Select your Top Menu from wp menus

۲ بائے ۲ کے روم سے جنگ کی تیاری

۲ بائے ۲ کے روم سے جنگ کی تیاری
شہاب مرزا
جموں وکشمیر کے پلوامہ میں ۱۴فروری کی شب ہوئے دہشت گردانہ حملوں نے سارے ملک میں غم وغصہ کی لہر پیدا کردی ہے۔ اس حملہ میں ۴۹ نوجوانوں کی شہادت ہوئی اور اتنے ہی جوان زخمی ہوئے ہیں جوانو ںکی شہادت سے پورا ملک صدمے میں ہے یہ حملہ جہاں سیکوریٹی کے انتظامات اور خفیہ ایجنسی کی بڑی چوک عیاں کرتا ہے وہیں دوسری جانب کشمیر میں دہشت گردوں کی کمر توڑے جانے کے دعوئوں کی قلعی کھولتا ہے اس حملے کی دنیا بھر میں مذمت ہورہی ہے ہونی بھی چاہئے حادثہ اتنا دلخراش تھا کہ جس طرح کی تصاویر آرہی ہے ہر جگہ جوانو ںکے جسم اور گاڑیو ںکے پرزے بکھرے نظر آرہے تھے اونتی پورہ م یں ۲۵۰۰ جوان وںکا قافلہ نکلا تھا جس پر حملہ کیاگیا کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے بھی کہا کہ حفاظتی انتظامیت میں چوک ہوئی ہے اتنا بڑا قافلہ نہیںلے جانا چاہئے تھا اور ایسے قافلے نکلنے سے پہلے گشت بڑھادی جاتی ہے اور چیکنگ بھی ہوتی ہے پھر اتنا بڑا حملہ کئی سوالات کھڑا کرتا ہے۔ کشمیر آج کے حالات میں ملک کی سب سے حساس ریاست ہے جہاں ہمیشہ حالات کشیدہ رہتے ہیں اور فوری کی نگرانی میں ہائے کھولے اور بند کئے جاتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی چیزوں کی تلاشی لی جاتی ہو پھر اتنا بڑا حادثہ وہ بھی اتنی آسانی سے بات ہضم نہیں ہوتی ہے۔ اس طرح کے حالات جموں کشمیر کے لئے نئی بات نہیں ہے لیکن کشیدگی کی وجہ سے حفاظتی انتظامات  میں چوک کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور یہ پہلا موقع ہے ۱۹۹۰ کے بعد جب اتنا بڑا حملہ ہوا ہے۔ لیکن یہ موقع بھی سیاسی نیتائوں اور نیوز اینکرس کے لئے سازگار ثابت ہوا میڈیا ہائوس ٹی آر پی کی ریس میں کس حدتک گرگئے ہیں کہ یہ آپ بھی محسوس کرسکتے ہیں۔حملے کی خبر کے ساتھ ٹی وی اینکرس نے بھی اپنے ہتھیار نکال لئے د ودن قبل کے ویڈیو یوٹیوب پر دیکھئے گا کس طرح اینکر لال آنکھ اور خونی تیور کے ساتھ پاکستان کے ٹکڑے کرنے پاکستان کو ٹھوکنے کی باتیں کررہے تھے۔ اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ اب ملک میں سیاسی حفاظتی شعبوں کی ضرورت نہیں ہے۔ نیوز اینکر ۲ بائے ۲ کے روم سے ہی جنگ کی تیاری کرلیںگے۔ جب وہ جنگ کی بات کررہے ہونگے تو ان کے پاس اسکا لانحہ عمل بھی ہوگا حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ میڈیا کو اختیارات دیدئے جائیں یہی پاکستان سے نمٹ لیں گے۔ کیا جنگ ہر مسئلے کا حل ہیں؟ بالکل نہیں جنگ کیا مسئلہ کا حل بنے گی جنگ خود ایک مسئلہ ہے۔ سوالات اٹھ رہے ہیں اٹھنا بھی چاہئے چرچا اس بات پر ہو کہ سرحد کی حفاظت کس طرح کی جاسکتی ہے ملک کی سلامتی سے کس طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا کب تک ماں اپنے جوانو ںکی آدھی لاشیں قبول کریںگی۔ حکومت دعوی کرتی ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی پھر حملہ کیسے ہوا۔ حکومت کی نگرانی میں سرحدیں ہے پھر ۳۵۰ کلو دھماکے خیز مواد کس طرح ملک میں پہنچا۔ جس ہائے وے پر ہر ۵۰ میٹر کے بعد جوان تعینات ہوتا ہے وہاں حملہ آور کس طرح آئے لیکن اینکرس وہ سوالات کررہی ہیں جس کا اس معاملے سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ حملہ ہوا اور نیوز اینکرس جوان کی لاشوں کے قریب گدھ کی طرح منڈلانے لگے نیوز روم میں جوش دکھانے سے اچھا جوانوں کے گھر والوں سے ہوچھئے جوش کیا ہوتا ہے یہ وقت اپنی دکانیں چمکانے کا نہیں جوانوں کے پریوار کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ جنگ کی قیمت ایک سپاہی سے زیادہ کوئی سمجھ بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ جنگ میں سپاہی ایک پیادے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ افسوس ہوتا ہے ایسے وقت میں جب ملک کا ہر طبقہ صدمے میں ہے اور نیوز اینکرس کہہ رہے ہیں ہمیں نندا نہیں بدلا چاہئے۔ کئی اینکرس نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اسرائیل سے سبق سیکھنا چاہئے دہشت گردوں سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے۔ ہزاروں کی تنخواہ اور اے روم میں بیٹھ کر ذہنوں کو بدلنے کواور رویوں کو بنانے کا کام ہورہا ہے جیسے ہم او رآپ نہیں سمجھ رہے ہیں یہ باتی ںملک کی سلامتی کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں ہم اس سے غافل بھی نہیں ہوسکتے آج ہندوستان میں جس طرح کی مذہبی منافرت پھیلی ہوئی ہے اس میں کہی ںنا کہیں الیکٹرونک میڈیا کا بھی رول ہے۔ اس وقت ہمیں ان باتوں سے چوکنا رہنا چاہئے۔ ہمارے جوان شہید ہوئے ہیں غم وغصہ جائز بھی ہے لیکن کیا نیوز اینکر کے چیخنے چلانے  اور للکارنے سے مسئلہ کا حل نکلے گا۔ صرف ۲ بائے ۲ کے روم سے ملک کے مسائل حل ہونگے؟ یا سستی شہرت اور ٹی آر پی بڑھانے کے لئے جوانو ںکی لاشوں کا استعمال ہوگا؟ صرف بیٹھ کر باتیں کرنے سے جو نے کھودیا ہے وہ واپس آجائے گا؟ یہ بات آپ بھی سوچئے یہ خبر جن گھروں میڈیا کے ذریعہ سے پہنچتی ہے جب وہ ان اینکرس کے خونی اور زہریلے تیور دیکھے گئے تو ان کے ذہن میں نفرت ہی بڑھنے والی ہے ایک کشمیری کی وجہ سے وہ پورے کشمیر کو دہشت گرد سمجھ لیتی ہے حالات کی نزاکت کو سمجھنا ضروری ہے غصہ بھی جائز ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو منہ میں آئے بکتے چلے اور بھولی بھالی عوام کے ذہن سے کھیلا جائے۔ اگر اپنی ذمہ داری سے ہٹ کر خونی تیور میں جنگ کا اعلان ہوگا تو حالات کشیدہ ہونے کا خدشہ ہیں۔آپ بڑی آسانی سے کہہ لیتے ہیں کہ چلئے جنگ پر چلتے ہیں جیسے جنگ کوئی گارڈن ہے اور ہمیں تفریح کرکے واپس آنا ہے۔ ۱۱؍۲۶ممبئی حملے اری میں حملے پٹھان کوٹ اور اب پلوامہ یہی باتیں ہوتی رہی اور اب بھی ہورہی ہے یاں اس حملے کے لئے کشمیریوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا جس کی وجہ سے کشمیر میں جھڑپیں بھی ہوئی او ردہرادون میں کشمیری طلباء پر حملہ بھی ہوئے اری حملہ کے بعد بھی اسی طرح کی باتیں ہوئی تھیں حالات کشیدہ ہوئے تھے تو وزیر دفاع کو بولنا پڑا تھا کہ ہر کشمیری دہشت گرد نہیں ہیں! یہ سبھی باتیں میڈیا کے ذریعہ ہی پھیلتی ہے کشمی رکے گورنر ستیہ پال ملک بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ دہلی کی میڈیا نے کشمیر اور کشمیریوں کو ویلن بنادیا ہے۔ اسمیں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ خونی ہولی مسئلہ کشمی رکے نام پر کھیلی جارہی ہے ا ورمسئلہ کشمیر بھی کوئی نیا نہی ںہے یہ تقسیم اور آزادی سے ہی ہندوستان اور پاکستان کے مقدر کا حصہ بنا ہوا ہیں اس مسئلے سے دونوں ملکوں کی عوام کا مستقبل جڑا ہوا ہے ۔مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کے نامکمکل ایجنڈے کا حصہ ہے جو تقسیم کے وقت حل نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ دنیا کے خطرناک تنازعات میں سے ایک ہے۔ کبھی ایشیائ’ کا سوئزر لینڈ کہاجانے والا کشمیر آج کل لہولہان ہے کشمیر کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ۳ جنگیں بھی ہوئیں لیکن کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکلا اصل وجہ یہ ہے کہ دونوں ملک نہیں چاہتے کہ کشمیرکا مسئلہ حل ہوا گر یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا تو پھر دونوں ملکوں کو سیاست کا موقع نہیں ملے گا۔ اب وقت نازک ہے لیکن یہ سوچنا بہت ضروری ہے کہ جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اور میڈیا کے غیر جانبدارانہ انداز سے ہم متاثر نہیں ہوںنگے ان کی باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ حکومت کے طرفدار ہے یا اپوزیشن کے ساتھ جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جانے والا میڈیا بھی سیکولر ہوکر سیاسی پارٹیو ںکے لئے مہرے کا کام کررہے ہیں میڈیا کا کام عوام کی ترجمانی کرنا ہے ناکہ جنگ کا اعلان کرنا میں بھی میڈیا میں رہ کر سمجھ سکتا ہوں کہ لاشوں کا ڈھیر ہمارا مستقبل نہیں ہوسکتا اور خون کی ہولی ہمیں زیب نہیں دیتی اس لئے ہوشیار رہیں اور خود فیصلہ کریں۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share