Select your Top Menu from wp menus

درسگاہ اسلامی فکر و نظر کی بستی :تعارف وتبصرہ

درسگاہ اسلامی فکر و نظر کی بستی :تعارف وتبصرہ

نور السلام ندوی،پٹنہ
زیر تبصرہ کتاب ’’درسگاہ اسلامی فکر و نظر کی بستی ‘‘مولانا ڈاکٹر عبد الودود قاسمی کی تالیف ہے ۔درسگاہ اسلامی پرانی منصفی دربھنگہ ایک قدیم ،معروف اور بافیض تعلیمی ادارہ ہے ۔ملک و ملت کیلئے ان کے خدمات قابل لحاظ ہیں ،دینی وعصری علوم کا سنگم درسگاہ اسلامی کا ماضی بہت تابناک رہاہے ،موجودہ تعلیمی انحطاط کے ماحول میں بھی اس ادارے نے بڑی حد تک اپنا معیار ومقام بحال رکھا ہے ۔ادارہ اپنی عمر کی نصف صدی پوری کر رہاہے ۔ علم دین کی نشرو اشاعت ،تعلیم و تربیت کی خدمت ،علم و عمل کی آبیاری اور فکر اسلامی کی ترویج و تبلیغ کیلئے درسگاہ ہردور میں سرگرم رہاہے ۔مذکورہ کتاب میں درسگاہ اسلامی کی پوری داستان رقم کی گئی ہے، ابتدا سے تاحال ایک ایک پہلو کا تفصیلی اور تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔علم کی اشاعت اور اسلامی فکر کی تبلیغ کے حوالے سے اس کے روشن اور تابندہ کارناموں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔
چھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب چار سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔پہلا باب درسگاہ اسلامی ابتداء تا حال ایک جائزہ ،دوسرا باب درسگاہ اسلامی اور مدرسہ تجوید القرآن ماضی کے جھروکوں سے دستاویزوں کے عکس اور نقوش،تیسرا باب اکابر اور چند ابنائے قدیم کے مضامین ،چوتھا باب سپاس نامے ،پانچواں باب سکریٹری رپورٹ اور چھٹا باب چند اہم اہل علم و دانشوران کے تاثرات پر مبنی ہے۔فہرست مضامین کے بعد ڈاکٹر نواز دیوبندی کی ایک حمد اور پروفیسر طلحہ رضوی برق کی ایک نعت بطور برکت شامل اشاعت کی گئی ہے ۔صفحہ 17سے صفحہ 71تک علماء،دانشور اور اکابر کے تاثرات اور پیغامات ہیں ۔پہلا باب صفحہ 74سے شروع ہوکر صفحہ 234پر ختم ہوتاہے ۔اس باب میں درسگاہ اسلامی کی مکمل تاریخ تاسیس سے لیکر حال تک نہایت شرح و بسط کے ساتھ رقم کی گئی ہے۔ ادارہ کی بنیاد کیسے پری ،جماعت اسلامی ہند کے تعلیمی تجربہ گاہ ،جماعت اسلامی کی اصلاحات نصاب تعلیم ،درسگاہ اسلامی رحم خاں سے پرانی منصفی میں منتقلی ،درسگاہ اسلامی کے اساتذہ ،کارکنان ،ارکین ،ہمدردران،مجلس منتظمہ ،درسگاہ کا دستور ،نصب العین، تعارف ،خدمات ،کارنامے غرض ایک ایک پہلو پر معروضی نقطۂ نظر سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔درسگاہ کے اہم اور ممتاز فارغین اور طلبا کا ذکر ،درسگاہ اسلامی کی تحریک پر اس کے زیر انتظام وجود میں آنے والے دیگر تعلیمی اداروں اور تنظیموں پر بھی خوبصورتی کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے، جن کے مطالعہ سے پوری تاریخ نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے ۔بزم شاہین کاتعارف ،بزم شاہین کے اجلاس کی روداد،مدرسہ تجوید القرآن کاسنگ بنیاد اس کے فارغین و حفاظ کا ذکر بھی اس باب کے ذیل میں آگیا ہے ۔


