Select your Top Menu from wp menus

پلوامہ دہشت گرد حملہ دشمن نے یا گھر کے بھیدیوں نے کیا ہے؟

پلوامہ دہشت گرد حملہ دشمن نے یا گھر کے بھیدیوں نے کیا ہے؟
  نقاش نائطی
پلوامہ سی آر پی ایف  دہشت گردانہ حملہ، دیش کے بہادر 42 فوجیوں کی لمحہ بھر میں موت کا ذمہ دار کون ہے؟
سرحد پر اپنے خون کا بلیدان دے دیش کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کی قربانیاں ہی ہیں، جو ہم دیش واسی، دیش کے مختلف حصوں میں اپنی معاشرتی زندگی کی رنگ ریلیوں میں مست مسرور، سکون و چین کی نیند سوپاتے ہیں۔ پلوامہ حملہ میں دیش کے بہادر 42 سپاہیوں کی یکلخت سازشی موت ناقابل معافی جرم ہے۔ اور جو کوئی بھی اس کے لئے ذمہ دار یے اسے کڑی سے کڑی سزا دینا وقت کی سب سے اہم ذمہ داری و ضرورت ہے۔ اس کے لئے کشمیری آتنک وادی ذمہ دار ہوں یا پاکستان میں بیٹھے ہندستان کے دشمن اس کے ذمہ دار ہوں، قصور وار تک پہنچ کر اپنے آہنی ہاتھوں سے انہیں کیف کردار تک پہنچانا، ہم ہندستانیوں کا فرض منصبی ہے۔ اور  عالمی منظر نامہ پر امامت عالم کی دعویدار بنتی طاقت، ہم جمہوریہ ہندستان، ہماری بری، بحری اور ہوائی افواج، ہماری مختلف انٹیلجنس ایجنسیاں اور ہمارے مختلف کمانڈوز، مکمل طور پر سکشم  و مقتدر ہیں، ہندستان کی سالمیت کے خلاف شرانگیزیاں کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے۔ دشمنان ملک ہندستان سے دو دو ہاتھ لینے کے لئے۔اور ضرورت پڑے تو اس ملک  کے ہم مسلمان  بھی اپنے اپنے طور، دشمن ملک کے خلاف اپنے ملکی افواج  کے ساتھ ہندستان کی حفاظت کے لئے جان آفرین قربان کرنے ہمہ وقت تیار پائے جائیں گے۔انشاءاللہ
پلوامہ سانحہ کے ذمہ دار کشمیری شدت پسند ہیں تو ان سے نمٹنے کے لئے ساڑھے سات لاکھ ہندستانی افواج،پہلے ہی سے وادی کشمیر میں سرگرم عمل ہیں اور اگر یہ طہ پاتا ہے کہ پلوامہ سانحہ کے در پردہ  ذمہ دار سرحد پار دشمن ملک بیٹھے، ہندستانی افواج کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں اور دشمن ملک کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگ ممکن بھی نہیں، تو کیا  براہ راست کمانڈو آپریشن سے دشمنان ہندستان کو کیف کردار تک پہنچایا نہیں جاسکتا؟ جس طرح سے صاحب امریکہ نے اپنے 9/11 کے سب سے بڑے متجوزہ دہشت گردہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ سے ہزاروں کلومیٹر دور پاکستان ایبٹ آباد میں فوجی کاروائی کر کی تھی۔ کیا ہندستانی کمانڈو جن کی تربیت کے لئے ہزاروں کروڑ ٹیکس بجٹ سے خرچ کئے جاتے ہیں، کیا ایسے کسی آپریشن کے قابل و اہل نہیں ہیں؟ ہزاروں کروڑ ہندستانیوں کے ٹیکس رقوم سے ٹرینڈ کمانڈوز، کیا صرف کرپٹ سیاست دانوں کی حفاظت کے لئے تیار کئے جاتے ہیں؟