بغیر ہاتھ پاوں کا بچہ جو دنیا کا ٹاپ موٹیویشنل اسپیکر بن گیا

0

نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

دنیا میں مختلف قسم کے معذور موجود ہیں جو اپنی ہمت وحوصلہ کی ایسی کہانی لکھتے ہیں جس سے کوئی بھی انسان بغیر متاثر ہوے نہیں رہ پاتا۔ مگر نیک واجیک کی کہانی سب سے مختلف ہے، وہ بغیر ہاتھ پاوں کے پیدا ہوا مگر ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہوے اپنی کامیابی کی ایسی تاریخ لکھی جس کو سن کر ہر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔
نِیک واجیک (Nick Vujicic)کی پیدائش 1982ءکو آسٹریلیا کے میلبورن شہر کے ایک ہسپتال میں ہوئی، جہاں پر اس کے والد موجود تھے مگر جب نرسوں نے بتایا کہ بیٹا پیدا ہوا ہے مگر اس کے ہاتھ پاو¿ں نہیں، تو یہ سن کر نیک کے والد پر غشی سی طاری ہوگئی۔ وہ سکتے میں رہ گئے، پیدائش سے پہلے کی تمام رپورٹوں سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ بچہ نارمل پیدا ہوگا۔ مگر بغیر ہاتھ پیر والا بچہ نِیک کے والدین کے لےے ایک ایسی خبر صاعقہ تھی کہ دونوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔ نرسوں نے اس بچے کو جب نیک کی ماں کو دینا چاہا تو وہ اپنے بچے کو گود میں نہیں لے سکی۔ تقریباً چار ماہ تک بچہ ہسپتال میں زیرِ علاج رہا، مگر ماں اپنے بچے کو گھر لانے کے لےے راضی نہ ہوئی، نِیک کے والد نے اوپروالے کی آزمائش کہہ کر سمجھایا بجھایا تب وہ راضی ہوئیں اور پھر چار ماہ بعد نیک کی ماں نے انہیں اپنی گود میں لیا اور گھر لے کر آئیں۔

