا کس کو ڈھب نہیں آتا

میر کی شاعری میں دنیا کی بے ثباتی!
اردو شعر و شاعری کی دنیا میں بےثباتی دنیا کا احساس بہت مشہور و معروف ہے اس موضوع پر لگ بھگ تمام شعراء نے طبع آزمائی کی ہے لیکن خاص طور سے میر تقی میر کی شاعری میں دنیا کی بے ثباتی کا ذکر بہترین اسلوب اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ملتا ہے .جس کی اصل وجہ اس عھد کے غیر یقینی اور ہنگامی صورت حال تھے جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں دنیا سے بے ثباتی کے موضوعات پروان چڑھے

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
نمود کرکے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا
کہے تو میر بلبلا تھا پانی کا
جس سر کو ہے یاں غرور تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

میر کی شاعری میں خلوص,سادگی اور صداقت:
میر کی شاعری میں ایک نہایت ہی اہم خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ اپنی شاعری میں فنی خلوص کو پوری صداقت سے لاتے ہیں فنی خلوص کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شاعر زندگی کے حادثات کو کو جس طرح اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ٹھیک اسی طرح بیان کرے میر کی شاعری اس لئے بھی مشہور و معروف ہے کہ اس میں سچائی اور خلوص کے ساتھ ساتھ تمام باتیں بے تکلفی کے انداز میں کہی گئی ہیں میر نے اپنی شاعری میں دوسروں کی طرح صرف تخیل کے گھوڑے نہیں دورائے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کہ میر عوام کے ساتھ شاعر تھے اس کے ارد گرد کی زندگی سے حزن و ملال کے مضامین کے فوارے ابل رہے تھے میر نے انہی مضامین کو بہترین لب و لہجہ اور سادہ الفاظ میں پیش کیا میر کے خلوص و صداقت کا اندازہ ان اشعار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے
قدم رکھتی نہ تھی متاع دل
سارے عالم کو میں دکھا لایا
دل مجھے اس گلی میں لے جاکر
اور بھی خاک میں ملا لایا
ابتداء ہی میں مر گئے سب یار
عشق کی کون انتہا لایا

میر کا خطابیہ انداز :
میر کے ڈھیر سارے ایسے اشعار ہیں جس میں وہ خطابیہ انداز اختیار کرتے ہیں کبھی وہ خود سے مخاطب ہوتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے شخص سے کبھی ان کا تخاطب بلبل سے ہے تو کبھی شمع و پروانہ سے ان تمام کیفیتوں میں بات چیت اور بے تکلفی کا رنگ بہر حال قائم رہتا ہے چند اشعار بطقر نمونہ ذیل میں درج کئے جارہے ہیں
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے .
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد
ابتدائے عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

میر کا طنز :
میر کی شاعری میں طنز در حقیقت ان کی فطرت کی عکاسی ہے جب کوئی جملہ طنز کے ساتھ بولتے ہیں تو اس سے صرف بے تکلفی نہیں جھلکتی بلکہ ایسا پتہ چلتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے گزر چکے ہیں ان کے طنز میں ایک مدہم سی تلخی ہوتی ہے جو پختہ مغزی
کی علامت ہوتی ہے ان کے طنز میں غالب کی تیزی کی جگہ ایک عجب پر کیف نرمی ہوتی ہے .
ہوگا کسو دیوار کے سائے تلے میں میر
کی کام محبت سے اس آرام طلب کو
عشق کرتے ہیں اس پری رو سے
میر صاحب بھی کیا دیوانے ہے

میر کی تشبیہات و استعارات :
میر نے اپنی شاعری کو زیادہ خوبصورت بنانے کے لئے تشبیہ و استعارے کا بڑے سلیقے سے استعمال کیا ہے یہ تشبیہات مردہ نہیں بلکہ ان کے اندر زندگی دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے میر اپنی زندگی بھر کے حادثات ,واقعات,تجربات اور تاثرات کو پوری صداقت کے ساتھ تشبیہات و استعارت کی شکل دیتا ہے جس میں تصنع یا بناوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوتا
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

میر کی ترنم اور موسیقیت :
میر کی شاعری میں غنائیت اور موسیقیت اپنے اندر فنی دلکشی کے بہت سے پہلو رکھتی ہے میر کے انداز کی نغمگی اور ترنم مسلم ہے اور یہی میر کی عظمت کا راز ہے ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختلف خیالات کے اظہار کے لئے مختلف بحروں کا انتخاب کرکے نغمگی پیدا کرتے ہیں فارسی کی مروجہ بحروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ میر نے ہندی کے پنگل کو اردو غزل کے مزاج کا حصہ بنا کر ہم آہنگی کی صورت دینے کی کامیاب کوشش کی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی شاعری میں بڑی کیف آور اورباثر انگیز غنائیت و موسیقی پیدا ہوتی ہے .