ہمیں لگتا ہے سیف علی خان کی کسی فلم میں درشائے کردار مطابق، جس میں فلم کا ہیرو سیف علی خان پاکستانی نامہ نگار کا  رول کرتی اپنی محبوبہ ہیروئن کے ساتھ مل کر، بھیس بدل پاکستان جاکر ممبئی 9/11 کے مجرم کو قتل کر واپس ہندستان چلے آتے ہیں۔   سرحد پار بیٹھے ہندستان کے خلاف سازش رچتے دشمن ہندستان کے خلاف کیا اس نوع کمانڈو آپریشن ممکن نہیں ہے؟
پلوامہ دہشت گرد حملہ میں اب تک 49 فوجی جوانوں کی ہلاکت کے بعد پورے ہندستان کے کونے کونے میں سرحد پار دشمن ملک کے خلاف جو غم وغصہ ایک لاوے کی شکل ابل رہا ہے اگر پلوامہ دہشت گرد حملہ دشمن ملک میں بیٹھے دشمان ہندستان کی ایما ہی پر کیا گیا ہے تو یہ جذبہ نفرت ایک حد تک ٹھیک ہے لیکن اگر بے ایمان سیاست دانوں نے اپنی گندی سیاست کے گندے منصوبوں کی باورآوری کے لئے، ہم ہندستانیوں کو بے وقوف بنایا ہے اور ہمارے جذبات کا استحصال کر، اپنے گندے سیا سی مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں سڑکوں پر اتار، اپنا سیاسی ھدف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو ہم سوا سو کروڑ ہندواسیوں کو بے وقوف بنا کر، چند شدت پسند کرپٹ سیاست دان،ہم پر مزید پانچ سال اپنی آہنی سیاسی سنگھی گرفت بحال رکھ،دیش کے ہزاروں سالہ سیکیولر اثاث کو بالائے طاق رکھ کر 80% تا 90% پس ماندہ دلت آدیواسی ہندو مسلمان سکھ عیسائی  مختلف ذات برادریوں پر، دو ڈھائی فیصد برہمن، ہند ہندو کے نام سے منو وادی برہمن راج قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہم سیکولر ذہن دیش کی اکثریت دیکھتی ہاتھ ملتی رہ جائیگی
ہم پڑھے لکھے تعلیم یافتہ ہندستانی اس جدت پسند دنیا میں سائبر میڈیا گوگل فیس بک  کے پلیٹ فارم سے استفادہ حاصل کر سابقہ ادوار کے تمام ڈیٹا قسط وار مفصل جب ہمیں دستیاب ہوسکتے ہیں تو ان تفاصیل کی روشنی میں سابقہ ربع صد دوران عالمی سطح پر یا ہندستان کی ملکی سطح پر ہمارے کرپٹ سیاستدانوں نے ہمارے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے، ہمیں کس قدر بے وقوف بنا کر اپنے گندے مقاصد کا حصول کیا ہے دیکھتے ہوئے اس پلوامہ دہشت گرد واقعہ کو پرکھا اور جانچا جائے اور دیکھا جائے کہ سابقہ روایات ہی کی طرح اب کی بھی ہم سے غلط بیانی کر، ہمارے جذبات کو برفروختہ کر، اپنے گندے سیا سی مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں استعمال  تو نہیں کر رہے ہیں؟
امریکہ واشنگٹن ٹوین ٹاور 9/11 دہشت گرد حملہ