نِیک کے ہاتھ اور پیر نہیں تھے، کمر کے نیچے کا حصہ نہیں تھا، پیروں کی جگہ صرف دو چھوٹی انگلیاں تھیں، جب وہ تھوڑا بڑا ہوا تو اس کے والدین نے اسکول میں ایڈمیشن کرانا چاہا مگر ایڈمیشن نہیں ہوا، ان کے والدین یہ چاہتے تھے کہ نِیک معذوروں کے اسکول میں نہیں بلکہ ایک عام پبلک اسکول میں تعلیم حاصل کرے۔ نِیک کے ایڈمیشن کے لےے وہاں کی گورنمنٹ کو قانون میں ترمیم کرنی پڑی تب جاکر اس کاایڈمیشن ہوا۔ نیک ایک عام اسکول میں پڑھنے لگا، مگر بچے اسے تنگ کرتے ، اس کی معذوری کا مذاق اڑاتے اور چڑاتے۔ ایک معصوم بچہ تنگ آکر ہمیشہ دعا کرتا کہ اے خدا تو مجھے ہاتھ پاو¿ں دے دے۔ وہ دوسرے بچوں کو کھیلتے، دوڑتے بھاگتے دیکھتا تو اسے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے پاس ہاتھ پاو¿ں کیوں نہیں۔ اسکول میں بچوں کے طعنوں اور قہقہوں سے تنگ آکر دس سال کی عمر میں اس نے خود کشی کرنے کی بھی کوشش کی۔ جب ایک دن وہ باتھ ٹب میں نہا رہا تھا تو اس نے خود کو ڈبانے کی کوشش کی مگر اپنے والدین کی بے انتہا محبت یاد آگئی کہ وہ اس کے مرنے کے بعد کتنا روئیں گے۔ لہٰذا اس نے خود کو روک لیا اور ارادہ بدل لیا۔
اس دوران نِیک نے اپنی دو چھوٹی انگلیوں کے ذریعہ لکھنا، ٹائپ کرنا اور اپنی الیکٹرک وہیل چیئر کو چلانا سیکھ لیا تھا، نیک ڈپریشن اور مایوسی کا شکار تھا، ایک دن اس کی ماں ایک اخبار میں چھپی دوسرے معذور شخص کی کہانی لے کر آئی اور اسے نِیک کو سنایا۔ نِیک کو محسوس ہوا کہ وہ اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے، اس کے جیسے دوسرے لوگ بھی موجود ہیں، یہاں سے اس کی زندگی میں مایوسی کی جگہ امید کی کرن پھوٹی، اس نے خود کو سنبھالااس دوران نِیک نے اپنی دو چھوٹی انگلیوں کے ذریعہ لکھنا، ٹائپ کرنا اور اپنی الیکٹرک وہیل چیئر کو چلانا سیکھ لیا تھا، نیک ڈپریشن اور مایوسی کا شکار تھا، ایک دن اس کی ماں ایک اخبار میں چھپی دوسرے معذور شخص کی کہانی لے کر آئی اور اسے نِیک کو سنایا۔ نِیک کو محسوس ہوا کہ وہ اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے، اس کے جیسے دوسرے لوگ بھی موجود ہیں، یہاں سے اس کی زندگی میں مایوسی کی جگہ امید کی کرن پھوٹی، اس نے خود کو سنبھالا اور مثبت سوچنے لگا پھر اس کے بعد اس نے اپنی معذوری کو تعلیم اور ایجوکیشن کے درمیان کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔
اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اسکول کے صفائی ملازم نے ایک روز اس سے کہا کہ نیک تم ایک دن اسپیکر اور خطیب بنوگے۔ نِیک اپنی اس صلاحیت سے نا آشنا تھا۔ جنیٹرکی بات اس کے دل میں گھر کر گئی، وہ اب سترہ سال کا ہوچکا تھا، اس نے پہلی بار چھ طلباءکے سامنے اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی ہمت کی۔ نِیک اپنی کہانی سنا سنا کر دوسرے لوگوں کو زندگی میں جدوجہد کرنے اور ہمت نہ ہارنے کا درس دینے لگا۔ سترہ سال کی عمر میں ہی اس نے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا نام Life without Limbs Foundationرکھا۔ اب وہ اپنے شہر میں مذہبی اجتماعات اور محفلوں میں تقریریں کرنے لگا تھا۔ اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور اکیس سال کی عمر میں اکاو¿نٹس اور فائنانشیل پلاننگ میں ڈبل ڈگری حاصل کی۔ نِیک کی شہرت اب چاروں طرف پھیلنے لگی تھی لوگ اس کے لیکچرس کو سننے کے لےے دوسرے ممالک سے بھی دعوت نامے بھیجنے لگے تھے۔ 2005ءمیں آسٹریلیا کی حکومت نے Young Australian of the Year کا ایوارڈ نِیک کو دیا۔ نِیک نے 2012ءمیں ایک امریکن خاتون سے شادی کی اور اب وہ امریکہ کے کیلیفورنیا شہر میں مقیم ہے۔ جہاں وہ اپنی این جی اوLife without Limbsچلاتے ہیں۔ نِیک نے اپنی پہلی کتاب Life without Limbs 2010ءمیں شائع کی، اس کتاب کا دنیا کی تیس زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، آج وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ دنیا کے ساٹھ ممالک سے زائد کا دورہ کرچکے ہیں اور وہاں لیکچر دیا ہے۔ نِیک نے ایک چھوٹی سی فلم The Butterfly Circusمیں ادا کاری بھی کی ہے جس میں ان کو بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ بھی ملا ہے۔ نِیک کی کامیابی اور ترقی کا سفراس کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اسکول کے صفائی ملازم نے ایک روز اس سے کہا کہ نیک تم ایک دن اسپیکر اور خطیب بنوگے۔ نِیک اپنی اس صلاحیت سے نا آشنا تھا۔ جنیٹرکی بات اس کے دل میں گھر کر گئی، وہ اب سترہ سال کا ہوچکا تھا، اس نے پہلی بار چھ طلباءکے سامنے اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی ہمت کی۔ نِیک اپنی کہانی سنا سنا کر دوسرے لوگوں کو زندگی میں جدوجہد کرنے اور ہمت نہ ہارنے کا درس دینے لگا۔ سترہ سال کی عمر میں ہی اس نے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا نام Life without Limbs Foundationرکھا۔ اب وہ اپنے شہر میں مذہبی اجتماعات اور محفلوں میں تقریریں کرنے لگا تھا۔ اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور اکیس سال کی عمر میں اکاو¿نٹس اور فائنانشیل پلاننگ میں ڈبل ڈگری حاصل کی۔ نِیک کی شہرت اب چاروں طرف پھیلنے لگی تھی لوگ اس کے لیکچرس کو سننے کے لےے دوسرے ممالک سے بھی دعوت نامے بھیجنے لگے تھے۔ 2005ءمیں آسٹریلیا کی حکومت نے Young Australian of the Year کا ایوارڈ نِیک کو دیا۔ نِیک نے 2012ءمیں ایک امریکن خاتون سے شادی کی اور اب وہ امریکہ کے کیلیفورنیا شہر میں مقیم ہے۔ جہاں وہ اپنی این جی اوLife without Limbsچلاتے ہیں۔ نِیک نے اپنی پہلی کتاب Life without Limbs 2010ءمیں شائع کی، اس کتاب کا دنیا کی تیس زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، آج وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ دنیا کے ساٹھ ممالک سے زائد کا دورہ کرچکے ہیں اور وہاں لیکچر دیا ہے۔ نِیک نے ایک چھوٹی سی فلم The Butterfly Circusمیں ادا کاری بھی کی ہے جس میں ان کو بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ بھی ملا ہے۔ نِیک کی کامیابی اور ترقی کا سفر آج بھی جاری ہے اور وہ مایوس اور ناامیدلوگوں کے دلوں میں امید کی روشنی جلانے میں مصروف ہیں۔
اپنی صحت کے اعتبار سے آپ کسی بھی صورت میں نیک واجیک سے خراب نہیں ہیں ، اگر آپ اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، تو ہار مت مانیے بلکہ نیک واجیک کی کہانی یاد کرتے رہیے اور آگے بڑھتے رہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.