Select your Top Menu from wp menus

جس مقتول کا قاتل نا‌معلوم ہو، اس کا قاتل حاکم وقت ہے

جس مقتول کا قاتل نا‌معلوم ہو، اس کا قاتل حاکم وقت ہے

ذوالقرنین احمد

بھارت میں بی جے پی کی مرکزی حکومت پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے ملک میں فرقہ پرست عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی تھی کئی معصوم بے گناہ افراد کو ماب لنچنگ کا شکار بنایا گیا، خواتین کو انصاف دلانے کے نام پر انکی عزتیں عصمتیں تار تار کی گئی، عوام کے بنیادی حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، ملک میں کرپشن کالا پیسہ ، دہشت گردی، کے خاتمے کے نام پر نوٹ بندی کا غیر منصوبہ بند فیصلہ کیا گیا، جس سے ملک کے عام غریب خاندانوں کو نقصان ہوا کئی اموات نوٹ بندی کے وقت ہوئی، چھوٹے کاروباری افراد پر جی ایس ٹی ٹیکس لگا کر بڑے سرمایہ کاروں کا فائدہ کیاگیا  اور غریبوں پر ظلم کیا گیا، گزشتہ انتخابات میں فرقہ وارانہ ماحول کو فروغ دے کر گندی سیاست کی گئی ای وی ایم کا سہارا لے کر اور عوام سے جھوٹے وعدے کر کے اور مذہبی منافرت پھیلا کر رام مندر کے نام پر ووٹ حاصل کیے گیے، اور آخر کار ای وی ایم کی جیت ہوئی، آج ملک بڑے سنگین حالات سے گزر  رہا ہے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کیلئے کہاں گیا تھا، ۱۵ لاکھ ہر ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں جمع ہونے کی بات کی گئی تھی، کالا دھن کی واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن یہ سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا اور مودی حکومت اپنے تمام کیے گئے وعدوں پر پوری طرح سے ناکام رہی کوئی فیصلہ بھی ملک کی عوام کو راحت پہنچانے والا نہیں ہوا، نا ہی ملک کی ترقی ہوئی بلکہ الٹا ملک کئی سال پیچھے کی طرف چلا گیا ملک کی معیشت کو بڑا جھٹکا لگا رافیل ڈیل گھٹالہ، اور اسی طرح کئی بڑے بڑے گھٹالے کیے گئے، ملک کے سسٹم پر سنگھی ذہنیت کے افراد کو قابض کردیا گیا، تاکہ وہ حکومت کے خلاف یا ملک کی ساخت کے کھوکھلا ہونے پر خاموش تماشائی بنے رہے، حق اور سچ بولنے والے افراد کو جھوٹے بے بنیاد الزامات میں جیلوں میں قید کرنے یا ان کا سنگھی دہشت گردوں کے زریعے انکاؤنٹر کردیا جاتا ہے، ملک کے میڈیا کو خرید لیا گیا ہے جو صرف اپنے آقاؤں کے مدح سرائی میں لگے ہوئے ہیں انہیں ملک کے بد سے بد پر حالات دیکھائی نہیں دیتے پھر بھی تعریفوں کے پول باندھنے میں کوئی کشر باقی‌ نہیں رکھتے، کچھ عرصے قبل کوبرا پوسٹ نے بکاؤ میڈیا ہاؤسز کا پردہ فاش کیا تھا کس طرح سے ملک میں آنے والے انتخابات کیلئے ماحول تیار کیا جارہا ہے، گزشتہ چند روز قبل کشمیر کے پلوامہ ضلع میں خودکش دھماکہ میں ہمارے ۴۹ جوان شہید ہوگئے یہ ملک کی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے ہم اس دہشت گردانہ حملے کی سخت مزمت کرتے ہیں، اس دہشت گردانہ حملے کے روز سے پورے ملک میں مسلمانوں نے بے سوچے سمجھے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا شروع کردیا ہر طرف جمعہ کی نماز کے بعد ریلیاں نکالی گئیں چلو مذمت کرنا ضروری ہے احتجاج کرنا ضروری ہے ان ویر جوانوں کو خارج عقیدت دینا بھی ضروری ہے لیکن اس حادثہ کے فوراً بعد ہی اتنے زور و شور سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے دیگر مذہب کے افراد نے کیوں نہیں حب الوطنی کا ثبوت پیش کیا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس حملے کے ذمہ دار آپ لوگ ہے جو اتنی شدت سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ جب کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ملک کی سلامتی کے اس حساس مسلے کو  لیکر حکومت کو کٹھگرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے تھا اس ملک کی عوام کا کیا قصور ہے جو اتنی شدت سے احتجاج کر رہی ہے اپوزیشن اور میڈیا ہاؤسز کا یہ کام ہے کہ وہ حکومت سے سوالات کریں کہ اتنی سخت سیکورٹی میں خودکش بمبار کیسے اتنی بھاری تعداد میں اسفوٹک مادہ لے کر داخل ہوا، اور میدیا ہاؤسز کو اتنی جلدی کیسے پتہ چل گیا کہ حملہ آور فلاح دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہے اور انہوں نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی، پھر تو میڈیا ہاؤسز بھی شک کے دائرے میں آتا ہے کہی یہ میڈیا والے ان دہشتگردوں سے تعلقات میں ہے جو انہیں اتنی فاسٹ خبر پہنچا دیتے ہیں، جزبات میں آکر ملک کی عوام حماقت کا کام کر رہی ہے مودی حکومت پوری طرح سے اپنے وعدے سے مکر چکی تھی اور اپنے کیے گئے وعدوں میں ناکام ہوچکی ہے اس لیے ان تمام مدعو کو دبانے کیلئے اپوزیشں اور عوام کی زبانیں بند کرانے کا کام شروع ہوچکا ہے یہ ایک طرح کی غیر محسوس طریقہ کی ایمرجنسی کا نفاذ ہے کہ سب کچھ دیکھ کر اندھے ہوجاؤ سن کر بہرے ہوجاؤ سمجھنے کے باوجود نا سمجھیں کا ڈھونگ رچایا جائے اور ملک کی جمہوریت کو دیمک کی طرح چاٹتے جانے کا کام جاری رہے جو میشن بی جے پی آر ایس ایس اور ہندوتوا دی دہشگرد تنظیمیوں کا ہے جو ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ ملک  کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عقل سے کام لے سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں تم سے کوئی آکر حب الوطنی کا ثبوت نہیں مانگ رہا ہے جو اپنے آپ کو مجرم سمجھ رہے ہو جیسے ملک کی تمام عوام غم میں شامل ہے اس‌ میں برابر کے شریک ہے ہم، اگر ایسے غیر سوچے سمجھے قدم اٹھاؤ گے تو آنے والے انتخابات کیلئے بڑا مہنگا ثابت ہوگا حکومت منافرت پھیلانا چاہتی ہے جس سے ماحول خراب ہو دنگے فساد ہو اور دونوں کمیونٹی کو آپس میں دست گریبان کرنا چاہتی ہے تاکہ خوف کا ماحول پیدا کر کے ووٹ حاصل کیا جائے یہ الرٹ جاری کردیا گیا ہے اب ضرورت ہے کہ سیاسی شعور پیدا کریں اپنی سیاسی حکمت عملی تیار کریں۔

  • 4
    Shares
  • 4
    Shares