امریکہ کے مختلف ٹارگیٹ پر فضائی دہشت گرد حملہ وقوع پذیر ہوتا ہے ۔اور اس امریکن 9/11 حملے کے ایک دو گھنٹہ بعد صدر امریکہ پورے عالم سے اپنے خطاب میں، خود اس کی مدد و نصرت سے افغانستان میں روسی افواج سے لڑ کر روس کو مختلف حصوں میں بٹنے پر مجبور کرنے والی فوجی تنظیم القاعدہ اور اس کے کمانڈر اسامہ بن لادن کو اس امریکن 9/11 دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار قرار دے،اقوام متحدہ کے قانون کو بالائے طاق رکھ، عالم کی بڑی فوجی طاقتوں کو دہشت گردی کے خاتمہ کے بہانے اپنے ساتھ لئے،افغانستان عراق پر چڑھائی کر لاکھوں بے قصور افغانی عراقی عوام کا قتل کرنے کا موجب بنتا ہے۔صدر امریکہ کے کہنے پر آمنا وصدقنا کہتے ہوئے، امریکن 9/11 دہشت گرد حملہ کا ذمہ دار القاعدہ اور اسامہ بن لادن افغانستان و عراق حکومت کو تسلیم کر، امریکہ کے فوجی آپریشن میں مکمل ساتھ دے افغانستان و عراق حکومتوں کی تاراجی کے بعد، دنیا والوں کے سامنے یہ عقدہ کھلتاہے کہ دراصل عراق صدام کی بڑھتی عسکری طاقت اور افغانستان طالبانی اسلامی حکومت کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ، صاحب امریکہ نے اپنے دیرینہ دوست اسرائیل کی انٹیلیجنس موساد سے مل کر خود امریکہ کے کچھ ٹارگیٹ پر فضائی دہشت گرد حملے کرواتے ہوئے،اپنے کئی ہزار بے قصور امریکیوں کی جان قربان کر، افغانستان و عراق پر حملے کی راہ استوار کرنے پوری دنیا ، کو بے وقوف بنایا تھا اور اس وقت بشمول ہمارے پوری دنیا امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کی ریشہ دوانیوں کے آگے بے وقوف بن گئے تھے
2002 گودھرا کانٹ
اس وقت گجرات پر سنگھی حکومت کرتے نریندر مودی جی، اپنی ہی سنگھی پارٹی کے سیاسی حریف، کیشو بھائی پٹیل کے ہاتھوں اپنی ہار کو جیت میں بدلنے کے لئے ، ایودھیا سے لوٹ  رہے 59 رام بھگتوں کو اپنے ہی سنگھی گرگوں کے ہاتھوں ٹرین کے اندر سے تیل چھڑک زندہ جلاکر مارتے ہوئے، ایودھیہ سے مذہبی تیرتھ  یاترا کر لوٹتے رام سیوکوں کو زندہ  جلانے کا الزام، معاشی طور مستحکم گجرات مسلمانوں کے سر زبردستی ڈالتے ہوئے، گودھرا کانٹھ کے بدلے کی کاروائی کے طور، منظم سازش کے تحت اپنی گجرات سرکار کی مشینری کا پورااستعمال کرتے ہوئے،کئی دن تک گجراتی مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہوئے، مسلمان عورتوں کو سر راہ ننگا کر ان کی عزتوں کی پامالی کرواتے ہوئے، گربھ وتی مسلم عورتوں کو سر راہ ننگا کر، چاقو تلوار سے ان کا پیٹ چیر،ان جنمے ان کے بچوں کو ترشول کے نیزوں پر اچھال انہیں قتل کرواتے ہوئے اور ننگی مسلم عورتوں کو آگ میں زندہ جلاتے  ہوئے، کئی ہزار گجرآتی مسلمانوں کے قتل عام دہشت گردانہ اسٹیٹ ٹیررزم پر گجرات اپنی پندرہ سالہ حکومت کو تقویت بخشی تھی مہان مودی جی نے۔