Select your Top Menu from wp menus

نئی نسل کی ابھرتی شاعرہ ؛عروسہ عرشی 

نئی نسل کی ابھرتی شاعرہ ؛عروسہ عرشی 
عاقل حسین،مدھوبنی
مدھوبنی:اللہ کے کرم و ماں باپ اور بزرگوں کی دعا سے مشکل بھری منزل بھی آسان ہوجاتی ہے ۔اور یہ بات ہمیشہ ہی سچ ثابت ہوتی آئی ہے۔ اور اسی طرح محترمہ عروسہ عرشی نے بھی اپنی منزل کا سفر کچھ ایسے ہی طے کیا ہے ۔ نوجوان شاعرہ جنہوں نے کم عمر میں ہی بین الاقوامی سطح پر شناخت قائم کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ راستے کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہو‘ محنت اور لگن سے اسے عبور کرلیا جا سکتا ۔ ہم ان کے ایک قطعہ ’’بوئے حنا بھی ہوکے بہت سرخرو چلی، جب میں چلی حیات چلی جستجو چلیکچھ ایسا اشتیاق زمانے کو مجھ سےتھا، ہر گفتگو کے ساتھ میری گفتگو چلی‘‘کے ساتھ ان کی سفر شاعری کے سلسلے میں ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔ محترمہ عروس عرشی کلکتہ شہر کی رہنے والی ہے۔ گذشتہ دنوں وہ مدھوبنی میں آل انڈیا مشاعرہ میں شرکت کرنے پہنچی تھی۔جہاں انہوں نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ مشاعرے کی دنیا میں آنے کی ان کی دلچسپی نہیں تھی۔ شعر و شاعری سے شغف ضرور تھا وہ بتا تی ہیں اس دنیا سے ان کی پہچان ان والد محترم جناب محمد قربان علی صاحب کے ایک شاگرد نسیم فائق نے کروائی ۔انہوں نے کہا آپ کی قابلیت یہاں کیلئے ہے اس سے قبل انہوں نے یہ بتایا کے وہ کالج کے دنوں میں اپنے کلام کو دیکھانے اپنے پروفیسر عمر غزالی کو گئی وہ بتاتی ہیں کہ جب ہم اپنے استاد مولانا آزاد کالج کلکتہ کے عمرغزالی سے اپنی ایک غزل کی اصلاح کے لئے گئی تو انہوں نے غزل کو دیکھتے ہی کہاکہ اس سے درد کی بہت زیادہ عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے ہی میرا حوصلہ بڑھا اور ایک مقامی سطح پر منعقد پروگرام میں شرکت کو پہنچی تو حیرت کی بات یہ رہی کہ اس پروگرام میں ہمارے کالج کے ایک دوسرے پروفیسر شاہنواز شبلی سر موجود تھے ۔ جہاں میں انہیں دیکھ کر ڈر گئی کہ میں کیسے پڑھ سکوںگی یہ عشقیا کلام اور سر بھی دیکھ کر چونک گئی ،ارے عروسہ تم تو میں گھبرا گئی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے پروفیسر صاحب کے ساتھ ڈائس جو شیر کر رہی تھی خوش تو تھی اندر سے پر باہر سے ڈری ہوئی تھی میں نے سر سے کہا سر میں آپ کے سامنے کیسے پڑھونگی سر نے کہا تم ہماری کالج کی شاگردہ ہو ڈٹ کر پڑھنا اور ہمارا نام کرو اور سر یہ بول کر چل دی اور وہ پرگرام میری زندگی کا سب سے یادگار مشاعرہ رہا۔یہ دوسری مرتبہ میری ہمت میں اضافہ ہوا اپنے استاد کو نہ دیکھنے کے بعد میرا حوصلہ بحال ہوا اور میں وہاں اپنی غزل پیش کرسکی۔ وہاں موجود بڑے شعراء نے خوب داد وتحسین دیئے اور اس فن کو اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد میں زیادہ پروگرام میں شرکت نہیں کرسکی چھوٹی بہن کے برین ٹیومر کی وجہ سے گھر کا ماحول اور دل دونوں ہی خراب رہنے لگا پر اللہ کے کرم سے میری بہن کو نئی زندگی ملی الحمداللہ میری خواہش ہمیشہwbcs کی رہی پر پریشانیوں نے ہمیشہ گھیرے رکھا ۔سوچاکہ  wbsc کرکے  ایک افسر بن کر قوم وملت کی خدمت کروں لیکن اللہ نے مجھے کسی اور طرح سے لوگوں تک میری بات پہچانے کا ذریعہ بنایا اور میں اسکا جتنا بھی شکر کرو کم ہے میں نے سوچا اپنی شاعری سے بھی معاشرہ کی اصلاح کی کوشش کرسکتی ہوں۔ جس کے بعد میں نے اس کا آغاز 2012-13 میں شاعرہ کی حیثیت سے شروع کردیا۔ اس کے بعد مجھے قومی وبین الاقوامی مثلاً دبئی شارجہ، نیپال سمیت دیگر ممالک میں بھی اپنے کلام پیش کرنے کا موقع ملا۔ آسٹریلیا جاتی ہوئی رہ گئی ،کیونکہ کے اس وقت میرے پاس آئی ٹی فائل نہیں تھا۔ محترمہ عروسہ بتاتی ہے کہ منور راناؔ صاحب جو کے ایک معروف نام ہے وہ ان کے والد محترم جناب محمد قربان علی صاحب کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ ا ن کے والد صاحب1975میں محمد جان سکنڈری ہائی اسکول کلکتہ میں معلم تھے ،تو اس زمانے میں منور راناؔ، فراغ رہوی جو مرے شروعاتی دنوں میں میری غزلوں کی اصلاح کرتے تھے اور کئی بڑے نام اس وقت میرے والد کے شاگرد تھے۔ اس سلسلے میں منور راناؔ صاحب بھی مجھے کچھ پروگرام میں ملے میرے والد کا ذکر چھیڑا کہ وہ ایک اچھے معلم اور بہت ہی زندہ دل شخص تھے،ان کی وجہ سے ہوں ۔ وہ جب ہم لوگوں کو پڑھاتے تھے تو ان کے ساتھ پڑھنے میں کافی طبیعت لگتی تھی۔ ویسے عروسہ عرشی بتاتی ہے کہ شاعری مجھے وراثت میں ملی ہے کیوںکہ میری والدہ کو بھی شعر وشاعری سے بڑا شغف تھا اور کچھ ایسا ہی اثر والد میں بھی رہا۔ انہی کی وراثت اور دعا کے سبب میں آج شعر وشاعری کی دنیا اس مقام پر ہوں۔ محترمہ نے اخیر میں بتایا کہ میری کوشش ہے کہ میں wbsc  کی تیاری کے ساتھ ساتھ شاعری کی دنیا میں بھی قائم رہوں اور خدا کی مہربانی سے wbcs exam پاس کر گئی تو بھی شاعری سے وابستگی رہے گی کیوںکہ شاعری کی دنیا بھی منفرد حیثیت رکھتی ہے اور اس کے توسط سے بھی قوم و ملت کے علاوہ ملک کی خدمت کا موقع ملتا ہے۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share