گہرے زخموں سے لڑنے والا سال اومیکرون کے خطرناک سائے میں2022

0

اشرف استھانوی
اگر ہمیں یہ حق حاصل ہو کہ گذرتے ہوئے سال 2021کے بارے میں کچھ الوداعیہ الفاظ کہہ سکیں تو آپ کیا کہنا چاہیںگے؟شایدیہی کہ گذرتے ہوئے سال کی طرح آنے والا سال نہ ہو۔ اکیسویں صدی کا اکیسواں سال بے شمار مصائب و آلام لے کرآیا۔ پچھلے سال کورونا وبا ہمار ی زندگی میں داخل ہوئی اس نے پوری انسانیت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ پوری دنیا میں اب تک 27کروڑ 65لاکھ سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ان میں تقریباً 54لاکھ لوگوں کو اپنی جان گوانی پڑی ہے۔ ہندوستان میں یہ اعداد و شمار 5لاکھ سے زیادہ ہے۔ بھارت اس وبا کا شکار ہونے والے سرفہرست پانچ ممالک میں سے ایک ہے۔
کورونا سے نہ صرف لوگوں کی جان گئی بلکہ بڑی تعداد میں لوگ بدحالی کے شکار بھی ہوئے ۔ مئی 2021سے اگست 2021کے درمیان دو لاکھ 38ہزار لوگوں نے اپنی فیملی کے علاج کیلئے بینکوں سے تقریباً42سو کروڑ روپئے قرض لئے۔ یہ اعداد ملک کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک گجرات کا کل صحت بجٹ کا تقریباً تیس فیصد ہے۔ اندازہ لگائیں جب صرف چار مہینے میں لوگوں نے اس قدر قرض لیا تو اب تک کل کتنا قرض لیا گیا ہوگا؟ حالانکہ یہ بات کسی حد تک قابل اطمینان ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس وبا سے لڑنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے ۔ بھارت میں تیار شدہ دو ٹیکے نے لوگوں کو اس جان لیوا بیماری سے نپٹنے میں کافی حوصلہ بخشا ہے۔ 16جنوری سے اب تک 40کروڑ سے زیادہ کورونا کی خوراک دی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اقتصادی ترقی کی شرح واپس لانے کیلئے بھی کوششیں ہوئی ہیں۔ لیکن اس وبا کے زخم اتنے گہرے ہیں کہ اس کو بھرنے میں کافی وقت لگے گا۔
کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس دوران دنیا میں اقتصادی توازن کی کھائی اور گہری ہوئی ہے۔ بھارت میں ملک کی کل آمدنی کا 75فیصد حصہ او پر کے دس فیصدی لوگوں کی جیبوں میں گیا۔ یہی نہیں بلکہ نیچے کے تقریباً آدھی آبادی کے حصے میں صرف 13فیصد کمائی آئی ۔نتیجتاً2014تک جن 27کروڑ لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپر لایا گیا تھا وہ دوبارہ غربت کے دلدل میں چلے گئے۔ اب اومیکرون کے خطرے کو نظرانداز نہ کرتے ہوئے حکومت اور سماج دونوں سے جو جھنے کیلئے کمر بستہ ہوچکے ہیں لیکن نتیجہ کب آئے گا؟ کتنا آئے گا اس کی گارنٹی کسی کے پاس نہیں ہے۔ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اومیکرون کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
بھارت میں صرف چین سے آئے کورونا وائرس نے ہی حملہ نہیں کیا، بلکہ اس کی فوجوں نے بھی حد تو ڑنے کی کوشش کی۔ گذشتہ سال گلوان میں ایک لفٹننٹ کرنل سمیت 21جوان شہید ہوگئے۔ سال 2021میں سرحد پر دوبارہ خون تو نہیں بہا لیکن عجیب کھینچا تانی کا سلسلہ جاری رہا۔ اپنا دائرہ تجاوز کرنے کی چین کی کوشش پر کیا آئندہ سال لگام تک لگے گا؟ افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی بھی لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کرنے والی تھی۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقتو ر ملک امریکہ اور اس کے معاونین نے وہاں جس بزدلی کا مظاہرہ کیا وہ ایک بار پھر سے یہ ثابت کرتا ہے کہ ہر ملک کو اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی۔
اس دوران بھارت اور پاکستان کا تناﺅ بھلے ہی کسی بڑی لڑائی کی شکل نہ لے سکی ہو لیکن 2021میں سرحد پار سے آئے ہوئے گولے اور گولیاں اب تک 35سے زیادہ جوانوں کو نگل چکی ہیں۔ اس سال پاکستان سے آنے والے ڈرون بھی تشویش کا سبب بنے۔ ان کے ذریعہ دہشت گردوں کے چھوٹے، لیکن جان لیوا ہتھیار وں کی فراہمی کی گئی۔ کشمیر میں اقلیتوں سمیت 40سے زیادہ لوگوں کو انہیں ہتھیاروں سے مارا گیا۔ یہ بات دوسری ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ اور کشمیر کی حکومت نے مل کر تقریباً ایک سو دہشت گردوں کو مار گرایا۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے نہتھے اقلیتوں کو اپنی نفرت دشمنی کا شکار بنایا تھا۔ حالانکہ خون بہانے کا سلسلہ جاری ہے۔ 13دسمبر کی رات سری نگر میں پولس سے بھری گاڑی پر گولی باری نے اس تلخ سچ کو پھر سے اجاگر کردیا ہے۔