اس وقت گودھرا کانٹھ کے بعد پورے ہندواسیوں کو مودی مہاراج کی گجرات سرکار نے، گجراتی مسلمانوں کے ہاتھوں گودھرا ٹرین حادثہ میں رام بھگتوں کو زندہ جلا قتل عام کرنے کے الزام کو سچ ماننے پر مجبور کیا تھا اور جلتے گجرات اور مرتے مسلمانوں کو گودھرا کانٹھ کی بدلے کی کاروائی تسلیم کروایا تھا، لیکن بعد کے دنوں میں گودھرا کانٹھ خود گھٹ کر گجراتی مسلمانوں کے قتل عام کئے جانے کا عقدہ کھلا۔ لیکن فائدہ کیا ہوا مودی جی کے ہاتھوں پورا ہندستان بے وقوف بن چکا تھااور ہزاروں گجراتی مسلمان قتل کئے جاچکے تھے
ہندو تیررسٹ سلسلہ وار بم دھماکے
ممبئی سیریل بم بلاسٹ بعد جس کا الزام داؤد ابراھیم اور میمن برادران پر لگا تھا جو انہوں نے 1992  منظم مسلم کش ممبئی فساد کے بدلے کی کاروائی کے طور کیا تھا۔ ہندستانی فوجی کرنل پروہت، سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور، ہندو دھرم گرو سوامی اسیمانند  اور کئی سنگھی لیڈروں پر مشتمل شدت پسند سنگھی دہشت گرد گروپ، ونئیے بھارتی قائم کر، دیش بھر کے مختلف مقامات پر خصوصا مہاراشٹرا مالیگاؤں قبرستان بم بلاسٹ، آندھرا حیدرآباد مکہ مسجد بم بلاسٹ، یوپی بنارس مندر بم بلاسٹ، ہندستان پاکستان درمیان چل رہی سمجھوتہ ایکسپریس ریل بم بلاسٹ جیسے کئی ایک  بلاسٹ میں استعمال ہوئے دیسی بموں میں اردو ردی اخبارات کا استعمال کر، مسلمانوں کا ہی جانی و مالی نقصان کرواتے ہوئے، دیش کی مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں میں اہم عہدوں پر براجمان سنگھی ذہن آفیسروں نے منظم سازش کے تحت ان تمام بم بلاسٹ کے لئے مسلم تعلیم یافتہ طبقہ کو ہی ذمہ دار ٹہراتے ہوئے، دیش بھر کے ہزاروں تعلیم یافتہ برسرروزگار نوجوانوں کو پابند سلاسل رکھتے ہوئے،دنیا جہاں کی اذیت سے انہیں دوچار کر، ان بے قصور مسلمانوں کو ایک طرف اقبالی مجرم بننے پر مجبور کیا تھا تو دوسری طرف اپنی آر ایس ایس، بی جے پی، وشوہندو پریشد، بجرنگ دل رام سینا، و  شیو سینا جیسی انیک شدت پسند ہندو تنظیموں کے لاکھوں کیڈر بیس کاریہ کرتاؤں کو احتجاج کرنے سڑکوں پر اتار کر، ان مختلف بم دھماکوں کے الزام میں پکڑے گئے مسلم یواوؤں کی پیروی سے دیش کے وکلا کو باز  رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے، ہزاروں مسلم نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرنے کی منظم سازش رچی گئی تھی۔اور اس وقت ان مختلف دھماکوں کے فورا بعد الکٹرونک میڈیا پر بغیر تحقیق  ان بم دھماکوں کے لئے انڈین مجاہدین کا نام لیا جاتا تھااور شک کی بنیاد پر مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حراست میں لئے جانے کا کھیل شروع ہوتا تھا۔اس وقت مسلم قوم سمیت پورا ہندستان ان سنگھئوں کے جھوٹ افترا پروازیوں کے آگے سر تسلیم خم کر یا کہ بے وقوف بن مختلف بم دھماکوں کے الزام میں دھر لئے گئے مسلم نوجوانوں کو ہی کہیں نہ کہیں ان بم دھماکوں کے لئے ذمہ دار سمجھنے لگے تھے۔