Select your Top Menu from wp menus

قتل معاملے میں ملوث پولیس پر قتل کا مقدمہ درج کر 24 گھنٹے کے اندر جیل نہیں بھیجا گیا تو پورے بہار میں ہوگا احتجاج: بیداری کارواں

قتل معاملے میں ملوث پولیس پر قتل کا مقدمہ درج کر 24 گھنٹے کے اندر جیل نہیں بھیجا گیا تو پورے بہار میں ہوگا احتجاج: بیداری کارواں
مسلم مخالف ہے بہار پولیس، تھرڈ ڈگری دیکر کسٹڈی میں دو نوجوان کا قتل سوساشن کے منھ پر طمانچہ: نظرعالم



دربھنگہ:پریس ریلیز۔8 مارچ/ پوربی چمپارن کے چکیا تھانہ حلقہ کے رام ڈیہا باشندہ محمد غفران و محمدتسلیم کو سیتامڑھی ضلع کے ڈمرا تھانہ کی پولیس نے منگل کو پوچھ تاچھ کے لئے دونوں نوجوان کو اٹھاکر لے گئی تھی جسے تھرڈ ڈگری کا استعمال پر قتل کردیا گیا۔جو نہ صرف پوری انسانیت نواز کے منھ پر طمانچہ ہے بلکہ سوساشن کے منھ پر بھی بڑا طمانچہ ہے۔ دونوں نوجوان کے گارجین کا صاف لفظوں میں کہنا ہے کہ پولیس نے اِن کے بیٹھے کو زبردستی جرم قبول کرنے کے لئے تھرڈ ڈگری کا استعمال قتل کردیا ہے۔ دو نوں نوجوان کو پولیس نے اس قدر پیٹا کے دونوں کوما میں چلے گئے اورپھر پندرہ منٹ کے اندر ہی دونوں نے دم توڑ دیا۔آل انڈیا مسلم بیداری کارواں دونوں نوجوان کے قتل کی سخت مزمت کرتا ہے اور حکومت کے مکھیا نتیش کمار اور ضلع پولیس کپتان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ قتل میں ملوث پولیس افسران پر قتل کا مقدمہ درج کر 24 گھنٹے کے اندر جیل میں ڈالے، سسپنڈ سے کام نہیں چلے گا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر پورے بہار میں اقلیت مخالف حکومت کے خلاف احتجاج کی صدا بلند کی جائے گی۔ ساتھ ہی وزیراعلیٰ کو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے درخواست لکھ یہ مطالبہ کیا ہے کہ دو نوں جوان کے قتل معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے ۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے پریس بیان میں کہی۔ مسٹرعالم نے آگے کہا کہ پہلے ہی نتیش حکومت سیتامڑھی فساد پر چپی سادھ مسلمانوں پر ہوئے آتنک کو دبانے کا ننگا کھیل کھیل چکی ہے۔ اتناہی نہیں پچھلے دنوں ہوئے فساد میں زین الانصاری کا سرعام قتل کو بھی نتیش حکومت نے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے، جس سے پورے اقلیتی طبقہ میں ریاستی حکومت اور حکومت کے مکھیا نتیش کمار کے خلاف کافی غصہ پایا جارہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے سیتامڑھی کے اقلیتوں پر یکطرفہ حملہ کیا جارہا ہے، لگاتار مآب لنچنگ میں لوگوں کو مارا جارہا ہے، فساد کے نام پر اقلیتوں کی دکانیں ،مکانیں جلائی اور لوٹی جارہی ہیں، پھر بھی نتیش حکومت خود کو اقلیتوں کا ہمدرد بتاتی ہے۔ ایک کہاوت ہے۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔پورے بہار میں اقلیتوں میں اُترپردیش حکومت کے طرز پر نتیش حکومت نے بھی کام شروع کردیا ہے جس سے بہار کا اقلیتی طبقہ خود کو غیرمحفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ حکومت اگر واقعی اقلیتوں کی ہمدرد ہے، بہار میں قانون کا راج، نیائے کے ساتھ وِکاس کا دعوی کرتی ہے تو سیتامڑھی فسادیوں پر قانونی کارروائی کرے، محمدتسلیم، محمدغفران اور زین الانصاری کے قاتل پر قتل کا مقدمہ درج کر سبھی مجرم کو جیل میں ڈالے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی ہے اور اقلیتوں کے اندر پنپ رہے خوف و حراس کے ماحول کو روک نہیں پاتی ہے تو آنے والے 2019-2020 کے انتخاب میں بڑا نقصان بھگتنے کو تیار رہے۔ نتیش جی اگر اس خوش فہمی میں جی رہے ہیں کہ بلیاوی، خورشید عالم اور عبدالقیوم جیسے لوگوں کو اپنی پارٹی میں جگہ دے کر اقلیتوں کو بے قوف بناکر اقلیتوں کو2019-2020 میں پھر سے ٹھگ لیں گے اور اقلیتوں کا ووٹ حاصل کرلیں گے تو یہ بہت بڑی بھول ہے۔ مسٹرنظرعالم نے آخر میں بتایا کہ 9 مارچ کو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے بینرتلے پٹنہ کے گردنی باغ میں مدرسہ بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم کی منمانی کے خلاف احتجاج ہونا تھا جسے سیتامڑھی معاملے کو لیکر آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ 11 مارچ کو ہوگا پٹنہ میں عبدالقیوم کے خلاف احتجاج۔ 9اور 10 مارچ کو دربھنگہ اور مدھوبنی میں محمدغفران اور محمدتسلیم کے قتل کے خلاف احتجاج کرے گا بیداری کارواں۔
  • 30
    Shares
  • 30
    Shares
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com