Select your Top Menu from wp menus

“سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ ” مصرع کے خالق امیر مینائی کی فن و شخصیت 

“سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ ” مصرع کے خالق امیر مینائی کی فن و شخصیت 

امیر مینائی کی یومِ پیدائش 21 فروری کے ضمن میں ایک خصوصی پیشکش :

محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
امیرؔ مینائی ایک بلند مرتبہ و عظیم شاعر تھے ۔ آپ نے اردو اور فارسی دونوں میں زبان و بیان کے ایسے دریا بہائے جس سے اہلِ سخن آج تک سیراب ہورہے ہیں.
امیر مینائی کو زبان و بیان پر جو بے پناہ قدرت حاصل تھی اس کی نظیر بہت کم شعراء کے یہاں ملتی ہے ۔ امیر اپنے آپ میں ایک اعلیٰ ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ آ پکی شاعرانہ عظمت اور علمی قابلیت کو اُس دور کے سبھی نامی شعراء نے خوشی خوشی تسلیم کیا.
امیرؔ مینائی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ غزل کو ان کی محبوب صنف خیال کیا جاتا ہے ایسا لگتا ہے کہ امیر غزل کے لیے اور غزل ان کے لیے بنی تھی حالانکہ آپ نے دوسری اصناف میں بھی طبع آزمائی کی بھرپور کوششیں کی ہیں. لیکن جو مقبولیت و شہرت آپ کو صنف غزل میں ملی ہے وہ بہت کم شعراء کے حصے میں آئی ہے.
امیر مینائی 21 فروری 1829 کو ہندوستان کے معروف شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے . امیر مینائی کا پورا نام امیر احمد مینائی تھا اور آپ تخلص ‘امیر’ استعمال کرتے تھے امیر مینائی دراصل مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے وابستہ تھے اسی لیے آپ مینائی کہلائے. امیرؔ نے ابتداء میں قرآن مجید کی تعلیم مولوی مظفر علی سے حاصل کی ۔ اس کے بعد علم و ادب، فلسفہ، فقہ اور حدیث کی تعلیم اُس دور کے نامور اساتذہ مفتی سعداللہ مرادآبادی، مفتی محمد یوسف، مولوی عبدالحکیم فرنگی محلی اور مولوی تراب علی لکھنؤی سے حاصل کی ۔
شاعری کے علاوہ آپ کو علمِ طب،جفر اور علمِ نجوم میں بھی مہارت تھی اسی وجہ سے اپنے معاصرین سے ممتاز تھے۔
امیر مینائی کوشعر و سخن کا شوق بچپن سے ہی تھا. شروع میں مظفر علی اسیرسے تلمذ حاصل کرتے رہے اس کے بعد 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے اور ان کی ہدایات و احکامات پہ عمل کرتے ہوئے دو کتابیں’’ارشاد السلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں۔ 1857 کے ہنگامے کے بعد آپ رام پور چلے آئے اور نواب یوسف علی خاں والئ رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں کے استاد مقرر ہوئے اور یہاں رام پور میں امیر مینائی نے اپنی زندگی کے 43 برس بڑی عزت وآرام سے گزارے اور اس دوران آپ تصنیف وتالیف کے کام میں مشغول رہے۔ جب نواب کلب علی خان بھی انتقال فرما گئے تو اسکے بعد آپ اپنے ہم عصر شاعر اور قریبی دوست داغ دہلوی کے کہنے پر حیدرآباد (دکن) چلے آئے اور اپنے آخری ایام یہی گذارے۔ چنانچہ
1892 میں امیرؔ مینائی بیمار ہو گئے، حکیموں اور ڈاکٹروں سے بتھیرا علاج کروایا مگر کسی صورت افاقہ نہ ہوا. ایک جگہ خود کہا کہ
توڑ ڈالی موت نے غربت میں میناےٗ امیرؔ
بالآخر 13 اکتوبر 1900 ء کو 71 برس کی عمرمیں اس دنیا ئے فانی سے ہمیشہ ہمیش کے لیے کوچ کر گئے. امیر مینائی کے لوحِ مزار پر جلیلؔ رانکپوری کی یہ تاریخ کندہ کی گئی ہے کہ
امیر کشور معنی امیرؔ مینائی
خدا کے عاشقِ صادق درِ نبیﷺ کے فقیر
گےٗ جو خلد بریں کو تو ان کی تربت پر
جلیلؔ نے یہ لکھا روضہٗ جناب امیرؔ
جب کہ امیر مینائی کی قبر انور کے لوح مزار کی پشت پرامیرؔ مینائی کا اپنا ہی یہ شعر کنداں ہے جو اہل دنیا کو آج بھی دنیا کی بے ثباتی سے آگاہ کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ
ابھی مزار پہ احباب فاتحہ پڑھ لیں
پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے
امیرؔ احمد مینائی کے انتقال پر دنیائے اردو ادب میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا جس کے نتیجے میں اس وقت کے مختلف اخبارات و رسائل میں تعزیتی مضامین شائع ہوئے اور اکثر ہم عصروں اور شاگردوں نے اردو اور فارسی میں وفات کی تاریخیں لکھیں. ان اہل ادب حضرات میں مہاراجہ کشن پرشادؔ،داغؔ، جلالؔ اور جلیل وغیرہ کی تاریخیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں ۔ ان میں سے داغؔ کی تین تاریخوں میں سے ایک تاریخ قارئین آپ بھی یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ
کر گئے رحلت امیر احمد امیرؔ
اب نشاطِ زندگی جاتا رہا
مل گئی تاریخ دل سے داغؔ کے
آہ لطفِ شاعری جاتا رہا
آپ کے شعری مجموعے اور دیگر تصانیف میں سے
’’مرآۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ دو دیوان یادگاری حیثیت رکھتے ہیں۔ تیسرا دیوان’’محامد خاتم النبیین‘‘ ایک نعتیہ کلام بے حد خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ ’’امیر اللغات‘‘ کی صرف دوجلدیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ شائع ہوئیں ہیں ۔اس کے علاوہ بھی امیر کی نثرونظم میں معتدد تصانیف ہیں۔ آپ کے شاگردوں کی گنتی میں ریاض خیرآبادی، جلیل مانک پوری، مضطر خیرآبادی اور حفیظ جونپوری ادب کی دنیا میں کافی زیادہ مشہور ہوئے ہیں.