یہ تو اللہ رب العزت کا کرم ہوا ممبئی اے ٹی ایس چیف شری ہیمنٹ کرکرے نے مالیگاؤں  بم بلاسٹ میں استعمال کی گئی جلی ہوئی موٹر بائک کے چیسز نمبر سے اس موٹر بائک کی مالکہ سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور تک پہنچ گئے ۔موٹر بائک چوری کئے جانے کی پہلے سے پولیس رپورٹ رہتے ہوئے بھی، شری پیمنٹ کر کرے جیسے ذہین انٹیلیجنس آفیسر نے، شک کی بنیاد پر، سادھوئی پرتگیہ سنگھ کے خلاف اپنی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے ہندو ٹیررسٹ گروپ کے بھیانک چہرے سے ہندواسیوں کو متعارف کیا تھا۔ ورنہ تقریبا پورا ہندستان ان سنگھئوں کے جھوٹ افترا پروازی کے آگے مکمل بے وقوف بن، بے قصور پکڑے گئے ہزاروں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو ہی مختلف بم بلاسٹ کا ذمہ دار تسلیم کرچکا تھا۔ یہ تو اچھا ہوا جمیعت علماء ھند کے مولانا مدنی کی سعی پیہم سے 2005 کے آس پاس مختلف بم دھماکوں میں زیر حراست لئے گئے مسلم نوجوان، ایک ایک کرکے عدالت عالیہ سے بے قصور ثابت ہو جیل سے رہا ہورہے ہیں۔بے قصور ہزاروں مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی زندگی برباد کرنے والے سازشی سنگھی انٹیلیجنس آفیسرز اور سنگھی سیاست دان کو ان کے کئے کی سزا،ابھی تک کوئی دے نہیں پایا ہے
9/11 ممبئی ٹیررسٹ حملہ
سنگھی ذہن حکمراں اور سنگھی میڈیا کے کہے اور ٹیلیوزن پر دکھائے واقعات کو سچ مان کر،پورے ہند واسیوں سمیت دیش کے مسلمانوں نے  بھی 9/11 ممبئی تاج محل حملے کو پاکستان میں بیٹھے ہند دشمن شدت پسند دہشت گردوں کی کاروائی قبول کی تھی۔ اس ممبئی ٹیررسٹ حملہ کے چند ایک دن کے اندراس وقت مہاراشٹرا کے سابق کانگریسی چیف منسٹر آے آر انتولے نے پہلی مرتبہ ممبئی ٹیرررسٹ کاروائی کو، مسلم دہشت گرد چہرے کے مقابلے  ہندو دہشت گرد چہرے سے دیش کو متعارف کرانے والے ممبئی اے ٹی ایس چیف شری ہیمنت  کر کرے کو قتل کرنے کی شدت پسند بگھوآ تنظیموں  کی اندرونی سنگھی سازش قرار دیا تھا۔ یہ تو اچھا ہوا بعد کے دنوں میں 9/11 ممبئی دہشت گرد حملہ کو، شری پیمنٹ کر کرے کو راستہ سے ہٹھانے کی شدت پسند سنگھئوں کی کاروائی تسلیم کرنے لگے ہیں یہ اور بات ہے حکومت ابھی تک اسے پاکستان میں بیٹھے مسلم شدت پسندوں ہی کے کھاتے میں ڈال رہی ہے،
پلوامہ ملٹری کانوائے ٹیرررسٹ حملہ
ان تمام واقعات پر گہری  نظر ڈالنے کے بعد ذرا سنجیدگی کے ساتھ پلوامہ ملٹری کانوائے ٹیررسٹ حملے میں ہوئی لغزشوں پر نظر ڈالتے ہوئے تجزیہ کیا جائے کہ کیا پلوامہ ملٹری کانوائے حملہ دشمن ملک بیٹھے ملک دشمنوں نے کیا ہے؟ یا دیش کے ہی کچھ غداروں نے اپنے گندے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ بزدلی والا اپنے فوجیوں کو قربان کرنے کا خطرناک کھیل کھیلا ہے؟
