Select your Top Menu from wp menus

سیتامڑھی میں ہوئے بہیمانہ قتل کے مجرموں کو سخت سزادی جائے!

سیتامڑھی میں ہوئے بہیمانہ قتل کے مجرموں کو سخت سزادی جائے!

 

انصاف اسی وقت ہوگا جب محمد تسلیم اور غفران کے قتل میں شریک پولیس والوں پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے! اور انہیں سخت سزا دی
جائے!
محمد سیف الاسلام مدنی
   نور گنج پکھرایاں ضلع کانپور دیہات یوپی      _______________________
اس وقت ملک ہندوستان کے حالات روز روشن کی طرح عیاں ہے، کہ کس طرح سے اس ملک میں ایک خواص طبقہ کے خلاف، تشدد کا ماحول قائم کردیا گیا ہے، جسمانی تشدد سے لیکر عدم معیشت تک، عدم انصاف، نفرت، عداوت کا ماحول گرم کردیا گیا ہے، کریمنل ایکٹ کے تحت مسلمانوں کو گرفتار کرکے، کس حد تک تشدد کیا جاتا ہے، اور انتہاء سے زیادہ تشدد کرکے، بے قصور نوجوان مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، ملک کےپاسبان، انصاف کے علمبردار، اور ملک سے مجرمانہ ذہنیت کو ختم کرنے والا ادارہ، پولیس ڈپارٹمینٹ، کی حالت ملک ہندوستان میں کیا ہے، یہ سب کو معلوم ہے،
گزشتہ بدھ 6/ مارچ کو ریاست بہار کے حساس شہر سیتا مڑھی، میں،
محمد غفران و محمدتسلیم کو سیتامڑھی ضلع کے ڈمرا تھانہ کی پولیس نے منگل کو پوچھ تاچھ کے لئے دونوں نوجوانوں کو گرفتار کیا، جن پر پوچھ تاچھ کے دوران انتہاء سے زیادہ جسمانی  تشدد کیا گیا  تھرڈ ڈگری کرنٹ کا ٹارچر دیا گیا ۔جس سے بہار کی پولیس کی حقیقت کھل کر سامنے آگئ ہے کہ کس طرح سے مسلمانوں کو گرفتار کرکے، ان پر ناقابل برداشت سزائیں جاری کی جاتی ہے ‘ یہ نہ  صرف ہیمونٹی رائٹس کے خلاف ہے،  بلکہ انصاف کا گن گانے والوں کے منھ پر طمانچہ بھی ہے۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ دونوں نوجوانوں کو اس قدر مارا گیا کرنٹ کے شاٹس لگائے گئے وہ بھی ناکردہ جرائم کو قبول کرنے کے سلسلہ میں،
اس قدر تشدد ہوا کہ چند منٹ کے اندر ہی دونوں نے دم توڑ دیا۔
میرے خیال سے یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ منصوبہ بندی کے ساتھ قتل ہے، کس طرح سے عام شہری ان پر اعتبار کرینگے، جس ڈیپارٹمینٹ کے پاس ملزم انصاف کی تلاش میں جاتے ہیں، جس کی ذمہ داری مجرموں کو تلاش کرکے، بے قصوروں اور عام شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، جنکی ذمہ داری ایک ایک بے قصور اور عام شہری کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے جب وہ خود قاتل بن جائیں، جب وہ خود بے قصوروں پر ظلم و ستم کی انتہاء کردیں، تو پھر کہنا پڑےگا، کہاں ہیں وہ لوگ جو حقوق انسانیت (ہیومینٹی رائٹس کے لئے)  آواز بلند کرتے ہیں، وہ لوگ جو ہر معاملہ میں یہ کہتے ہیں کہ قانون کا کام انصاف دلوانا ہے، کیا یہی انصاف ہے کہ جن کی جان ومال کی حفاظت کرنا آپکی ذمہ داری ہے آپ انہیں صرف اس لئے قتل کردیں، کہ وہ مسلمان ہیں،
اور یہ کوئی نئی بات نہیں آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں پر اس طرح کے حالات آئے ہیں، اور ہمیشہ حکومت اور عدالتوں کی طرف سے مسلمانوں کے تئیں عدم انصاف کا رویہ رہا ہے “
سبھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم کی ایک طویل فہرست ہے
“مگر موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے جس طرح انصاف کا قتل کیا جارہا ہے عدالتوں کے وقار کو پامال کیا جارہا ہے “اسنے اس ملک کی گندی سیاست کو مزید اجاگر کردیا، آخر ان معاملات میں سرکار کوئی بڑا قدم کیوں نہیں اٹھاتی، کیا پولیس والوں کی برخاستگی سے مستقبل میں اس طرح کے واقعات پر مکمل روک لگائی جاسکتی ہے،؟ ہرگز نہیں، بلکہ سرکار اور اعلیٰ افسران کی.ذمہ.داری ہے کہ وہ ایسے ظالم اور مجرم پولیس والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے “ان پر قتل.کا کیس چلایا جائے، انکو جیل کے اندر ڈالا جائے، مزید آنکہ ان پر خطیر مالی جرمانہ بھی عائد کیا جائے جو اس ملک میں ظلم کے خلاف مثالی اقدام.ہو، اس سلسلہ میں، ملک کی موقر شخصیات، سیاست داں، دانشور حضرات، اور خود ریاست بہار کے مسلم قائدین اس بات کا سخت نوٹس لیں اور حکومت اوراعلیٰ افسران کو مجبور کریں، کہ وہ سیتا مڑھی میں ہونے والے لگاتار جرائم کے مجرموں کے خلاف سخت قدم اٹھائیں تاکہ مجرموں کے اندر ظلم اور جرم.کا خوف پیدا ہو،
اس سے پہلے بھی سیتا مڑھی میں مسلمانوں کا بہیمانہ قتل کیا گیا، مگر افسوس آج ابھی انہیں انصاف نہیں ملا ‘مسلم رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ ایسی نیتی بنائیں کہ اس ملک میں مذہب کے نام پر تشدد بند کیا جائے، اغیار کی طرح قوم مسلم کے جوانوں کو بھی تحفظ حاصل ہو وہ خطرات، کی زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوں، وہ اپنے آپ کو محفوظ خیال کریں، لیکن آج تک ایسا کوئی نظم نہیں ہوسکا جس سے اس ملک میں امن و امان قائم ہو اور مذہبی تشدد کا خاتمہ ہو، لیکن اب وقت کی ضرورت ہے اور اس ملک میں مسلمانوں کے لئے حالات حال میں اور مستقبل میں کوئی اچھے نظر نہیں آرہے ہیں، اس لئے اب کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ اس ملک میں مسلمان اس مقام پر پہونچ جائےگا، جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوگی
  • 4
    Shares
  • 4
    Shares