سال 2021نے ایک بات اور ثابت کردیا کہ اور عالمی گاﺅں کا نعرہ بے معنی ہوچکا ہے۔ کورونا وبا آج نہیں تو کل ختم ہوجائے گا لیکن دنیا کے غریب ملکوں کو بہت تیزی سے خود اعتمادی کی لڑائی لڑنی ہوگی۔نیاسال یقینی طور پر اقتصادی قوم پرستی کا ہونے والا ہے۔ پچھلے سال ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اسی مہینے میں جس میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوا وارانسی میں وشو ناتھ دھام احاطہ کا اجرا بھارت میں اقتدار کی مضبوطی کے بدلتے تیوروں کو ظاہر کرتا ہے۔ اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشوپرساد موریہ اس درمیان متھورا کا موضوع بھی اٹھادیا، یہ انتخابی مہم کا حصہ ہے یا آنے والے دنوں میں میں کوئی نئی سخت کشیدگی کا اشارہ ہے؟۔
الوداع ہوتے ہوتے یہ سال ایک اور ناقابل تصور زخم دے گیا۔ 18دسمبر کو بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل وپن راوت اپنی اہلیہ اور بارہ ساتھیوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر حادثہ کے شکار ہوگئے۔ وہ نئی ضرورتوں کے مطابق بھارتی فوج کو نیا رنگ و آہنگ دینے کی کوشش کررہے تھے ان کی تکلیف دہ موت ان ضروری کاموں کیلئے بھی ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ایسا ہی زخم لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو بے دردی سے کچلے جانے پر بھی ہوا۔ مگر دہلی کے دروازے پر ڈٹے رہنے والے کسانوں نے اس کے باوجود بھی امن و شانتی کا راستہ نہیں چھوڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت سے اپنے مطالبے پورا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ سال کسان آندولن کیلئے بھی یاد رکھا جائے گا۔ اس سال اگر ہمیں کورونا وبا سے پیدا شدہ مسائل اور سلگتی سرحدوں نے تکلیف پہونچا یا تو ایک بات کھل کر سامنے آئی کہ ہندوستانی حکومت اور ہندوستانیوں کا حوصلہ بے مثال ہے۔ ہم کسی بھی مسئلہ سے بے ہمت نہیں ہوئے بلکہ حوصلوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ ٹوکیو اولمپک میں بھی ہمارے کھیلاڑیوں کے زبردست مظاہرہ نے ہمارے آنسوﺅں کو پوچھنے میں مدد دی۔ 23جولائی سے 18اگست تک منعقد ٹوکیو اولمپک نے بھارت کیلئے امیدوں کی شمع روشن کی۔ گذشتہ چار دہائیوں میں بھارت نے سب سے بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے سا ت تمغہ (پدک) جیتے۔ جس میں نیرج چوپڑا کا گولڈ، روی دہیا اور میرابائی چانو کے چاندی کا تمغہ اور ہاکی ٹیم پی وی سندھو ، بجرنگ پونیا اور لولینا کے طلائی تمغے شامل ہیں۔ بھارت نے 41سالوں کے بعد ہاکی میں کوئی تمغہ جیتا ہے۔ اسی سال امریکہ میں نائب صدرجمہوریہ کے عہدہ پر ہندوستانی نژاد کملا ہیرس کی تاج پوشی نے عالمی سیاست کو نئی جہت دی ۔ یہی نہیں گوگل ، مائیکروں سوفٹ اور ٹوئٹر جیسی کمپنیوں کے اعلی عہدوں پر ہماری نئی نسل کا فائز ہونا ہندوستان کیلئے امید کی نئی عبارت تحریر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والا سال امیدوں کا سال کہا جارہا ہے۔ اس درمیان کیا کیا تبدیلیاں رونما ہونگیں آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا۔
اس نئے سال میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سمیت چار دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی ،وزیرداخلہ امیت شاہ مسلسل انتخابی جلسوں سے خطاب کرکے مرکزی اور ریاستی حکومت کی حصولیابیاں گنوا رہے ہیں ساتھ ہی ہندتو کے ایجنڈے کو پرموٹ کرنے کیلئے کام کررہے ہیں تاکہ صف بندی کی بنیاد پر یوپی اسمبلی الیکشن کا قلع فتح کرلیا جائے۔
2021کا منحوس ترین سال تو رخصت ہوا اور 2022کا آغاز ہوچکا ہے سال نو میں لوگوں کی زبانوں پر یہی دعائیں ہیں کہ یہ نیا سال سبھوں کیلئے خوشیوں و مسرتوں کا پیامبر ثابت ہو اور خوشی صرف ان معنوں میں کہ جس طرح سے 2021اور 2022کووڈ اور اومیکرون سے دو چار نہ ہو اور کم تو کم 2022میں دیکھائی نہ دے لیکن تازہ ترین صورتحال انتہائی تشویش ناک بنے ہوئے ہیں ۔روزانہ کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب سال 2022اومیکرون کے خطرناک سائے میں ہے۔

چمن کو پھر سے تو آباد کردے
کورونا سے ہمیں آزاد کردے
بہت بربادیاں دیکھی ہے ہم نے
ہماری لغزشوں کو معاف کردے
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.