حالت جنگ میں ہو یا عام دنوں میں ڈھائی ہزار فوجیوں کا ستر پچھتر گاڑیوں کا اتنا بڑا کانوائے عموما نہیں لے جایا جاتا۔ایسے کانوائے  گزرنے سے پہلے، روڈ کلینرنس دستہ شروع میں  ہمراہ ہوتا ہے  اور خصوصا پلوامہ جیسے کبھی بھی شدت پسندوں کےمتوقع حملہ کے پیش نظر علاقوں میں خاص احتیاط برتی جاتی ہے اور پلوامہ کی اس حساس سڑک پر فاصلے فاصلے پر ملٹری چیک پوسٹ کے رہتے ہوئے، شدت پسندوں کی اسکورپیو کار 350 کلو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کانوائے تک کیسے پہنچ پائی یہ ایک بہت بڑا سوال ہے؟ شدت پسندوں کے پاس 350 کلو دھماکہ خیز مواد کہاں سے آیا؟ بقول ملٹری ایکسپرٹس اتنی بڑی مقدار دھماکہ خیز مواد بارڈر پار سے نہیں لایا جاسکتا
کشمیری شدت پسند اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں کہ انہیں دستیاب 350 کلو دھماکہ خیز مواد کو ایک ہی حملہ میں استعمال کریں۔350 کلو دھماکہ خیز مواد سے کئی جگہوں پر مختلف حملے کئے جاسکتے تھے
 مجاہدین جب ایسے ملٹری کانوائے پر حملہ کرتے ہیں تو عموما شروع کانوائے آفیسرز کی گاڑیوں پر عموما حملہ کیا کرتے ہیں نہ کہ درمیان والی عام فوجیوں کی بس پر جو پلوامہ میں کیا گیا
کسی اسکول کالج کے دو تین سو بچے پکنک وغیرہ گھومنے جاتے ہیں تو عموما ایک کلاس کے بچے ایک بس میں سوار ہوا کرتے ہیں۔ملٹری والے تو بہت زیادہ ڈسپلن والے ہوتے ہیں۔ کونسی بس میں کونسی بیٹیلین کے  کون کون فوجی، کس کس سیٹ پر بیٹھیں گے یہ تو پہلے سے طہ ہوا ہوتا ہے اور عموما ایک یا دو بیٹیلین  کے فوجی ہی ایک بس میں سوار ہوا کرتے ہیں پھر ایسا کیسے ہوگیا کہ پلوامہ حملہ میں ٹارگیٹ کی گئی بس پر مختلف پندرہ بیٹیلین کے پورے ہندستان کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے، عموما چھوٹی ذات والے کسانوں مزدوروں کی اولاد فوجی ہی سوار تھے یا سوار کرائے گئے تھے، تاکہ ان شہید فوجیوں کے جسد خاکی کے مختلف صوبوں میں جلوس کی شکل لیجا کر سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ پلوامہ حادثہ کے مہولکین فوجیوں کے جسد خاکی کے ساتھ ہر جگہ پر اہتمام سے سنگھی لیڈروں کا پہنچنا کیا یہ ثابت کرنے کےلئے کافی نہیں کہ پلوامہ حادثہ کا سیاسی کرن کس سازش کے ساتھ کیا گیا تھا؟ سب سے اہم بات اس حادثے والی بس میں مختلف 15 بیٹیلین  کے 42 فوجیوں کو کس خاص مقصد کے تحت  بٹھایا گیا تھا؟ اور کن لوگوں نے اس کا اہتمام کیا تھا کیا اس کی تحقیقات نہیں کی جانی چاہئیے؟