باب دوم میں درسگاہ اسلامی اور مدرسہ تجوید القرآن کے حوالے سے بعض دستاویزوں ،کتابچوں ،تعارف ناموں اور خطوط کے عکس شامل کئے گئے ہیں ۔ان قدیم تحریروں کے نقوش سے اندازہ ہوتاہے کہ درسگاہ کے ذمہ د اروں نے وسائل کی عدم فراہمی اور مالی دشواریوں کے باوجود کس طرح ادارے کو پروان چڑھایااور اس وقت کا یہ چھوٹا سا ادارہ کتنی ہمت اور جواں مردی کے ساتھ طلبہ کی ہمہ جہت صلاحت سازی کر تا رہا۔
باب سوم میں اکابر اور چند ابنائے قدیم کے مضامین کو جگہ دی گئی ہے ،متنوع قلم کاروں نے درسگاہ اسلامی کے حوالے سے اپنے تاثرات تحریر کئے ہیں ،بانی درسگاہ ذکی اشرف کے حوالے سے پروفیسر خلیل الرحمن سلفی نے اپنی یادوں اور باتوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جب کہ عبد المالک صدیقی نے درسگاہ اسلامی کی نظام تعلیم پر گفتگو کی ہے ۔دوسرے قلم کاروں میں پروفیسر ارشد جمیل،ماسٹر نظیر احمد،پروفیسر شہناز بیگم،ڈاکٹر محمد تسکین اعظمی،ڈاکٹر منور راہی،کے یو آصف،ڈاکٹر احمد نسیم آرزو،ڈاکٹر جاوید رحمانی،محمد عاصم بدر کے مضامین شامل ہیں،جن کے مطالعہ سے درسگاہ اسلامی کی کارکردگی اورخدمت اجاگر ہوتی ہے ۔باب چہار میں سپاس نامے درج کئے گئے ہیں ۔ادارے میں بڑی علمی اور قد آور شخصیتوں کی آمد پر سپاس نامہ دینے کی قدیم روایت رہی ہے ۔کتاب میں درج پہلا سپاس نامہ 22مارچ 1982کا ہے، جو مولانا محمد یوسف اصلاحی صاحب سابق امیر جماعت اسلامی ہند کی درسگاہ اسلامی تشریف آوری کے موقع پر ادارے کی طرف سے دی گئی تھی ۔سپاس نامے ادارہ کے معیار و مقام اور محسنوں کے اعتراف کاغمازہے ۔باب پنجم میں 2003سے لیکر 2007تک درسگاہ اسلامی کے سکریٹری کے ذریعہ پیش کئی گئی رپورٹ درج کی گئی ہے ۔چھٹا اور آخری باب اہل علم ، دانشوران اور اکابر کے تاثرات پر مبنی ہے ۔
کتاب سے متعلق علماء و دانشوران کے پیغامات اور تاثرات کو مصنف نے باب اول سے پہلے ذکر کیا ہے ۔جب کہ اہل علم و دانش کے تاثرات اور پیغامات کوچھٹے باب کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے ۔دونوں حصوں کو ایک ہی باب کے تحت ذکر کرکے ابواب کی تعداداور ضخامت کم کی جاسکتی تھی اور ایسا کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔اسی طرح دوسرے باب کے ذیل میں مرتب نے درسگاہ اسلامی اور مدرسہ تجوید القرآن کے اہم دستاویزات ،کتابچے،تعارف نامے،درخواست فارم ،گوشوارہ،آمد و خرچ اور پرانی فائلوں کے عکس اور نقوش شامل کئے ہیں یہ بھی کام کی چیزیں ہیں، اگر مرتب اس پر تجزیاتی اور تحقیقاتی نوٹس لکھتے، اس کا آج کے حالات سے تقابلی مطالعہ پیش کر تے اور درسگاہ کو مزید مفید تر بنانے کے عملی مشورے اور خاکے پیش کر تے تو کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی ۔
کتاب کے مطالعہ سے درسگاہ اسلامی کی شاندار تاریخ اور بھرپور تعارف کا دل آویز منظر نگاہوں کے سامنے آجاتاہے۔ کتاب دستاویزی حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں نصف صدی کی تاریخ شرح و بسط کے ساتھ تحریرکی گئی ہے ۔میرے خیال میں مذکورہ کتاب درسگاہ کی تاریخ ،خدمات اور کارنامے کو جاننے اور سمجھنے میں نہایت معاون اور مفید ثابت ہوگی۔آئندہ اگر کوئی شخص اس ادارے پر کام کر نا چاہے گا،اس کی نئی تاریخ رقم کر نا چاہے گاتو اس کیلئے یہ کتاب مراجع کی حیثیت ہوگی۔کتاب کے مندرجات سے پتہ چلتاہے کہ مؤلف مولانا ڈاکٹر عبد الودود قاسمیؔ نے بڑی محنت اور سلیقہ مندی کے ساتھ اسے ترتیب دیا ہے ۔ڈاکٹر صاحب درسگاہ اسلامی کے پرنسپل کی حیثیت سے وابستہ رہے ہیں ۔ان کے دور میں ادارے نے تعلیمی اور تعمیری ہر دو لحاظ سے کافی ترقی کی، ادارہ کے نشیب و فراز سے یہ خوب اچھی طرح واقف ہیں ۔مولانا فعال اور پرکشش شخصیت کے مالک ہیں ،بہترین مصنف اور انشا پردازکی حیثیت سے معروف ہیں ،اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں طبع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں ۔اللہ نے انہیں زبان و بیان کی دونوں خوبیوں سے وافر حصہ عطا فرمایا ہے ۔ کتاب کی تالیف میں انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت کا استعمال کر تے ہوئے اسے زیادہ سے زیادہ افادہ بخش بنانے کی سعی کی ہے ۔یہ اور بات ہے کہ کتاب زیادہ ضخیم ہوگئی اور کچھ غیر اہم مباحث بھی اس میں شامل کرلئے گئے ہیں،ہو سکتا ہے اس میں مصنف کی مجبوریوں اور مصلحت پسندیوں کا دخل رہا ہو۔ پھر بھی مولانا عبد الودود قاسمی کی تحقیق و جستجو قابل داد ہے کہ انہوں نے درسگاہ اسلامی کی قدیم فائلوں اور دستاویزوں کو بڑی عرق ریزی سے کھنگالا،منتشر اور بکھرے اوراق کو سمیٹااور اس سے ضروری مواد اخذ کر کے کتاب کو تاریخی اور دستاویزی بنانے کی ممکن حد تک کوشش کی ہے ۔سرورق جاذب نظر نہ سہی طباعت عمدہ اور معیاری ہے۔گرانی کے اس دور میں چار سو صفحے کی کتاب کی قیمت تین سو روپے کم بھی ہے اور مناسب بھی۔کتاب کا نام ’’درسگاہ اسلامی فکر و نظر کی بستی‘‘کی جگہ اگر درسگاہ اسلامی علم و عمل کی بستی یا درسگاہ اسلامی تعلیم و تربیت کی بستی رکھا جاتاتو شاید زیادہ مناسب ہوتا۔مذکورہ کتاب درسگاہ اسلامی کی دینی، علمی،فکری اور تحریکی کارناموں کا بہترین مرقع ہے ۔امید ہے کہ اہل علم و دانش اس کتاب کا پرزور استقبال کریں گے ۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share