آپ کی شاعری میں اعلیٰ اخلاقی اقدار اور تصوفانہ رنگ بے حد نمایاں ہے اور ساتھ ہی علم و فضل، اعلیٰ اخلاق، زہد و تقویٰ، سادگی، خودداری اور خدمت خلق جیسے جذبات و احساسات سے مرصع آپ کی شاعری قارئین کو راہ ہدایت کی طرف گامزن ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے. آپ کی شاعری میں پائے جانے والے مذکورہ اوصاف سے آپ کی بلند پایہ افکار و اعلیٰ شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے چنانچہ آپ ایک مجسمۂ اخلاق اور عبادت گزار انسان تھے۔ امیر مینائی کے اوصاف حمیدہ کے چلتے تمام طبقے کے لوگ آپ کو بڑی عزت احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے.
آپ کے کلام کے بیشتر اشعار ایسے ہیں جو آج محاوروں کی مثل مشہور ہو گئے ہیں. اس سے قبل کہ ہم ایسے چند اشعار کو یہاں اپنے مطالعے میں لائیں. آئیے امیر کی ایک مشہور غزل کے چند اشعار سے لطف اٹھائیں ملاحظہ فرمائیں امیر مینائی کی یہ غزل جو آج بھی ہمیں اکثر ریڈیو پر نشر ہوتی ہوئی کہیں نہ کہیں سنائی دے جاتی ہے کہ
سرکتی جاےٗ ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کبھی فرصت میں کر لینا حساب آ ہستہ آہستہ
سوال وصل پر ان کو ردو کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آ ہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
امیر مینائی ایک مسلم الثبوت استاد تھے۔ ان کا اکثر کلام صحت زباں اور فنی پختگی سے آراستہ ہے۔
انسان کے لیے آبرو کس قدر اہمیت کی حامل ہے امیر کہتے ہیں کہ
آبرو شرط ہے انساں کے لیے دنیا میں
نہ رہی آب جو باقی تو ہے گوہر پتھر
چند اور خوبصورت اشعار ملاحظہ فرمائیں کہ
خون ناحق کہیں چھپتا ہے چھپائے سے امیرؔ
کیوں مری لاش پہ بیٹھے ہیں وہ دامن ڈالے
آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن
مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے
آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں
وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں
وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر
شعر جو انتخاب ہوتے ہیں
الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو
ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو
ایک جگہ محبوب کی نازکی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکت
بل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کا
انسان کا اپنی حسرتوں سے کس قدر پختہ رشتہ ہوتا ہے اس خیال کو کس طرح سے قلمبند کیا ہے آپ بھی دیکھیں
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
انسان کو جیسے ہی موت اپنے قلابے میں لیتی ہے تو اس سے سبھی چیزیں جدا ہو نے لگتی ہیں اور یہاں تک کہ اس کے جسم کے اعضاء پر بھی اس کا اختیار نہیں رہتا
وقت نزع نقشہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
پتلیاں تک بھی تو پھر جاتی ہیں دیکھو دم نزع
وقت پڑتا ہے تو سب آنکھ چرا جاتے ہیں
ایک جگہ ہر ایک چیز خدا سے مانگنے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
چند اور منفرد رنگ کے خیال والے اشعار ملاحظہ فرمائیں کہ
تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے
شاخوں سے برگ گل نہیں جھڑتے ہیں باغ میں
زیور اتر رہا ہے عروس بہار کا
جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ دنیا کی زندگی فانی ہے اس تصور کو دیکھیں امیر مینائی نے کتنے سادہ اور عام فہم زبان میں قلمبند کیا ہے کہ
زیست کا اعتبار کیا ہے امیرؔ
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
ایک اور جگہ اپنے ہم پیشہ شعراء کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے کچھ اس انداز میں رقمطراز ہیں کہ
شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔ
سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں
اب آپ امیر مینائی چند ایسے مشہور اشعار ملاحظہ فرمائیں جن کے مصرع آج ایک طرح سے محاورہ کی مثل استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو
ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
روز و شب یاں ایک سی ہے روشنی
دل کے داغوں کا چراغاں اور ہے
شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔ
سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں
بے شک آج امیر مینائی ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن اپنی بے مثال غزلیات و تخلیقات کے چلتے قارئین کے دلوں میں وہ آج بھی گھر کیے ہوئے ہیں. آپ کے کلام میں جو حُسنِ تغزل ہے اس کی بدولت اہل سخن کے دلوں میں وہ انشاءاللہ رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے.
رابطہ 9855259650
  • 1
    Share
  • 1
    Share