جس سیاست دان کا ٹریک ریکارڈ ،اپنے سیاسی  اقتدار کے حتمی نتائج کے لئے گودھرا کانٹھ میں ایودھیہ سے لوٹنے والے اپنے سنگھی  59 رام بھگتوں کو زندہ جلا اس کا الزام گجراتی مسلمانوں پرڈال، ہزاروں گجراتیوں کا قتل عام کرنے کا الزام ہو،اور گجرات زمام حکومت دوران ان کے کئے، سہراب الدین فرضی اینکونٹر کی تحقیق کر رہے سپریم کورٹ کے جج لویا کو راستے سے ہٹوانے کا الزام ہو، ان کے لئے 2019 تقریبا ہارتے انتخاب کو، دیش کے فوجیوں کی آستھیوں پر انتخاب جیتنے، 40 فوجیوں کی قربانی کیا اہمیت رکھتی ہے؟
پلوامہ حملہ سے فائیدہ کتنا اور کسے ملتا ہے اس کا بھی تجزیہ ضروری ہے۔اس حملہ سے پہلے سیاسی بادل کس رنگ مہو پرواز تھے؟ اپوزیشن اتحاد سے پریشان انہیں پرینکا کے عملی سیاست میں آنے سے اور ہواس باختہ کئے ہوئے تھا۔ اوپر سے ھذب مخالف لیڈر کے رافیل سودے پر حملے تیز تر نڈرتا پوروک ہوتے جارہے تھے۔ الیکٹرونک سروے،ان کے اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے اشارے دے انہیں بد حواس کئے ہوئے تھے۔سیاسی استحکامیت کے لئے ،انکے لئے ہر فیصلے انکے خلاف ہی جارہے تھے اور جیسے جیسے  انتخاب کے دن قریب آرہے تھے اپوزیشن قوی تر اور وہ کمزور تر پڑ رہے تھے ایسے میں پلوامہ حادثہ انہیں سنجیونی بوٹی کے طور کام آگیا۔ انکے خلاف رافیل جیسے مختلف موضوعات پر انہیں گھیرنے والے بھی، دشمنوں سے  دیش کی سالمیت  کے ایجنڈے کے نیچے دب کر ان کے ہمنوا بن گئے۔
پلوامہ حملہ کے دن ان سنگھی لیڈران کی مطلق العنانی بھی دیکھنے لائق تھی۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کی پہلی پریس کانفرنس تھی پھر بھی پرینکا نے پلوامہ حملہ کے پیش نظر اپنے سیاسی کیرئر کی پہلی پریس کانفرنس دو منٹ مون برتھ شہیدفوجیوں کو شردھانجلی دینے کے بعد ملتوی کردی تھی۔ اور دیش پر حکومت کر رہے سب سے طاقتور سیاست دان چانکیہ، امیت شاہ جی کرناٹک میں اپنی سیاسی تقریر  سے، بابری مسجد زمین ملکیت قضیہ پر  سپریم کورٹ فیصلہ آنے سے پہلے، اسی متنازع بابری مسجد جگہ پر رام مندر تعمیر کی یقین دہانی کراتے ہوئے، نفرت کا بازار گرم کر رہے تھے۔ 56″ سینے والے مہان پرائم منسٹر مودی جی بھی، پلوامہ حادثہ میں شہید 42 فوجیوں کی شہادت باوجود اپنی منافرتی سیاست ترک نہ کر پائے۔ستم اس وقت ہوا۔ پلوامہ حملہ کے تناظر میں دیش کی اکھنڈتا کے لئے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں بھی حاضر رہنے کے بجائے اپنی سیاست کی دوکان بچانے کی فکر مودی جی پر حاوی رہی۔ چھوٹے مودی یوگی مہاراج  کو بھی کیرالہ میں سنگھی زہر افشانی میں پلوامہ سانحہ یاد نہ رہا ظلم تو اس وقت ہوا دہلی کے ممبر پارلیمنٹ اور سنگھی کمانڈ انچارج شری منوج تیواری جی پلوامہ واقعہ والی شام، رات بھر ناچ گانے میں مست رہے۔ دراصل ان سنگھی سیاست دانوں  کے لئے دیش کے فوجیوں کی اموات سے زیادہ ان کی سیاست کی دوکان کی بقا ضروری جو ہے
