Select your Top Menu from wp menus

“اردو  دوہا کا آغاز اور صنفِ دوہا کے مختلف  شعراء کا نمونہء کلام “

“اردو  دوہا کا آغاز اور صنفِ دوہا کے مختلف  شعراء کا نمونہء کلام “
محمد عباس دھالیوال.
کسی  بھی  زبان کی نظم و نثر دو آنکھیں ہوا کرتی ہیں. جن کی مدد سے ہم کسی زبان کے ادب کے دل میں کیا چھپا ہے اس کو بآسانی دیکھ سکتے ہیں.  ادبی تاریخ کو جب ہم مطالع میں لاتے ہیں تو تقریباً ہمیں ہر زبان کے مشاہدے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ادب میں پہلے پہل نظم  وجود میں آئی اس کے بعد  نثر کا آغاز وارتقاء ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے.
 زندہ زبانوں کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جہاں اپنے ارد گرد کی دوسری زبانوں  کے الفاظ سے استفادہ کر تے ہوئے اپنے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتی رہتی ہیں وہیں دوسری زبانوں کی مقبول ترین اصناف کو بھی اپنانے سے  قطعاً گریز نہیں کرتیں .
اس سلسلے میں اردو زبان کا دل بھی بے حد کشادہ ہے.  اردو نے جہاں اپنے گرد و نواح کی مختلف زبانوں کے الفاظ کو اپناتے ہوئے اپنے آپ کو عام فہم بناتے ہوئے خود کو دوسری زبانوں کے مختلف الفاظ سے مالا مال کیا ہے وہیں  دوسری زبانوں کے ادب میں رائج مختلف اصناف کو اپناتے ہوئے ان پر خوب طبع آزمائی کی ہے.
جیسے کہ ہم  جانتے ہی ہیں کہ دوہا ہندی زبان کی ایک معروف شعری صنف ہے جسے اردو شعراء نے دل سے اپنایا ہے . جس کے نتیجے میں آج دوہا صنف شاعر اردو شاعری میں  ایک منفرد و ممتاز حیثیت اختیار کر گئی ہے. یوں تو دوہا کا آغاز زمانہ قدیم یعنی ساتویں صدی اور آٹھویں صدی سے ہوا مانا جارہا ہے۔ دوہا گنگا جمنی تہذیب کی  ایک مقبول ترین صنف ہے جو کہ عوام میں بے حد مقبول و ہر دلعزیر خیال کی جاتی ہے .
قابل ذکر ہے کہ پہلے پہل دوہے کی صنف پر دکن کے صوفی شعراء نے طبع آزمائی کی اس کے بعد لمبے عرصے تک اردو شعراء اس صنف  سے ایک طرح سے لاتعلق سے ہو گئے. دراصل اپ بھرنش میں قافیہ کا رواج دوہے سے شروع ہوا ہے. ورنہ اس سے قبل سنسکرت اور پراکرت میں قافیہ کا رواج نہیں تھا۔ دوہا، دو مصرعوں کی اپنی مختصر ترین ہیہت کی وجہ سے انفرادی حیثیت کا حامل ہے ۔ ہندی کا دوہا اردو  غزل کے مطلع کی طرح ہوتا ہے دوہا میں ردیف کی قید نہیں ہوتی لیکن قافیہ ضرور ہوتا ہے۔ یعنی ایک آزاد شعر کو دوہا کہہ سکتے ہیں۔ ہندی دوہا کے شعراء میں کبیر، تلسی داس، عبدالرحیم خان خانہ کے نام بے حد مشہور ہیں  وہیں، کیونکہ دوہا فوک سونگ یا لوک گیتوں کی طر ح ایک عوامی صنف ہے اس لیے اس صنف میں بہت سے گم نام شعراء کرام کا کلام بھی ملتا ہے. جہاں تک اردو کے پہلے دوہا کہنے والے شاعر کا تعلق ہے تو اس میں میرا جی  شمس العشاق کو اردو زبان بانی شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے. ان کی کتاب “خوش نامہ” میں بہت سارے دوہے ملتے ہیں. اس صنف کو مزید فروغ دینے میں امیر خسرو، شیخ شرف الدین یحییٰ نوری بو علی شاہ قلندر وغیرہ نے اپنا نمایاں رول ادا کیا.
موجودہ عہد میں اس کے  میں دوہا صنف کو پروان چڑھانے میں جمیل الدین عالی، ناصر شہزاد، عابد پشاوری، پرتو روہیلہ، بھگوان داس اعجاز، ظفر گورکھپوری، ندا فاضلی وغیرہ شعراء کے نام کو سر فہرست شامل کیا جا سکتا ہے .