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا
جانے ہے
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ
بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و
باراں ہے

میر کی شاعری میں متصوفانہ رنگ:
میر کی شاعری کے فکری عناصر میں متصوفانہ رنگ خاص طور پر قابل ذکر ہے ان کے والد اور چچا صوفیانہ افکار و نظریات کے حامل تھے اور رات دن جذب و مستی کی کیفیات میں سرشار رہتے تھے میر نے ان بزرگوں کی صحبت میں چند سال گزارے تھے تو وہ بھلا کس طرح صوفیانہ تجربہ سے الگ رہ سکتے تھے ان کے یہاں تصوف کا تجربہ محض روایتی نہیں ہے یہ رسمی بھی نہیں ہے اس تجربے نے میر کے ذہن و فکر کی تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں وہ زندگی کو کسی عام انسان کی طرح نہیں دیکھتے ان کی نظر صاف دل صوفی کی نظر ہے

    موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
سرسری تم جہاں سے گزرے
ورنہ ہر جا جہاں دیگر تھا

میر کی شاعری میں تصور محبوب:
یہ بات صد فیصد صحیح ہے کہ میر نے ایک گوشت پوست کے زندہ و متحرک محبوب سے صرف محبت ہی نہیں بلکہ بھرپور محبت کی تھی اور محبوب سے ان کے احساس جمال قوت تخیل اور تصور حسن پر روشنی پڑتی ہے ان کا محبوب حسن و جمال کی پڑی اور خوبصورتی کا منبع و مصدر ہے میر کا محبوب صرف چاند جیسا ہی نہیں بلکہ جسم خوشبودار اور رنگ و نو کا مجسمہ بھی ہے
ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں
جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

میر کی شاعری میں تصور عشق:
میر کے یہاں عشق آداب سیکھاتا ہے محبوب کی عزت و تکریم کا درس دیتا ہے اگرچہ اس کا انجام ہمیشہ دردناک ہوتا ہے پھر بھی میر کو اس عشق سے پیار ہے یہی عشق ان کی زندگی کا اصل مقصد ہے اسی عشق نے ان کی زندگی میں خوشی و مسرت اور حرکت وعمل پیدا کی.میر کے خیال میں زندگی ساری رونق اور چہل پہل اسی عشق کی وجہ سے یے اگر عشق نہ ہوتا تو یہ کارخانہ قدرت بےکار ,خاموش ,بےحرکت اور بے لذت ہوتا تصور عشق کے حوالے سے ان کے نمائندہ اشعار درج ذیل ہیں .
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
محبت ہی اس کارخانے میں ہے
محبت سے سب کچھ زمانے میں ہے
ہم طور عشق سے واقف نہیں ہیں لیکن
سینے میں جیسے دل کو کوئی ملا کرے ہے

میر کی شاعری میں احساس برتری:
میر کی شاعری کے ڈھیر سارے رنگوں میں سے ایک نہایت ہی اہم رنگ احساس برتری کا رنگ ہے یہ شعر گوئی کا ایک ایسا انداز ہے جس نے تمام شاعروں کو بے حد متاثر کیا ہے اور سارے شاعروں نے اس رنگ میں طبع آزمائی کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن صلاح و فلاح سے ہمکنار نہ ہوسکے اسی لئے میر احساس برتری کو سامنے لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں
کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں

خلاصہ کلام :
میر تقی میر نے ڈھیر سارے اصناف سخن میں طبع آزمائی کی.ان تمام سخن کو یہاں پہ ذکر کرنا سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے لیکن ان کے مجموعہ کلام کو سامنے رکھتے ہوئے اتنی بات تو ضرور کہنا چاہونگا کہ مہر تقی میر سرتاج شعرائے اردو ہیں .ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائیگا جیسے سعدی کا کلام فارسی میں اگر دنیا میں ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیاتر کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میر کا نام اس فہرست میں ضرور داخل ہوگا کیونکہ میر نے اپنی تخلیقی قوتوں سے زندگی کا رس نچوڑ کر اسے شاعری کے قالب میں ڈھال دیا ہے اس لئے جب تک اردو زبان و ادب اس دنیا کے اندر پڑھی,لکھی اور بولی جائے گی اس وقت تک لوگوں کے لسان و زبان پر میر کے اشعار رہیں گے ..

ذیشان الہی منیر تیمی
مانو کالج اورنگ آباد

  • 43
    Shares
  • 43
    Shares