*پلوامہ ملٹری کانوائے ٹیرررسٹ حملہ کرواتے ہوئے فوجیوں کی جان کی آہوتی دے اپنی گرتی ساکھ بچانے کا الزام اگر ان سنگھئوں پر نہ بھی لگایا جائے تو پلوامہ حملہ، سرکشہ صلاح کار اجئے دیوبال اور سنگھی مودی حکومت کی مکمل ناکامی کا مظہر ہے۔جس کے لئے ان سنگھئوں کو معاف نہیں کیا جانا چاہئیے۔ یہ سنگھی حکمران اپنی کوتاہیوں پر نادم و شرمندہ ہونے کے بجائے الٹے اپنے لاکھوں کیڈر بیس کاریہ کرتا اور اپنی زر خرید گودی میڈیاکو استعمال کر، شہید فوجیوں کی آرتھیوں پر اپنی سیاست کی روٹی سینک، ہند بھر میں منافرت پھیلانے میں مشغول و مگن ہیں۔ کیا اس دیش کی کروڑوں تعلیم یافتہ جنتا اتنی بے وقوف ہے جو ان سنگھئوں کی  مکاریوں کو صرف نظر کر، ان کے اشاروں پر ناچتے ہوئے، پھر ایک مرتبہ چمنستان ہندستان کو معاشی طور برباد کرنے 2019 عام انتخاب بعد اقتدار پر انہیں چمٹے رہنے دیں گے؟ ان سنگھئوں کو دیش کی افواج سے کتنی ہمدردی ہے اسے دیکھنے کے لئے دشمن ملک کے بارڈر فورس کے ہاتھوں بربریت کا شکار بنے ہیمراج جس پر سیاست چمکا مودی مہاراج نے نوٹ بندی کی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور ایک کے بدلے دشمنوں کے دس سر لانے کا ببانگ دہل اعلان کیا تھا ، معلوم کیا جائے کہ کیا ابھی تک اتنے سال بیت جانے کے بعدبھی در در کی ٹھوکریں کھاتی ہمیراج کی بیوہ اوربچی کو کومپینسیشن  کی رقم مل بھی پائی ہے یا نہیں دیکھا جائے۔
ہر ملک کی افواج اس ملک کی شان و عزت ہوتی ہے اپنی گندی سیاست کے لئے  ملک کی افواج کا استحصال کرنے اور ملک کی افواج کے وقار کو مجروح کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں دیا جانا چاہئیے۔ اس سنگھی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ملکی معیشت کو تاراج کر، بے روزگاری کی شرح کو بڑھاتے ہوئے، مہنگائی کے آسیب تلے دبے کسانوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کر، چمنستان ہندستان کو تباہی کی کگار پر لاکھڑا کیا ہے۔ دیش کی عدلیہ سپریم کورٹ، انٹیلیجنس ایجنسیز سی بی آئی، دیش کی معاشی ریڑھ کی ہڈی دیش کا ریزرو بنک، الغرض دیش کے آزاد خود مختار مختلف اداروں میں اپنے سنگھی زہر پیوست کر دیش کے معتبر آزاد ادراوں کے وقار کو مجروح کرنے والے ان سنگھئوں کے ناپاک  ہاتھ اب دیش کی افواج کے وقار کو مجروح کرنے کے درپے لگتے ہیں جس کی اجازت اس دیش کی جنتا کسی بھی صورت ان سنگھئوں کو دے نہیں سکتی۔ اور یہ 2019 عام انتخاب میں  اس کی جنتا  واضح طور بتادیگی۔ انشاء اللہ وما علینا الا البلاغ
  • 1
    Share
  • 1
    Share