جب ہم دوہا کے تکنیکی پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس شعری صنف یعنی دوہا کو دوہرا اور دو پد کے نام سے بھی جانا جاتا رہا ہے ۔ دوہے کے دونوں مصرعے مقفیٰ ہوتے ہیں ۔ ہر دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر مصرعے میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں۔ ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں. اس کا وزن…..
فعلن فعلن فاعلن          فعلن فعلن فع/ فاع
پر مشتمل ہوتا ہے. دوہا کے دونوں مصرعے معنوی اعتبار سے اپنے آپ میں مکمل ہوتے ہیں. دراصل دوہا غزل کے مطلع کی مانند ہوتا ہے بس دوہا میں ردیف کی قید سے آزاد ہوتا ہے  ہاں قافیہ کی پابندی ضرور ہوتی ہے. اس کے مصرعوں کے درمیان ہلکا سا  وقفہ ضرور ہوتا ہے۔
دوہا میں کسی بھی بڑے سے بڑے مضمون و خیال کو چند الفاظ میں پیش کیا جا سکتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ
 دوہا میں ایک طرح سے ساگر کو گاگر میں بند کیا جاتا آپ  یہاں چند کبیر کے  دوہے دیکھیں کہ کس طرح سے انھوں نے بڑے سے بڑے خیال کو چند الفاظ میں پرو کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہتے ہیں کہ
دنیا کیسی باوری پتھر پوجن جائے
گھر کی چکھی کوئی نہ پوچھے جس کا پیسا کھائے
کبیرا کھڑا بجار میں مانگے سب کی کھیر
نہ کوہو سے دوستی نہ کوہو سے بیر
اردو زبان میں دوہا صنف کے بانی سمجھے جانیوالے
میرا جی شمس العشاق کے دوہا کا رنگ دیکھیں انسانی مسافرانہ  زندگی کا نقشہ کس خوبصورت و عام فہم انداز میں پیش کیا ہے کہ
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
جمیل الدین عالی کے دوہوں کا رنگ بھی دیکھیں کہ انسانی زندگی سے وابستہ مختلف حقیقی مسائل کو کس بے باک انداز میں ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ
اردو والے ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں
ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں
دھیرے دھیرے کمر کی سختی کرسی نے لی چاٹ
چپکے چپکے من کی شکتی افسر نے دی کاٹ
نا کوئی اس سے بھاگ سکے اور نا کوئی اس کو پائے
آپ ہی گھاؤ لگائے سمے اور آپ ہی بھرنے آئے
روٹی جس کی بھینی خوشبو ہے ہزاروں راگ
نہیں ملے تو تن جل جائے ملے تو جیون آگ
سورؔ کبیرؔ بہاریؔ میراؔ ؔرحمنؔ تلسیؔ داس
سب کی سیوا کی پر عالؔی گئی نہ من کی پیاس
نیند کو روکنا مشکل تھا پر جاگ کے کاٹی رات
سوتے میں آ جاتے وہ تو نیچی ہوتی بات
عالؔی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار
ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار
ہر اک بات میں ڈالے ہے ہندو مسلم کی بات
یہ نا جانے الھڑ گوری پریم ہے خود اک ذات
عمر گنوا کر پیت میں اتنی ہوئی پہچان
چڑھی ندی اور اتر گئی گھر ہو گئے ویران
معروف دوہا  شاعر عبد الرحیم خان جاناں کے کلام کا رنگ بھی دیکھیں کہ
رحیمن دھاگا پریم کا مت توڑو چٹکائے
ٹوٹے سے پھر نہ جڑے جڑے گانٹھ پڑ جائے
بھگوان داس اعجاز کے دوہے بھی ملاحظہ فرمائیں کہ
آج مجھی پر کھل گیا میرے دل کا راز
آئی ہے ہنستے سمے رونے کی آواز
بھیتر کیا کیا ہو رہا اے دل کچھ تو بول
ایک آنکھ روئے بہت ایک ہنسے جی کھول
سینے کے بل رینگ کر سیمائیں کیں پار
میں بونوں کے گاؤں سے گزرا پہلی بار
ہم جگ میں کیسے رہے ذرا دیجئے دھیان
رات گزاری جس طرح دشمن گھر مہمان
ہوگی اک دن گھر مرے پھولوں کی برسات
میں پگلا اس آس میں ہنستا ہوں دن رات
 ندا فاضلی نے دوہا صنف میں اپنا ایک الگ و منفرد مقام بنا یا ہے ندا نے اپنی تخیلاتی اڑان کو اپنے دوہوں میں اس قدر دلکش انداز میں پیش کیا ہے کہ قارئین ان کا مطالعہ کرتے وقت ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا. ندا فاضلی کے چند دوہے بھی آپ یہاں پر دیکھیں کہ .
چڑیا نے اڑ کر کہا میرا ہے آکاش
بولا شکرا ڈال سے  یونہی ہوتا آکاش
اس جیسا تو دوسرا ملنا تھا دشوار
لیکن اس کی کھوج میں پھیل گیا سنسار
بولا بچہ دیکھ کے مسجد عالیشان
اللہ تیرے ایک کا اتنا بڑا مکان
پوجا گھر میں مورتی، میرا کے سنگ شیام
جس کی جتنی چاکری، اتنے اس کے دام
سیتا، راون، رام کا، کریں وبھاجن لوگ
ایک ہی تن میں دیکھیے، تینوں کا سنجوگ
مٹی سے ماٹی ملے، کھو کے سبھی نشاں
کس میں کتنا کون ہے، کیسے ہو پہچان
ساتوں دن بھگوان کے، کیا منگل کیا پیر
جس دن سوئے دیر تک، بھوکا رہے فقیر
اچھی سنگت بیٹھ کر سنگی بدلے روپ
جیسے مل کر آم سے میٹھی ہو گئی دھوپ
سپنا جھرنا نیند کا، جاگی آنکھیں پیاس
پانا، کھونا، کھوجنا، جیون کا اتہاس
چاہے گیتا واچیے، یا پڑھیے قرآن
میرا تیرا پیار ہی ہر پستک کا گیان
اردو زبان کے ایک اور معروف دوہا نگار
مشتاق عاجز کے دوہوں کا رنگ بھی دیکھیں کہ.
تن پرتھوی کا، پران  پَرَبھُو کے، اپنا دیس نہ دھام
پَرَدھن پر پردھان بنا ہے ’’لالہ گولک رام‘‘
سونا رُوپا مال سمیٹا ریشم لیا لپیٹ
ہیرے کھائے، موتی چابے بھرا نہ پاپی پیٹ
تکڑی تولی لالچ کی اور جھوٹ کے رکھّے باٹ
لالہ جی پرلوک سدھارے تالا لاگا ہاٹ
مول سے تول برابر کر لے، کر سچّا بیوپار
شام ڈھلے ہی اٹھ جائے گا دنیا کا بازار
روکھی سوکھی کھائے نردھن اور کرے آرام
جس نے مال پرایا کھایا اس کی نیند حرام
ایک دوہا ڈاکٹر نریش کا بھی آپ یہاں دیکھیں کہ
آئے مٹھی بند لیے چل دیے ہاتھ پسار
وہ کیا تھا جو لٹ گیا دیکھو سوچ بچار
نادک حمزہ پوری کے  دوہا کا رنگ بھی دیکھیں کہ
آگے پیچھے رکھ نظر ظاہر باطن بھانپ
غافل پا کر ڈس نہ لے آستین کا سانپ
ایک اور دوہا صنف کے نمائندہ شاعر
سلیم انصاری کا دوہا بھی ملاحظہ فرمائیں کہ
آنگن کے اک پیڑ کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں
شہر میں جیسے آ گیا چل کر میرا گاؤں
ایک اور شاعر
کشور ناہید کے بھی دوہا کا رنگ ملاحظہ فرمائیں کہ
آنکھ کی پتلی سب کچھ دیکھے دیکھے نہ اپنی ذات
اجلا دھاگا میلا ہووے لگیں جو میلے ہات
مشہور دوہا شاعر فاروق انجنیئر کا بھی  دوہا ملاحظہ فرمائیں کہ
آنکھوں کو یوں بھا گیا اس کا روپ انوپ
سردی میں اچھی لگے جیسے کچی دھوپ
معروف شاعر شمش فرخ آبادی کے دوہا کو بھی ملاحظہ فرمائیں کہ
آنکھیں دھوکا دے گئیں پاؤں چھوڑ گئے ساتھ
سبھی سہارے دور ہیں کس کا پکڑیں ہاتھ
دوہا صنف کے ضمن میں  اختتام میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس صنف کو اہلِ ادب کی نظر میں کبھی بھی انشاءاللہ زوال نہیں ہو سکتا یعنی جب تک  دنیا قائم ہے انشاءاللہ دوہا کو قارئین اسی طرح پڑھتے رہیں گے اور اس کے ان میں سموئے افکار و خیالات سے لطف اندوز  ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں پوشیدہ پیغامِ ہدایت سے سیدھ حاصل کرتے رہیں گے.
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
contact. 9855259650
  • 1
    Share
  • 1
    Share